نیا سال قومی ترقی، معاشی استحکام اورعام آدمی کی خوشحالی کا سال ہو گا، فردوس عاشق

اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سال نو کی آمد کے حوالے سے کہا ہے کہ نیا سال قومی ترقی، معاشی استحکام، عوامی فلاح اور خصوصاً عام آدمی کی خوشحالی کا سال ہو گا۔

معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا نیا سال قومی ترقی، معاشی استحکام، عوامی فلاح اور خصوصاً عام آدمی کی خوشحالی کا سال ہوگا۔ پاکستان کے عوام نے جن مشکل حالات کا سامنا کیا اب ان کی زندگیوں میں خوشیوں، خوشخبریوں اور خوشحالی کا وقت آرہا ہے۔ انشاءاللہ ان کی امیدیں اور امنگیں پوری ہوں گی۔

فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا وزیراعظم عمران خان نے مشکل اور جراتمندانہ فیصلوں سے ملکی معیشت درست سمت پر ڈال دی ہے۔ ان فیصلوں کے ثمرات آنے والے ماہ و سال میں عوام تک پہنچیں گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ نیا سال پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والوں کے لیے امن اور سلامتی لائے۔ آمین۔

The post نیا سال قومی ترقی، معاشی استحکام اورعام آدمی کی خوشحالی کا سال ہو گا، فردوس عاشق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2u6GzOJ

کراچی میں اساتذہ کا سیکریٹری تعلیم سے موسم سرما کی تعطیلات میں اضافے کا مطالبہ

کراچی: شہر قائد میں موسم سرما کی تعطیلات کے بعد سرکاری ونجی تعلیمی ادارے کھل گئے لیکن سخت سردی کے باعث اسکولوں میں طلبا کی حاضری معمول سے کم رہی۔

کراچی میں کڑاکے کی سردی معمولات زندگی پر اثرانداز ہونے لگی۔ شہرقائد میں موسم سرما کی تعطیلات کے بعد اسکول کھل گئے تاہم سخت سردی کے باعث اسکولوں میں حاضری معمول سے کم رہی جب کہ کچھ اسکولوں میں اساتذہ بھی نہیں پہنچے۔

اساتذہ نے سیکریٹری تعلیم سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی شدید ٹھنڈ ہے کہ بچوں کے بیمار ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا سیکریٹری تعلیم کو موسم سرما کی تعطیلات میں اضافہ کرنا چاہیے۔

دوسری جانب حیدر آباد میں بھی موسم سرما کی سرکاری تعطیلات ختم ہونے کے بعد سرکاری ونجی تعلیمی ادارے کھل گئے لیکن  شدیدسردی کے باعث تمام ہی تعلیمی اداروں میں طالب علم نہیں پہنچے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ تو موجود ہیں لیکن طالب علم غیرحاضر رہے جب کہ نجی تعلیمی اداروں میں بھی بچے غیرحاضر رہے۔ کئی نجی تعلیمی اداروں نے سردی کے باعث از خود تعطیلات میں اضافہ کردیا۔

The post کراچی میں اساتذہ کا سیکریٹری تعلیم سے موسم سرما کی تعطیلات میں اضافے کا مطالبہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2tlVgwU

2019 میں سیپا نے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 700 نوٹس جاری کیے

کراچی:  ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی) سیپا نے سال 2019 میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 700 صنعتوں، کارخانوں، ریسٹورینٹ، ہوٹلز، اسپتالوں، تعمیراتی منصوبوں اور اداروں کو ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیے۔

سیپا نے سال 2019 میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 700 صنعتوں، کارخانوں، ریسٹورینٹ، ہوٹلز، اسپتالوں، تعمیراتی منصوبوں اور اداروں کو 320 کو ذاتی شنوائی کا موقع دیا گیا اور انھیں اپنے ماحولیاتی امور درست کرنے کا کہا گیا جس کے بعد ماحولیاتی معاملات میں بہتری نہ لانے پر 35 کو ماحولیاتی تحفظ کا حتمی حکم نامہ جاری کیا گیا جبکہ ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب 240 مختلف نوعیت کے پیداواری یونٹس بشمول بیٹری ری سائیکلنگ کے کارخانے اور اینٹوں کے بھٹوں اور فیکٹریوں کو بند کرادیا گیا ساتھ ہی ساتھ خلاف ورزی کے مرتکب 50 یونٹوں کے مقدمات عدالتوں میں بھیج دیے گئے۔

یہ بات ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (سیپا) کے ترجمان نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتائی انھوں نے کہا کہ سال 2019 کے دوران سندھ بھر کے سرکاری اور نجی 1500 اسپتالوں کی ماحولیاتی نگرانی کی گئی اور انھیں ذاتی شنوائی کا موقع دے کر ان سے ماحولیاتی قوانین اور طبی فضلہ تلف کرنے کے قواعد پر عمل کرایا جارہا ہے، طویل عرصے بعد ٹریفک پولیس کے اشتراک سے زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نگرانی کی گئی ہے اور کراچی کی مختلف شاہراہوں پر 600 گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی جن میں سے مقررہ حد سے زائد دھواں چھوڑنے والی 250 گاڑیوں پر ٹریفک پولیس کے ذریعے جرمانے کیے گئے۔

ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے یکم اکتوبر سے صوبے بھر میں ماحول دشمن پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال، تیاری اور خرید فروخت پر پابندی عائد کردی، مضر صحت پلاسٹک کی تھیلیوں کی جگہ ماحول دوست پلاسٹک کی تھیلیاں متعارف کرائی گئیں جو موٹائی میں زیادہ ہوتی ہیں اور باآسانی تحلیل کی جا سکتی ہیں۔

