ملک میں آئین ہے اور اس سے اوپر کچھ نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے پی ٹی ڈی سی ملازمین کی برطرفی اور بورڈ کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں آئین ہے اس سے اوپر کچھ نہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی ڈی سی ملازمین کی برطرفی اور بورڈ کی تشکیل کے خلاف کیس پر سماعت کی۔ نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ اور برطرف ملازمین کے وکیل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن نے پہلے جواب میں ترمیم کرکے نیا جواب جمع کرایا ہے، کابینہ ڈویژن اگر کمنٹس میں ترمیم کرنا چاہے تو قانونی طریقے سے ہی کر سکتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل کے موقف پر ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے کہا کہ مجھے دکھائے بغیر کمنٹس فائل ہوگئے پھر ان میں ترمیم کرائی ہے، بورڈ کی تشکیل کا نوٹی فکیشن وفاقی حکومت نہیں بلکہ وزیر اعظم کی جانب سے جاری کیا گیا تھا، کمنٹس میں نوٹی فکیشن وفاقی حکومت کا لکھ دیا تھا حالانکہ یہ وزیراعظم کا نوٹی فکیشن تھا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کی دلیل پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ حافظ صاحب کی بات ٹھیک ہے آپ اس معاملے میں پورا یو ٹرن لے گئے ہیں، ایسے نہیں ہوتا کہ آپ کہیں کہ نہیں نہیں پہلے غلطی ہو گئی اب صحیح کر رہے ہیں، شوگر کیس میں بھی آپ نے یہی کہا او ہو غلطی ہو گئی یہ کیسے ممکن ہے غلطی ہوجائے، اب بتائیں بورڈ کس نے تشکیل دیا وزیر اعظم نے یا وفاقی حکومت نے؟

عدالتی استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی ڈی سی بورڈ تشکیل دیا ہے، جس پر جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ قانون بتا دیں جس کے تحت بورڈ تشکیل دیا جا سکتا ہے، جواب میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب وزیر اعظم نئی وزارت یا نیا ڈویژن بنا سکتا ہے یہ تو ایڈوائزری بورڈ بھی تشکیل دے سکتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سیاحت صوبائی معاملہ ہے یا وفاق کا ؟ کیا جو معاملہ وفاق کا نہیں اس پر وزارت بنائی جا سکتی ہے؟ ہر ایگزیکٹو آرڈر کے پیچھے کوئی تو قانونی بیکنگ ہوتی ہے وہ بتائیں۔ جواب میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسی صورت میں کوئی وزارت نہیں بنائی جا سکتی، یہ صرف کنفیوژن ہے کہ ہم نے کوئی باڈی صوبوں کے اوپرکھڑی کردی ہے، وزارت یا ڈویژن بنانا وزیراعظم کا اختیار ہے، اس بورڈ کے پاس کچھ اختیار نہیں صرف کوآرڈینیشن کے لیے ہے۔

عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ جب یہ صوبائی معاملہ ہے وفاق اس میں کیوں آرہا ہے؟ وزیراعظم کو اس بورڈ کی تشکیل کے لیے کس نے رائے دی؟ ملک میں آئین ہے اس سے اوپر کچھ نہیں، کوئی بادشاہت نہیں عدالتوں سمیت ہر کسی کو قانون آئین کے تحت کام کرنا ہوتا ہے، جب آپ سمجھیں کہ بند گلی میں ہیں تو ایڈوائس بھی کر سکتے ہیں۔ جواب میں راجہ خالد محمود نے کہا کہ آگے گرتے ہیں تو دانت ٹوٹتے ہیں پیچھے گرتے ہیں تو کمر ٹوٹتی ہے۔ عدالت نے فریقین سے دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی۔

The post ملک میں آئین ہے اور اس سے اوپر کچھ نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XLOk8P

No comments:

Post a Comment

plz do not enter any spam link in the comment box

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...