جھوٹ کا ورلڈ کپ ہوتا تو عمران خان جیت لیتے، امیر جماعت اسلامی

باجوڑ: امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ جھوٹ کا اگر ورلڈ کپ ہوتا تو سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان یہ ورلڈ کپ جیت لیتے۔

باجوڑ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران  امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے قبائلی عوام کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ پچھلے الیکشن میں جبر سے عوام کا راستہ روکا گیا ۔ جس کی وجہ سے آج عوام کا نقصان ہورہا ہے، امریکا اور بھارت نے الیکشن میں ہماری ہار پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ موجودہ حکومت نے 22 کروڑ عوام اور قبائلیوں سے دھوکا کیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں جو ہوتا تھا وہ سلیکٹڈ کے حکومت میں بھی ہورہاہے، جھوٹ کا اگر ورلڈ کپ ہوتا تو سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان یہ ورلڈ کپ جیت لیتے۔

سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نا صرف پاکستانی عوام بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی تباہ کردیا، موجودہ حکومت میں مدرسہ اور مسجد محفوظ نہیں، معیشت تباہ ہوگئی ہے، موجودہ حکومت میں صرف چند افراد کے مفادات محفوظ ہیں۔ میں سرمایہ داروں کے لئے نہیں غریب عوام اور سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کے لئے میدان میں نکل آیا ہوں، میرے ساتھ مافیا نہیں بلکہ دیانتدار اور ایماندار لوگ ہیں۔ میں عدالتوں میں انگریز کے نظام کی بجائے قرآن کریم کا نظام دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں اس ملک میں سودی نظام کی بجائے اسلام کا نظام لانا چاہتا ہوں۔ میں وہ نظام لانا چاہتا ہوں جس میں غریب کسان حکمرانوں سے اپنا حق پوچھ سکے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فرانس کو جواب دینے کے لیے بہادر قیادت درکار ہے، عمران خان پریشان ہیں کہ عوام کے ساتھ کھڑا ہوا جائے یا امریکا اور یورپ کے ساتھ، ہم چہروں کی نہیں نظام کی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ، ہم بہت جلد پشاور اور اسلام آباد کا بھی رخ کریں گے، ہم مولانا فضل الرحمان کی طرح اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے، جب جائیں گے تو واپس اس وقت تک نہیں آئیں گے جب مطالبات منظور نہیں ہوتے۔

سراج الحق نے کہا کہ پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو دیئے جانے والے دودھ کے فیڈر پر ہے۔ ایف ٹی اے ایف اور آئی ایم ایف کے دباؤ میں جو قوانین بنائے گئے ان میں پی ڈی ایم نے حکومت کا ساتھ دیا۔

The post جھوٹ کا ورلڈ کپ ہوتا تو عمران خان جیت لیتے، امیر جماعت اسلامی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/34JNPjl

ہمیں میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامنا ہے، وزیر اعظم

گلگت: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں آج بھی میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامنا ہے۔

گلگت بلتستان کی یوم آزادی پریڈ سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ 73 سال پہلے یہاں کے اسکاؤٹس نے گلگت بلتستان کو آزاد کرایا، وہ گلگت بلتستان کی عوام کے ساتھ خوشی منانے آئے ہیں، جب تک وزیر اعظم رہوں گا یہی کوشش ہوگی کہ یکم نومبر کا دن گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گزاروں، گلگت بلتستان جیسی خوبصورتی دنیا میں کہیں نہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عوام مشکل میں ہیں اور مشکلوں کا سامنا کررہے ہیں، غریب افراد کو اوپر لانا حکومت کی پالیسی ہے، گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قرارداد کو مدنظر رکھ کر کیا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت میں پچھلے 73 سال میں سب سے زیادہ انتہا پسند حکومت آئی ہے، بھارتی حکومت انسانوں کو برابر نہیں سمجھتی، آج ہمیں مضبوط سیکیورٹی فورس کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردی کا دشمنوں نے فائدہ اٹھایا، سیکیورٹی فورسز کی وجہ سے آج ملک محفوظ ہے، بھارت نے شیعہ سنی علما کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا، سیکیورٹی فورسز نے انتشار پھیلانے کے منصوبے پاش پاش کیے۔

اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم بنا تو پہلے خطاب میں ہی کہا تھا کہ ان لوگوں نے 30 سال ملک کو لوٹا اور یہ پیسہ بیرون ملک لے گئے، یہ ہمارے خلاف اکٹھے ہوں گے، دوسری بات یہ جس چیز میں پاکستان کا فائدہ ہے اس چیز میں ان کا نقصان ہے، یہ چاہتے ہیں مجھے بلیک میل کریں اور میں انہیں این آر او دے دوں، یہ مجھے بلیک کرنے کی جتنی بھی کوشش کریں، میں ان کو این آر او نہیں دوں گا، میرے خلاف ناکام ہوئے تو انہوں نے اپنی بندوقوں کا رخ ملکی اداروں کے طرف کردیا۔ یہ ڈاکو آرمی چیف کے خلاف بول رہے ہیں، ان لوگوں نے آئی ایس آئی کے چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے معیشت اور الیکشن پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، میں نے کہا دھاندلی ہوئی ہے تو الیکشن کھول دو تو یہ بھاگ گئے، قانون کی بالادستی میں پاکستان کافائدہ ہے لیکن ان کا فائدہ پاکستان کےمفاد میں نہیں، آج بھی ہمیں میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامناہے، یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کومعاف کردوں لیکن کبھی ڈاکوؤں کو معاف نہیں کریں گے، ان کے حق میں عدالتی فیصلہ آتا ہے تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو عدلیہ کو ہدف بناتے ہیں، یہ عدلیہ میں کوشش کررہے ہیں ایک جج کو اوپر چڑھا دیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب تک معیشت ٹھیک کرنے پرتوجہ تھی، اب قانون کی بالادستی پر فوکس کروں گا، آنے والے دنوں میں قوم دیکھے گی کہ کس کے ماتھے پرپسینہ آتا ہے اور کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔

 

The post ہمیں میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامنا ہے، وزیر اعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ef3jPs

اپوزیشن رہنماؤں کو پاکستان مخالف بیانیے کا حساب دینا پڑے گا،عثمان بزدار

 لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کہتے ہیں کہ اپوزیشن رہنماؤں کو پاکستان مخالف بیانیے کا حساب دینا پڑے گا۔

اپنے بیان میں عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ عوام کے مسائل سے بے خبر اپوزیشن صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں لگی ہوئی ہے، اپوزیشن نے پاکستان کے مفادات کو داؤ پر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اپوزیشن نے کورونا کی دوسری لہر کے باوجود اجتماعات کی سیاست سے گریز نہیں کیا۔ اپوزیشن کا حالیہ بیانیہ پاکستان کے بیانیے کے یکسر خلاف ہے، اپوزیشن رہنماؤں کو منفی سیاست سے توبہ کر لینی چاہیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی ہے،اپوزیشن رہنماؤں کو پاکستان مخالف بیانیے کا حساب دینا پڑے گا۔

The post اپوزیشن رہنماؤں کو پاکستان مخالف بیانیے کا حساب دینا پڑے گا،عثمان بزدار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HWmS3k

250 ممالک کے 25 ہزارکرنسی نوٹوں اورسکوں کا خزانہ

 لاہور: قصور کے رہائشی شکیل احمد خان دنیا کے 250 سے زائدممالک کے 25 ہزار سے زائد کرنسی نوٹ اورسکے جمع کررکھے ہیںاس کے علاوہ  ان کے پاس 10 ہزار سے زائدیادگاری ٹکٹ بھی ہیں۔

ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے 20 سال قبل جب وہ آٹھویں کلاس میں تھے تب انہیں سکے جمع کرنے کا شوق ہوا اورپھرجب گریجوایشن مکمل کی تویہ شوق جنون کی حدتک بڑھ چکا تھا۔ ان کے پاس اس وقت دنیا کے 250 ممالک کے پانچ ہزارکے قریب مختلف مالیت کے کرنسی نوٹ، 20 ہزارکے قریب سکے ،10 ہزاریادگاری ٹکٹ اور تقریبا 800 کے قریب یادگاری سکے اورمیڈلزہیں جوانہوں نے جمع کررکھے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس قیام پاکستان سے قبل برطانوی دورمیں استعمال ہونیوالے سکے اورکرنسی نوٹ بھی موجود ہیں جبکہ قیام پاکستان کے بعد پہلے سال تو برطانوی نوٹ ہی استعمال کئے جاتے رہے ہیں جن پرحکومت پاکستان پرنٹ کردیاگیاتھا، یہ نایاب نوٹ تھے وہ بھی ان کے پاس ہیں اسی طرح پاکستان نے اپناپہلاکرنسی نوٹ انگلینڈ سے پرنٹ کروایاتھا مختلف مالیت کے یہ نوٹ بھی ان کے پاس ہیں۔ ہمسایہ ملک بھارت کے کرنسی نوٹ اورسکے بھی ہیں۔ اسی طرح برصغیرکی بات کی جائے تومغلیہ دورمیں جاری ہونیوالے تمام سکے، سکھ دور اورپھربرطانوی دورکے سکے بھی ان کے پاس ہیں۔ سکھ عہد تک یہاں سکے ہی بطور کرنسی استعمال ہوتے تھے ، پہلی بارملکہ برطانیہ وکٹوریہ نے کرنسی نوٹ جاری کیاتھا یہ نوٹ بھی ان کی کلیکشن میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈھائی ہزارسال پرانے سکے جو سکندراعظم کے دورکے ہیں ،ان کے بعد وجود میں آنیوالی مختلف ریاستوں کے سکے بھی موجود ہیں جبکہ کئی ایسے ممالک جویاتودوسرے ممالک میں ضم ہوگئے یا پھرختم ہوچکے ہیں ان کے سکے بھی ان کے پاس ہیں۔

شکیل احمد خان کہتے ہیں کرنسی نوٹ اورسکے جمع کرنا آسان کام نہیں ہے، اس کے لئے جہاں کافی رقم خرچ کرناپڑتی ہے وہیں آپ کا شوق اورجنون بہت اہم ہے۔ ان کے پاس موجود اس خزانے کی مالیت کتنی ہوگی اس سوال کے جواب میں شکیل احمد نے کہا انہوں نے کبھی اس کا حساب نہیں لگایا ہے ،یہ کافی قیمتی خزانہ ہے یوں سمجھ لیں کہ ان کے پاس سونے ،چاندی اورمختلف دھاتوں کے ہزاروں سکے ہیں ،ان میں سے ایک سکہ کی مالیت پاکستانی روپوں میں تقریبا 35 ہزار روپے ہے یہ سونے کا سکہ ہے۔ وہ کہتے ہیں ان کے نزدیک ان کی قیمت معنی نہیں رکھتی بلکہ یہ بات زیادہ اہم ہے کہ یہ نوٹ اورسکہ کتناپرانا اورنایاب ہے۔

انہوں نے کہا مختلف ممالک کے کرنسی نوٹ اورسکے جمع کرنے کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ دنیا بھرمیں ہزاروں ایسے افراد ہیں جن کا مشغلہ سکے اورنوٹ جمع کرنا ہے آپ ان کے ساتھ اپنے پرانے کرنسی نوٹ اورسکے دیکردوسرے ممالک کے نوٹوں اورسکوں کاتبادلہ کرسکتے ہیں ،دوسرا طریقہ ہے کہ آپ ان کی قیمت اداکرکے خریدلیں۔ دوسراطریقہ کافی مشکل ہے چونکہ اس طرح رقم کی ادائیگی کا طریقہ پاکستان میں کافی مشکل ہے ۔ شکیل احمد کہتے ہیں ان کے پاس جوکلیکشن ہے وہ زیادہ تر ایکسچینج کے ذریعےہی جمع کی گئی ہے۔

شکیل احمد خان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ لاہور میوزیم میں سکوں کی سب سے بڑی کلیکشن ہے لیکن بدقسمتی سے میوزیم میں جو سکے ڈسپلے کیے گئے ہیں وہ حقیقی نہیں بلکہ رپلیکا ہیں۔ میوزیم انتظامیہ کوچاہیے کہ جوانتہائی قیمتی سکے ہیں بے شک ان کے رپلیکاز لگادے لیکن باقی سکے تو اصلی ڈسپلے ہونا چاہے۔

شکیل احمد خان کہتے ہیں کہ ایک باران کایہ خزانہ چوری ہوگیا تھا لیکن بہت زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا اب وہ اپنی اس کلیکشن کو کسی ایک جگہ رکھنے کی بجائے مختلف جگہوں پررکھتے ہیں تاکہ خدانخواستہ اگر نقصان ہو تو کم سے کم ہوسکے۔ اب بھی چند ممالک ایسے ہیں جن کے پرانے اورنایاب سکے ان کے پاس نہیں ہیں، وہ انہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ بہت قیمتی اور ان کی پہنچ سے باہرہیں۔ اگر حکومت یا کوئی ادارہ دنیاکے کرنسی نوٹوں اورسکوں کی کلیکشن کا میوزیم بناتا ہے تووہ اپنی تمام کلیکشن عطیہ کرنے کو تیار ہیں۔

The post 250 ممالک کے 25 ہزارکرنسی نوٹوں اورسکوں کا خزانہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3oNzgDF

سیاست اور جرم کو الگ رکھنا ہوگا، شبلی فراز

 اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ سیاست اور جرم کو الگ رکھنا ہوگا.

وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ سیاست اور جرم کو الگ رکھنا ہوگا۔ سیاست اور پاکستان کے قومی مفاد میں سرخ لکیر کو ماننا ہوگا۔ نوازشریف کے مفادات اور قومی مفادات میں فرق قوم سمجھتی ہے۔ نوازشریف کے حواریوں کو بھی یہ ماننا پڑے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے قومی اداروں کی سیاست میں مداخلت کے الزامات کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ای دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ روز شبلی فراز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مسلم لیگ ن کس سسٹم کی مرہون منت ہے سب کو پتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سیاسی جدوجہد نہیں کی، اپوزیشن اب انقلابی بن رہی ہے، اپوزیشن کو ملک کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، مریم نواز، بلاول بھٹو اور فضل الرحمان کا بیانیہ کھل کر سامنے آرہا ہے۔

The post سیاست اور جرم کو الگ رکھنا ہوگا، شبلی فراز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2THo9O5

اندرون لاہور کی خستہ حال عمارتیں

 لاہور: اندرون شہر لاہورمیں سیکڑوں ایسی خستہ حال عمارتیں ہیں جنہیں مخدوش قراردیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود کئی خاندان ان عمارتوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور خطرات کے باوجود یہ قدیم گھر خالی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

80 سالہ عبدالرحمان اندرون شہر ٹکسالی کےعلاقہ میں واقعہ ایک انتہائی خستہ حال عمارت میں بنے تین کمروں کے گھرمیں رہتے ہیں، ان کے جوان بچے بھی ان کے ساتھ ہی یہاں مقیم ہیں جن میں سے ایک بیٹا شادی شدہ ہے اور اس کی بیوی اور 2 بچے بھی یہاں مقیم ہیں۔

عبدالرحمان نے بتایا کہ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا اور یہاں اندرون شہر میں رہائش اختیار کی تھی۔ یہ عمارت تین منزلہ ہے جو ایک ہندو خاندان کی ملیکت تھی ، اس عمارت میں مسلمان خاندانوں کو آبادکیا گیا۔ ان کے والدہ اور والدہ اسی گھرمیں فوت ہوئے جبکہ دو بہنوں کوبھی شادی کرکے اسی گھرسے رخصت کیا ۔ اب وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ یہاں رہتے ہیں۔

عبدالرحمان نے بتایا کہ ناصرف ان کا گھربلکہ پوری عمارت ہی خستہ حال ہے ، جگہ جگہ دراڑیں پڑی ہیں، کئی جگہوں سے سیمنٹ اور اینٹیں اکھڑچکی ہیں لیکن وہ یہاں رہنے پرمجبورہیں۔ یہ دو،ڈھائی مرلہ جگہ ہے۔ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے اورنہ ہی اتنے پیسے موجود ہیں کہ وہ اس گھرکو منہدم کرکے نیا بناسکیں کیونکہ یہاں جو باقی خاندان آباد ہیں ان کے معاشی حالات بھی ایسے ہی ہیں۔

عبدالرحمان نے بتایا کہ وہ چند برس پہلے تک شاہ عالم مارکیٹ میں گوٹا کناری والے پرانے لہنگے خریدتے تھے لیکن بیمار ہونے کی وجہ سے یہ کام چھوڑ دیا اب ان کا بیٹا بچوں کے ریڈی میڈ سوٹ فروخت کرتا ہے۔ اس سے گھر کا چولہا بمشکل چل رہا ہے، مکان کی تعمیر کیسے کروائی جائے۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے اندرون لاہور میں 22 ہزارعمارتوں کا سروے کیا گیا ہے جن میں 600 کے قریب عمارتیں خستہ حال ہیں جبکہ 260 عمارتوں کو فوری طور پر گرانے کی سفارش کی گئی تھی، یہ تجویز بھی دی گئی تھی کہ 232 عمارتوں کو دوبارہ مرمت کی ضرورت ہے۔

سروے کے مطابق اندرون شہر میں سب سے زیادہ خستہ عمارتیں لوہاری،ٹکسالی، محلہ ٹھٹی ملاح اور کوچہ میاں وحید میں ہیں ،پانی والا تالاب کے قریبی علاقوں میں بھی کئی خستہ حال مکان ہیں، اسی طرح کئی قدیم حویلیاں اورخاص طورپر فقیرخانہ میوزیم کی عمارت بھی خستہ حال ہے جس کی دیواروں میں دراڑیں پڑچکی ہیں۔

والڈسٹی آف لاہوراتھارٹی کی ڈائریکٹربلڈنگ کنٹرول نوشین زیدی نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ ان کی طرف سے خستہ حال عمارتوں کوخطرناک دیکرمتعددبارنوٹسزجاری کیے گئے ہیں، متعلقہ پولیس حکام سے بھی کہا جاتا ہے، کئی بار ان لوگوں سے عمارتیں خالی کروانے کی کوشش بھی کی گئی مگروہ لوگ ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے،خاندان کولیکرکہاں جائیں، نوشین زیدی کہتی ہیں یہ حقیقت ہے کہ ان چندمرلہ کے تنگ وتاریک مکانوں میں غریب اورمتوسط طبقے کے لوگ آباد ہیں۔ اندرون شہرمیں کسی پرانی عمارت کو گرا کرنئے سرے سے بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے، انہوں نے بتایا کہ والڈسٹی آف لاہوراتھارٹی اپنے محدود بجٹ کے ساتھ ہرسال 30۔ 35 مکانات اورعمارتوں کی مرمت کروا رہی ہے لیکن سینکڑوں گھروں کی مرمت اورتعمیرکے لئے ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ والٖڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے شاہی گزرگاہ کی بحالی کے پہلے مرحلے میں درجنوں گھروں کی آرائش ومرمت کروائی ہے جبکہ لوہاری اورٹکسالی کے علاقے میں سیوریج کا نظام بہتربنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں سیوریج سسٹم ناکارہ ہوچکا ہے، پانی کی لیکج کی وجہ سے عمارتوں کی بنیادیں متاثرہورہی ہیں، والڈسٹی آف لاہور اتھارٹی سیوریج سسٹم بہترکرنے پرکام کررہی ہے۔

The post اندرون لاہور کی خستہ حال عمارتیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HPP7Ar

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرا ون ڈے میچ آج کھیلا جائے گا

لاہور: پہلا ون ڈے بمشکل جیتنے کے بعد دوسرے میچ میں گرین شرٹس کو دفاعی خول سے نکلنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔

راولپنڈی میں منعقدہ پہلے ون ڈے میں پاکستان نے گرتے پڑتے 26رنز سے فتح حاصل کرتے ہوئے آئی سی سی سپر لیگ میں 10پوائنٹس کے ساتھ  کھاتہ تو کھول لیا، البتہ کارکردگی قطعی طور پر سابق عالمی چیمپئن ٹیم کے شایان شان نہیں تھی،بیٹنگ ڈری سہمی نظر آئی،زمبابوین اسپنرز نے مڈل آرڈر کو مشکل میں  رکھا،پاور ہٹنگ ہوئی نہ کوئی تسلسل کے ساتھ رنز بناکر حریف بولرز کو دباؤ میں نہ لا سکا۔

دفاعی بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے اننگز کی 300 میں سے 154ڈاٹ بال کھیلیں، بولنگ میں غلطیوں کے سبب برینڈن ٹیلر اور ویزلے مدھیویرے تقریباً میچ چھین کر لے گئے تھے،حارث رؤف،فہیم اشرف اور عماد وسیم نے کھل کر حریف کو اسٹروکس کھیلنے کا موقع فراہم کیا،اختتامی اوورز میں شاہین شاہ آفریدی اور وہاب ریاض نے عمدہ بولنگ سے پریشان حال میزبان ٹیم کی سانسیں بحال کیں،دوسرا ون ڈے اتوار کوکھیلا جائے گا،پاکستان ٹیم شایان شان کارکردگی دکھانے کی خواہاں ہوگی،دفاعی خول سے نکل کر عمدہ کھیل پیش کرنا ہوگا۔

دوسرے ون ڈے کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان گذشتہ روز کیا گیا، صرف ایک تبدیلی ہوئی،گروئن انجری کا شکار ہونے والے پہلے مقابلے کے ٹاپ اسکورر حارث سہیل کی جگہ حیدر علی کو شامل کرلیا گیا، نوجوان بیٹسمین کے ڈیبیو کا امکان روشن ہوگیا ہے، دوسری جانب افتخار احمد کو ایک موقع اور دیے جانے کا امکان ہے، شاداب خان نے ٹریننگ کا آغاز کردیا لیکن انھیں بدستور آرام دیا جائے گا، گذشتہ میچ میں اسپنر کی کمی محسوس ہوئی تھی، اگر فہیم اشرف کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ ہوا تو عثمان قادر کو موقع دیے جانے کا امکان ہے۔

پلیئنگ الیون کا انتخاب بابر اعظم (کپتان)، امام الحق، عابد علی، فخر زمان، حیدر علی،محمد رضوان، افتخار احمد، خوشدل شاہ، فہیم اشرف، عماد وسیم، عثمان قادر، وہاب ریاض، شاہین آفریدی، حارث رؤف اور موسیٰ خان میں سے ہوگا۔کپتان بابر اعظم پْرامید ہیں کہ دوسرے ون ڈے میں کھلاڑی اپنی صلاحیتوں پر لگا زنگ اتارنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

پہلے میچ کے بعد ویڈیو میڈیاکانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ہم نے بیٹنگ میں اچھا آغاز کیا تھا لیکن بڑا اسکور نہیں کرسکے، ٹیم ایک سال بعد ون ڈے کھیل رہی تھی، پچ میں ڈبل پیس موجود رہا اور سلو بریک بھی ہورہی تھی، اس صورتحال میں سیٹ بیٹسمین اننگز کو مطلوبہ رفتار سے آگے بڑھانے کا موقع گنوا دے تو آنے والے کیلیے آسان نہیں ہوتا،ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں،آئندہ میچز میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔

پیس بیٹری کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حارث رؤف کے کیریئر کا پہلا ون ڈے تھا،ابتدا میں مشکل کے بعد دوسرے اسپیل میں انھوں نے بہتر بولنگ کی،شاہین شاہ آفریدی نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ تجربہ کار وہاب ریاض نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے فتح کا راستہ ہموار کیا۔

بابر اعظم نے برینڈن ٹیلر کے آؤٹ کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے غیر معمولی اننگز کھیلی،ایک بڑی شراکت قائم ہونے کے باوجود مجھے اپنے بولرز پر اعتماد تھا کہ وہ میچ کو ہاتھ سے نہیں جانے دینگے،وہاب ریاض تجربہ کار ہیں، شاہین شاہ آفریدی بھی تیزی سے سیکھتے ہوئے بہترین بولر بنتے جارہے ہیں،ان کو معلوم ہوتا ہے کہ مشکل صورتحال میں 110فیصد کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کیلیے کیا کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ون ڈے کرکٹ میں پاکستان 2اسپنرز کے ساتھ کھیلتا رہا ہے،پہلے میچ میں فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر کو کھلانے کا تجربہ کیا،اتوار کو دوسرے اسپنر کی شمولیت کا فیصلہ ٹیم میٹنگ میں کریں گے، غلطیوں کے باوجود جیت تو جیت ہے،اس سے اعتماد میں اضافہ ہوا،آئی سی سی سپرلیگ میں ہر پوائنٹ اہمیت کا حامل ہے۔

دوسری جانب زمبابوین ٹیم ایک بار پھر برینڈن ٹیلر اور ان فارم نوجوان بیٹسمین ویزلے مدھیویرے پر انحصار کرے گی، سین ولیمز اور سکندررضا سے بھی بہتر کارکردگی کی امیدیں وابستہ ہیں، ٹینڈائی چسورو کی جگہ ایلٹن چگمبرا کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

The post پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرا ون ڈے میچ آج کھیلا جائے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3eei6Ko

فیضان عشق رسول کے نام سے1212 مساجد بنائیں گے، الیاس قادری

کراچی: امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری نے 12 ربیع الاول کی شب عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ  میں محفل میلاد میں دشمنان اسلام کی جانب گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے متعلق ایک اہم اعلان کرتے ہوئے فیضان عشق رسول کے نام سے 1212 مساجد بنانے اعلان کردیا۔

امیر اہلسنت نے کہا کہ گستاخوں نے جو خاکے بنائے اس سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوئے، اللہ ان بد بختوں کو ہدایت دے اور اگر ہدایت نہیں تو انھیں نست ونابود کردے ،اللہ انھیں تباہ وبرباد کردے اور انھیں نشان عبرت بنادے، امیر اہلسنت نے کہاکہ  اللہ کرے سرکار کی محبت ہمارے دل میں رہے، دل میں عشق رسول کی شمع روشن رہے جشن ولادت کے موقع پر سجدہ شکر کریں، کیونکہ ہمیں بہت بڑی نعمت ملی ہے ہمیں جو عزت ملی ہم اس عزت سے لوگوں کو اللہ کی بارگاہ میں جھکائیں، نمازی بنائیں انھیں سنتوں کا پابند بنائیں۔

مولانا محمد الیاس عطار قادری نے کہا کہ گستاخان رسول کے رد میں دعوت اسلامی فیضان عشق رسول مساجد بنائے گی، مساجد بناتے رہیں بڑھاتے رہیں اور انھیں بڑھاتے رہیں، ہم مزید دین کے ساتھ مربوط ہوجائیں گے، اگر وہ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کریں گے تو ہم مساجد کی تعداد بڑھادیں گے نمازی  بنائیں گے، امیر اہلسنت نے کہا کہ ہمارے لیے سرکار کی ذات قابل تقلید ہے اور ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

 

The post فیضان عشق رسول کے نام سے1212 مساجد بنائیں گے، الیاس قادری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/34IjDoR

کے ایم سی میں مالی بحران، ادائیگیاں روک دی گئیں

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میٹرو پولیٹن کمشنر نے ادارے میں مالیاتی بحران کے باعث لیو انکیشمنٹ اور صرف ایک ماہ کے سپلیمنٹری تنخواہی بل کے سوا فوری طور پر تمام سپلیمنٹری بلوں کی پرنٹنگ اور ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

میٹرو پولیٹن کمشنر کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق آئندہ کے ایم سی پے رول میں ایڈمنسٹریٹر کراچی کی منظوری کے بغیر کسی نئی انٹری کا اضافہ نہیں ہو گا اس حوالے سے ہدایات کی خلاف ورزی سنگین غفلت شمار ہو گی اور ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس اقدام کا مقصد بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مالیاتی نظم قائم کرنا اور اس کے ساتھ اخراجات میں کفایت شعاری لانا ہے۔

میٹرو پولیٹن کمشنر کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کو بدترین مالی بحران کا سامنا ہے اور وہ ملازمین کو وقت پر ماہانہ تنخواہ ادا نہیں کر پا رہی جبکہ مختلف مدات میں سپلیمنٹری کلیمز میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں پروموشن، اپ گریڈیشن، تنخواہ کے فرق کے بل اور واجب و وصول تنخواہ وغیرہ شامل ہے جس کے بھاری مالی مضمرات ہوئے ہیں اور کے ایم سی مزید اس صورتحال کی متحمل نہیں ہو سکتی لہٰذا یہی وقت ہے کہ ایسے تنخواہی کلیمز کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ادارے کے وسائل کی صرف اشد ضروری مدات میں ہی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

 

The post کے ایم سی میں مالی بحران، ادائیگیاں روک دی گئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2TEQJ2L

دھوکا دہی سے BISP رقوم کا حصول، مزید 10خواتین کو سزائیں

حیدرآباد: دھوکا دہی سے امدادی رقم حاصل کرنے کے جرم میں سرکاری ملازمین کی بیگمات اور قریبی رشتے دار مزید10خواتین کو سزائیں سنا دی گئیں۔

سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ نمبر9 منظورعلی پنہور کی عدالت نے دھوکا دہی کے ذریعے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی مالی امداد حاصل کرنے پر سرکاری ملازمین کی بیگمات یا قریبی رشتے دار مزید 10 خواتین  کو قید وجرمانے کی سزائیں سنادیں۔

فاضل عدالت نے ایف آئی اے حیدرآباد میں اس سے متعلق درج کیے گئے 10 مقدمات کی سماعت کی۔ ان مقدمات میں نامزد 10 خواتین نے عدالت کے روبروتحریری طورپر اعتراف جرم کیا جس پر عدالت نے ملزمان کو تا برخاست عدالت  قید اور فی کس8 ہزار روپے جرمانے کی سزائیں سنادیں۔

جن خواتین  کوقید وجرمانے کی سزائیں سنائی گئیں ان میں سے ملزمہ مسماۃ رحمت عبدالستارببر کے خلاف 14 جولائی 2020 کو، 5 خواتین صغراں الیاس ابڑو، شہناز سردار خان، مسماۃ بیگم منٹھار علی، عائشہ غلام شبیر، نشاء خاتون غلام مرتضی کے خلاف 2ستمبر 2020 جبکہ 4خواتین  زینب عبدالرحمان، اسما دھنی بخش، ملیکہ عبداللطیف پنہور اور غلام صغرٰی نور محمد کے خلاف3 ستمبر 2020کو ایف آئی اے نے مقدمات درج کیے تھے۔ مقدمات کے اندراج کے بعدملزم خواتین  ضمانت پر رہا تھیں۔

 

The post دھوکا دہی سے BISP رقوم کا حصول، مزید 10خواتین کو سزائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3oT6l15

بُک شیلف

منبع طاقت
مولف: صوفی شوکت رضا سرکار
قیمت: 100 روپے۔۔۔صفحات:96
ناشر: ادبستان، پاک ٹاور ، کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی طاقتوں سے نوازا ہے۔ کچھ طاقتوں کو انسان روزمرہ کے کاموں کے لئے استعمال کرتا ہے اور کچھ کے بارے میں اسے علم ہی نہیں ہوتا جیسے ذہنی یا روحانی طاقت ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ روز مرہ زندگی میں اپنے کام کاج کے لئے انسان اپنے دماغ کو استعمال کرتا ہے بس یہی دماغ کا استعمال ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ کو حیرتوں کا مجموعہ بنایا ہے، روزمرہ میں اس کا استعمال اس کا ایک چھوٹا سے حصہ ہے، انسانی دماغ کی طاقت بہت زیادہ ہے مگر وہ انسان سے پوشیدہ ہے جو افراد اپنی ان طاقتوں کو جگا لیتے ہیں وہ دوسروں سے بہت آگے نکل جاتے ہیں، یہی عالم روحانی طاقت کا ہے۔

زیرتبصرہ کتاب میں صوفی شوکت رضا سرکار نے انھی طاقتوں کو استعمال کرنے کے حوالے سے پردہ اٹھایا ہے، وہ انسان کو احساس دلانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کن طاقتوں سے نوازا ہے اور انھیں استعمال کیسے کرنا ہے، انھوں نے موضوعات کو تہتر عنوانات میں تقسیم کیا ہے جیسے حقیقت رساں انسان، انسان ہی طاقتوں پر خودمختار، طاقتوں کی پہچان بذریعہ علم، فضیلت علم، باطن پر یقین کامل، طاقت یقین، طاقت عمل ، طاقت جہاد، طاقت نور، طاقت اسماء الہیٰ، خود سے خود کو پانا؛ اک سوال، خود اعتمادی، احتساب طاقت ۔ عنوانات سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ قاری کو کس عالم سے روشناس کرانا چاہتے ہیں ۔ کم قیمت کی معیاری کتاب ہے ناصرف روحانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کو بلکہ مایوسی کا شکار افراد کو بھی اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ تاریکی سے نکل کر روشنی میں آ سکیں ۔

آگہی
مولف: نسیم طاہر (ایڈووکیٹ)
قیمت:400 روپے۔۔۔۔صفحات: 176
ناشر: ادبستان، پاک ٹاور،کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)

اللہ تعالیٰ عقل سے ماورا ہے، صرف روحانیت کی دنیا میں جھانکنے کی اہلیت رکھنے والے ہی عین الیقین رکھتے ہیں پھر وہ لوگ بے چارے کیا کریں جن میں دوسرے عالموں میں جھانک لینے کی استطاعت ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے ان عقل کے جویائوں کے لئے ایسی نشانیاں چھوڑی ہیں کہ انھیں اس کے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔

اسی لئے تو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ عقل والوں کے لئے ان میں نشانیاں ہیں، زیر تبصرہ کتاب اللہ تعالیٰ سے تعلق پر روشنی ڈالتی ہے۔ ڈاکٹر محمود اکرم کہتے ہیں ’’آگہی ‘‘ کے متعلق میرا تاثر یہ ہے کہ اس میں ’’ذات انسانی‘‘ کا مطالعہ ندرت فکر و نظر اور ایک نئی نہج سے کیا گیا ہے۔ صاحب کتاب نے گہرے تحقیقی اور مشاہداتی تجربات سے گزر کر انسان کی بدنی، روحانی، ذہنی، نفسی اور نفسیاتی کیفیات کو بیان کیا ہے۔

انداز بیان بھی منفرد اور قابل ستائش ہے۔ مطالعے کے دوران قاری دلچسپی اور مسرت کی لہروں کے مدوجذر سے گزرتا اور ساتھ ہی اس کا دل بے اختیار اللہ کریم کی بے شمار عنایات پہ شکر گزاری کے جذبات سے لبریز ہوتا چلا جاتا ہے ۔ دوران مطالعہ آدمی فکر و تخیل کے ان آفاقی مقامات کی سیر کرتا چلا جاتا ہے جہاں کا اس نے کبھی سوچا نہ تھا ۔ میری نظر میں یہی ’’ آگہی‘‘ کا حاصل مقصود ہے ۔‘‘ اس کتاب سے قبل بھی مولف ’’ قرآنی آیات‘‘ اور ’’ رخت ہستی ‘‘ کے نام سے دو کتب تصنیف کر چکے ہیں۔ ان کی موجودہ کاوش بھی انتہائی شاندار ہے، روحانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

اعدلوا
مصنف : ڈاکٹر اے آر خالد
صفحات : 238۔۔۔۔قیمت : 1800 روپے
ناشر : قلم فاونڈیشن ، والٹن روڈ ، لاہور، کینٹ
’’ اعدلوا ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب عدل کا قیام ہے۔ عدل ایک ہمہ جہت لفظ ہے جو اپنے اندر غیر معمولی وسعت اور گہرائی رکھتا ہے۔ اسلام جو دین ِ فطرت ہے زندگی کے تمام شعبوں میں عدل کے قیام پر زور دیتا ہے ۔ پوری کائنات ہی درحقیقت نظام ِ عدل پر قائم اور استوار ہے۔ کہ اس کے بغیر کائنات کا سارا نظم ہی درہم برہم ہوجائے۔ ڈاکٹر اے آر خالد نے اسی عدل کی ہمہ گیری کے پیش نظر اسے ایک کتاب کی صورت میں اہل ِ علم و دانش اور اہل حکم و اقتدار کے سامنے پیش کیا ہے۔

انہوں نے کتاب کے آغاز میں ’’ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق ۔۔۔‘‘ کے زیر ِعنوان ایک مبسوط مقالے کی شکل میں جو پیش لفظ تحریر کیا ہے وہ کتاب کے موضوع کی گویا تشریح و توضیح ہی پر مبنی ہے۔ جبکہ کتاب میں شامل باقی سارا مواد ان کے ان کالموں کے انتخاب پر مشتمل ہے جو انہوں نے مختلف مواقع پر ملک کے عدالتی نظام ، عدلیہ کے فیصلوں، عدلیہ کے کردار و اہمیت کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ ، جمہوریت ، سیاست اور امور ِ مملکت کے موضوع پر سپرد ِ قلم کیے تھے۔ ڈاکٹر اے آر خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل و مشکلات کی وجہ نظام ِ عدل کا نہ ہونا ہے اگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں نظام عدل کی فرمانروائی ہو جائے تو تمام مسائل ازخود حل ہو جائیں۔ وہ اس معاملے کو البتہ محض عدلیہ پر چھوڑنے کو مناسب نہیں سمجھتے بلکہ پورے نظام ِ حیات پر اس کا اطلاق چاہتے ہیں اور ان کے اس نقطہ نظر سے ظاہر ہے اختلاف ممکن نہیں۔کتاب کو قلم فاونڈیشن نے حسب ِ روایت عمدہ کاغذ اور بہترین طباعتی معیار کے ساتھ شائع کیا ہے پاکستان کی سیاسی، پارلیمانی اور عدالتی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب یقینی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

منزل سے قریب (تراجم لالہ صحرائی)
مرتبہ: ڈاکٹر زاہرہ نثار
ناشر: دارالنوادر، الحمد مارکیٹ اردو بازار، لاہور ۔ 03008898939

ادیب، نعت گو اور دانش ورلالہ صحرائی کا اصل نام محمد صادق تھا۔ اوائلِ عمر ہی سے مطالعے کا رجحان رکھتے تھے۔ جو رسالہ کہیں سے مل جاتا یا کوئی کتاب دستیاب ہوجاتی، اس کے مطالعے کو سب کاموں پر فوقیت دیتے۔ رفتہ رفتہ خود بھی لکھنا شروع کر دیا۔ سال ہا سال تک ملک کے معتبر علمی و ادبی جرائد میں آپ کے تحریر کردہ افسانے ، شخصی خاکے، انشائیے،طنزو مزاح اور سیاسی و تنقیدی مضامین شائع ہوتے رہے۔

نعتیہ شاعری کے مجموعے خود انھوں نے مرتب کرکے اپنی زندگی ہی میں شائع کر دیے تھے۔ ان کی وفات کے بعد مرحوم کے لائق فرزندوں ( ڈاکٹر جاوید صادق، ڈاکٹر نوید صادق) نے ان کے بقیہ تخلیقی مسودوں کو منظر عام پر لانے کے لیے’لالہ صحرائی فائونڈیشن‘ قائم کی جس کے تحت دو سال قبل ’’ کلیاتِ لالہ ء صحرائی‘‘ کے نام سے مرحوم کے جملہ شعری سرمائے کو یکجا شائع کیا گیا ۔ اس کے بعد نثر کی دو جلدیں سامنے آئی ہیں ۔ ( منزل سے قریب۔ نگارشاتِ لالہ ء صحرائی)

زیرِ نظر کتاب لالہ صحرائی کے ان تراجم پر مشتمل ہے جو انھوں نے مختلف اوقات میں کیے اور انھیں مختلف رسائل و جرائد نے شائع کیا۔ انھیں مرتب کرنے کا کام ڈاکٹر زاہرہ نثار نے کیا ہے۔ اس مجموعے میں ٹالسٹائی، موپساں، لی ایم اوفلاہرٹی، ایچ ایچ مرو، الفریڈ ہیلر، مریم جمیلہ ، ولیرس ڈی لانیٹل ایڈم، علامہ محمد اسد و دیگر اہل قلم کے افسانے اور مضامین شامل ہیں جنھیںلالہ صحرائی نے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا (پروفیسر امریطس اردو پنجاب یونی ورسٹی لاہور) نے لالہ صحرائی کی ترجمہ نگاری کی تحسین کرتے ہوئے لکھا ہے’’ یہ تراجم ، افسانہ ، سفر نامہ ، مضمون ، طنزومزاح اور دیگر متفرق تحریروں پر مشتمل ہیں۔ ان میں اتنی روانی ہے کہ مطالعے کے دوران ہرگز احساس نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ شدہ تحریریں ہیں۔ ایسی ہنر مندی اکثر مترجمین کے ہاں شاذ ہی دکھائی دیتی ہے۔‘‘

اسی طرح ایک اور نام ور ادیب الطاف حسن قریشی نے لالہ صحرائی کو یوں داد دی ہے:’’انھوں نے غیر ملکی کلاسیکی اد ب سے بلند پایہ افسانوں، سفرناموں ، قلبی وارداتوں اور فکر انگیز مضامین کے تراجم اس کمال سے کیے کہ وہ اصل سے کہیں زیادہ اثر انگیز محسوس ہوتے ہیں ۔ ان تراجم میں روسی شاعری بھی اردو قالب میں ڈھلی ہوئی ہے، جس کا اپنا ایک لطیف ذائقہ ہے۔‘‘

زیر نظر کتاب لالہ ء صحرائی کے اعلی علمی و ادبی ذوق اور ترجمہ نگاری میں ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تراجم ایسے عمدہ اور خو ب صورت انداز میں کیے ہیںکہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ تراجم نہیں، اصل اردو تحریریں ہیں۔

پریشاں سا پریشاں
مصنف: ڈاکٹر مجاہد مرزا
قیمت:1500 روپے۔۔۔۔صفحات:702
ناشر: سنگی کتاب گھر، ہری پور (03345958597)

اپنی زندگی کی کہانی بلاکم کاست بیان کرنا گویا اپنے گناہوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ دینا ہے اس لئے قلم قبیلے کی اکثریت اس سے دور ہی رہتی ہے یا پھر ان کا انداز استعارے کا یا پھر فکشن کا رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے، ڈاکٹر مجاہد مرزا اپنی آپ بیتی ایسے مزے مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں جیسے کسی کار خیر میں مصروف ہوں۔

خیر یہ تو بطور اظہار تفنن لکھ دیا، لفظ کارخیر تو ان کی آپ بیتی پر واقعتاً پورا اترتا ہے کیونکہ وہ جتنے بڑے انسان ہیں ( گو انھوں نے اپنی آپ بیتی کو عام آدمی کی آپ بیتی قرار دیا ہے جس سے ہم تو کیا کوئی بھی متفق نہیں ہو گا ) اور زندگی کے نشیب و فراز سے گزر کر جس مقام پر پہنچے ہیں وہ تو نئی نسل کے لئے ایک مثال ہے، وہ ان کی آپ بیتی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے حالات کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور منزل کی طرف رواں دواں رہا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر مجاہد مرزا کی متعدد کتابیں منصفہ شہود پر آ چکی ہیں، جن میں ’’ گمشدہ شہر اور ملیا میٹ تہذیبیں‘‘ ، ’’انگلیوں میں دھوپ‘‘، ’’ یہودیوں کا نسلی تفاخر‘‘ اور ’’ محبت ۔۔ تصور اور حقیقت ‘‘ شامل ہیں ۔ قومی اخبارات اور رسائل میں ان کے مضامین چھپتے رہے۔ ماسکو میں ریڈیو صدائے روس کے ساتھ بطور مترجم اور براڈ کاسٹر منسلک رہے۔