The post 2019 میں سیپا نے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 700 نوٹس جاری کیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2sAqm3S

2019ء میں 1692 گاڑیاں، 29743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں

کراچی: گزشتہ سال شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں سے محروم کر دیا گیا۔

گزشتہ سال مجموعی طور پر شہر کے مختلف علاقوں سے 1692 گاڑیاں ، 29 ہزار 743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں، جولائی میں سب سے زیادہ 29 گاڑیاں ، 211 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں اسی طرح سے ستمبر میں گاڑیاں چوری کی سب سے زیادہ 163 جبکہ 2 ہزار 806 موٹر سائیکلیں چوری کی وارداتیں ہوئیں، پولیس کی جانب سے شہر میں امن و امان کے بلند و بانگ دعوؤوں کے باوجود شہر میں گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز کی چھینا جھپٹی کے واقعات کا بھی سلسلہ بدستور جاری رہا۔

سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال شہر کے مختلف علاقوں سے 245 گاڑیاں چھینی اور 1447 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا جبکہ 1856 موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں جبکہ 27 ہزار 887 موٹر سائیکلیں چوری کرلی گئیں ، پولیس کی جانب سے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود گزشتہ سال گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات شہریوں کے ساتھ تواتر سے پیش آتے رہے جبکہ پولیس کی جانب سے روزانہ کی بیناد پر اسٹریٹ کرمنلز کی گرفتاری کے دعوے بھی سامنے آتے رہے۔

ڈاکوئوں نے شہریوں سے 44454 قیمتی موبائل فونز چھین لیے

سال  2019 کے دوران راستوں سڑکوں اور گاڑیوں میں سوار نہتے شہری مسلح ڈاکوئوں کے ہاتھوں اپنے قیمتی ہزاروں موبائل فونز سے محروم ہوگئے پولیس کی جانب سے شہر میں امن و امان کے بلند و بانگ دعوئووں کے باوجود شہر میں موبائل فونز کی چھینا جھپٹی کے واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے.

سی پی ایل سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال موبائل فونز کے چوری اور چھینے جانے کے واقعات میں شہری مجموعی طور پر 44 ہزار 454 موبائل فونز سے محروم ہوگئے، شہریوں سے موبائل فون چوری اور چھیننے کی سب سے زیادہ وارداتیں ماہ جولائی میں ہوئیں۔

واضح رہے کہ یہ وہ وارداتیں ہیں جن کی رپورٹ پولیس کو کی گئی ہے جبکہ بیشتر شہری موبائل فون چھیننے اور چوری ہونے کی وارداتوں کے لیے تھانے جاکررپورٹ لکھوانے سے کتراتے ہیں جس کے باعث بیشتر لوٹ مار کی وارداتیں رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔

The post 2019ء میں 1692 گاڑیاں، 29743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39uhpd0

پولیس انویسٹی گیشن یونٹس کی مایوس کن کارکردگی، اہم کیسز حل نہ ہوسکے

کراچی:  پولیس کے انویسٹی گیشن یونٹس گزشتہ سال پیش آنے والے بڑے کیس حل کرنے میں مکمل طور پرناکام دکھائی دیے۔

گزشتہ سال مارچ میں گلشن اقبال نیپافلائی اوورکے قریب عالم دین مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں ملوث دہشت گردتاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں جبکہ اس واقعے میں مفتی تقی عثمانی کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکارفاروق اور ان کا محافظ صنوبر خان زندگی کی بازی ہار گئے تھے جبکہ دوسری کار میں شدید زخمی ہونے والے مولانا عامر بھی چند روز کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

پولیس گزشتہ سال  ڈیفنس سے اغواکی جانے والی2 خواتین بسمہ سلیم اور دعا منگی کے اغوامیںملوث اغواکاروں کا بھی سراغ نہیں لگا سکی جبکہ دونوں خواتین تاوان کی ادائیگی کے بعد گھروں کو پہنچ گئیں۔

گزشتہ سال بوٹ بیسن کے پارک سے3 مزدروں کو سوتے ہوئے سر پر وزنی چیز مار کر قتل کرنے کی واردات میں ملوث ملزمان تاحال پولیس کی گرفت میں نہ آسکے جبکہ تہرے قتل کی واردات کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی جو تاحال ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

گزشتہ سال نامعلوم ملزمان کے ہاتھوں کلفٹن میں بنگلے کے اندرقتل کیے جانے والے پروفیسرڈاکٹرفتح عثمانی اوران کے بیٹے کے قاتل تاحال قانون کی گرفت میں نہ آسکے جبکہ دوہرے قتل کی واردات کے بعد بنگلے میں چوری کی واردات نے بھی پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

مقتول پروفیسرکی اہلیہ نے بھی پولیس کی تفتیش پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے گزشتہ سال پریس کلب میں اس حوالے سے پریس کانفرنس کی تھی، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے نیوکراچی میں سوزوکی ہائی روف میںسوار 2 افراد کی ٹارگٹ کلنگ ، عزیز آباد کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کی 2 وارداتوں میں پی ٹی آئی کے کارکن آصف چکلی اور مرغی کا گوشت سپلائی کرنے والے شخص کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

