الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے دیہاڑی دار مزدوروں میں راشن کی تقسیم

 اسلام آباد: الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کی طرف سے دیہاڑی دار مزدوروں میں راشن تقسیم کیا گیا۔

اسلام آباد میں الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے 1 ہزار دیہاڑی دار مزدوروں میں راشن تقسیم کیا گیا۔ الخدمت فاؤنڈیشن اسلام آباد کے صدر حامد اطہر ملک نے بتایا کہ دو ہزار راشن پیکٹس تقسیم کر چکے ہیں آج مزید 1 ہزار کر رہے ہیں۔

مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے مزدوروں میں راشن تقسیم کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین ہزار خاندانوں کو گھر گھر راشن پہنچا رہے ہیں اور الخدمت الرازی اسپتال کو کررونا قرنطینہ اور آئی سی یو بنا دیا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پوری انسانیت اور پاکستان اس وبا سے انشاء اللہ نجات پائیں گے، کورونا وائرس پھیلنے کے بعد غیر مسلم حکمران بھی اللہ کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور متاثرین تک راشن پہنچانے کا حکومت کے پاس کوئی شفاف نظام نہیں۔

The post الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے دیہاڑی دار مزدوروں میں راشن کی تقسیم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Uwk2Ws

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 239 افراد گرفتار، 73 مقدمات درج

کراچی: کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر 73 مقدمات درج کر کے 239 افراد کوگرفتارکرلیا۔

ترجمان سندھ پولیس کے مطابق کرونا وائرس کی وباپھیلنے سے روکنے کہ پیش نظر سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعدلاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں،کراچی سمیت سندھ بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر 73 مقدمات درج کر کے 239 افراد کو گرفتار کر لیا۔

ترجمان سندھ پولیس کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر قائد میں دفعہ144 کی خلاف ورزی پرمجموعی طور پر11 مقدمات درج کر کے 26 افراد کوگرفتارکیا گیا، ساؤتھ زون پولیس نے 3 مقدمات درج کرکے 5 افراد ایسٹ زون پولیس نے6 مقدمات درج کر کے 14 افراد اور ویسٹ زون پولیس نے 2 مقدمات درج کر کے 7 افراد کوگرفتارکیا۔

اسی طرح حیدرآباد پولیس نے 6 مقدمات درج کرکے 27 افراد ،میرپورخاص پولیس نے 19 مقدمات درج کر کے 43 افراد ،شہید بینظیر آباد پولیس نے 10 مقدمات درج کر کے 38 افراد، سکھر پولیس نے 19 مقدمات درج کر کے 77 افراد  اور لاڑکانہ پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 8 مقدمات درج کرکے 28 افراد کو گرفتارکیا۔

 

The post لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 239 افراد گرفتار، 73 مقدمات درج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39xA0nv

لاک ڈاؤن کے دوران کئی علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں

کراچی: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کے نویں روز شہرکے کچھ علاقوں میں سناٹارہا جبکہ بعض علاقوں میں پان سگریٹ اوردیگر اشیاکی دکانیں نویں روز بھی کھلی رہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے شہرقائد میں15روز کے لیے لگایا گیا لاک ڈاؤن نویں روز بھی جاری رہا ،شہرکے تمام کاروباری مراکز، دفاتر، تفریح گاہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہی جبکہ اسپتالوں کے اطراف قائم فارمیسیز24 گھنٹے اوردودھ کی دکانیں صبح 8 سے رات 8 بجے تک کھلی رہیں۔

اس موقع پر شہر کی مرکزی شاہراہوں سمیت ملحقہ سڑکوں پر رکاوٹیں لگائے پولیس ورینجرز اہلکار ضروری کاموں سے باہر آنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیراختیار کرنے کی ہدایت کرتے دکھائی دیے۔

دوسری جانب پولیس کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہری اندرونی علاقوں میں لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑانے میں مصروف رہے، سرجانی، بلدیہ، ملیر، کورنگی، لیاقت آباد، لیاری میں غیرضروری اشیاکی دکانیں کھلی رہیں۔

متعدد مقامات پر پولیس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مبینہ پشت پناہی بھی کرتی نظرآئی اور لسبیلہ کی مرکزی شاہراہ پر پان، سگریٹ کی دکانیں 9ویں روزبھی کھلی رہیں اورانھیں کسی نے بند نہیں کرایا۔

 

