7 جولائی کو ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ متوقع

 اسلام آباد:  

7 جولائی کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ متوقع ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں ہونے والی بین الصوبائی وزرائے کانفرنس 2 جولائی کو طلب کی گئی تھی ، جس میں یونیورسٹیز سمیت تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق فیصلہ کیا جانا تھا تاہم یہ کانفرنس وفاقی وزیر شفقت محمود کی والدہ کی وفات کے باعث موخر کردی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس اب 7 جولائی کو ہو گی جس میں ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ متوقع ہے، وفاقی وزارت تعلیم نے چاروں صوبوں اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے تجاویز طلب کر رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وبا کے بعث ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند ہونے سے لاکھوں طلباء زیور تعلیم سے محروم ہیں۔

The post 7 جولائی کو ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ متوقع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3dKMw5f

بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر گولہ باری سے شہری شہید، پاک فوج کا بھرپور جواب

 راولپنڈی: کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں ایک شہری شہید ہوگیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کنٹرول لائن کے لیپہ سیکٹر میں بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کی اور شہری آبادی کو آرٹلری، مارٹرز اور دیگر بڑے ہتھیاروں سے نشانا بنایا، بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں تلواری گاؤں میں نوجوان شہید ہوگیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے موثر جوابی کارروائی میں دشمن کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جہاں سے سول آبادی پر فائرنگ اور گولہ باری کی جارہی تھی۔

واضح رہے کہ سال رواں میں بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی 1546 بار خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، بھارت کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے 14 افراد شہید اور 114زخمی ہوئے ہیں۔

The post بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر گولہ باری سے شہری شہید، پاک فوج کا بھرپور جواب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Znw061

کراچی میں قیامت خیز گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے عوام کی زندگی محال

 کراچی: شہر قائد میں گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور صبح 11 بجے ہی درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو گیا ہے۔

پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں گزشتہ روز ہونے والی بارش کے باعث موسم قدرے خوشگوار ہے تاہم کراچی سکیت سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔

کراچی میں صبح 11 بجے ہی درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو گیا جب کہ سمندری ہواؤں کی بندش کے باعث گرمی کا اثر 44 ڈگری تک محسوس کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب شہر بھر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے عوام کی زندگی محغال ہوگئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا تاہم کراچی سمیت ساحلی پٹی میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔

The post کراچی میں قیامت خیز گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے عوام کی زندگی محال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VPZDvV

بلوچستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں مزید 15 دن کی توسیع

حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں مزید 15 دن کی توسیع کردی ہے۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق صوبے بھر میں کورونا وبا کے پیش نظر جاری اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 15 جولائی تک توسیع کردی گئی ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق صوبے بھر کے صوبے بھر کے تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے ، بازار اور مارکیٹیں صبح 9 سے شام 7 بجے جب کہ میڈیکل اسٹورز، تندور، ڈیری پروڈکٹس، درزی کی دکانیں، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز ہوم ڈیلیوری کے لئے 24 گھنٹے کھلے رہ سکتے ہیں تاہم فارم ہاؤسز ،شادی ہال اور پکنک پوائنٹس بدستور بند رہیں گے۔

The post بلوچستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں مزید 15 دن کی توسیع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2CODDdV

وزیر ہوا بازی غلام سرور کی برطرفی کیلیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان غلام سرور کی برطرفی کے لیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے وفاقی وزیرغلام سرور خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ غلام سرور خان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ 30 فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، وزیر ہوابازی نے انکوائری کے بغیر 262 پائلٹس پر جعلی لائسنس کا الزام لگایا، اگر کسی کی ڈگری جعلی تھی تب بھی وزیر کو چاہیے تھا خفیہ انداز میں کارروائی کرتے، ان کے بیان کی وجہ سے پی آئی اے پر یورپ میں فلائیٹوں پر 6 ماہ کی پابندی لگ گئی ہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ پائلٹس کے جعلی لائسنس کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، وزیراعظم کو غلام سرور خان کو وفاقی وزیر کے عہدے سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، اسپیکر قومی اسمبلی کو غلام سرور کی نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوانے کی ہدایت کی جائے، درخواست پر فیصلے تک غلام سرور کو فوری کام سے روک دیا جائے۔

ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان غلام سرور کی برطرفی کے لیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیا کہ عدالت معاملے کی احساسیت کو سمجھتی ہے،اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کریں گے۔

The post وزیر ہوا بازی غلام سرور کی برطرفی کیلیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VB1vbz

پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

 لاہور:  وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے چند روز قبل اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے‘‘۔ان کے اس بیان نے میر ظفر اللہ جمالی کی یاد دلا دی۔