فیروز آباد میں دن دیہاڑے کار سوار کے ڈی اے کے افسر محمد علی کی ٹارگٹ کلنگ، گلشن اقبال میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر حیدر عسکری کی ٹارگٹ کلنگ اور بریگیڈ میں مذہبی جماعت کے کارکن ندیم کی ٹارگٹ کلنگ سمیت قتل کی دیگر وارداتوں میں ملوث تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں جبکہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ ، اینٹی وائلنٹ کرائم سیل ، کرائم برانچ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے لیے یہ ایسے کئی مقدمات آج بھی ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

The post پولیس انویسٹی گیشن یونٹس کی مایوس کن کارکردگی، اہم کیسز حل نہ ہوسکے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/37p5b3G

ٹمبر مارکیٹ میں ایک اور مخدوش عمارت، درجنوں زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

کراچی: پرانا حاجی کیمپ ٹمبر مارکیٹ میں ایک اور4منزلہ مخدوش عمارت سامنے آگئی۔

آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے عمارت کی نشاندہی کرتے ہوئے عمارت کے کسی بھی وقت منہدم ہوجانے کے باعث جانی و مالی نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔

پرانا حاجی کیمپ رنچھوڑ لائن ٹمبر مارکیٹ میں بندوق والاروڈ پر ایک اور گراوئنڈ پلس 4منزلہ مخدوش عمارت سامنے آگئی ہے حالت مخدوش ہونے کے باوجود عمارت کوخالی نہیں کرایا گیا، عمارت کے پلرز اور دیواروں میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے عمارت کے کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے جبکہ عمارت سے متصل عمارتوں کو بھی نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے۔

آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرزایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد شرجیل گوپلانی نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ مخدوش عمارت 2004 میں تعمیر ہوئی تھی جس میں 8 فلیٹس اور محنت کش افراد رہائش پذیر ہیں، عمارت کی حالت انتہائی مخدوش ہے اور اس حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی آگاہ کرچکے ہیں لیکن ان کی جانب سے اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے نہ ہی کوئی ٹیم اب تک عمارت کا جائزہ لینے یہاں پہنچی ہے، خدانخواستہ اگر عمارت گرگئی تو بڑا جانی اورمالی نقصان ہوگا۔

انھوں نے بتایاکہ عمارت غیر قانونی طور فٹ پاتھ پر تعمیرکی گئی ہے جس کو مسمار کیا جاناچاہیے، حکام بالا کسی حادثے کا انتظارکرنے کے بجائے فوری طور پر اقدامات کریں، مکینوں کا کہنا تھا کہ حکام بالا نوٹس لیں، متعلقہ افسران فوری ایکشن لیں تاکہ کسی بھی قسم کے مالی یا جانی نقصان سے بچا جاسکے۔

The post ٹمبر مارکیٹ میں ایک اور مخدوش عمارت، درجنوں زندگیاں داؤ پر لگ گئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2MIPs7u

وفاقی کابینہ، ثنا اللہ کیس پر وفاقی وزرا کے ڈی جی اے این ایف سے سخت سوالات

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈی جی اے این ایف  میجر جنرل محمد عارف نے رانا ثناء اللہ کیس پربریفنگ دی، اس موقع پر وزرا نے ڈی جی کے سامنے سخت سوالات اٹھا دیے۔

ڈی جی اے این ایف نے کہا ہمارے پاس رانا ثناء اللہ کیس سے متعلق ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، رانا ثناء اللہ کئی برسوں  تک وزیرقانون رہے، کوئی جج انکا کیس سننے کو تیار نہیں تھا، ہمارے پاس ایک لاکھ روپے فیس والا وکیل ہے، رانا ثناء اللہ کا کیس ایک ریٹائرڈ جج لڑ رہا ہے، 9 سی کے ملزم کو آج تک کسی عدالت نے ضمانت نہیں دی۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا رانا ثناء اللہ کیس کومس ہینڈل کیا گیا، جس سے حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

ایف آئی آر اور پریس کانفرنس کے موقف میں واضح تضاد تھا، شیریں مزاری نے کہا آج کل ہر کارروائی کی فوٹیج ضرور بنائی جاتی ہے، اے این ایف کی کارروائی کی فوٹیج کیوں نہیں بنائی؟ مراد سعید کا کہنا تھا کارروائی اور کیس کی مس ہینڈلنگ کے باعث اپوزیشن کو تنقید کا موقع ملا۔

اس پر ڈی جی این ایف نے کہا ہماری کوئی سیاسی وابستگی نہیں، شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہیں،رانا ثناء اللہ کو چار مرلے کا مکان وراثت میں ملا، اب ان کے اثاثوں کی مالیت 25 سے 30 ارب ہے۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے سوال کیا کہ ہائی پروفائل کیس کو روٹین کے کیس کے طور پر کیوں لیا؟ اس پر ڈی جی اے این ایف کا کہنا تھا رانا ثناء اللہ سیاسیشخصیت ہیں، اس لیے کارروائی سے پہلے مکمل تسلی کی، مراد سعید نے کہا مافیا نے اے این ایف کو شکست دے دی ہے ۔ میجر جنرل محمد عارف نے کہا اے این ایف کے پاس رانا ثناء اللہ کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

رانا ثناء اللہ کے خلاف مضبوط کیس تیار ہے، کیس کاٹرائل ہوگا تو حقائق قوم کے سامنے آجائیں گے، اے این ایف آزاد ادارہ ہے، قانون کے مطابق کام جاری رکھے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی اے این ایف کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