The post لاک ڈاؤن کے دوران کئی علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39Ap3S5

عمران خان، جنرل باجوہ روضہ رسولؐ پر حاضری دیں، شجاعت حسین

لاہور: سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کورونا سے بچاؤ کے لیے اپنے ویڈیو بیان میں تمام مسلمان حکمرانوں کو خانہ کعبہ اور روضہ رسول پر حاضری کا مشورہ دے دیا۔

ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ روضہ رسول پر حاضری دیں۔ عمران خان امت مسلمہ کے تمام لیڈروں کو خانہ کعبہ اور روضہ رسول لیکر جائیں۔ سب حکمران گڑگڑا کر معافی مانگیں تو امید ہے سب کی دعا قبول ہوجائے گی،جب تک اللہ تعالیٰ اور نبی پاک کی محبت قریب نہیں ہوگی اس وقت تک کوئی کام نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا ایٹم بم اور میزائلوں سے دنیا فتح کرنے والوں کو معلوم نہیں کہ پلا نر کوئی اور ہے ، دنیا کے بڑے بڑے منصوبہ سازوں کی پلاننگ اللہ تعالیٰ کی پلاننگ کے سامنے کچھ  بھی نہیں۔ کرونا کا عذاب ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالی ناراض ہیں جنہیں آنسو ؤں میں تر معافی سے منانا ہوگا، تبھی اس وبا سے نجات ملے گی اور خلق خدا سکون کا سانس لے گی۔

 

The post عمران خان، جنرل باجوہ روضہ رسولؐ پر حاضری دیں، شجاعت حسین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3aBtw8n

کورونا عام وائرس نہیں، چین نے روایتی طریقہ علاج سے قابو پایا، ایکسپریس فورم

لاہور: کورونا وائرس عام وائرس نہیںہے، بہترین طریقہ احتیاط ہے، گھروں میں رہیں اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں،اس بیماری پر قوت مدافعت بڑھا کر قابوپایا جاسکتا ہے،ابھی اس کی کوئی ویکسین تیارنہیں ہوئی ،چین نے اس بیماری پرروایتی طریقہ علاج سے استفادہ کرکے قابو پایا ہے۔ان خیالات کا اظہار طبی ماہرین اور وائرولوجسٹس نے ’’کورونا وائرس کے علاج‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

اسکول آف بائیولوجیکل سائنسز پنجاب یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نوید شہزاد نے کہا کہ کورونا وائرس کے علاج کے حوالے سے دیکھنا یہ ہے کہ یہ وائرس کس طرح ’’ری ایکٹ‘‘ کرتا ہے، 3ماہ کی عمر کے اس وائرس کے طرز عمل کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، اس حوالے سے دنیا بھر میں ریسرچ جاری ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس طرح کے وائرس کی ریسرچ کے لیے BSL-3 سطح کی لیبارٹری ضروری ہے، پاکستان میں ان کی تعداد انتہائی کم ہے مگر اس کے باوجود کام ہو رہا ہے، دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پاکستانی سائنسدان ریسرچ کر رہے ہیں۔ہم نے وائرس کے جینوم کو سیکوئنس کر لیا ہے اور یہ تحقیق pubmed ویب سائٹ پر موجود ہے جو پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔پنجاب یونیورسٹی اس پر کام کر رہی ہے، حال ہی میں وائس چانسلر نے کورونا وائرس کی تشخیصی لیب کا افتتاح بھی کیا ہے۔اس مرض کی دنیا بھر میں کوئی دوا نہیں ہے، اس کے لیے کم از کم 10 سے 15 برس لگتے ہیں لیکن اگر ہنگامی حالات میں سارے پروسیجرز کو جلدی فالو کیا جائے تو پھر بھی 2 برس درکار ہونگے۔4 ادویات ایسی ہیں جن کے نتائج اچھے آئے ہیں مگر FDA نے ابھی ان کی منظوری نہیں دی۔افواہوں کے بجائے سائنس اور تاریخ سے مدد لی جائے، یہ عام وائرس نہیں ہے ، دنیا نے پہلی مرتبہ ایسا وائرس دیکھا ہے لہٰذا عالمی ادارہ صحت اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی ہدایات پر عمل کیا جائے، سماجی دوری، سینی ٹائزیشن، ماسک و دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