ان کی آپ بیتی کے حوالے سے محمد حسن معراج کہتے ہیں ’’ کتاب ختم ہوئی تو جیسے قیمتی کرسٹل کا ایک گلاس ٹوٹ گیا۔ اس کی ہرکرچی میں اپنا ہی عکس بہت سے حصوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے۔ یہ حساب کی وہ مساوات ہے جہاں نوے فیصد آپ کا دل چاہتا ہے کہ آپ مجاہد مرزا ہوتے اور نوے فیصد خواہش ہوتی ہے کہ بالکل بھی نہ ہوتے ۔۔۔ پہلی بار حساب کی بنیادی سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے میرا دل چاہا کہ سو فیصد میں ایک سو اسی ہوتے ۔۔۔ مجاہد صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی زندگی ایک عام آدمی کی زندگی ہے۔

کتاب پڑھیے اور خود بتائیے بھلا ایسی بھرپور، پر خطر، دل آویز اور دل فگار کہانی عام آدمی کی ہو سکتی ہے۔ ‘‘ مصنف کا انداز بیاں ایسے ہے جیسے وہ آپ کو ساتھ لئے گھوم رہے ہوں، قاری کو سب کچھ آنکھوں دیکھا معلوم ہوتا ہے، آپ بیتی جب شروع کرتے ہیں تو چھوڑنے کو جی نہیں کرتا ۔ ٹائٹل بھی کیا شاندار ہے، پریشانی تو عیاں ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ فکر کے اور بھی کئی زاویئے عطاکرتا ہے۔

ملفوظات، سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہؒ
مرتب: متین رفیق ملک
قیمت:300 روپے۔۔۔صفحات:144
ناشر:ادبستان،پاک ٹاور، کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)
دانش اور معرفت اللہ تعالیٰ کا کسی فرد پر خصوصی انعام ہے، ورنہ دل و دماغ تو اللہ تعالیٰ نے سب کو ایک سے ہی عطا کئے ہیں ۔ یوں لگتا ہے اللہ تعالیٰ جب کسی فرد سے خوش ہوتا ہے یا کسی قوم کی حالت بدلنا چاہتا ہے تو ان میں ایسے نفوس قدسیہ پیدا فرماتا ہے جو اس قوم کی حالت بدلنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

ایسے اللہ والوں کی قربت انسان کے لئے فیض کا ذریعہ بنتی ہے اور ان کی صحبت سے افراد کے دل و دماغ میں انقلاب برپا ہونے لگتے ہیں کیونکہ ایسے نفوس قدسیہ اپنی سوچ اور طرز انھیں ودیعت کر دیتے ہیں ۔ وہ ایک بہت بڑے مقناطیس کی طرح ہوتے ہیں ان کی کشش دوسروں کو کھینچ لیتی ہے اور پھر انھیں بھی مقناطیس بنا دیتی ہے۔

سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہ ؒ صاحب خود امی تھے مگر ان کی صحبت میں حنیف رامےؒ، واصف علی واصفؒ، اشفاق احمدؒ، بانوقدسیہؒ، ممتاز مفتی اور دیگر بہت سے مفکرین بیٹھا کرتے تھے۔ شاہ صاحبؒ ایسے ایسے نقطے بیان کرتے تھے کہ یہ صاحبان علم بھی ششدر رہ جاتے تھے، شاہ صاحب سے ملاقات سے قبل بھی ایسے افراد کتابی اور اکستابی علم سے مالامال تھے مگر ان کی نظر کیمیا نے انھیں کتاب و شنید سے ماورا علم کی بھی راہ دکھا دی اور ان کے روشن کئے ہوئے ان چراغوں نے معاشرے میں چھائی تاریکی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔

علم لدنی سے مالا مال سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہؒ جب اپنے مرشد حضرت میاں خدا بخشؒ کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے تو خاموش بیٹھے رہتے تھے، آپؒ کو خاموش دیکھ کر لوگ حضورؒ پرنور سے فرماتے کہ اس بچے کو کبھی بولتے نہیں دیکھا۔ حضرت میاں صاحبؒ فرماتے کہ یہ بچہ اپنے وقت پر بولے گا اور اس وقت کائنات میں اس کا جواب نہیں ہو گا۔ اور ایسا ہی ہوا ، آپؒ کی نکتہ آفرینی نے انسانی دل ودماغ کو حیران کر کے رکھ دیا۔

دنیا جہان کا کوئی بھی سوال ، کوئی مسئلہ آپ سے پوچھا گیا تو آپؒ نے اس کا مدلل جواب دیا اور ایسا دیا کہ اس سے بہتر جواب ہو نہیں سکتا تھا ۔ ملفوظات میں آپؒ کے بیانات اور اقوال ترتیب دیئے گئے جو ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں، نئی نسل کو بالخصوص اس کا مطالعہ کرنا چاہیے اس سے ان کے ابہام دور ہوں گے ، دل کی تشفی ہو گئی ۔ مجلد کتاب کے سرورق کو سلطان الحقیقتؒ کی تصویر سے مزین کیا گیا ہے، اور کیا خوب کیا گیا ہے کہ دیدہ زیبی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔

فاضلی انوار الٰہی
مرتبین: احمد دستگیرؒ، پروفیسر حافظ نذر السلامؒ
قیمت:200 روپے۔۔۔۔صفحات:144
ناشر:ادبستان،پاک ٹاور ،کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)
اللہ والے اس دنیا میں ایسے ہیں جیسے گھپ اندھیرے میں روشن چراغ ، جو ہر دم روشنی بانٹتے رہتے ہیں، اندھیروں میں بھٹک جانے والوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ ان سے روشنی پانے والے نئے چراغ روشن کرتے ہیں، یوں ایک ایسا روشن اور تابناک سلسلہ شروع رہتا ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ان کا قرب انسان کو اللہ کی رحمت کے سائے تلے لے جاتا ہے کیونکہ ان بزرگان دین کا وجود ہی باعث رحمت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب حضرت فضل شاہ قطب عالم ؒ ( بہ معروف نور والے) کے بیانات پر مبنی ہے۔

حضرت فضل شاہؒ صاحب کا بیان علم ، عمل ، اخلاص اور دوسرے شرعی امور کے متعلق ہے۔ آپ ؒ کا ایک ایک بیان اور قول سنہرے حروف سے لکھا جانا چاہیئے ۔ باباجی خود کوئی بیان تجویز نہ فرماتے تھے کیونکہ آپ کا تمام اظہار عطائے الٰہی پر مبنی ہوتا تھا اور اس بارے میں آپؒ کا ایک بیان ہے کہ ’’ جو صاحب علم کسب جانتا ہو اسے صرف مشاہدہ ہوتا ہے جو علم کسب نہ رکھتا ہو اسے مشاہدہ بھی ہوتا ہے اور اس کے لیے عبارت بھی اترتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے امی کے لیے مشاہدہ اور عبارت دو مقام ہیں‘‘۔ پروفیسر حافظ نذر السلام کہتے ہیں ’’ آپ ؒ جو فرماتے ہیں ایک ایک حرف اولیائی کا مقام رکھتا ہے اور ایک ایک جملہ پر کتاب بن سکتی ہے۔ اس کتاب میں آپ کے ارشادات عالیہ ہیں جو آپؒ نے وقتاً فوقتاً مجلسوں میں ارشاد فرمائے جو صاحب صداقت کی آنکھ سے دیکھے گا دنیا میں وہ کامیاب ہو گا اور دین میں با مراد ہو گا۔‘‘ حضرت فضل شاہ صاحبؒ نور والے کتاب کے نام کے حوالے سے فرماتے ہیں ’’ فقیر نے طلبگاران راہ حق کو نیاز مند بنانے کے لیے اس کتاب کا نام فاضلی انوار الٰہی رکھا ہے‘‘۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

The post بُک شیلف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HP42em

جھیل دودی پت کے کنارے ایک رات

کل_شب_میں_نے_جھیل_سیف_الملوک_کو_آخری_سانسیں_لیتے_دیکھااُسے کہیں سے بھی سانس نہیں آ رہا تھا۔

کہیں دکانوں، ورکشاپوں، رہائش گاہوں اور بھدی کاروباری عمارتوں کے درمیان اسے کہیں سے بھی سانس نہیں آ رہا تھا۔

بڑھتی ہوئی آبادی نے ایک بھدی دنیا کو جنم دیا تھا۔

ایک نوخیز دوشیزہ کے دامن پر پریاں اتر سکتی تھیں۔ اس پر دیو بھی عاشق ہو سکتے تھے مگر ایک طوائف کی کیا اوقات ہو سکتی تھی؟ طوائف بھی وہ جسے جس جس نے چاہا، جہاں جہاں سے چاہا اور جیسا چاہ لوٹا۔ سب اس حمام میں ننگے تھے۔ کسی نے اس دیوی پر آہنی دیواریں لگا کر اس ہر اپنا حق جما لیا تھا۔ جس نے اُس پاک بدن کو جہاں سے چُھوا، اسے اپنی ملکیت ہی سمجھ لیا اور پھر آہستہ آہستہ اسے نوچتا رہا۔

اسے کہیں سے بھی سانس نہ آ رہا تھا۔

پریاں دور کھڑی بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ پہلے وہ بے دھڑک اس پر اترتی تھیں۔ اس کی ہم جولی تھیں اور کسی نے بھی آج تک پریوں کو ہاتھ تک نہ لگایا تھا۔ پریاں اس کے گھر کو اپنا مسکن سمجھتی تھیں۔

مگر اب پرستان سے ایک ِحکم نامہ جاری ہوا تھا جس کے مطابق تمام پریوں کو اس طوائف پر اترنے سے روک دیا گیا تھا۔ دیو سخت نگرانی کے لیے تعینات کردیے گئے تھے۔ مگر اچنبھے کی بات یہ تھی کہ مسلسل دیو حضرات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کسی پری نے پرستان کا قانون نہ توڑا تھا اور نہ ہی اب کبھی اس پر اترنے کی کوشش کی تھی مگر پھر بھی قانون کی حفاظت کے نام پر دیو بڑھتے ہی جا رہے تھے۔

اسی لیے اسے سانس نہیں آ رہا تھا۔ شاید وہ مر رہی تھی۔ اپنی آخری سانوں پر تھی۔ دیو مسلسل اسے نوچ رہے تھے۔

سب نے ہی اسے اپنی رکھیل بنا رکھا تھا۔ ہر کوئی اس سے کھیل رہا تھا۔ اس کی خوب صورتی کو تباہ کر رہا تھا۔

اسے سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی۔ وہ سسک رہی تھی، مر رہی تھی، ختم ہو رہی تھی مگر مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔

شاید وہ مسکرا رہی تھی۔ وہ قابلِ رحم تھی مگر کسی کو بھی اس پر رحم نہیں آرہا تھا۔

اسے سانس نہیں آ رہا تھا۔

جھیل سیف الملوک کو سانس نہیں آ رہا تھا۔

کل شب میں نے خواب میں جھیل سیف الملوک کو آخری سانسیں لیتے دیکھا.

اسے سانس نہیں آ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔

پچھلی شب میں نے جھیل سیف الملوک کو خواب میں دیکھا تھا کہ اسے سانس نہیں آ رہا تھا اور اگلی شب میں جھیل سیف الملوک کو دیکھنے چل پڑا تھا۔

وہی سیف الملوک جس کے بارے بچپن سے سنا کرتے تھے کہ وہاں پرستان سے پریاں اترتی ہیں۔ ملکہ پربت جو شاید پریوں کا سرائے بھی تھا کہ جہاں پری اور پری زادوں کے نوبیاہتا جوڑے شاید اپنا ہنی مون گزارنے آتے تھے اور پھر سارا دن جھیل سیف الملوک پر اٹھکیلیاں کرتے رہتے تھے۔ جھیل کے مختلف رنگ انہی پریوں کی وجہ سے تھے۔ سنا کرتے تھے جھیلیں عورتوں کی مانند ہوتی ہیں۔

پل میں تولا، پل میں ماشا۔ آپ ایک جھیل کو دیکھ کر نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے اسے دیکھ لیا ہے۔ جھیلیں بدلتی رہتی ہیں۔ جھیل سیف الملوک پر صبح کے وقت صرف کنواری پریوں اور پری زادوں اترنے کی اجازت ہے۔ یہی وجہ ہے جھیل ہمیشہ صبح کے وقت اپنے حسن کے جوبن پر ہوتی ہے، جس جس طرح سورج چڑھتا ہے، جھیل کا حسن ماند پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ شام سے ذرا پہلے کے وقت پریوں کی بڑی بوڑھیاں ہی جھیل پر اترتی ہیں۔ اسی لیے شام کو جھیل کچھ پھیکی پھیکی سی معلوم ہوتی ہے۔ شام کا آنچل پھیلتے ہی جھیل پر صرف دیو اترتے ہیں۔

مگر اب ایک عجیب معاملہ تھا۔ جھیل سیف الملوک پر بہت سارے انسان نما دیو قابض ہوچکے تھے۔ ایسے تو شاید کوئی کسی رکھیل کو بھی نہیں نوچتا جیسے میری عظیم ریاست نے اس پاکیزہ کو نوچا تھا۔ نہ جانے کتنا بڑا زرِمبادلہ دیتے ہیں یہ پکوڑوں والے دیو جو ریاست نے یہ جگہ مستقل ان لوگوں کو دے رکھی ہے۔

آہنی دیواروں سے اس نازک اور معصوم جھیل کو باندھ دیا گیا ہے جیسے وہ شاید بھاگنے کا ارادہ رکھتی ہو۔ میرے پاس اگر ذرا سا بھی اختیار ہوتا تو میں جھیل کے اردگرد کی ساری جگہ خالی کروا دیتا کہ سیاحوں کو ایک مکمل نظارہ دیکھنے کو ملے، مگر میرے ہاتھوں میں سوائے بے کار کی لکیروں کے اور کچھ بھی نہیں۔

دھوپ رفتہ رفتہ سڑک پر پھیل رہی تھی اور ہم بیسل پہنچ چکے تھے۔ بیسل کیا ہے؟؟؟

بیسل نہایت ہی ہری بھری وادی ہے۔ ڈھلوانیں عجیب مگر خوب صورت ہیں اور سب سے اچھی اور منفرد ہے بیسل کی صبح۔ بیسل کی سڑکوں پر پھیلی ہلکی ہلکی دھوپ جولائی کے موسم میں بھی بہت سکون دیتی ہے۔