اے این ایف کا مقابلہ سمگلرز اور قوم کی نسلوں کے دشمن مافیا سے ہے، ادارہ اپنی قانونی اور میڈیا سے متعلق استعداد بڑھائے، حکومت اس حوالے سے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں معصوم اور نہتے کشمیریوں کے ساتھ پانچ ماہ سے جاری ریاستی دہشت گردی اور بھارت میں منظور کیے گئے متنازع شہریت قانون کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

قرارداد میں عالمی فورمز پر کشمیریوں کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑنے پر وزیراعظم کی کاوشوں تعریف کی گئی اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ فی الفور کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں، ناانصافیوں اور جبر و ستم کا نوٹس لیں۔اجلاس میں نیب ترمیمی آرڈیننس ، سمیت 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کے پناہ گاہ پروگرام کو سراہا،اجلاس میں ہرشہرمیں لنگرخانے کھولنے کے عزم کا بھی اظہارکیا گیا۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23 دسمبر کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کی سفارش کی۔کابینہ نے نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ کے مجوزہ بل کی بھی منظوری دی۔ہاشم رضا کو سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا سربراہ،شاہد سلیم کو ایم ڈی او جی ڈی سی ایل تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اجلاس میں گنے کے کاشتکاروں کے مسائل پربات چیت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا جنوری کے پہلے ہفتے بنیادی ضرورت کی اشیاء پر 6ارب کی سبسڈی اور جنوری کے آخری ہفتے میں عام پسے ہوئے طبقے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مالی معاونت کارڈ کا اجراء کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی میں 17فیصد اضافہ ہواہے۔ حق داروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے آٹھ لاکھ افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالا گیا ہے۔رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں گزشتہ سال کی نسبت 73فیصد، تجارتی خسارے میں 43فیصد کمی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں 14فیصد اضافہ ہوا ہے،وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ روزگارکے زیادہ مواقع پیدا کرنے کیلئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ کو زیادہ ترجیح دی جائے ۔

نیب آرڈیننس کا ذکرکرتے ہوئے فردوس عاشق نے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں لایا جائے گا ،پارلمینٹ کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ انہوں نے کہا بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لئے12 ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں ، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ملک میں خیالات اور آئیڈیاز کے فرو غ کے لئے آئیڈیا بنک کا قیام اور “اظہار خیال”کے نام سے ایک اپلیکیشن بنائی جا رہی ہے، “رابطہ آسان”کے نام سے عوام کی خدمت کے لئے سمارٹ ہیلپ ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، خواتین اور خصوصاً بچیوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لئے “بیٹی”کے نام سے اپلیکیشن تیار کی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اب تک کابینہ میں مختلف وزارتوں کی جانب سے مفاد عامہ میں مجوزہ اقدامات پر عمل درآمد کی رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔کابینہ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی فنانشل اسٹیٹمنٹ برائے مالی سال 2018ء کی اشاعت کی منظوری دی۔کابینہ نے ناروے شہریت کے حامل محمد اویس کی ناروے حکام کو حوالگی سے متعلق سے درخواست پر غور کیا ۔ محمد اویس پر ریپ اور گھریلو تشدد کے سنگین الزام عائد ہیں۔

اس ضمن میں کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے مرحلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے ذریعے معاملے کی انکوائری کرائی جائے۔سہیل احمد خان کی برطانوی حکام کو حوالگی سے متعلق برطانوی حکومت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے کابینہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ سے معاملے کی انکوائری کا فیصلہ کیا۔ سہیل احمد خان پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

The post وفاقی کابینہ، ثنا اللہ کیس پر وفاقی وزرا کے ڈی جی اے این ایف سے سخت سوالات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39q77ed

سال 2019 میں حکومت نے پہلی بار طبی این آر و متعارف کرایا

کراچی:  وفاقی حکومت کو آئے ’’ 100 ‘‘ دن توکب کے گزر چکے، حکمرانوں کی ترجیحات موسم کی طرح بدلتی رہیں، منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑیوں میں پھنسی حکومت کے اس رویے سے ملک کے عوام شدید مایوسی واضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

موجودہ حکومت کے وزرا علیحدہ علیحدہ اپنی مارکیٹنگ میں مصروف رہے لیکن عوام میں پائی جانے والی غیر یقینی کی صورتحال ختم کرنے میں تاحال کامیاب نظر نہیں آئی، مہنگائی کے عفریت میں جکڑے عوام وزیر اعظم پاکستان کی اس امید پر قائم ہیں کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی 2020 سال خوشحالی کا سال ہوگا۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومت کوٹف ٹائم دیا جا رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنی کمزوروزرا کی ٹیم کے ساتھ کب تک میدان حکومت میں رہتی ہے ، وزیر اعظم کی جانب سے ایک ہی’’ گیت ‘‘ کہ کرپٹ افرادکو پکڑئیں گے اوراربوں روپے واپس لائیں گے لیکن2019میںکسی بھی بدعنوان نے ملک کی لوٹی جانے والی دولت قومی خزانے میں جمع نہیںکرائی تاہم پہلی بار قومی اداروں نے پیپلزپارٹی کے سربراہ اور سابق صدر آصف زرداری ،مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزرا اعلیٰ قائم علی شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی سابق وزرا سمیت کئی اہم سیاستدانوںکو پکڑا گیا، وفاقی حکومت ایک سال میں سنگین مقدمات میں پکڑے گئے سیاسی ملزموں کو ’’مجرم‘‘ نہ بنا سکی۔