26 جون2004 کی جس شب جمالی صاحب نے وزارت اعظٰمی کے عہدے سے استعفی دیا تھا اسی روز صبح کے اخبارات کی لیڈ نیوز وزیر اعظم کا یہ بیان تھا کہ’’میں کہیں نہیں جا رہا،وزیر اعظم ظفر جمالی‘‘۔تحریک انصاف حکومت کے پایہ تخت اب پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے۔ اتحادی نگاہیں پھیر رہے ہیں لیکن سب سے اہم یہ کہ اپنوں کا شکوہ دل سے نکل کر اب زبان پر آگیا ہے اور وہ کھلے عام اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ویسے تو کسی بھی سیاسی جماعت نے حکومت میں آنے کے بعد اپنے کارکنوں اور چھوٹے رہنماوں کو زیادہ محبت اور قربت نہیں بخشی لیکن اس وقت جو حالت زار تحریک انصاف کے کارکن اور رہنما کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔عام کارکن کی بات کرنے سے پہلے ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدیداروں کی حالت کا تذکرہ بھی اشد ضروری ہے۔ جن ٹکٹ ہولڈرز کو الیکشن سے قبل عمران خان اپنی طاقت اور اپنا سرمایہ قرار دیتے تھے اب وہ ’’راندہ درگاہ‘‘ قرار پا چکے ہیں ،ان کے ساتھ اچھوت جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

وزراء ان کا کام کرنا تو دور کی بات ان کا فون سننا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔چند ایک ٹکٹ ہولڈر جو اپنی انفرادی ساکھ اور افسروں تک رسائی رکھتے ہیں وہ اپنے کام براہ راست کروا لیتے ہیں۔ اس وقت دوطرز کی تحریک انصاف موجود ہے ۔پہلی ان لوگوں پر مشتمل ہے جو نوازے جا چکے ہیں جو منتخب اراکین اسمبلی ہیں یا پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں کم ازکم ضلعی سطح کے صدر یا جنرل سیکرٹری ہیں اور یا پھر وہ لوگ ہیں جنہیں پارٹی کے اندر موجود دھڑے بندی کی وجہ سے حکومتی محکموں میں چیئرمین، وائس چیئرمین  جیسے عہدوں سے نوازا گیا ہے ۔

دوسری تحریک انصاف ان پر مشتمل ہے جنہوں نے بحیثیت کارکن سالہا سال سے کپتان کے دعووں اور وعدوں پر اندھا یقین کیا، لانگ مارچ ہو یا دھرنا، لاک ڈاون ہو یا جلسہ ہر جگہ اپنی جیب سے خرچ کر کے پارٹی کے ساتھ حق وفاداری نبھانے کی کوشش کی ہے لیکن گزشتہ دو برس سے ان کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

سب سے پہلے حکومتی تحریک انصاف کی بات کریں تو الیکشن جیتنے کی شام سے ہی ہر منتخب رکن اسمبلی خود کو وزیر سمجھنے لگ گیا تھا۔ حکومت کی تشکیل سازی میں بھی زیادہ تر وزراء ایسے لوگوں کو بنایا گیا جن کا پارٹی کی لئے کسی قسم کا نمایاں کام نہیں تھا اور آج یہی وزراء حکومت کی ناقص کارکردگی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ تحریک انصاف کے ہر طاقتور رہنما نے اپنے چہیتوں کو نوازا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے کی ذمہ دار ایجنسیوں سمیت سرکاری محکموں کے حکام اور میڈیا بخوبی جانتا ہے کہ غیر سرکاری عہدوں پر تعینات سیاسی افراد کی اکثریت(چند لوگ واقعی پارسا ہیں)نے کیا لوٹ مار مچا رکھی ہے۔

بالکل یہی صورتحال بعض وزراء کی بھی ہے جن کے بارے میں آئے روز نت نئی کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں لیکن ارباب اختیار اتنے بے بس ہیں کہ ان کے خلاف ایکشن لینے کی ہمت آج تک تو ہوئی نہیں۔ ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ روز اول سے سوتیلا پن برتا جا رہا ہے نہ تو وزیر ان کی بات سنتے ہیں اور نہ ہی افسر شاہی ان کے کہنے پر کوئی کام کرتی ہے ۔جس ٹکٹ ہولڈر کی ’’اوپر‘‘ تک رسائی ہے یا وہ اپنی سیاسی یا مالی طاقت کے لحاظ سے تحریک انصاف کی بیساکھی کا مرہون منت نہیں ہے وہ تو اپنے کام اپنے زور بازو پر کروا لیتے ہیں۔

ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز کا وعدہ کیا گیا لیکن کسی’’ذہین‘‘ نے یہ فارمولہ طے کردیا کہ فنڈز صرف اسی ٹکٹ ہولڈر کو ملیں گے جس نے 85 فیصد سے زائد ووٹ لیے ہوں گے ۔اس فارمولہ نے اکثریت کو فنڈز کیلئے’’نا اہل‘‘ بنا ڈالا ہے۔مثال کے طور پر لاہور جو گزشتہ 35 برس سے مسلم لیگ(ن) کا سب سے مضبوط گڑھ رہا ہے اور تمام تر کمزوری کے باوجود آج بھی یہاں ان کا زور ہے وہاں کے ٹکٹ ہولڈرز کیلئے بھی 85 فیصد ووٹ کی شرط کا مطلب یہی ہے کہ’’اسے ہماری جانب سے انکار ہی سمجھا جائے‘‘۔

لاہور سمیت سنٹرل پنجاب بشمول فیصل آباد وغیرہ میں تو یہ شرح 70 فیصد سے بھی کم رکھنا چاہیے تھی۔لاہور میں ابھی تک گنتی کے چھ یا سات افراد کو ترقیاتی فنڈز ملے ہیں۔مرحوم نعیم الحق اپنی زندگی میں جمشید اقبال چیمہ سمیت چند دوسرے من پسند افراد کیلئے فنڈز کی زبانی منظوری تو کروا گئے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد ان لوگوں کو ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ تنظیمی عہدیداروںکی بات کی جائے تونچلی سطح پر تقرریوں کے نوٹیفیکیشن اندھے کی ریوڑیوں کی مانند بانٹے جا رہے ہیں اور یہ نوٹیفیکیشن لینے والے بھی کاغذ کا ٹکڑا لیکر خوش ہوجاتے ہیں ۔

ماسوائے چند بڑے تنظیمی عہدوں کے باقی کے سب تنظیمی عہدیدار’’فارغ‘‘ ہیں ۔ عام کارکن کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا تھا جب جہانگیر ترین کو ’’ٹارگٹ ‘‘ کیا گیا ،کارکن نے گزشتہ دس برس میں جس شخص کو دن رات اپنی صحت اور کاروبار کی پرواہ کیئے بغیر عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کیلئے انتھک محنت کرتے دیکھا، اپنی جیب سے اربوں روپے خرچ کرتے دیکھا ،حکومت بنانے کیلئے اراکین اسمبلی کی تعداد پوری کرنے کیلئے جدوجہد کرتے دیکھا اب یہی کارکن جہانگیر ترین کو کیسے ’’چور‘‘ تسلیم کرلے اسے بھی معلوم ہے کہ یہ سب کچھ ایک بڑی سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ تو بھلا ہو گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا جنہوں نے اپنی حد تک کارکنوں کی دلجوئی کیلئے ان سے رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

گورنر پنجاب ویسے بھی عوامی آدمی ہیں اور یہی ان کی خوبی بھی ہے اور طاقت بھی انہوں نے کورونا لاک ڈاون کے دوران 13 لاکھ خاندانوں میں 5 ارب روپے سے زائد مالیت کا راشن اور ادویات تقسیم کی ہیں۔ اسی طرح عبدالعلیم خان اور ان کے قریبی ساتھی شعیب صدیقی نے لاہور میں نہ صرف اپنے حلقوں بلکہ دیگر حلقوں کے کارکنوں اور رہنماوں کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں اور جو کچھ ان کیلئے ہو سکتا ہے وہ کرتے ہیں۔

اعجاز چوہدری نے صدر سنٹرل پنجاب کی حیثیت سے اچھا ’’ٹیک آف‘‘  کیا تھا لیکن ضلعی  وتحصیل تنظیموں کی صورتحال بہت خراب ہے،اول تو کوئی تنظیمی سرگرمی نہیں ہو رہی اور اگر کرنے کا سوچا جاتا ہے تو تمام تنظیم کو جمع کر کے ’’چندہ‘‘ جمع کرنے کی تنظیمی رسم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نچلی سطح کے کارکن اور رہنما کو مایوسی سے باہر نکالا جائے، عزت اور اہمیت دی جائے کیونکہ اگر مستقل قریب میں ’’تبدیلی‘‘ آ گئی تو پھر نئے دھرنے کیلئے انہی کارکنوں سے قربانی مانگی جائے گی۔

The post پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2CXQFWJ

سندھ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم

کراچی:  پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نئے ہفتے کا آغاز ایک افسوسناک واقعہ ساتھ ہوا،جب دہشت گردوں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کرکے ملک کو معاشی طور پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ملک دشمنوں کے اس حملے کو ناکام بنادیا۔اس واقعہ میں 4(تمام)دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک پولیس افسر اور 3سیکورٹی گارڈز شہید ہوئے۔اس واقعہ میں 7افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعہ کے حوالے سے کراچی پولیس چیف کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے اور یہ حملہ چینی قونصل خانے پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں ڈیڑھ سال سے کوئی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہوئی، دہشت گرد کراچی کی رونقیں خراب کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پاکستان اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ پر صبح 10 بجکر 2 منٹ پر 4 دہشت گرد گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور 10 بجکر 10 منٹ پر اس کارروائی کا اختتام ہوگیا، یعنی قانون نافذ کرنے والوں نے صرف 8 منٹ میں دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔

ڈی جی رینجرز کا واضح طور پر کہنا تھا کہ ہمیں ادراک ہے کہ ملک دشمن ایجنسیاں کوششیں کر رہی ہیں کہ بچے کچے دہشت گردوں کے پاکستان کے خلاف استعمال کریں مگر ہم واقف ہیں کہ کون کیا کر رہا ہے، ان کے خلاف کام شروع کرچکے ہیں اور انہیں نیست و نابود کریں گے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رینجرز پولیس، دیگر اداروں پر اعتماد رکھیں۔کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے کہا کہ بہتر رسپانس کی وجہ سے دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے، دہشت گردوں نے دلبرداشتہ ہوکر کارروائی کی، دہشت گرد نیٹ ورک کے کچھ لوگوں کو پہلے پکڑا جاچکا تھا۔ ایسے کئی حملوں کو وقت سے پہلے ہی انٹیلی جنس انفارمیشن کی بنیاد پر ناکام بنایا گیا۔

ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردوں کو بری طرح پسپا کیا ہے۔دہشت گردوں کو بھی سمجھ آگئی ہوگی کہ پاکستانی پولیس، رینجرز سو نہیں رہی۔ امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ اسٹاک ایکس چینج پر حملہ دہشتگردی ہے، اس کو  برداشت نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب چند دن پہلے گھوٹکی، لاڑکانہ اور کراچی میں ایک ہی وقت میں حملے ہوئے تو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔انہوں نے انٹیلی جنس کے کام کو مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے دوران اجلاس اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے دہشت گردوں کی جانب سے سندھ اسمبلی پر حملے کی اطلاعات تھیں جبکہ دہشت گردوں سے سندھ اسمبلی کی تصاویر بھی برآمد ہوچکی ہیں۔ اس حوالے سے سندھ اسمبلی کی سکیورٹی ہم نے بڑھا دی ہے۔

اس ضمن میں مبصر ین کاکہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو اپنا ہدف بنایا لیکن سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرکے ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز سندھ نے واشگاف الفاظ میں حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی بات کی ہے۔

اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ بھارت پاکستان کو استحکام کی طرف جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی تندہی کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں امید ہے کہ سیکورٹی ادارے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی لائیں گے۔اس کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال 21-2020کے لیے 12کھرب 41ارب روپے سے زائد مالیت کے صوبائی بجٹ کی کثرت رائے سے منظور ی دیدی جبکہ ایوان نے مالی سال 2019-20کے لیے 30ارب 16کروڑ روپے کا ضمنی بجٹ کی بھی منظور کرلیا۔بجٹ کی منظوری کے وقت اپوزیشن جماعتوں کی کٹوتی کی تحاریک بھی مستردکردی گئیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے بجٹ کی منظوری میں تعاون پر پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کیا ہے۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ یہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت سندھ نے صوبائی بجٹ میں کراچی کے لئے کچھ نہیں رکھا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والے کراچی کے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جائیں گے۔

ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے صوبائی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کے دائرہ کار کو کراچی بھر میں پھیلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ سندھ کا بجٹ صوبے میں بسنے والی مختلف اکائیوں کے درمیان تفریق کا سبب بنے گا۔

ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب کا ایم کیو ایم پاکستان کی پریس کانفرنس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس صرف میڈیا پبلسٹی کا بہانہ ہے۔ سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ  وفاق نے ہمیں آئین کے تحت ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا ہے لیکن ہم اب وفاق کے لیے ٹیکس جمع نہیں کرینگے۔

کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے روکنے کے لیے لگائے گئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں۔صوبے میں کورونا سے متاثرہ مریضوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے،جس پر صوبائی حکومت کو بھی تشویش ہے۔طبی ماہرین نے ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں دو ہفتے کے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے۔

The post سندھ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3dVkPqx

بجٹ منظور، مگر حکومت کی مشکلات کم نہ ہوئیں

 اسلام آباد:  وفاقی بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لئے اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے اور مزاحمت کے تمام تر دعوے ریت کے گھروندے ثابت ہوئے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی بجٹ پر بحث محض روایت پوری کرنے تک محدود رہی۔

منظوری سے قبل فنانس بل کا قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ کے اجلاسوںمیں بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے عرق ریزی کے ساتھ سفارشات تیار کرکے پارلیمنٹ کو بھجوائیں۔

اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ  فنانس بل میں کوئی ایک ترمیم بھی منظور نہیں کروا پائی۔ کپتان کی ٹیم کے اہم کھلاڑی اسد عمر نے  بجٹ منظوری کے بعد اپنے ٹویٹ میں اپوزیشن کو آئینہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ اس سال بجٹ منظوری کیلئے پچھلے سال کی نسبت زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