ہم نے جیپ والے کو گھوڑے کا بندوبست کرنے کے لیے بھیج دیا۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو بولا چلو بھائی سامان اٹھاؤ۔ میں نے قدرے حیرت سے پوچھا کہ جب گھوڑے کا بندوبست ہو گیا ہے تو گھوڑا کدھر ہے؟

صاحب گھوڑا ڈولی پر کیسے پورے آئے گا؟ آپ ہی ڈولی پر بیٹھ کر گھوڑے کے پاس جائیں گے۔

تو گویا ہم نے اب ڈولی چڑھنا تھا اور ہم بڑے مزے سے ڈولی چڑھ گئے۔

مگر یہ ڈولی شیزان کی بوتل کی طرح تھی۔ مزہ آنے ہی لگا تھا کہ ڈولی صاحبہ نے ہمیں ہماری منزل پر لا پھینکا۔ یہ کوئی موٹر والی ڈولی نہ تھی اور نہ ہی اس پر کوئی ٹکٹ تھا۔ ایک خودساختہ سا جھولا تھا جسے مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت بنایا ہوا تھا کہ بیسل کے رہائشیوں اور سڑک کے درمیان دریائے کنہار رکاوٹ تھا لہذا آپ کی مردانگی جائے بھاڑ میں۔ اگر آپ نے دودی پت کے ٹریک پر جانا ہے تو آپ کو ڈولی چڑھنا ہی پڑے گا۔

ہم نے ڈولی سے دریا پار کیا تو آگے ہمارا گھوڑا ہمارا منتظر تھا۔ ظاہر سی بات ہے اس کے ساتھ ایک گھوڑے والا بھی تھا۔ اب ہم دونوں میں سے کوئی گھوڑا ہانکنے سے رہا۔ گھوڑے پر سامان باندھا گیا اور ہمارا دودی پت کی جانب سفر شروع ہو گیا۔ بڑے پتھروں اور چھوٹے چھوٹے سنگ ریزوں پر چلتے چلتے ہم نے بیسل گاؤں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

حاجی لوک مکے ول جاندے تے میرا رانجھا میرا مکہ نی میں کملی آں

بلھے شاہ اگر رانجھے کو اپنا مکہ مان بیٹھا تھا تو ہمارے لیے بھی اب جھیل دودی پت ہی سب کچھ تھی اور ہم یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ جھیل دودی پت کو چھو لینا کوئی آسان کام نہیں، اس کے راستے میں دریا تھے، دو بچہ گلیشئر اور ایک بڑا گلیشئر تھا، موسم کی سختی تھی، بلندی تھی اور سب سے بڑھ کر راستے کی طوالت تھی۔ ان سب کے باوجود بہت سے لوگ دودی پت کی جانب جا رہے تھے۔

جن میں ہم دو، ہمارا گھوڑا اور ہمارا گھوڑے والا یاسر تھا۔ جھیل دور ہونے کے باوجود اس پر بُری نگاہ ڈالنے والے ابھی کچھ کم تھے۔ جھیل سیف الملوک تک چونکہ عام لوگوں کی رسائی زیادہ تھی، اس لیے عوام نے اسے طوائف بنا دیا تھا۔ ہمارے ہاں جھیل کی قسمت میں طوائف بننا ہی لکھا ہے۔ طوائف کی بیٹی ایک طوائف سے زیادہ اور بن بھی کیا سکتی ہے۔ سیف الملوک طوائف بن چکی تھی، دودی پت کے طوائف بننے میں ابھی کچھ دیری تھی اس لئے وہ نخرے دیکھا رہی تھی. دودی پت کا جوبن عروج پر تھا۔

ہم مزے سے چلتے جا رہے تھے کہ پانی نے ہمارا راستہ روک دیا۔ دو بچے فوراً گھوڑے لے کر آ گئے۔

صاحب۔۔۔۔گھوڑا لے گا۔۔۔۔

ہم فوراً گھوڑے پر ہوگئے مگر گھوڑے پر یہ پانی پار کرنا ہمیں دو سو روپے میں پڑا۔ دریا پار کرنے کے بعد اب آہستہ آہستہ بلندی میں اضافہ ہو رہا تھا۔

ہم کبھی بلند ہو رہے تھے اور کبھی کبھی ہلکا پھلکا اتر رہے تھے کہ یک دم سے سیدھا راستہ ختم ہو گیا اور ہمیں پھر سے دریا پار کرنا پڑ گیا۔ اب کی بار دریا کا پاٹ کافی چوڑا اور گہرا تھا۔ گھوڑے والے بچے ہمارے ساتھ ساتھ تھے۔ ہماری جیبوں سے ایک بار پھر دو سو روپے نکلے اور ہم نے سکون سے بنا کپڑے گیلے کیے دریا پار کر لیا۔ ہم کافی آگے آ چکے تھے اس لئے گھوڑے والے اب واپس چلے گئے۔ آگے جو کچھ بھی ہونا تھا، وہ ہمیں خود جھیلنا تھا۔ اب کی بار جب دریا کو پار کیا تو ایک عدد بچہ گلیشئر ہمارے سامنے کھڑا تھا۔

اسی بچہ گلیشئر کے نیچے سے دریا گزر رہا تھا۔ ہم احتیاط سے قدم اٹھا رہے تھے کہ ہماری ہائکنگ اسٹکس مٹی کے لئے تو ٹھیک تھیں مگرگلیشئر کے لیے نہ مناسب تھیں۔ اس لیے احتیاط لازم تھی۔ بچہ گلیشئر کو بچہ بالکل مت لیں۔ گلیشئر بچہ ہو یا بڑا، گلیشئر، گلیشئر ہی ہوتا ہے۔ ذرا سی بے اختیاطی پر آپ سیدھے دریا میں جا کر گرتے ہیں اور دریا آپ کو سیدھا بیسل تک پہنچے گا۔ اگر قسمت اچھی ہوئی تو آپ کی بریکیں بیسل پر لگ جائیں گی ورنہ پھر آپ دریائے سندھ سے ہی برآمد ہوں گے۔ یہاں اب اگر آپ کے گھر والوں کی قسمت اچھی ہوئی تو آپ برآمد ہو جائیں گے ورنہ پھر بحیرۂ عرب کی مچھلیوں کے پیٹ ہی آپ کا مسکن ٹھہرے۔

بچہ گلیشئر کو پار کرنے کے بعد راستہ تھوڑا سا بلند ہوا اور ہمیں ہمارے ٹریک کا پہلا چھوٹا سا چشمہ ملا۔ میرا انرجی لیول ذرا کم ہو رہا تھا لہٰذا میں نے فوراً پانی میں انرئل جائل ملا کر پیا اور ہشاش بشاش ہو کر آگے کو چل پڑا۔ تنگ راستہ ختم ہوا تو ایک اور بچہ گلیشئر سامنے کھڑا تھا جسے اب ہم نے بڑے پیار سے پار کرنا تھا۔ بیسل بہت پیچھے رہ گیا تھا۔

ابھی تک وادی ہم پر مکمل طور پر نہ کھلی تھی۔ کبھی ہم دریا سے زیادہ بلند ہو جاتے تو کبھی بلندی میں ذرا سی کمی آ جاتی کہ اچانک ہم دریا کے بالکل برابر آگئے۔ ہم بائیں جانب چل رہے تھے جب کہ بقیہ ٹریک دائیں جانب تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ ہمیں اب دریا پار کرنا تھا۔ یہ دریا پار کرنا بالکل بھی آسان نہ تھا۔ پانی گھٹنوں سے ذرا اوپر اوپر تھا مگر بے حد تیز اور یخ ٹھنڈا اور سب سے زیادہ دریا کے نوکیلے پتھر تنگ کرتے تھے۔ دریا کے تیز بہاؤ میں کھڑا ہونا بہت مشکل تھا۔ دو دو بندے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دریا پار کر رہے تھے۔

یخ ٹھنڈے پانی کو پار کرنے کا قدرے آسان طریقہ یہی ہے کہ آپ شَڑاپ شَڑاپ کر کے دریا پار کریں یعنی کہ قدم کو مکمل طور پر باہر نکالیں پھر پانی میں رکھیں۔ ایسے ہی دوسرے قدم کو مکمل طور پر پہلے پانی سے باہر نکالیں پھر اسے آگے بڑھا کر پانی دوبارہ ڈالیں۔ مسلسل پانی کے اندر ہی چلنے سے ٹانگیں شدید سُن ہو جاتی ہیں۔ جیسے تیسے کرکے ہم نے دریا پار تو کر لیا مگر آگے ٹریک قدرے چھوٹا، تنگ اور بلند تھا۔

اتنا بلند کہ اسے دیکھنے کے لیے ’’بُوتھا‘‘ اٹھانا پڑتا تھا۔ بس سمجھ لیں کہ یہیں سے اصل ٹریک شروع ہوتا ہے۔ ہم نے اللہ کا نام لیا اور ٹریک پر چلنا شروع کیا۔ بلندی شدید سے شدید ہوتی جا رہی تھی اور میری ہمت جواب دے رہی تھی۔ میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے کچھ نہ کچھ میٹھا کھا رہا تھا کہ پہاڑوں پر آپ کا شوگر اور بلڈ پریشر نارمل رہنا بہت ضروری ہے ورنہ آپ کو پونترتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ میٹھے کے لیے سب سے بہتر یہ ہے آپ اپنے ساتھ کچھ کھجوریں اور خشک میوہ جات ضرور رکھیں۔

اگر پانی کی بوتل میں شہد ملا کر گھر سے لائیں ہیں تو اس سے بہتر اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ بلندی مسلسل بڑھ رہی تھی اور راستہ صرف اتنا تھا کہ آپ آسانی سے اس پر بس کھڑے ہو سکیں۔ ہم چلتے جا رہے تھے کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہ تھا کہ ہمارے ٹریک کا واحد بڑا گلیشئر ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا۔ گلیشئر کی برفوں نے پگڈنڈیوں کو مکمل طور پر ڈھانپ رکھا تھا اس لئے ہمیں مجبوراً گلیشئر پر چلنا پڑ رہا تھا۔ گلیشئر چوںکہ بڑا تھا اور ڈھلوان بھی درمیانی تھی تو اس پر چلنے کا لطف آ رہا تھا۔

تنگ راستوں والی بلندیاں ختم ہوئیں تو آگے کھلے راستوں والی بلندیاں شروع ہوگئیں۔ محض راستہ کھلا ہوا، بلندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ دور۔۔۔بہت دور ایک بلندی پر پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ حالانکہ وہ قریب تھا مگر میری رفتار کی وجہ سے بہت دور تھا۔ یاسر بتا رہا تھا کہ پرچم والی جگہ کا نام ”گلمہ بستی” ہے۔ وجہِ تسمیہ اسے معلوم نہ تھی اور مجھے پوچھنے میں دل چسپی نہ تھی۔ وہاں پہلے ایک کمرے کا سرائے بنا ہوا تھا جسے بعد میں ڈھا دیا گیا۔ اب وہاں صرف ایک کچن ٹینٹ تھا جس میں چائے بسکٹ کے لوازمات موجود تھے۔

دودی پت ٹریک کی زیادہ بلندیاں گلمہ بستی سے پیچھے ہی ہیں۔ گلمہ بستی کے اطراف اور اس سے آگے بس ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں جیسے رستے ہیں۔ گلمہ بستی کے پہلے کی بلندیاں آپ کو اس قدر تھکا دیتی ہیں کہ آگے نظر آنے والے ٹیلے بھی آپ کو پہاڑ لگتے ہیں اور مجھ جیسا کم زور بندہ ان ٹیلوں پر چڑھتا نہیں بلکہ ریگتا ہے۔ گلمہ بستی کے ٹیلوں پر بھی میرا یہی حال تھا۔

میں جوں جوں پرچم کے قریب ہوتا تھا، پرچم مجھ سے دور ہو رہا تھا۔ گرتا پڑتا میں گلمہ بستی کے پرچم کے پاس پہنچ ہی گیا جہاں سے بہت نیچے دریا بہہ رہا تھا کہ وہ صرف نظر آ رہا تھا مگر اس کا شور سنائی نہ دیتا تھا۔

دودی پت کے یہ راستے مجھے ”سنو لیک” کے راستے لگ رہے تھے۔ سنو لیک دیکھی تو نہیں مگر بھلا ہو تارڑ کا جس بے ہمیں گھر بیٹھے ہوئے بھی بہت کچھ دکھا دیا ہے۔ گلمہ بستی سے آگے بہت سے چوپائے گھوم رہے تھے، جن میں جنگلی گائے بھی تھی۔

میں نے جنگلی گائے پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔ گردن پر بورے بال، سینگ۔ مجھے پہلے تو یہ یاک لگا مگر یاک یہاں ہو نہیں سکتا تھا۔ جنگلی گائے اپنی شکل سے یاک اور میدانی گائے کی کوئی درمیانی سی حالت معلوم ہوتی ہے۔ سرخ پھولوں کی راستے پر بھرمار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ نیلے پھول بھی تھے جو پھول نہیں بلکہ زہر تھا۔ مقامی جانور اور لوگ، سب ان نیلی بوٹیوں سے دور رہتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ بھی کبھی دودی پت کے راستوں پر چلیں تو ان دل کش نیلی بوٹیوں سے دور رہیں۔

ہم اب جس وادی میں اتر رہے تھے، اس وادی کا شاید کوئی نام ہو مگر بے شمار پھول ہونے پر میں اسے پھولوں والی وادی قرار دیتا ہوں۔ ہر طرف رَت (سرخ) ہی رت تھا۔ ذرا تصور کیجیے کہ وادی کی ڈھلوانیں سبز ہوں اور ان پر لمبے لمبے رتے پھول اور کہیں کہیں نیلی زہریلی ڈنڈیاں۔ آپ ان رنگوں کے درمیان موجود ہوں، نیچے دریا بہہ رہا ہو، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو اور آپ کے سامنے دور سیاہ پہاڑ ہوں جن کو بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہو۔۔۔سیاہ پہاڑ۔۔۔انہی سیاہ پہاڑوں کے درمیان کہیں جھیل دودی پت تھی۔ پتا نہیں تھی بھی یا نہیں تھی۔