’’قومی مجرموں‘‘ کے پاس قوم کی رقم سے ’’چونی ‘‘ بھی برآمد نہ کی جاسکی جبکہ موجودہ حکومت ان قومی مجرموں پر سرکاری خزانے سے خطیر رقم بھی خرچ کرچکی،پوری دنیا میں جاکر این آر او نہ دینے کی نوید سنانے والی حکومت نے حیرت انگیز طور پر طبی این آر و بھی دے دیا، ملک کی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر پاکستان سمیت3بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے سیاستدان کو بھی جیل کی ہوا کھلائی گئی،اہم سیاسی جماعتوں کے اہم ترین رہنماؤںکو سنگین کرپشن کے مقدمات کا سامنا ہے،کئی جیل بھیجے گئے کئی عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

کئی سیاسی رہنماؤں کی گردن تک ہاتھ پہنچنے ہی والے ہیں ،ان تمام اقدامات کیلیے انتہائی بااختیار اور طاقت ور ہونا ضروری تھا، اور ایسا ہوبھی گیا کہ کھلی دھمکیاں دینے والے سیاستدان بھی جیل دیکھ آئے ، پہلی بار یہ بھی ہوا کہ بااثر سیاسی خاندانوں کی خواتین سیاسی رہنماؤں کو نیب کی سخت تفتیش سے لیکر جیل کی بیرک تک کاسفر کرناپڑا ،پورے سال یہ ہی گانا گایا کہ ’’کرپٹ افراد کو پکڑیں گے ‘‘ ’’ ہم قومی خزانہ بھریں گے ‘‘قوم نے یہاں بھی کئی یوٹرن دیکھے،ملک کی سیاسی تاریخ میں2019 میں پہلی بار وفاقی حکومت نے ’’طبی این آر او‘‘متعارف کرایا،جس کے بعد ’’ملین ڈالرکی کرپشن‘‘ میں پکڑے جانیوالے سابق صدر آصف زرداری ،سابق وزیراعظم نواز شریف نے ضمانت لیں۔

طبی این آر او سے لیکر جیل سے اپنی پسندیدہ منزل کی جانب اڑانیں بھری جبکہ دونوں اہم سیاسی پارٹیوں کی سیکنڈر لیڈر شپ بھی جیل میں رہی اور مقدمات کا سامنا کررہی ہے،سال 2019میں وزیراعظم کے کریڈٹ میں صرف ایک ’’یادگار تقریر‘‘ ہی آئی جو انھوں نے اقوام متحدہ میں کی تھی۔

2019 میں وزیراعظم نے کئی عالمی فضاؤں میں سفرکیا،متعدد ممالک کے دورے بھی کیے اور ہندوستان کے وزیراعظم کو 2 بار پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے سے بھی روکا، 27فروری 2019 میں پاک فضائیہ نے پاکستان کی حدود میں گھسنے پر بھارتی طیارے کو نشانہ بنایا اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کوگرفتار کیا،سال 2019 میں سرحدی علاقوں میں جنگ کی سماں رہا،کوئی ماہ ایسا نہ گزار جب ہندوستان کی جانب سے کشیدگی پیدا نہ کی گئی۔

بھارت کی جانب سے بلاجواز فائرنگ کی جاتی رہی ،تجارتی سرگرمیاں بھی بھارت سے روکی گئیں، خطے کی تاریخ میں پہلی بارکشمیر میں اتنا طویل لاک ڈاؤن کیا گیا کہ انسانیت بھی شرما گئی ،2019 میں پاکستان میں مہنگائی کے ریکارڈ توڑ دیے گئے، ڈالر نے کی قیمت نے آسمان چھولیا، بے روزگاری نقطہ عروج پر پہنچی ،فیکڑیوں میں اشیا سازی انتہائی محدود ہوگئی۔

2019 میں ملک میں بے روزگاری کا سیلاب آیا،حکومت کے تمام دعوؤںکے باوجود نوکریوں کے مواقع اور ذرائع پیدا نہ کیے جاسکے،ملک کے بڑے شہروں میںکوئی میگا منصوبہ شروع نہ کیا جا سکا، عوام بنیادی سہولتوں سے سال 2019 میں بھی محروم رہے۔

The post سال 2019 میں حکومت نے پہلی بار طبی این آر و متعارف کرایا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QO56jx

شہباز شریف کی 35 فیصد کے مقابلے میں بزدار سرکار کی کارکردگی ایک فیصد

 لاہور: صوبہ پنجاب میں مسلسل 10 سال اقتدار میں رہنے والی مسلم لیگ ن اور گزشتہ 16 ماہ اقتدار میں آئی پی ٹی آئی کے درمیان ترقیاتی فنڈز استعمال کرنے کے حوالے سے اعداد و شمار سامنے آ گئے۔

ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے جو اعدادوشمارسامنے آئے ہیں ان میں بزدار حکومت متعدد اہم شعبوں کے ترقیاتی فنڈز استعمال کرنے میں شہباز حکومت سے بھی پیچھے رہ گئی،سکول ایجوکیشن ،ہائر ایجوکیشن ،بلدیات ،پبلک بلڈنگز، لائیو سٹاک اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے اہداف کے حصول میں موجودہ حکومت کی کارکردگی شہباز شریف حکومت سے پیچھے رہ گئی۔

اکتوبر 2016 میں شہباز حکومت نے سکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کے 47  ترقیاتی فنڈز استعمال کیے ،اکتوبر 2019 تک موجودہ حکومت سکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کے صرف 28  فیصد ترقیاتی فنڈز ہی استعمال کر سکی۔