سوسائٹی آف ہومیو پیتھس پاکستان کے سینئر رکن ڈاکٹر زبیر قریشی نے کہا کہ ہومیوپیتھک 200 سال سے مستند طریقہ علاج ہے، ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے بانی سیموئل ہانیمن نے 1799ء میں جرمنی میں پھیلنے والے ’’سکارلٹ فیور‘‘ کے دوران ہومیوپیتھک علاج کیا، اس کے بعد 1920ء میں ’’ہسپانوی فلو‘‘ کے دوران بھی ہومیوپیتھک طریقہ علاج استعمال کیا گیا جس کے اچھے نتائج سامنے آئے۔وبائی امراض کے حوالے سے ہومیوپیتھی کی تاریخ اچھی ہے۔پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ ہومیوپیتھس ہیں، انہیں کورونا وائرس کے علاج کیلئے آن بورڈ لیا جائے۔عالمی ادارہ صحت اور FDA سے منظور شدہ ہومیوپیتھک ادویات سینی ٹائزیشن، قوت مدافعت کی بہتری اور کورونا وائرس کی سنگین حالت ARDS میں وینٹی لیٹر نہ ہونے کی صورت میں پھیپھڑوں کو آکسیجن کی فراہمی کیلئے کارآمد ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس وائرس سے نمٹنے کیلئے ہومپوپیتھی سے بھی فائدہ اٹھائے۔ہمارا طریقہ علاج اور ادویات ایلوپیتھک ادویات سے دس گنا سستی ہیں، ہمیں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کوئی فنڈز درکار نہیں، ہماری سوسائٹی کے 5 ہزار ڈاکٹرز رضاکارانہ طور پر کام کرنے کیلئے خود کو پیش کرتے ہیں۔

سینئر نائب صدر پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن و ممبر نیشنل کونسل فار طب، حکومت پاکستان حکیم راحت نسیم سوھدروی نے کہا ہے کہ وبائی امراض نئی چیز نہیں، طب کی تاریخ اور نصاب میں وبائی امراض کو اہمیت حاصل ہے اور اس حوالے سے علاج بھی موجود ہے جسے عالمی ادارہ صحت اور حکومت بھی تسلیم کرتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایشیائی ممالک اس وقت تک امراض پر قابو نہیں پا سکتے جب تک وہ اپنے روایتی طریقہ علاج کو استعمال نہیں کریں گے۔کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے چین نے جو ورکنگ پیپر جاری کیا ہے، اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔چین نے اپنے روایتی طریقہ علاج سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا اس کا خوف پھیلایا گیا ہے،امید ہے اپریل میں کورونا وائرس کے اثرات کم ہوجائیں گے۔شہری احتیاتی تدابیر اختیار کریں، صابن سے ہاتھ منہ دھوئیں، وضو کریں، شہد اور کلونجی کا استعمال کریں اس سے قوت مدافعت بہتر ہوگی۔پاکستان میں موجود حکماء کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اپنی خدمات رضاکارنہ طور پر پیش کرتے ہیں۔

 

The post کورونا عام وائرس نہیں، چین نے روایتی طریقہ علاج سے قابو پایا، ایکسپریس فورم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39A0ipd

مسلمان حج کی تیاریاں موخر کردیں، سعودی وزیر حج

ریاض: سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث مسلمانوں سے حج کی تیاریاں موخر کرنے کا کہا ہے۔

سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے سرکاری ٹی وی الاخباریہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب حج و عمرہ زائرین کی خدمت کے لیے پوری طرح تیار ہے اور سعودی حکومت عازمین عمرہ کو کسی بھی وقت آنے کی اجازت دے سکتی ہے۔

ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث موجودہ حالات کے پیش نظر سعودی حکومت مسلمانوں اور اپنے شہریوں کی صحت و تندرستی کے حوالے سے فکرمند ہے، اس لیے ہم دنیا بھر میں اپنے مسلمان بھائیوں سے کہتے ہیں کہ صورتحال واضح ہونے کا انتظار کریں اور حج معاہدے نہ کریں۔

سعودی حکومت نے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کی حکومتوں کو حج معاہدے کرنے سے روک دیا ہے جبکہ رتواں مال کے شروع میں عمرے کو بھی معطل کردیا ہے اور اس سال حج بھی موقوف ہونے کا خدشہ ہے۔

سعودی عرب میں کورونا وائرس کے 1500 سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں اور 10 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن کردیا ہے اور تمام غیر ملکی پروازیں بھی معطل کردی گئی ہیں۔ گزشتہ سال دنیا بھر سے 25 لاکھ حاجیوں نے حج کے مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔

The post مسلمان حج کی تیاریاں موخر کردیں، سعودی وزیر حج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QYt4cI

آن لائن کلاسز شروع کرنے کے لیے حکمت عملی تیار

اسلام آباد: تعلیمی اداروں کی بندش، وفاقی وزارت تعلیم نے ایجوکیشنل ٹرانسمیشن کے ذریعے آن لائن کلاسز شروع کرنے کیلیے حکمت عملی تیار کر لی۔

پی ٹی وی سے 10 گھنٹے کا ایئر ٹائم لینے کا فیصلہ، پی ٹی وی ایک چینل پر آئن لائن تعلیم کیلئے دس گھنٹے مختص کرے گا، اردو، انگریزی، ریاضی اور اسلامیات سمیت سائنس مضامین کی تعلیم آن ائیر/آن لائن دی جائے گی۔

وزارت تعلیم کی ٹیکنیکل ایڈوائزر عنبرین عارف کا کہنا ہے 13 اپریل سے پہلے کوشش ہو گی کہ ٹی وی چینل شروع کر دیا جائے، نصابی کتب کی بجائے سٹینڈرڈ لرننگ آبجیکٹو (ایس ایل او)کے تحت آن لائن تعلیم دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے کرونا وباء کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد آن لائن ایجوکیشن کا فیصلہ کیا جس کے تحت پی ٹی وی پر نصاب کے مطابق لیکچرز تیار کر کے آن ائیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

 

The post آن لائن کلاسز شروع کرنے کے لیے حکمت عملی تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2JydVKI

آئی ڈی پیز اور افغان مہاجرین کو بھی ریلیف پیکیج دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے مقامی طور پر بے گھر ہونے والے پاکستانیوں (آئی ڈی پیز) اور افغان مہاجرین کیلیے بھی ریلیف پیکیج لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر مملکت برائے سیفران شہریار آفریدی نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ڈی پیز نے امن کی خاطر اپنے گھروں کو چھوڑا، انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وزیر اعظم نے ایسے لوگوں کے لئے احساس پرگروام میں 200 ارب روپے کا ریلیف پیکیج مختص کیا ہے۔کل خیبر ہاؤس میں ایک ہزار خاندانوں کے لئے اپنی مدد آپ تحت 5 سو بیگ راشن دیں گے، ہم ساؤتھ نارتھ وزیرستان سمیت ہر اس علاقہ میں جائیں گے جہاں آئی ڈی پیز موجود ہیں، بلوچستان میں موجود مہاجرین کے لئے بھی اقدامات کررہے ہیں، کراچی، حیدر آباد میں بھی مہاجرین کیمپس کا دورہ کروں گا۔

انہوں نے کہا پاکستان میں مقیم 28 لاکھ افغان مہاجرین کورونا وائرس اور اس کے اثرات سے شدید متاثر ہورہے ہیں، ان کی اکثریت دیہاڑی دار مزدور ہیں جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ذمہ داری ہیں،یواین ایچ سی آر اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ انہوں نے دیگر عالمی اداروں ، مقامی مخیر حضرات سے بھی افغان مہاجر بستیوں میں رہنے والوں کے لیے راشن اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے ۔

 

The post آئی ڈی پیز اور افغان مہاجرین کو بھی ریلیف پیکیج دینے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2JqWvjg

بحرانی حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو میدان عمل میں آنا چاہیے

پشاور: کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا اتھل پتھل ہوکر رہ گئی ہے۔ ایسے میں یہ ممکن نہیں تھا کہ پاکستان اور اس کے چاروں صوبے اس صورت حال سے محفوظ رہتے۔

پاکستان سے بیرون ملک گئے مسافروں کی واپسی سے یہ وائرس پاکستان وارد ہوا اور یہاں پر پھیلتے ہوئے لوگوں کو متاثر کررہا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے بروقت اقدامات کیے جس کے نتیجے میں یہ وائرس صوبہ میں بڑے پیمانے پر پھیلنے سے رک گیا ہے۔ گو کہ مردان سمیت بعض علاقوں میں وائرس تباہی پھیلا رہا ہے تاہم اس کی وجہ بیرون ممالک سے آئے وہ افراد ہیں جنہوں نے وطن واپسی پر اپنا طبی معائنہ کرانے کی بجائے گھروں کو لوٹنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے دیگر بہت سے لوگ بھی متاثر ہوئے ۔ چونکہ صوبہ کے مختلف اضلاع کی صورت حال صوبائی حکومت کے سامنے تھی اسی لیے محمودخان حکومت نے بروقت اقدامات کیے۔ پہلے مرحلے میں تعلیمی اداروں کو بند کیاگیا جن میں سکولوں کے علاوہ کالج اور یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں جبکہ ساتھ ہی میٹرک کے سالانہ امتحانات بھی ملتوی کیے گئے۔