یہی دیکھنے کے لیے ہم اس قدر خوار ہو رہے تھے اور یقین کر بیٹھے تھے کہ وہاں ایک جھیل ہے مگر پھر بھی کچھ کچھ شک تھا کہ شاید وہ وہاں نہ ہو۔ فی الحال تو ہم پھولوں والی وادی میں تھے۔ ہمارا پورٹر یاسر ہمیں بتا رہا تھا کہ پہلے یہ پھول سرخ نہیں تھے۔ برفوں سے ڈھکی ڈھلوانوں سے جب یہ پھول نکلتے ہیں تو سفید ہوتے ہیں۔ جوں جوں برف پگھلتی ہے تو رتے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان کا رنگ پھر آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ سرخ رنگ نشانی ہے کہ یہی صحیح موسم ہے دودی پت جانے کا۔ ستمبر میں ہی ان پھولوں کا رنگ بدلنا شروع ہو جاتا ہے جو مقامی افراد کے لیے الارم ہوتا ہے کہ اب سخت سردی آنے کو ہے، کیوںکہ ان پہاڑوں پر اصل میں تین ہی موسم ہوتے ہیں۔ کچھ دن بہار کے، سردی اور سخت سردی۔

میں مکمل طور پر ان پھولوں میں کھویا ہوا تھا۔ دودی پت کے راستے بالکل سیدھے ہیں، جلیبی کی طرح بل نہیں کھاتے۔ اس لیے آپ اس فکر سے آزاد ہو جائیں کہ آپ گم ہو سکتے ہیں۔ میں آنکھیں بند کیے ان پھولوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں اپنی زبان میں کچھ گا رہی تھیں۔ میں جو اس راستے کی طوالت کی وجہ سے جھیل کو دیکھنے کی دلچسپی کھو بیٹھا تھا، ایک دم سے تازہ دم ہو گیا تھا کہ وہ ٹھنڈی ہوائیں میرے جسم کو سکون دے رہی تھیں، کانوں میں رس گھول رہی تھیں۔ کہ خذیفہ نے مجھے آ لیا۔

کتنی پیاری جگہ ہے نا۔

بہت زیادہ۔

یہ پھولوں والی وادی مزید پیاری لگنے لگتی تھی جب سورج کے سامنے ایک آدھا بادل آ جاتا تھا۔

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم یہی رہ جائیں۔

نہیں یہ نا ممکنات میں سے ہے۔

منزل ہم نے ابھی دیکھی نہ تھی اور جو دیکھ رہے تھے وہاں سے نظر ہٹانے کو دل نہ چاہ رہا تھا کہ ہم جانتے تھے کہ یہ رنگیناں صرف سفر کی ہیں۔ منزل آنے کا مطلب سفر ختم ہونے کا ہے. سفر ختم تو سمجھو سب کچھ ختم۔

نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اٹھنا پڑا کہ ہماری منزل ابھی دور تھی۔ شاید بہت دور۔ ہمیں کالے پہاڑ نظر آرہے تھے جن کے دامن میں جھیل دودی پت تھی۔ یہ پہاڑ اصل میں کالے نہ تھے، سبز تھے، طوالت اور گہرے بادلوں کے سائے کی وجہ سے یہ پہاڑ کالے نظر آ رہے تھے۔ ہمیں جوں جوں ان پہاڑوں کے قریب ہونا تھا، ان کالے رنگوں نے رفتہ رفتہ سبز ہو جانا تھا۔

جوں جوں ہم چل رہے تھے، خنکی میں اضافہ ہو رہا تھا، کالے پہاڑ بڑے اور نزدیک تو ہو رہے تھے مگر کم بخت سبز نہیں ہو رہے تھے۔ بقول ہمارے پورٹر یاسر کے ابھی ہم دریا کو پل سے پار کریں اور وہ گھوڑے کو لے کر دریا کے اندر سے گزرے گا۔ میں نے یاسر کو عقل مندانہ آفر کی کہ وہ بھی گھوڑے کے ساتھ پُل پر سے گزرے۔ تب معلوم ہوا کہ پل سے مراد ایک عدد لکڑی کا پھٹا ہے جسے ہم بمشکل پار کریں گے۔ میری سِٹّی گم ہو چکی تھی اور میں نے پل پار کرنے سے بغاوت کر دی۔ مرتا کیا نہ کرتا، پل پار کرنا ہی تھا۔ اللہ بھلا کرے یاسر کا، جس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پل پار کروایا۔ اس طرح تو شاید کوہ نورد بیافو گلیشئر کے نالے بھی پار نہ کرتے ہوں گے جس نے میں نے اس پھٹے نما پل کو پار کیا۔

ہماری کیمپ سائیٹ کتنا دور تھی، اب مجھے یہ جاننے میں ذرا بھی دل چسپی نہ تھی کیوںکہ مجھے اچھی طرح سمجھ آ چکا تھا کہ مجھے بس چلتے جانا ہے۔ راستہ ایک نیم پہاڑ لے ساتھ مڑ رہا تھا اور مڑ کر نہ جانے کہاں گم ہو رہا تھا۔ میرے کانوں میں یاسر کی آواز پڑی کہ جونہی ہم اس راستے پر مڑیں گے تو سامنے کیمپ سائیٹ ”ملاں کی بستی” نظر آ جائے گی۔

میں خوشی خوشی موڑ مڑ گیا کہ کیمپ سائیٹ ساتھ ہی ہو گی مگر مڑتے ہی میرا لٹکا ہوا منہ مزید لٹک گیا اور میرے دو کمینے ہم سفر زور دار قہقہے لگا دیے۔ کیمپ سائٹ نظر تو آ رہی تھی مگر بہت دور تھی۔ میں نے یاسر اور اپنے دوست خذیفہ کو آگے روانہ کیا کہ وہ جا کر کیمپ لگائیں اور میرے لیے بستر اور نوڈلز تیار کریں۔ میری مرتی ہوئی شکل دیکھ کر شاید دونوں کو ترس آ گیا تھا اور دونوں چپ چاپ آگے کو چل دیے اور میں نے رینگنا شروع کر دیا کہ مجھے میں فقط رینگنے کی ہی طاقت تھی۔

کوئی چڑھائی نہ تھی، کوئی ٹیلا نہ تھا۔ میں تقریباً ساڑھے چھ یا پونے سات گھنٹوں سے چل رہا تھا اور میرا برا حال ہو چکا تھا۔ میں رینگتا رینگتا کیمپ سائٹ پر پہنچ ہی گیا۔ میرا کیمپ لگا ہوا تھا۔ میں نے جوتے اتارے، سلیپنگ بیگ کھولا اور لم لیٹ ہو گیا۔

یار اس مریض کو نوڈلز یہی دے دو اور پھر مریض کو نوڈلز اسی کیمپ اسپتال میں دے دیے گئے۔ نوڈلز کھانے کے بعد میں ایسا سویا کہ دنیا جہاں کا ہوش نہ تھا۔ سورج غروب ہونے پر شفق کی سرخی ہر سو پھیلی تو ہر طرف پھیلا سبزا رَت میں تبدیل ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں چاند نکل آیا اور پوری وادی اور اس کے پانی چاندی میں نہا گئے۔ میرے نم آلود جسم پر چاند کی ٹھنڈی لُو نے مجھے خوش قسمتی اور اور آزادی کے ایک ان جانے احساس سے روشناس کیا۔ ہر طرف سحرانگیز سکون تھا۔ میں خیمے کے اندر جا کر لیٹ گیا۔

چمکتا ہوا پانی یہاں سے دکھائی دے رہا تھا۔ چاند کی کرنوں کی وجہ سے خیمے کے اندر بھی ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی اور میں جلد ہی سو گیا۔ تقریباً رات کے نو بجے حذیفہ نے مجھے زبردستی جگا دیا کہ میں کیمپ سے باہر نکلو اور آسمان دیکھو۔ مجھے شدید ترین غصہ آ رہا تھا مگر خذیفہ کے بے حد اصرار پر میں نے ہلکی سی اپنی ٹنڈ کیمپ سے باہر نکال ہی لی۔ باہر چاندنی میں نہایا ہوا چمکتا دمکتا شفاف پانی تھا۔ آسمان دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ ایسا آسمان پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔

میں کہکشاں کے اصل تصور سے ناواقف تھا اور اکثر سوچتا تھا کہ کہکشاں کیسی ہوتی ہوگی؟ اس رات پتا چل رہا تھا کہ کہکشاں کیسی ہوتی ہے۔ یہاں ہم شہروں میں صرف سیاہ آسمان دیکھتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ چند گنتی کے ستارے مگر وہاں کے آسمان کی بات ہی کچھ الگ تھی۔ سارا آسمان ستاروں سے بھرا پڑا تھا اور درمیان سے دودھیا کہکشاں۔ آسمان سے نظریں ہٹانے کو جی نہ چاہتا تھا مگر ٹھنڈ اس قدر زیادہ تھی کہ ہمیں واپس کیمپ میں آنا پڑا۔ سردی اس قدر زیادہ تھی کہ دو جرابیں، گرم ٹوپی اور دستانے پہننے کے باوجود میں کانپ رہا تھا۔ رات جیسے تیسے کر کے ٹھٹھرتے مرتے گزر ہی گئی۔ گیلی زمین کے لمس میں کتنی آسودگی تھی۔

اگلی صبح جب آنکھ کھلی تو گھاس پر اوس جمی ہوئی تھی۔ پہاڑوں پر شام جتنی جلدی اترتی ہے، اتنی ہی دیر سے سویر ہوتی ہے۔ سورج کی روشنی ابھی پہاڑوں کی صرف چوٹیوں پر تھی۔ ہم میں سے کوئی بھی باہر نہیں نکلنا چاہتا تھا مگر کچھ جسمانی ضروریات کے لیے ہمیں نکلنا ہی پڑا۔ ہمارے سامنے جھیل سے آنے والا یخ ٹھنڈا پانی انتہائی خاموشی سے بہہ رہا تھا۔ پانی اس قدر یخ تھا کہ ہاتھ بھی نہ لگتا تھا۔ ہم نے منہ دھونے کے نام پر آنکھوں کو فقط گیلے ٹشوز سے صاف کیا۔ اس سے کچھ زیادہ کرنے کی ہم ہمت بھی نہ رکھتے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں سویر کی دھندلی سفیدی کی گھلاوٹ میں سورج کی ٹھٹھرتی ہوئی کرنیں ہم تک پہنچنا شروع ہو گئیں۔ سورج میں ذرا بھی گرمی نہ تھی۔ جھیل کا پانی اب ذرا شور کرنے لگا تھا۔

دھوپ نیچے تک اتر آئی تھی مگر وہ، وہ دھوپ نہ تھی جس کی ہمیں اس وقت ضرورت تھی۔ دھوپ نے بھی ہم سے دغا کردی تھی۔ یہ وہ دھوپ نہ تھی جس سے ہم واقف تھے۔ یہ دو نمبر دھوپ تھی جس نے ہمیں شدید مایوس کیا تھا۔ سویرا اب مکمل صبح میں بدل چکا تھا۔ ایک بڑا مگ کافی اور کچھ بسکٹ اپنے پاپی پیٹ میں ڈالنے کے بعد ہم جھیل دودی پت جانے کو تیار تھے۔ لوگ ٹریک کے دوسرے دن گھوڑا ہو جاتے ہیں۔

پہلے دن کی نسبت زیادہ تیزی سے چلتے ہیں مگر میں گھوڑا ہونے کی بجائے گھر پر ہو گیا تھا۔ ہمارا سارا سامان چونکہ کیمپ سائیٹ پر ہی تھا اس لیے گھوڑا فارغ تھا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اب کالے نظر آنے والے پہاڑ رفتہ رفتہ سبز ہو رہے تھے۔

موسم صاف اور ابر آلود نہ تھا۔ سارے مناظر ہم پر کھلے ہوئے تھے۔ چراگاہیں بلا کی خوب صورت تھیں۔ دودی پت۔ جہاں دودھ بہت ہوتا تھا کہ وہاں جانور بہت تھے مگر اب ان میں کافی حد تک کمی آچکی تھی۔ انسانوں کی طرح جانوروں کو بھی اب جھیل سے بہت پیچھے روک لیا جاتا تھا مگر دودی پت اب بھی دودی پت ہی تھی۔ سو ہم دودی پت جا رہے تھے جو ہمیں گذشتہ دن سے خوار کروا رہی تھی۔ ظالم نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔ ہمیں ترسا ترسا کر مار رہی تھی۔ پہاڑ اب مکمل طور پر سبز ہو چکے تھے، مطلب ہم جھیل کے قریب تھے۔

”اس ٹیلے کو پار کرنے کے بعد آپ کو جھیل نظر آجائے گی۔” ہمارے گائیڈ نے ہمیں خوش خبری سنا دی۔ میرا اس پر یقین کرنے کو جی تو نہ چاہتا تھا مگر اس بار وہ سچا تھا۔ ٹیلے کے پار جھیل تھی۔ سبز پہاڑ جن پر کہیں کہیں برف تھی، انہی کے دامن میں جھیل دودی پت تھی اور ہماری نظروں کے سامنے تھی۔ ہم سب مسکرا دیے۔ پانیوں کی قربت میں، تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر کھڑے ہم مسکرا رہے تھے۔ نہ تو ہم پر بلندی کا اثر ہوا تھا اور نہ ہم پاگل ہوئے تھے مگر پھر بھی ہم مسکرا رہے تھے۔ جھیل سیف الملوک کی چھوٹی بہن ہماری قربت میں تھی، ہمارے سامنے تھی۔ ہم نے اسے پا لیا تھا۔

ہم اسے چھو سکتے تھے، اس کے پانیوں میں اتر سکتے تھے اور ہم نے اسے چھوا بھی اور چھوٹی بہن کے پانیوں میں اتر بھی گے۔ اتنی مشقت کے بعد اتنا حق تو ہمارا بنتا تھا۔ جھیل سیف الملوک سے مشابہت رکھنے والی جھیل کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ہر کسی کے نصیب میں نہ رکھی گئی تھی۔ چند آنکھیں ہی اسے دیکھ سکتی تھی، چند ہاتھ ہی اسے چھو سکتے تھے۔

ہم اسے دیکھ بھی رہے تھے، چھو بھی رہے تھے، اس لیے ہمیں خود پر فخر ہونے لگا۔ ہم جھیل کے رو بہ رو تھے۔ میرے لیے جھیل کی پہلی جھلک جوانی کے فریبوں اور پہلی محبت کے احساسات سے زیادہ حسین اور ہیجان خیز ثابت ہو رہی تھی۔ جھیل دودی پت کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں جھیل سیف الملوک کی پہلی جھلک کے تاثرات ابھرے جو جوانی کے فریبوں اور پہلی محبت کی کسک سے زیادہ حسین اور ہیجان خیز تھے لیکن اب میں چاہے کتنی بار ہی اس جھیل پر کیوں نہ آؤں، میرے احساسات میں وہ گرمی اور وارفتگی نہ ہو گی۔ جھیل دودی پت کے حسن میں نفاست کے ساتھ ساتھ معصومیت اور لڑکپن بھی ہے۔ ایسی نفاست جسے قدرت نے خاص لوگوں کی تفریح طبع کے لیے ایک خاص منصوبے کے تحت ترتیب دیا ہو۔