سابق پنجاب حکومت نے اکتوبر 2016 تک بلدیات کے 69،روڈز کے 42 اور پبلک بلڈنگز کے 30 فیصد ترقیاتی فنڈز استعمال کیے تھے جبکہ موجودہ پنجاب حکومت اکتوبر 2019 تک لوکل گورنمنٹ کے 52،روڈز کے 39 اور پبلک بلڈنگز کے صرف 22 ترقیاتی فنڈز ہی استعمال کئے۔ لائیو سٹاک اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی موجودہ پنجاب حکومت سابق حکمرانوں سے پیچھے ہی رہی۔

شہباز شریف نے اکتوبر 2016 تک لائیو سٹاک کے 42 فیصد ترقیاتی فنڈز استعمال کرکے اہداف حاصل کیے جبکہ موجودہ حکومت صرف 20 فیصدہی کارکردگی دکھا سکی ۔گورننس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے اہداف کے حصول میں موجودہ پنجاب حکومت کی کارکردگی صرف ایک فیصد رہی جبکہ شہباز شریف کی کارکردگی 35 فیصد تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق محکمہ صحت کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں موجودہ پنجاب حکومت سابق حکمرانوں سے آگے رہی ۔

The post شہباز شریف کی 35 فیصد کے مقابلے میں بزدار سرکار کی کارکردگی ایک فیصد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZKK1u7

2010ء کا عشرہ، سندھ کی سیاست میں نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں

کراچی:  2010 کے عشرے میں سندھ کی سیاست میں نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، ایم کیو ایم کے اثر و رسوخ کا سروج غروب ہوگیا جب کہ تحریک انصاف متحدہ کے متبادل کے طور پر ابھری۔

2010 کا عشرہ سیاسی اعتبار سے سندھ کے لیے خاصا دلچسپ رہا، اب جب کہ قوم ایک نئے عشرے میں داخل ہورہی ہے تو بیشتر صوبے کی حالت جوں کی توں ہی ہے جبکہ کراچی میں بنیادی سیاسی تبدیلی نظر آئی ہے۔

جانے والے عشرے کے ابتدائی نصف یعنی پانچ برسوں میں متحدہ قومی موومنٹ کا شہر مکمل کنٹرول نظر آتا ہے کیونکہ وہ اس سے قبل تین دہائیوں سے شہر پر حکومت کرتے آئے تھے تاہم بعد کے پانچ برسوں میں آہستہ آہستہ یہ کنٹرول جاتا نظر آنا شروع ہوا اور شہر کی سیاست میں ایم کیو ایم کا اثر و رسوخ تقریبا زائل ہی ہوگیا جب گزشتہ انتخابات میں پارٹی شہر سے محض چند سیٹیں ہی جیت پائی۔

ایم کیو ایم کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس وقت کی وفاقی حکومت نے شہر کا امن و امان بحال کرانیکی خاطر 2013 میں آپریشن کا آغاز کیا کیونکہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ 2015 میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے دور بار چھاپا مارا اور پارٹی کے بہت سے سینئر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے وفاقی حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام عائد کیا گیا تاہم اس کے بہت سے رینما بیرون ملک چلے گئے جس سے پارٹی کے انتظامی سیٹ اپ کو شدید نقصان پہنچا۔اگلے سال اگست میں ایم کیو ایم کے قائد کی جانب سے باغیانہ قسم کی تقریر نشر کی گئی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کو سیل کردیا اور پارٹی کے بہت سے رہنماؤں نے اپنے آپ کو اس تقریر کے بعد پارٹی سے علیحدہ کرلیا ، اسی طرح ایک گروپ فارق ستار کی قیادت میں علیحدہ ہوگیا۔

انہی واقعات کے دوران کراچی کے سابق میئر مصطفی کمال کی پارٹی کے سابق ڈپٹی کنوینر انیس قائم خانی کے ہمراہ ایک دھماکے دار واپسی کی صورت میں ہوتی ہے جس سے بھی ایم کیو ایم کے اثر و رسوخ میں کمی ہوتی ہے کیونکہ دونوں رہنما نہ صرف کھل کر ایم کیو ایم کے خلاف بیان دیتے ہیں بلکہ اپنی علیحدہ جماعت پاک سرزمین پارٹی کے قئام کا بھی اعلان کرتے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی انتخابات میں بری طرح ناکام ہوجاتی ہے تاہم ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کو ضرور متاثر کرتی ہے۔

دوسری جانب سینیٹ کے ٹکٹ کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات پید ہرنے کے بعد فاروق ستار کو پارٹی سے باہر کردیا جاتا ہے جبکہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو ایم کیو ایم پاکستان کا نیا کنوینر منتخب کرلیا جاتا ہے تو فاروق ستار کی جانب سے ایک نیا دھڑا ایم کیو ایم آرگنائزینشن ریسٹوریشن کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا جاتا ہے۔

اس تمام سیاسی انتشار کا تنیجہ انتخابات میں ایم کیو ایم کی جانب سے بری کارکردگی کی صورت سامنے آتا ہے جہاں ایم کیو ایم پاکستان کو قومی اسمبلی کی محض چار سیٹیں ہی مل پاتی ہیں۔ یہی وہ سیاسی خلا تھا جس پر سب کی نظریں جمی ہوئی تھیں کہ 2018 کے انتخابات میں کون سی جماعت اسے پر کرپاتی ہے بہت سے لوگوں کو یہ سرپرائز لگا کہ اس خلا کو پاکستان تحریک انصاف نے پورا کیا اور وہ شہر کی ایک نئی آواز بن کر سامنے آئی۔