ان کا دعوی اپنی جگہ درست ہوگا لیکن اتحادی جماعتوں کے درمیان دراڑ مزید واضع ہوگئی ہے اور اہم اتحادی جماعت کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومت کے بجائے اپوزیشن کو ووٹ دیا ہے۔  بجٹ منظور ہوچکا اور ان سطور کی اشاعت تک فنانس بل پر صدر مملکت کے دستخط کے بعد ایکٹ کی صورت میں یکم جولائی سے اگلے مالی سال کے بجٹ کا نفاذ بھی عمل میں آجائیگا اوراسکے اثرات بھی نمودار ہونا شروع ہوجائیں گے۔

ملک کے تمام نامور معاشی ماہرین،بڑے کاروباری ادارے، شخصیات اور عوامی حلقے بجٹ سے خوش نہیں۔ سرکاری ملازمین تنخواہیں نہ بڑھنے پر سراپا احتجاج ہیں۔ اب تو اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی کھلے عام کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ آگے بھی اندھیرا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے پہلے سال کی جو آڈٹ رپورٹس سامنے آرہی ہیں اس نے تو حکومتی دعووں کی مزید قلعی کھول کررکھ دی ہے۔ اب تک اطلاعات یہ ہیں کہ اس آڈٹ رپورٹس میں تحریک انصاف حکومت کے پہلے سال کے دوران دو سو ستر ارب روپے کے لگ بھگ کی مالی  بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ابھی یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونا ہے اور تقدیر کی ستم ظریفی دیکھیں کہ آج اس آڈٹ رپورٹ پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وہی جواز اوردلائل پیش کررہی ہے جو ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں پیش کیا کرتی تھیں مگر اس وقت تحریک انصاف اپوزیشن بنچوں میں بیٹھ کر ان دلائل کو مسترد کیا کرتی تھی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا انداز اور باڈی لینگوئج اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اب وہ پہلے والا ماحول نہیں رہا۔ پچھلے  دو سال تک کپتان کا بیانیہ رہا کہ کرپش کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا لیکن جب سے چینی سکینڈل اور اس طرح کے دوسرے سکینڈل منظرعام پر آئے ہیں اب یہ بیانیہ سامنے آیا ہے کہ کرپٹ مافیا کا دفاع کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ بعض سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اس وقت موجودہ حکومت کی ناکامی کا خوف زیادہ حاوی ہو چکا ہے جبکہ کوئی متبادل بھی دکھائی نہیں دیتا۔

میاں شہبازشریف جو کورونا وبا  میں قومی خدمت کا جذبہ لے کر پاکستان آئے تھے اب دوبارہ لندن اُڑان بھرنے کیلئے پر تولتے  دکھائی دے رہے ہیں اور خود حکومتی حلقوں سے لوگ ان کے کیلئے راہ ہموار کر رہے ہیں تو دوسری جانب خود حکومتی ٹیم کے اندر بھی پھر سے تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ حکومت اور اسکی اتحادی جماعتوں کے درمیان  کھچاو بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

پنجاب میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت ق لیگ سے بھی دوریاں بڑھنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے دیئے جانیوالے حالیہ اعشایئے میں شرکت نہ کرکے ق لیگ نے واضع پیغام دیا ہے اور پھر ق لیگ نے وزیراعظم کے مقابلہ میں اپنا عشائیہ دے کر مزید مشکل کھڑی کردی ہے۔ سیاسی عدم استحکام اپنی جگہ  مگر معاشی بگاڑ جس تیزی سے بڑھ رہا ہے  وہ بڑے خطرے کی علامت ہے اور اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو  حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ ابھی حال ہی میں جو پارلیمانی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے اس نے سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

وزیراعظم نے آنے والے چھ ماہ کو تخت یا تختے والی صورت قرار دیا ہے۔ یقیناً انہیں فرینڈلی اپوزیشن سے تو کوئی خطرہ نہیں پھر یہ صورت کیونکر سامنے آئی ہے اسے سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ دوسری جانب سیاسی جوڑ توڑ پھر سے جاری ہے۔  لندن میں جہانگیر ترین کی نوازشریف سے ملاقات کی کوششوں کی اطلاعات ہیں اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سیاسی بساط  پلٹنے میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہی میاں نوازشریف اور مریم نواز ہیں جو اپنے بیانیہ سے پیچھے  ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ سیاسی حلقوں کا خیال  ہے کہ ابھی نوازشریف سے کوئی ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔

بعض سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں اور ایسے میں 2020 وسط مدتی انتخابات کا سال ہو سکتا ہے  جبکہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگلے چند ماہ میں میاں نوازشریف کی ملکی سیاست میں انٹری ہونیوالی ہے اور نواز شریف بھی مکمل صحت مند ہو کر واپس آنے والے ہیں ان کی آمد کا خوف بھی حکومت کو پریشان کر رہا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی سطح پر اضطراب،ہیجان اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔یوں لگ رہا ہے کہ حالات مکمل طور پر وزیراعظم کی گرفت سے نکل چکے ہیں اسی لیے قومی اسمبلی میں کی جانے والی ان کی حالیہ تقریر کا لب و لہجہ اور اسلوب معذرت خواہانہ تھا۔ معاشی ابتری کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں چار نشستیں رکھنے والی بلوچستان کی اہم اتحادی جماعت  بی این پی نے حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ شازین بگٹی اور دوسرے اتحادی اور ہم خیال بھی ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں اور لگ یہی رہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیاسی تبدیلی کا آغاز بلوچستان سے ہوا چاہتا ہے اور دوسری طرف  قومی اسمبلی میں حکمران پارٹی کے اپنے ایم این ایز وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کے مشورے دے رہے ہیں اسکے ساتھ ساتھ اتحادی ق لیگ اور ایم کیو ایم کی ناراضی ڈھکی چھپی بات نہیں اورفواد چودھری کا انٹرویو بتا رہا ہے کہ اندرون خانہ حکومت کے حالات نہایت ہی پتلے ہیں۔جہانگیر خان گروپ کی طرف سے بغاوت کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے۔

The post بجٹ منظور، مگر حکومت کی مشکلات کم نہ ہوئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Zoz5Tf

وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے جوڑ توڑ

کوئٹہ:  بلوچستان نیشنل پارٹی کی وفاق میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت سے علیحدگی کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں میں تیزی آگئی ہے جبکہ اس سیاسی صورتحال کے بلوچستان کی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

بی این پی جو بلوچستان میں جے یو آئی (ف) کی اتحادی جماعت ہے اور جام حکومت کے خلاف  اپوزیشن کا کردار ادا کررہی ہے  مرکز میں بی این پی کی علیحدگی کے بعد اب دونوں جماعتوں میں وفاقی سطح پر بھی قربتیں بڑھ رہی ہیں۔

جے یوآئی (ف) کی قیادت نے مرکزی اور بلوچستان کی سیاست کو اس حوالے سے فوکس کر رکھا ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت سے ناراض بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دیگر اتحادیوں جن میں جے ڈبلیو پی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ شازین بگٹی اور آزاد رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی شامل ہیں سے رابطے کئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی ان ناراض اتحادی اراکین قومی اسمبلی سے رابطے کئے۔

یہاں تک کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے شاہ زین بگٹی اور اسلم بھوتانی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس کے بعد ان دونوں اراکین قومی اسمبلی نے بجٹ میں حکومت کی حمایت کی تاہم بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور نوابزادہ شاہ زین بگٹی کے حوالے سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں خصوصاً سردار اختر مینگل اور شاہ زین بگٹی سے بھی  پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر رہنماؤں نے رابطے کئے ہیں ان سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مستقبل قریب میں کوئی بڑا اتحاد بنانے کیلئے سر توڑ کوششیں کررہی ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں مرکز کی طرح جے ڈبلیو پی کی ایک نشست ہے اور نوابزادہ شازین بگٹی کے چھوٹے بھائی نوابزادہ گہرام بگٹی جام حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اسی طرح آزاد رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی کے بڑے بھائی سردار صالح بھوتانی جام کابینہ کا حصہ ہیں اور ان کا تعلق حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) کی کوشش ہے کہ وہ مرکز میں پی ٹی آئی حکومت سے نالاں ان دونوں اتحادی اراکین قومی اسمبلی کو بلوچستان کیلئے بھی تیار کرے تاکہ وہ اپنا ذاتی اثر و رسوخ اپنے بھائیوں پر استعمال کریں اور انہیں جام حکومت کے خلاف کردار ادا کرنے کیلئے تیار کیا جائے کیونکہ بلوچستان میں اس وقت متحدہ اپوزیشن کی تعداد24 ہے (جمعیت کے ایک اپوزیشن رکن سید فضل آغا کے انتقال کے بعد یہ تعداد گھٹ کر 23 ہوگئی ہے) اور65 کے ایوان میں متحدہ اپوزیشن کو33 ارکان کی ضرورت ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں متحدہ اپوزیشن جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں کررہی ہے تاہم مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کیلئے اُسے دس ارکان کی ضررت ہے جس کیلئے وہ جام حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کی کوشش ہے کہ وہ مرکز میں اپوزیشن جماعتوں کی سپورٹ کرنے والی جماعت اے این پی کو راضی کرلے کہ وہ بلوچستان میں اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دے جس کے بلوچستان اسمبلی میں 4 ارکان ہیں اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بی این پی (عوامی) اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی سے بھی رابطے کررہی ہیں جن کی بلوچستان اسمبلی میں تعداد بالترتیب3 اور2 ہے اس کے علاوہ حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان سے بھی انڈر گراؤنڈ رابطوں کے دعوے کئے جارہے ہیں، اس میں کس حد تک صداقت ہے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کیونکہ اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