جھیل کا پانی ریشم کی طرح ملائم اور کھنکتے شیشوں کی مانند شفاف تھا۔ ہمارا ساقی ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمیں پلا رہا تھا اور ہم پی رہے تھے۔ جوں جوں سورج چڑھ رہا تھا، جھیل کے رنگ بدل رہے تھے۔ لوگوں کی آمد میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے فریم میں رہتے ہوئے جھیل کے پانیوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

ہمیں چوںکہ اسی دن واپس مانسہرہ بھی پہنچنا تھا لہٰذا واپسی کا نقارہ بجا دیا گیا۔ دل تو نہیں تھا مگر بوجھل دل کے ساتھ جھیل کو الوداع کہنا ہی پڑا کہ ہم ہمیشہ کے لیے یہاں نہیں آئے تھے۔ وقت پر واپسی کا سفر شروع کرنے میں ہی عقل مندی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے مختصر سفر کے بعد ہم اپنی کیمپ سائیٹ پر واپس پہنچ چکے تھے جہاں ہم نے اپنی اب تک کی زندگی کی بہترین سبزی کھائی۔

ہاں تیل ذرا زیادہ تھا مگر وہ مقامی سبزی اپنے اندر بہترین ذائقہ لیے ہوئے تھی. ناشتے کے بعد سارا سامان باندھ کر گھوڑے پر رکھ دیا گیا۔ واپسی کے مناظر بالکل ہی مختلف تھے، جس طرف پہلے ہماری پشت تھی، اب اس وقت رخ تھا۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے ہم پہلے ان راستوں پر آئے ہی نہیں۔ یہ راہیں وہی تھیں مگر سمت کا فرق تھا۔ راستے میں بہت سے لوگ مل رہے تھے جو دودی پت کو جاتے تھے۔ اکثریت بالکل میری طرح معصوم منہ بنائے اب مجھ سے ہی پوچھ رہی تھی کہ کیمپ سائیٹ کتنی دور ہے اور میں ہنس کر کہہ دیتا تھا کہ بس چپ کر کے چلتے جاؤ۔ چڑھائی کی اپنی تھکن ہوتی ہے اور اترائی کی اپنی۔ کوئی بھی آسان نہیں۔ دونوں صورتوں میں تھکتے ہیں۔ ہم میدانی لوگ تو کچھ زیادہ ہی تھکتے ہیں۔ اترائی بے شک آسان ہوتی ہے مگر اپنا آپ وہ بھی دکھاتی ہے۔

چڑھائیاں اب اترائیاں بن رہی تھیں اور اترائیاں چڑھائی میں بدل رہی تھیں۔ وہی گلیشئر، دریا، میدان پھر سے آ رہے تھے تو ایک خوش گوار سا احساس ہو رہا تھا، ایک جیت کا احساس تھا کہ ہم نے ایک مشکل کام کر دکھایا ہے۔

اپنے آپ پر ایک فخر سا محسوس ہو رہا تھا۔ وہی ڈولی اب پھر سامنے آ چکی تھی جس پر بیٹھ کر ہم نے دودی پت کو جاتے راستوں پر قدم رکھا تھا اور اب اسی ڈولی پر بیٹھ کر ہمیں ان راہوں کو چھوڑ دینا تھا اور ہم نے چھوڑ بھی دیا۔ جھیل دودی پت سے آتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔ یہ پانی جھیل کے دامن سے پھوٹ رہے تھے اور ہم بھی جھیل کے پانیوں کو چھو کر آئے تھے۔ نہ ان پانیوں کو اب واپس جھیل دودی پت نہیں جانا تھا اور نہ ہمیں۔

The post جھیل دودی پت کے کنارے ایک رات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ed7rjb

محاوروں کا مسئلہ

کم بخت ادب میں جہاں اور بیس مصیبتیں ہیں وہاں ایک جھگڑا یہ بھی ہے کہ اس کے ایک عنصر کو باقی عناصر سے الگ کر کے سمجھنا چاہیں تو بات آدھی پونی رہ جاتی ہے۔

یہاں وہ ڈاکٹروں والی بات نہیں چلتی کہ کوئی کان کے امراض کا ماہر ہے تو کوئی ناک کی بیماریوں کا‘ ادب پارہ عناصر کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ یہاں تو کُل ہی اصل چیز ہے۔ کہیں سے اینٹ، کہیں سے روڑا لے کے اور چاہے جو بن جائے ادب نہیں بنتا۔ ادب کا معاملہ تو وہی ہے جو اشیا کا ہے۔ اشیا میں لمبائی بھی ہوتی ہے اور چوڑائی بھی۔ لیکن ایک کے بغیر دوسری وجود میں نہیں آ سکتی۔

ادب کے بارے میں سوچنے بیٹھیں تو یہی الجھن پیش آتی ہے۔ ابھی ایک پہلو کے متعلق کوئی بات کہہ کے مطمئن بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ پتہ چلا یہ پہلو دوسرے پہلو سے جڑا ہوا ہے۔ جبھی تو ادبی تنقید کا کام ہوا سے لڑنے کے برابر ہے۔

مثلاً میں نے کچھ دن سے غل مچا رکھا ہے کہ ہمارے ادیبوں کو الفاظ پر قدرت حاصل نہیں‘ اس لئے ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ الفاظ کو قابو میں لائیں۔ اس سیدھے سادے بیان سے بظاہر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ادیب لوگ روز صبح اٹھ کے نہار منہ لغت کاا یک صفحہ رٹ لیا کریں۔ یا پرانی کتابیں پڑھ پڑھ کے اچھے اچھے لفظوں کی ایک فہرست تیار کریں اور پھر اس فکر میں رہیں کہ موقع بے موقع ایک زور دار سا لفظ ٹکا دیں۔

اگر بغرض محال اس طرح اچھی نثر یا نظم لکھی بھی جا سکے تو محض ایک افسانہ چھپوانے کی خاطر ا تنا جھنجھٹ کون پالے گا کہ نوراللغات کی چار جلدیں ہر وقت کندھے پہ اٹھائے پھرے۔ اصل پوچھنے کی بات تو یہ ہے کہ لفظ یاد کس طرح رہتے  ہیں اور لفظوں پر قابو کیسے پایا جاتا ہے۔ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے اکیلے شیکسپئیر کو چھبیس ہزار الفاظ دے دیئے۔ حالانکہ ہماری پوری اردو زبان میں  کُل ملا کے چھپن ہزار الفاظ ہیں‘ اور آج  کل کے اردو ادیبوں کے پاس تو شاید دو تین ہزار سے زیادہ نہ ہوں گے۔ یہ کیا قصہ ہے؟

الفاظ اس آدمی کو یاد ہوتے ہیں جو زندہ ہو۔ یعنی جسے زندگی کے عوامل اور مظاہر سے جذباتی تعلق ہو اور جو اس تعلق سے جھجکے یا گھبرائے نہیں۔ ادیبوں کو چھوڑیئے ہم آپ جیسے عام آدمی روزانہ جوالفاظ بولتے ہیں ان میں ہماری پوری جسمانی‘ ذہنی اور جذباتی سوانح عمری بند ہوتی ہے۔ گویا ہر آدمی دن بھر ا پنی داستان اور بچپن سے لے کر آج تک کی تاریخ بیان کرتا پھرتا ہے۔

ان میں سے بہت سے لفظ تو ایسے تجربات کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں ہمارے شعور نے بھی قبول کر لیا ہے۔ بہت سے لفظوں میں وہ تجربات چھپے بیٹھے رہتے ہیں جن سے شعور بچتا ہے۔ لیکن جنہیں لاشعور ہمارے اوپر ٹھونستا ہے۔ دوسری طرف ایسے بھی لفظ ہوتے ہیں جنہیں ہم حافظے کی گولیاں کھانے کے بعد بھی یاد نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ ‘ ا ن کا تعلق ایسے ناخوشگوار تجربات سے ہوتا ہے، جن سے ہم دامن چھڑانا چاہتے ہیں۔

ہم کتنے اور کس قسم کے الفاظ پر قابو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہمیں زندگی سے ربط کتنا ہے اور ہم خوشگوار اور ناخوشگوار دونوں طرح کے تجربات قبول کرنے کی ہمت کتنی رکھتے ہیں۔ جی ہاں‘ خوشگوار تجربے کو قبول کرنے کے لئے بھی ہمت چاہئے۔

بقول فراق صاحب‘ ’’بلائیں یہ بھی محبت کے سر گئی ہوں گی‘‘، اس میں بھی نفی خودی کا کرب برداشت کئے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ خودپرست آدمی نشاط کے قابل رہتا ہے نہ غم کے۔ اگر کوئی سکڑ سمٹ کے بالکل اپنے اندر بند ہو جائے تو اسے لفظوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

کیونکہ الفاظ تو اس تعلق کا ذریعہ اظہار ہیں جو ہمارے اور خارجی چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ خدا نے حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے چیزوں کے نام سکھائے تھے پھر الفاظ محض اظہار کا ذریعہ ہی نہیں ہیں‘ ان کے پیچھے یہ خواہش کام کرتی ہے کہ ہم دوسروں سے تعلق پیدا کریں۔ چنانچہ لفظوں کو قابو میں لانے کے لئے آدمی کے اندر دو چیزیں ہونی چاہیں۔

ایک تو زندہ رہنے اور زندگی سے دلچسپی رکھنے کی خواہش۔ دوسرے انسانوں سے تعلق رکھنے کی خواہش۔ شیکسپیئر نے چھبیس ہزار الفاظ لغت میں سے نقل نہیں کئے تھے‘ بلکہ چیزوں اور انسانوں کی دنیا سے چھبیس ہزار طرح متاثر ہوا تھا۔ کیونکہ ایک سیدھا سادا اور بذات خود مہمل سا لفظ ’’اور‘‘استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت میں اتنی لچک موجود ہے کہ وہ اپنی دلچسپی کو ایک چیز سے دوسری چیز تک منتقل کر سکے۔

اس کے اندر گیرائی ہے کہ بیک وقت دو چیزوں کا احاطہ کر سکے۔ بہت سے لوگوں کی شخصیت ٹھٹھر کے رہ جاتی ہے تو اسی لئے کہ وہ اپنی روح کی گہرائیوں میں سے ’’اور‘‘ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ میں شاعرانہ مبالغے سے کام نہیں لے رہا۔ یہ ذرا سا لفظ ’’اور‘‘ کتنا عظیم ہے۔ اس میں تو ایک پوری کائنات سما سکتی ہے۔

اتنی جھک سے مقصود میرا بس اتنا تھا کہ ادیبوں کے پاس لفظ کم رہ جائیں تو پورے معاشرے کو گھبرا جانا چاہئے۔ یہ تو ایک بہت بڑے سماجی خلل کی علامت ہے۔ باعمل لوگ ادب جیسی بے مصرف چیز سے ہزار بیگانہ رہیں۔ لیکن ادب میں ان کی نبض بھی دھڑکتی ہے۔ ادب میں لفظوں کا توڑا ہو جائے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ معاشرے کو زندگی سے وسیع دلچسپی نہیں رہی یا تجربات کو قبول کرنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ جب ادب مرنے لگے تو ادیبوں ہی کو نہیں بلکہ سارے معاشرے کو دعائے قنوت پڑھنی ہے۔

خیر اب لمبی چوڑی باتیں چھوڑ کے یہ دیکھیں کہ آج  کل کے ادب میں لفظوں کے قحط کی نوعیت کیا ہے۔ فی الحال محاورے کا معاملہ لیجئے! بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ محاروں کے استعمال کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر سیدھے سادھے لفظوں سے کام چل جائے تو اس تکلف میں کیوں پڑیں؟ دو چار لوگ ایسے بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ محاورے استعمال ہوں اور اس کی صورت وہ یہ بتاتے ہیں کہ پرانا ادب پڑھا جائے۔

اگر اس طرح محاوروں کا استعمال سیکھا جا سکتا ہے تو پھر وہ لغت والا نسخہ ہی کیا برا ہے؟ خیر اپنی اپنی رائے تو اس معاملے میں سبھی دے لیتے ہیں۔ کوئی محاوروں کو قبول کرتا ہے کوئی رد۔ لیکن جو بات پوچھنے کی ہے وہ کوئی نہیں پوچھتا‘ اصل سوال تو یہ ہے کہ محاورے کب استعمال ہوتے ہیں اور کیوں؟ اور محاورں میں ہوتا کیا ہے؟ وہ ہمیں پسند کیوں آتے ہیں؟ ان سے بیان میں اضافہ کیا ہوتا ہے:

خالص نظریاتی بحث تو مجھے آتی نہیں۔ ایک آدھ محاورے کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہوں کہ اس کے کیا معنی نکلتے ہیں۔ سر شار نے کہیں لکھا ہے، ’’…چراغ میں بتی پڑی اور اس نیک بخت نے چادر تانی۔‘‘ اس اچھے خاصے طویل جملے کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی شام ہی سے سو جاتی ہے‘ تو جو بات کم لفظوں میں ادا ہو جائے اسے زیادہ لفظوں میں کیوں کہا جائے؟ اس سے فائدہ؟ فائدہ یہ ہے کہ جملے کا اصل مطلب وہ نہیں جو میں نے بیان کیا بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

’’شام ہونا‘‘ تو فطرت کا عمل ہے ’’چراغ میں بتی پڑنا‘‘ انسانوں کی دنیا کا عمل ہے جو ایک فطری عمل کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے اور یہ عمل خاصا ہنگامہ خیز ہے۔ جن لوگوں نے وہ زمانہ دیکھا ہے‘ جب سرسوں کے تیل کے چراغ جلتے تھے‘ انہیں یاد ہو گا کہ چراغ میں بتی پڑنے کے بعد کتنی چل پول مچتی تھی‘ اندھیرا ہو چلا‘ ادھر بتی کے لئے روئی ڈھونڈی جا رہی ہے۔ روئی مل گئی تو جلدی میں بتی ٹھیک طرح نہیں بٹی جا رہی۔ کبھی بہت موٹی ہو گئی‘ کبھی بہت پتلی۔ دوسری طرف بچے بڑی بہن کے ہاتھ سے روئی چھین رہے ہیں۔