شہر میں باقاعدہ کوئی انتظامی سیٹ اپ کے پی ٹی آئی نے لاکھوں ووٹ حاصل کیے اور قومی اسمبلی کی 20 میں سے ٍ14 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔2018 کے انتخات میں یہی نہیں کہ صرف ایم کیو ایم کو ہی چیلنج کا سامنا رہا بلکہ پی ٹی آئی اے عبدالشکور شاد نے لیاری میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بری طرح شکست دی حالانکہ لیاری کو پی پی کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے اور اس طرح پیپز پارٹی کراچی سے صرف دو سیٹیں جیت سکیں جبکہ مسلم لیگ نون کوئی بھی نشست حاصل نہ کرسکی۔

ایک طرف جہاں کراچی میں بنیادی سیاسی تبدیلیی نظر آئی وہیں دوسری طرف باقی ماندہ صوبے میں حالت بدستور ویسی ہی رہی جیسا کی چلتی آرہی تھی کہ جہاں کم و بیش پیپلز پارٹی گزشتہ دس برسوں سے حکومت کررہی ہے۔

2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے دیہی علاقوں سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں۔ صوبائی انتخابات میں پی پی نے 90 سیٹیں حاصل کیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق نے 11 سیٹیں، مسلم لیگ فنکشنل نے 8، نیشنل پیپلز پارٹی نے 3، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی دو نشستیں جیت سکی۔

کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص سے ایم کیو ایم نے 50 سیٹیں حاصل کی۔گزشتہ انتخابات کے دوران چار سابق وزرئے اعلی سندھ جن میں لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، غوث علی شاہ اور ممتاز علی بھٹو کے علاوہ سابق وزیر داخلہ ذوالفقار علی مرزا، صفدر عباسی، ناہید خان، ایاز لطیف پلیجو (قومی عوامی تحریک)، پی ٹی آئی، این پی پی کے مرتضی جتوئی ان سب نے مل کر گرینڈ ڈیموکریٹک الائس کی بنیاد رکھی جس نے انتخابات میں 14 سیٹیں حاصل کیں۔

ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف شہری علاقوں کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری جس نے 30 سیٹیں حاصل کیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ انتخابات پیپلز پارٹی نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں جیتے بلکہ اس نے ان لوگوں کو انتخابات میں ٹکٹ دیے جن کے اپنے حلقے میں اثر و رسوخ تھے۔

The post 2010ء کا عشرہ، سندھ کی سیاست میں نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QE82Pg

نئے سال 4 چاند گرہن اور 2 سورج گرہن ہونگے، محکمہ موسمیات

 لاہور: محکمہ موسمیات اور ماہرین ارضیات نے نئے سال2020کے حوالے سے پیش گوئیاں کی ہیں۔

پاکستان میڑیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے اعدادوشمارکے نئے سال میں2سورج اور4چاند گرہن ہوں گے ۔ 2020 میں 10 اور 11 جنوری کی درمیانی شب پہلا چاندگرہن ہوگا جسے پاکستان میں دیکھاجاسکے گا، اسی طرح 5 اور6 جون کی درمیانی شب ہونے والاچاندگرہن بھی پاکستان میں دیکھاجاسکے گا۔30نومبرکو بھی چاندگرہن لگے گا لیکن یہ مناظرپاکستان میں نہیں دیکھے جاسکیں گے۔ پہلا سورج گرہن 21 جون اوردوسراسورج گرہن14دسمبرکوہوگا اوردونوں گرہن پاکستان میں بھی دیکھے جاسکیں گے۔

دوسری طرف ماہرین ارضیات نے خبردار کیا ہے کہ کوہ ہندوکش میں زیر زمین ارضیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے جس کے باعث مستقبل مں زلزلوں کی تعداد میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

The post نئے سال 4 چاند گرہن اور 2 سورج گرہن ہونگے، محکمہ موسمیات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2MMsEnD

شدید سردی، سبی 100 سالہ اور لاہور میں 17 برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

 لاہور / سبی / کراچی:  ملک بھر میں شدیدسردی کے باعث ٹھند کے ریکارڈ پرریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں تاہم سبی اورگردونواح میں سردی کا100سالہ جبکہ لاہورمیں 2019کا دسمبر17برس کاسرد ترین مہینہ ریکارڈ کیاگیا۔

ملک بھر میں سردی کی شدت برقرار ہے تاہم شدیدسردی کے باعث ٹھند کے ریکارڈ پرریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں، سبی اورگردونواح میں سردی کا100سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے جبکہ لاہورمیں 2019کا دسمبر17برس کاسرد ترین مہینہ ریکارڈ کیاگیا۔

 

کراچی سے خیبر اور گوادر سے گلگت تک ملک کو سردی نے جھکڑ لیا ہے۔پنجاب کے کئی شہروں میں شدید سردی کے باعث  درجہ حرارت کم ہو کر دو ڈگری سینٹی گریڈ تک آ گیا ہے۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر  علاقے بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔

محکمہ موسمیات نے بھی آئندہ چند روز تک سردی کی شدت جاری رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔بالائی علاقوں میں برف اور میدانی علاقوں میں سرد ہواؤں اوردھندکا راج رہا۔

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ سردی بنوں میں پڑی جہاں درجہ حرارت منفی چار ریکارڈ کیا گیا۔زیارت کا درجہ حرارت منفی چھ، قلات منفی دو اور کوئٹہ کا درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ  ریکارڈ کیا گیا۔سکردو منفی22ڈگری کے ساتھ ملک کا سرد ترین مقام رہا۔گلگت سے دیگر اضلاع کا رابطہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ختم ہوگیا۔