بلوچستان میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی کی رہائش گاہ ’’ساراوان ہاؤس‘‘ اپوزیشن جماعتوں کے رابطوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی جو کہ بلوچستان اسمبلی میں آزاد حیثیت سے اپوزیشن بنچ پر بیٹھے ہیں اُن کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے انہیں قیادت کی ذمہ داری سونپ دی تو وہ بی این پی یا جمعیت علماء اسلام میں سے کسی ایک جماعت کو جوائن کرسکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں بجٹ اجلاس کے دوران انہیں اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ والی نشست جو کہ جے یو آئی(ف)کے سید فضل آغا کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی الاٹ کی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں جام حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بی این پی کے مرکزی رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے بھی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کی تصدیق کی ہے دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں عددی اعتبار سے اپنا ہدف پورا کرتی ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب جام حکومت نے اپوزیشن کی تنقید اور مخالفت کے باوجود صوبائی بجٹ2020-21 کو منظور کرا لیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ارکان اسمبلی کے درمیان زبردست نوک جھونک ہوتی رہی بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ غیر متوازن ہے اپوزیشن کے حلقوں اور اہم شعبوں کو نظر انداز کیا گیا اور  یہ بجٹ مفاد پرستوں کیلئے بنایا گیا ہے اسی لئے وہ اسے مسترد کرتے ہیں، جبکہ حکومتی ارکان نے بجٹ کو متوازن اور تاریخ ساز قرار دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ بجٹ میں انفرادی اسکیموں کے بجائے اجتماعی منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے اور اپوزیشن کے ارکان کے حلقوں کو بھی یکساں اہمیت دی گئی ہے حالانکہ اپوزیشن ارکان اپنی ذاتی اسکیموں کو شامل کرانے کیلئے سڑکوں پر بیٹھے رہے۔ وزیراعلیٰ نے ان کی انفرادی اسکیموں کو مسترد کیا اور اجتماعی اسکیموں کو فوقیت دی۔

The post وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے جوڑ توڑ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Zr1IiM

سندھ حکومت کا لاک ڈاؤن پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ

 کراچی: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ کرلیا۔

لاک ڈاؤن میں توسیع کا نوٹی فکیشن محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے آج جاری کئے جانے کا امکان ہے۔ یکم جون کو لاک ڈاؤن پابندیوں کے تحت احکامات 30 جون تک کے لئے عائد کئے گئے تھے۔

محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد لاک ڈاؤن کے تحت پابندیوں میں توسیع کا حکم نامہ آج جاری کئے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق لاک ڈاؤن پابندیوں کے تحت تعلیمی ادارے بند رہیں گے، کاروباری مراکز شام 7 بجے تک کھلے رکھے جاسکیں گے جب کہ عوامی، تفریحی مقامات پر آمدورفت کی پابندی برقرار رہے گی۔

The post سندھ حکومت کا لاک ڈاؤن پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3eOA2uC

دہشت گردی کا خطرہ؛ سندھ اسمبلی انتظامیہ کا محکمہ داخلہ کو خط

 کراچی: سندھ اسمبلی انتظامیہ نے دہشت گردی  کے خطرے کے پیش نظر محکمہ داخلہ کو سیکیورٹی سخت کرنے کے لئے خط لکھ دیا۔

سندھ اسمبلی عمارت کو دہشت گردوں سے خطرے کے پیش نظر سندھ اسمبلی انتظامیہ نے محکمہ داخلہ کو ایک اور خط لکھ کر اسمبلی عمارت کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی درخواست کردی۔

سندھ اسمبلی کے سیکریٹری عمر فاروق برڑو کے مطابق اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے محکمہ داخلہ کو دو ماہ قبل خط لکھا گیا تھا جبکہ یاد دہانی کے لیے ایک اور خط سیکریٹری محکمہ داخلہ اور آئی جی پولیس کو لکھا جارہا ہے کہ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ کی سیکیورٹی سخت کی جائے۔

The post دہشت گردی کا خطرہ؛ سندھ اسمبلی انتظامیہ کا محکمہ داخلہ کو خط appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2BWqBul

دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی کراچی میں موجودگی کا شبہ، 25 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں تابڑ توڑ چھاپے مارکر 25 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا

پولیس کو شبہ ہے کہ مارے گئے چاروں دہشت گردوں کے سہولت کار کراچی میں موجود ہیں جنہوں  نے انہیں کراچی میں رہائش، کھانا پینا اور گاڑی خریدنے کے لیے رقم دینے کے علاوہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ریکی بھی کرائی۔