یہی وقت کھانا پکنے کا ہے توے پر روٹی نظر نہیں آ رہی۔ روٹی پکانے والی الگ چلا رہی ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ ’’چراغ میں بتی پڑنے‘‘ کے معنی محض یہ نہیں کہ شام ہو گئی۔ اس فقرے کے ساتھ اجتماعی زندگی کا ایک پورا منظر سامنے آتا ہے۔ اس محاورے میں فطرت کی زندگی اور انسانی زندگی گھل مل کر ایک ہو گئی ہے۔ بلکہ شام کے اندھیرے اور سناٹے پر انسانوں کی زندگی کی ہماہمی غالب آ گئی ہے۔

سرشار نے یہ نہیں کہا کہ سورج غروب ہوتے ہی سو جانا صحت کے لئے مضر ہے۔ انہیں تو اس پر تعجب ہوا ہے کہ ایسے وقت جب گھر کے چھوٹے بڑے سب ایک جگہ جمع ہوں اور اتنی چہل پہل ہو رہی ہو‘ ایک آدمی سب سے منہ موڑ کر الگ جا لیٹے۔ انہیں اعتراض یہ ہے کہ سونے والی نے اجتماعی زندگی سے بے تعلقی کیسے برتی؟ پھر’’چادر تاننا‘‘ بھی سو جانے سے مختلف چیز ہے۔

اس میں ایک اکتاہٹ کا احساس ہے۔ یعنی آدمی زندگی کی سرگرمیوں سے تھک جانے کے بعد ایک شعوری فعل کے ذریعے اپنے آپ کو دوسروں سے الگ کر کے چادر کے نیچے پناہ لیتا ہے۔ سرشار نے محض ایک واقعہ نہیں بیان کیا۔ بلکہ عام انسانوں کے طرز عمل اور ایک فرد کے طرز عمل کا تضاد دکھایا ہے۔ اس انفرادی فعل کے پیچھے سے اجتماعی زندگی جھانک رہی ہے۔ محاوروں کے ذریعے پس منظر‘ اور پیش منظر دونوں ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے ہیں۔

اب ایک ضرب المثل لیجئے۔ ’’بلی کے بھاگوں چھنیکا ٹوٹا۔‘‘  اس میں ایک عمومی تصور ایک خاص واقعے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو بقول ارستو شاعری کی جان ہے۔ تو ایسے بھی محاورے اور ضرب الامثال ہوتی ہیں جو محض بیان سے آگے بڑھ کے شاعری بن جاتی ہیں۔ پھر مندرجہ بالا فقرے میں گھریلو زندگی کے کئی پہلو نظر آتے ہیں۔ خاص طور سے بعض جانوروں کو انسانوں کی زندگی میں جو دخل ہے اس کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔

غرض محاوروں میں اجتماعی زندگی کی تصویریں‘ سماج کے تصورات اور معتقدات‘ انسان‘ فطرت اور کائنات کے متعلق سماج کا رویہ‘ یہ سب باتیں جھلکتی ہیں۔ محاورے صرف خوب صورت فقرے نہیں‘ یہ تو اجتماعی تجربے کے ٹکڑے ہیں۔

اور ایسے ٹکڑے جن میں سماج کی پوری شخصیت بستی ہے۔ محاورہ استعمال کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے انفرادی تجربے کو اجتماعی تجربے کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ محاورہ فرد کو معاشرے میں گھلا دیتا ہے۔ تخصیض میں تعمیم اور تعمیم میں تخصیص پیدا کرتا ہے۔ محاورہ ہمیں بتاتا ہے کہ فرد کے ایک تجربے کو اس کے د وسرے تجربوں سے، فرد کے تجربے کو سماج کے تجربے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

محاورہ جزو کو خالی جزو نہیں رہنے دیتا‘ اسے  کُل میں ڈبوتا ہے… ہمیں زندگی کی پیچیدگی اور نگارنگی یاد لاتا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف تجربات کا تضاد اور تقابل نظر کے سامنے آتا ہے۔ چونکہ محاورہ فرد کو کھینچ کے پھر اجتماعی زندگی میں واپس لے آتا ہے‘ اس لئے اسی وقت استعمال ہوتا ہے، جب فرد اپنے معاشرے سے تعلق برقرار رکھنا چاہئے۔ یعنی محاورہ ایک مربوط اور منضبط معاشرے کی پیداوار ہے۔ جب فرد اپنے معاشرے سے بچھڑ جائے اور وہ دوبارہ معاشرے میں گھل مل جانے کی خواہش بھی نہ رکھتا ہو تو پھر نہ تو محاورے استعمال ہو سکتے ہیں نہ ان کی ضرورت باقی رہتی ہے۔

اردو شاعری میں محاوروں سے اجتناب سب سے پہلے ہمیں غالب کے یہاں نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کی خواہش تو یہ تھی کہ ’’عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا۔‘‘ آسماں سے پرے کوئی مطلق اور مجرد تجربہ ہوتا ہو تو ہوتا ہو۔ انسانوں کا اجتماعی تجربہ نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں تو فرد اپنے تجربے ہی کو ایک مطلق چیز سمجھ سکتا ہے۔ اسے اوروں کے تجربے سے اپنے تجربے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی۔ تو پھر غالب محاورے کیوں استعمال کرتے؟ اگر غالب کے خطوط موجود نہ ہوتے تو ہمیں ان کی شخصیت بڑی چھوٹی اور گھٹی ہوئی نظر آتی۔

غالب کی غزل میں ان کی شخصیت کی عظمت چاہے آ گئی ہو‘ وسعت نہیں آنے پائی۔ غالب کو دو چیزوں نے مارا۔ ایک تو اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے الگ رکھنے کی خواہش‘ دوسرے فلسفہ بگھارنے کا شوق ’’عالم تمام حلقہ دام خیال ہے‘‘… یہ بات اپنی جگہ درست سہی‘ مگر سچا خیال بھی اسی وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب ٹھوس چیزوں پر نظر ہو۔ ارسطو نے کہا ہے کہ نوجوان لوگ فلسفی نہیں بن سکتے۔ کیونکہ ان کی اصول سازی اور خیال آرائی کے پیچھے خصوصی تجربات کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے غالب اپنی فکری زندگی میں ہمیشہ لڑکے ہی رہے۔

جہاں تک مفکر ہونے کا تعلق ہے، غالب کیرکے گورکے گھٹنے تک بھی نہیں پہنچتے۔ لیکن کیرکے گورکا زبردست امتیاز یہی ہے کہ اس کا ہر خیال انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی نہ کسی ٹھوس تجربے سے نکلتا ہے۔

بہرحال غالب تو ایک ایسے رجحان کی نمائندگی کر رہے تھے جو ہمارے معاشرے میں پیدا ہو چکا تھا۔ یعنی فرد کے دل میں سماج سے الگ ہونے کی خواہش۔ جب فرد کی زندگی پرانے اجتماعی مناسبات سے واقعی الگ ہو گئی تو نیاز فتح پوری وغیرہ کا ادب سامنے آیا۔ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ ادیب کے تجربات عام انسانوں کے تجربات سے الگ اور جمالیاتی نوعیت کے ہوتے ہیں‘ اور ادیب تصورات کی دنیا میں رہتا ہے۔

فارسی اور عربی کے الفاظ کی تعداد زیادہ ہو جانے اور محاوروں کے ادب سے غائب ہو جانے کے یہی معنی ہیں۔ ان ادیبوں کو تو یہی منظور تھا کہ اپنے تجربات کا اختصاص اور ندرت دکھائیں‘ اور اجتماعی تجربات کا سایہ تک اپنے اوپر نہ پڑنے پائے۔ چنانچہ محاورے اسی لئے ترک کئے گئے تاکہ اجتماعی زندگی بن بلائے مہمان کی طرح نہ گھس پڑے۔

رہے 36ء کے بعد والے ادیب تو عقیدے کے اعتبار سے تو وہ اجتماعی زندگی کے قائل تھے‘ مگر خاندان‘ مذہب وغیرہ سماجی اداروں پر یقین نہ رکھتے تھے۔ یعنی وہ موجودہ اجتماعی زندگی کو رد کر کے اپنا تعلق ایک آئندہ اور خیالی اجتماعی زندگی سے استوار کرنا چاہتے تھے۔ پھر دوسری طرف کسی طرح کی اجتماعی زندگی سے انہیں جذباتی علاقہ نہ تھا… اس کے مشاہدے کی خواہش ضرور تھی۔ (یہاں میں ایک عام رجحان کا ذکر کر رہا ہوں‘ انفرادی حیثیت سے احمد علی‘ عصمت چغتائی ‘ انتظار حسین‘ وغیرہ میں اجتماعی زندگی سے محبت نظر آتی ہے۔) جولوگ اجتماعی زندگی سے اس بری طرح کٹ گئے ہوں، وہ اگر چاہیں بھی تو محاورے استعمال نہیں کر سکتے۔

کیونکہ اجتماعی زندگی ان کی شخصیت میں اس طرح جذب ہی نہیں ہوئی‘ جیسے سرشار‘ نذیر احمد اور راشد الخیری میں رس بس گئی تھی۔ یہ لوگ’’چراغ میں بتی پڑی‘‘ کہہ ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ شام کے تصور کے ساتھ ان کے ذہن میں اجتماعی زندگی کا کوئی منظر نہیں ابھرتا۔ یہ لوگ ’’چادر تاننا‘‘ بھی نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ انہیں انسانوں کے چھوٹے سے چھوٹے فعل سے وہ دلچسپی نہیں جو سرشار کو تھی۔ یہ لوگ تو ایسی جگہ محض ’’سونا‘‘ کہیں گے یعنی ایسا لفظ استعمال کریں گے جو ا یک جسمانی فعل تو ضرور دکھائے مگر انسانی مناسبات سے خالی ہو۔

تو محاورے کا مسئلہ محض ادبی مسئلہ نہیں‘ بلکہ ہماری پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ذہن میں محاورے اس وقت آئیں گے جب ہم اجتماعی زندگی سے جذباتی تعلق رکھتے ہوں‘ اور اپنے معاشرے کو قبول کریں۔

محاورے تو اجتماعی زندگی کی شاعری ہیں۔ اجتماعی زندگی کے (Myths) ہیں۔ جب تک ہمیں اپنی اجتماعی زندگی میں شاعری نظر نہ آئے گی ہم محاورے بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اتنی بات میں مانتا ہوں کہ بہت سے پرانے محاورے ہمارے کام نہیں آئیں گے۔ کیونکہ سماجی پس منظر بدل چکا ہے‘ اور اب ان کے ذریعے ہمارے ذہن میں کوئی تصویر نہیں ابھرتی۔ زندگی کی شکلیں بدل جائیں تو محاورے بھی نئے بننے چاہیں۔ لیکن غضب تو یہی ہوا ہے کہ نئے محاورں کی پیدائش بالکل رک گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی سے تخلیقی دلچسپی اور گہرا جذباتی تعلق باقی نہیں رہا‘ دوسرے ہماری زندگی اجزا میں بٹ گئی ہے۔ کُل کا احساس غائب ہو گیا ہے، ہم اپنے تجربات کو ایک دوسرے میں گھلا ملا کر انہیں ایک نہیں بنا سکتے۔

اسی لئے ہمارا ذہن نئے محاورے ایجاد نہیں کرتا۔ ذہن میں یہ صلاحیت تو اسی وقت آتی ہے‘ جب فرد اور معاشرے میں سچا ربط ہو۔ جان بوجھ کر محاوروں کی لین ڈوری لگا دینے کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ ایک نقلی ربط پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ محاورے اسی وقت قابو میں آئیں گے کہ جب ادیبوں کو ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے سب افراد کو اجتماعی زندگی میں ڈوب جانے کی لگن ہو‘ اور نئے محاورے اس وقت پیدا ہوں گے، جب فرد اور جماعت کا ربط اتنا گہرا ہو کہ ہمیں اس ربط کی موجودگی کا خیال بھی نہ آئے۔

The post محاوروں کا مسئلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3mMutAB

وزیراعظم کا ترک صدر کو فون، گستاخانہ خاکوں کے خلاف مشترکہ کوششوں پر اتفاق

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان کو ٹیلی فون کیا اور ترکی میں زلزلے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن مدد کی پیشکش کردی، دونوں رہنماؤں نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر بات چیت بھی کی۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے زلزلے سے متاثرہ افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور غم کی اس گھڑی میں ترک عوام کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنے ترک بھائیوں اور بہنوں کے غم میں برابر کا شریک ہے، پاکستان کے لوگ اپنے ترک بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں، 2005ء کے زلزلے کے دوران ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا۔

اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پشاور مدرسہ پر دہشت گرد حملے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ عمران خان نے کہا کہ  پشاور میں بزدلانہ دہشت گرد حملہ پاکستان کے دشمنوں نے کیا۔

مسلم رہنماؤں کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے، عمران خان

رہنماؤں نے مغربی دنیا خصوصاً یورپ میں اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔ عمران خان نے کہا کہ مسلم دنیا کے رہنماؤں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف مل کر آگے بڑھنا چاہیے، مسلمان رہنما مغربی دنیا کے اپنے ہم منصبوں کو پیغمبر اکرمﷺ کے ساتھ تمام مسلمانوں کی محبت سے آگاہ کریں۔

ہولو کاسٹ کے قوانین موجود ہیں، مغرب ہمارے جذبات کا بھی احترام کرے، عمران خان

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یورپی ریاستوں کے ہولوکاسٹ سے انکار کو مجرم قرار دینے کے قوانین موجود ہیں اس لیے ہولوکاسٹ کی طرح مغرب کو پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے، مغرب کو اظہار رائے کی آزادی کے جارحانہ اقدامات کے جواز بخشنے سے باز رہنا چاہیے۔

دونوں رہنماؤں نے پاک ترک وزرائے خارجہ کی ملاقات پر اتفاق کیا، دونوں وزرائے خارجہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کی کوششوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بات کریں گے۔

The post وزیراعظم کا ترک صدر کو فون، گستاخانہ خاکوں کے خلاف مشترکہ کوششوں پر اتفاق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/31XZWYA

وفاقی وزیرعلی زیدی میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی

 کراچی: وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں ںے کہا ہے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ میرا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے یعنی اب مجھے خود قرنطینہ کرنے کے لیے سب سے الگ تھلگ ہونا ہوگا۔

انہوں ںے کہا کہ میں سوشل میڈیا استعمال کرتا رہوں گا اور اس ملک و قوم کو لوٹنے اور نقصان پہنچانے والوں کو بے نقاب کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالی انصاف کے لیے کھڑے ہونے  والوں کو طاقت عطا فرمائے۔

The post وفاقی وزیرعلی زیدی میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Gf4mm0

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...