The post شدید سردی، سبی 100 سالہ اور لاہور میں 17 برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2thOd8A

وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر صوبے بھر میں ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم

کراچی: کمشنر کراچی نے وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم کردی۔

کمشنر کراچی کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ڈبل سواری پر پابندی ختم کی جارہی ہے تاہم اسلحہ کی نمائش، آتش گیر مواد رکھنے اور ون ویلنگ پر پابندی جاری رہے۔ کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ شہری نئے سال کا جشن ذمہ داری کے ساتھ اور مہذب انداز میں منائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام کو نئے سال کی مبارکباد دی اورسی ویو پر کنٹینر لگانے سے انتظامیہ کو سختی سے منع کیا، وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کرا چی اور پولیس چیف کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو کسی طریقے سے بھی تنگ نہیں کیا جائے، یہ شہر آپ کا ہے اس کی خوبصورتی اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ اسلحہ اور نشہ آور اشیاء کا استعمال نہیں کیا جائے، کسی سے بھی بتمیزی کرنا ناقبل برداشت ہوگا، یہ سی ویو آپ کا ہے عزت، محبت اور قانون کے احترام سے نئے سال کی خوشیاں منائیں، امید ہے کہ 2020 سندھ کی خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔

The post وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر صوبے بھر میں ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZHZHhY

نیب ترمیمی آرڈیننس سے ثابت ہوا حکومت ملک کو تباہ کر رہی ہے، مریم اورنگزیب

 اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نیب قانون میں ترمیم سے ثابت ہوا کہ نالائق اور نااہل حکومت ملک تباہ کر رہی ہے۔

مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا موقف سچ ثابت ہوا کہ ہم سے سیاسی انتقام، حسد اور بغض میں عمران صاحب نے پورے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا، سلیکٹڈ حکومت سے نہ کوئی ریلیف چاہئے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور ہنماوں کی بے گناہی عدالتوں میں ثابت ہوئی۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم سے مسلم لیگ (ن) کا یہ موقف سچ ثابت ہوا کہ نالائق اور نااہل حکومت ملک تباہ کر رہی ہے، ملک اس وقت بند ہے، کاروبار بند ہے،سرمایہ کاری بند ہے، صنعت بند ہے، حکومت کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے بزنس مین سرمایہ کاری نہیں کررہا، بیوروکریٹ کام نہیں کر رہا گورننس ختم ہو چکی ہے۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ نیب کا قانون اور ادارہ ختم ہونا چاہئے، اس سے ملک اور گورننس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، ‎ عمران خان اور چئیرمین نیب مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کے تمام بے گناہ قیدیوں سے معافی مانگیں۔

The post نیب ترمیمی آرڈیننس سے ثابت ہوا حکومت ملک کو تباہ کر رہی ہے، مریم اورنگزیب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QykC2F

پیر رواں سال کا سرد ترین دن رہا، سردی کی لہر 3 دن برقرار رہے گی

کراچی: کراچی میں گزشتہ روز (پیر) سال کا اب تک سرد ترین دن رہا، سرد ترین دن میں پارہ 9 ڈگری تک گرگیا۔

صبح کے وقت کہرا اور دھند چھانے سے حدنگاہ کم ہوگئی،سردی کی موجودہ لہر مزید 3 دن برقرار رہے گی، بعدازاں سردی معتدل ہوجائے گی، کوئٹہ کی شمال مشرقی سمت سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار20 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی،آج منگل کو کم سے کم پارہ 9 سے11 ڈگری رہنے اور موسم خشک اور سردرہنے کی توقع ہے۔

6جنوری سے سردی کی ایک نئی لہر شہر کا رخ کرسکتی ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز پیر رواں سال کا اب تک سرد ترین دن ریکارڈ کیا گیا، سال کے سرد ترین دن میں درجہ حرارت 9 ڈگری رہا،صبح کے وقت کہرا اور دھند چھانے کی وجہ سے حدنگاہ بھی متاثر رہی، محکمہ موسمیات کے مطابق پیرکو صبح کے وقت ہوا میں نمی کاتناسب81 فیصد تک بڑھنے کے سبب دھند چھائی۔

جس کی وجہ سے حد نگاہ 6کلومیٹر سے کم ہوکر3کلومیٹر رہ گئی تھی تاہم دھوپ نکلنے کے بعد حدنگاہ بہتر ہونا شروع ہوئی محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو شہرکا کم سے کم درجہ حرارت 9 اور زیادہ سے زیادہ 25 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردارسرفراز کے مطابق پیر کی صبح2019 کا اب تک سردترین دن ریکارڈ کیا گیا۔

اس سے قبل ماہ دسمبر میں کم سے کم پارہ9.5 ڈگری ریکارڈ ہوچکا ہے،گزشتہ روز کوئٹہ کی شمال مشرقی سمت سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار20 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، آج منگل کو کم سے کم درجہ حرارت 9 سے11 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے اور موسم دن میں خشک اور رات میں سردرہنے کی توقع ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ سردی کی لہر 2 جنوری تک برقراررہ سکتی ہے بعدازاں سردی معتدل رہنے کی توقع ہے، تاہم 6جنوری سے سردی کی ایک نئی لہر شہر کا رخ کرسکتی ہے جس کا سبب ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہونے والے مغربی ہواؤں اوربارشوں کا سلسلہ ہے۔

The post پیر رواں سال کا سرد ترین دن رہا، سردی کی لہر 3 دن برقرار رہے گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Qffhyt

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...