حکومتی اقدامات یہیں تک محدود نہیں رہے بلکہ ساتھ ہی اس صورت حال میں لازمی گردانے جانے والے سرکاری محکموں کے علاوہ دیگر تمام دفاتر کو بند کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں کو چھٹی دے دی گئی جس میں اب 5 اپریل تک توسیع کی جاچکی ہے اورساتھ ہی عوام کی بازاروں میں آمدورفت کو روکنے کے لیے کاروباری مراکز کو بند کردیاگیاجن کی بندش میںاب 10 اپریل تک توسیع کی جاچکی ہے تاکہ عوام باہر نہ نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے علاوہ دیگر سیکورٹی اہلکاروں کو صوبہ بھر میں تعینات کیا جا چکا ہے جو عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان خود تمام تر حفاظتی اقدامات اورریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کررہے ہیں جنہوں نے کابینہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے متاثرین کی مدد اور غرباء کو ریلیف فراہم کرنے کی غرض سے32 ارب روپے مالیت کے امدادی پیکج کی منظوری دی جس سے 19 لاکھ خاندانوں کو ماہانہ بنیادوں پر5 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے جس کے لیے صوبائی حکومت اپنی جانب سے11 ارب60 کروڑ روپے کی فراہمی کرے گی۔ ٹیکسوں میں بھی عوام کو پانچ ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے اوریہ بھی واضح کیاگیا ہے کہ اگرضرورت پڑی تو صوبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے کٹوتی کرتے ہوئے عوام کی مدد اور ریلیف کے لیے پیسہ فراہم کیاجائے گا۔

صوبائی حکومت نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی موجودہ حالات میں فرنٹ پر رہتے ہوئے خدمات انجام دینے والے طبی عملے اور سیکورٹی اہلکاروں کے لیے بھی پیکج دینے کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت اگر ان حالات کی وجہ سے طبی عملہ یا کوئی بھی سیکورٹی اہلکار متاثر ہوتا ہے یا اسے جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے تو حکومت کی جانب سے اس کے اہل خانہ کی بھرپور انداز میں مدد کی جائے گی ۔

عوامی میل جول کی روک تھام کے ذریعے وائرس کو پھیلنے سے روکا ضرور جاسکتا ہے اسی بات کو مد نظررکھتے ہوئے شہروں کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ دیگر شہروں اوربین الاضلاعی روٹس پر چلنے والی ٹریفک کو بھی بند کیا گیا ہے۔   محمودخان حکومت نے جاری مالی سال کے لیے صوبہ کے 319 ارب روپے مالیت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے کٹوتی کرنے یا اسے کُلی طور پر معطل کرتے ہوئے فنڈز امدادی اور ریلیف سرگرمیوں کی طرف موڑنے پر بھی غور شروع کردیا ہے اور آنے والے دنوں میں حالات کو دیکھتے ہوئے اس بارے میں حتمی طور پر فیصلہ کیاجائے گا ۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا صورت حال میں ایران سے آنے والے زائرین کی نقل وحمل کو روکنا ضروری تھا اسی لیے ڈی آئی خان اور دوران پور پشاورمیں قرنطینہ قائم کیے گئے جبکہ صوبہ بھر میں سکولوں میں مزید قرنطینہ کے قیام کے لیے بھی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید سکولوں میں بھی قرنطینہ کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔ اس کے ساتھ صوبائی حکومت عوام کو اشیائے خور و نوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے جس کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں۔

انتظامی ٹیمیں اس سلسلے میں متحرک بھی ہیں جنھیں مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ بعض مقامات پر ذخیرہ اندوز ان سے زیادہ متحرک ہوچکے ہیں جو نہ صرف اشیائے خور و نوش اور ادویات کی ذخیرہ اندوزی میں مصروف ہیں بلکہ انہوںنے ازخود ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیاہے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات در پیش ہیں۔