اس سلسلے میں سی ٹی ڈی، ایس آئی یو اور دیگر اداروں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دہشت گرد جس روٹس سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج تک پہنچے اس راستوں کی سی سی فوٹیج حاصل کررہے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے چاروں دہشت گرد کس علاقے میں ٹھہرے تھے۔

ذرائع نے بتایا ابتدائی تفتیش میں لگتا ہے چاروں دہشت گرد کو ان کے سہولت کاروں نے بلدیہ، سعید آباد یا پھر یوسف گوٹھ کے علاقے میں ٹھہرایا ہو، مرنے والے دہشت گردوں کے پاس سے لیاری ایکسپریس وے کا ٹوکن بھی ملا ملزمان نے 27جون کو لیاری ایکسپریس وے استعمال کی۔

پولیس ذرائع نے مزید بتایا دہشت گرد سلمان نے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی  سبزی منڈی شوروم سے 15 لاکھ روپے کی خریدی تھی، شوروم میں لگے سی سی فوٹیج میں سلمان وڈیو بھی موجود ہے جسے پولیس نے تحویل میں لیکر شوروم مالک کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق مرنے والے دہشت گردوں کے پاس سے ملنے والی موبائل سم کا پولیس نے ڈیٹا نکلا تو معلوم ہوا ملزمان ایک ہفتے کے دوران5مرتبہ بلوچستان میں مخصوص نمبر پر بات کی، دہشت گرد فون پر بات کرنے کے بعد اپنا موبائل فون بند کرنے کے بعد اس کی بیٹری تک نکل دیتے تھے تاکہ موبائل سے لوکیشن نہ مل سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ایک سے ڈیڑھ ہفتہ قبل کراچی آئے تھے اور انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کراچی میں مخصوص مقام پر ٹھہرے تاکہ کسی کو شک نہ ہو، دہشت گردوں سے ملنے والے ہتھیاروں کے بارے میں بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔

The post دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی کراچی میں موجودگی کا شبہ، 25 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3eZkEvi

سندھ حکومت نے وفاق کیلیے ٹیکس جمع نہ کرنے کا حکمنامہ جاری کردیا

 کراچی: سندھ حکومت نے وفاقی ود ہولڈنگ ٹیکس جمع نہ کرنے کا باضابطہ حکمنامہ جاری کردیا۔

سندھ حکومت نے وفاق کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس جمع نہ کرنے کے اعلان پر عمل درآمد شروع کردیا۔ سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت کے لئے ود ہولڈنگ ٹیکس جمع نہ کرنے کی منظوری دی تھی۔

محکمہ ایکسائز سندھ نے کمشنران لینڈ ریونیو کو خط لکھ کر کہا ہے کہ یکم جولائی سے سندھ حکومت وفاق کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس جمع نہیں کرے گی اور یکم جولائی سے وفاقی حکومت ود ہولڈنگ ٹیکس جمع کرنے کے لیے خود انتظامات کرے۔

The post سندھ حکومت نے وفاق کیلیے ٹیکس جمع نہ کرنے کا حکمنامہ جاری کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2BRD9Do

’’پب جی‘‘ گیم نے ایک اور جان لے لی

 لاہور: عازی روڑ پنجاب سوسائٹی  میں نوجوان نے ’’پب جی‘‘ گیم کھیلنے سے منع کرنے پر خود کشی کرلی۔

پولیس کے مطابق عازی روڑ پنجاب سوسائٹی کے رہائشی 18 سالہ نوجوان شہریار نے ’’پب جی‘‘ گیم کھیلنے سے منع کرنے پر خود کشی کرلی، لاش کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے مردہ خانے منتقل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ’’پب جی‘‘ نوجوانوں اور بچوں میں کافی مقبول آن لائن گیم ہے جسے پاکستان سمیت دنیا بھر میں جنون کی حد تک کھیلا جاتا ہے جب کہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی اس گیم کی وجہ سے اموات ہوچکی ہیں۔

The post ’’پب جی‘‘ گیم نے ایک اور جان لے لی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3eRZxew

ژوب میں شدید آندھی کے باعث دیوار گرگئی، 3 افراد جاں بحق

ژوب میں شدید آندھی کے باعث گھر کی دیوار گرگئی جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

بلوچستان کے ضلع ژوب کے سید آباد محلے میں شدید آندھی کے باعث گھر کی دیوار گرگئی جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا۔

بلوچستان میں مون سون کی بارشوں کا سسلسلہ شروع ہوگیا ہے، کوئٹہ میں بھی کالے بادل چھا گئے ہیں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش ہورہی ہے۔

The post ژوب میں شدید آندھی کے باعث دیوار گرگئی، 3 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3eNpJqJ

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...