ضرورت تو اس بات کی تھی کہ حالات کا ادراک کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں اپنے تمام تر وسائل اور ورکروں کے ساتھ میدان میں ہوتیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں شروع کردیتیں لیکن ان نازک حالات میں صرف جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم الخدمت فاونڈیشن ہی میدان میں دکھائی دے رہی ہے جو طبی اور ریلیف سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس صورت حال میں یہ ساری ذمہ داری نہ تو حکومت ادا کرسکتی ہے اور ہی نہ ہی تن تنہا الخدمت فاونڈیشن بلکہ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے وسائل کے ساتھ میدان میں آنا چاہیے، تاکہ ضرورت مند افراد کی امداد ان کے گھروں کے دروازے پر کرنی چاہیے تاکہ جمگٹھے بھی نہ لگیں اور ضرورت مندوں کی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں۔

اس کے برعکس سیاسی جماعتیں اب تک حکومت اور حکومتی اقدامات پر تنقید تک ہی محدود ہیں،سیاسی جماعتوں کے قائدین نہ صرف گھروں میں بیٹھے صرف تنقیدی بیانات جاری کر رہے ہیں بلکہ عملی طور پر میدان میں نکلنے کے لیے تیار نظر نہیں آرہے جو نہایت ہی افسوس کا مقام ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ ان حالات میں چند ماہ قبل ہی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونے والے بلدیاتی نمائندوں کااستعمال کرتے ہوئے ہر علاقے اور محلے میں ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرے جبکہ ان حالات میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا متحرک ہونا لازمی ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اگر اپنے انتخابی اخراجات کا نصف بھی ان حالات میں ضرورت مندوں اور غرباء کی مدد اور انھیں ریلیف دینے کے لیے خرچ کریں تو اس سے صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے۔

چونکہ یہ صورت حال غیرمعمولی ہے اس لیے اس میں غیر معمولی اقدامات ہی ہونے چاہیں جس کے لیے اگر حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی کرنے یا اسے معطل کرنے جیسے اقدامات کی طرف جارہی ہے تو اس کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کو بھی قربانی دینا ہوگی کیونکہ جن سخت حالات کا اس وقت پوری قوم سامنا کررہی ہے ایسے حالات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔

The post بحرانی حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو میدان عمل میں آنا چاہیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2wH3Qsp

جام حکومت کو وباء کے پھیلاؤ کاذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا

کوئٹہ: کرونا وائرس نے جہاں پوری دُنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں پاکستان خصوصاً بلوچستان کی سیاست میں بھی میانہ روی آگئی ہے اور تمام سیاسی و قوم پرست جماعتیں اس وباء سے متحد ہو کر لڑنے کو فوقیت دے رہی ہیں۔

وفاقی یا صوبائی حکومتوں سے اختلافات اپنی جگہ لیکن اس قدرتی آفت سے مقابلے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں لائن اپ ہوگئی ہیں اور اس آفت سے نمٹنے کیلئے حکومتوں کا ساتھ دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں اس حوالے سے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بلائی گئی پہلی ویڈیو لنک اے پی سی میں ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور اپنی تجاویز بھی پیش کیں بلوچستان سے قوم پرست جماعتوں نیشنل پارٹی اور بی این پی کی قیادت نے بھی شرکت کی اور بلوچستان کے حوالے سے اپنی تجاویز اے پی سی کے سامنے رکھیں اس موقع پر نیشنل پارٹی کے قائد میر حاصل بزنجو اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے بلوچستان کی حکومت پر بھی شدید تنقید کی۔

سیاسی مبصرین نے بھی اس اے پی سی کے انعقاد اور اس میں دی گئی تجاویز کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم ان مبصرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے تفتان سرحد سے ملک بھر میں پھیلانے کے جام حکومت پر جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے قوم سے پہلے خطاب میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے اقدامات کو سراہتے ہیں اور بعد ازاں یو ٹرن لیتے ہوئے اپنے قریبی ساتھیوں کو بچانے کیلئے تمام ملبہ بلوچستان حکومت پر ڈال دیتے ہیںاور حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں۔

حالانکہ جب ایران میں وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات موصول ہوئیں تو جام حکومت نے فوری طور پر تفتان بارڈر کو سیل کرنے کے احکامات جاری کئے اور ایرانی حکومت سے بذریعہ وفاقی حکومت زائرین کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کی درخواست کی لیکن اس کے باوجود ایران نے ہمارے زائرین کو اپنے پاس رکھنے اور ٹیسٹ کرانے سے انکار کرتے ہوئے تفتان روانہ کردیا۔

صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق انتظامات کا آغاز کیا حالانکہ اس موقع پر صوبائی حکومت کو وفاق اور این ڈی ایم اے کی جانب سے کوئی خاطر خواہ معاونت نہیں ملی اس کے باوجود صوبائی حکومت نے تفتان میں پانچ ہزار زائرین کو سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ انکی رہنمائی کی اور ان زائرین کو لے جا کر انکے صوبوں کے حکام کے حوالے کیا۔

ان مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت حقائق سے نظریں چرا کر تمام ملبہ جام حکومت پر ڈال رہی ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اس بات پر کس طرح پردہ ڈالے گی کہ دیگر ممالک اور سعودیہ سے ملک میں بائی ایئر آنے والے افراد کے معاملے کو کیسے دیکھتی ہے جن کے کوئی ٹیسٹ کئے بغیر ملک میں داخل کیا گیا، ان میں سے ساڑھے بارہ ہزار لوگ بلوچستان منتقل ہوئے کیا وفاقی حکومت تمام ملبہ جام حکومت اور تفتان بارڈر سے آنے والے زائرین پر ڈال کربری الذمہ ہوسکتی ہے؟

یہ وقت سیاست چمکانے کا نہیں بلکہ اپنی نسل کو بچانے کا ہے ان سیاسی مبصرین کے مطابق جام کمال کی حکومت بلوچستان میں آج بھی اس خطرناک وباء سے کم وسائل ہونے کے باوجود جس حکمت کے ساتھ نبرد آزما ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ان سیاسی مبصرین کے مطابق اے پی سی میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے جو تجاویز دیں وہ انتہائی معقول ہیں اگر صوبائی حکومت ان تجاویز پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کرے تو جلد ہی اس خطرناک وباء پر کنٹرول کرنے کے حوالے سے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان کی سیاسی و قوم پرست جماعتوں نے اس نازک موقع پر جس سمجھداری اور ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے وہ بھی قابل تحسین ہے۔ بلوچستان حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جہاں دیگر اقدامات کئے ہیں وہاں اُس نے فوری طور پر1500 کنٹینرز پر مشتمل ہسپتال اور ریلیف اینڈ ایمرجنسی سینٹر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان کنٹینرز میں آپریشن تھیٹر، آئسولیشن رومز، رہائشی سہولیات اور غسل خانے موجود ہونگے۔ کنٹینرز ہسپتال کیلئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی بھرتی کیا جائے گا۔ ان کنٹینرز ہسپتالوں کو مستقبل میں بھی مختلف وبائی امراض اور قدرتی آفات کی صورت میں استعمال میں لایا جائے گا اور متاثرہ علاقوں کی طرف فوری طور پر منتقل کیا جاسکے گا۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی ویلج کے قیام پر بھی کام جاری ہے ۔ حکومت نے صوبے میں خوراک کی قلت کے تدارک کیلئے پی ڈی ایم اے کو فوری طور پر ایک ارب روپے سے زائد کی رقم ریلیز کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔ جبکہ صوبے کے تمام کمشنرز کو ایک ایک کروڑ روپے ریلیز کئے گئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ڈویژن میں اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کیلئے اقدامات کریں ۔ صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں آٹھ لاکھ افراد کی نشاندھی کی ہے جو کہ روزانہ اُجرت پر کام کرتے ہیں اور انہیں روزانہ کی اُجرت کے تناسب سے رقم فراہم کی جائے گی، جس کیلئے2 ارب40 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔

اسی طرح گھروں میں محصور غریب لوگوں کو ایک ارب روپے کی لاگت سے راشن بھی فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ہسپتالوں کو جدید آلات اور مشینری سے بھی لیس کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور مرحلہ وار اس پر ابتدائی کام بھی شروع کردیا گیا ہے جبکہ حکومت ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور نرسنگ اسٹاف کے علاوہ پولیس و سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے بھی بعض قدامات پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے جو کہ اس جنگ میں اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر فرنٹ لائن پر لڑرہے ہیں۔

حکومت اپنے ان تمام اقدامات پر اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے اور ملکر اس جنگ کو لڑنے کیلئے صف بندی کررہی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ملک کے ان بڑے بڑے صنعتکاروں، بزنس مینوں اور مخیر حضرات کے رویئے پر برہمی کا اظہار کیا ہے جو ملک سمیت بلوچستان میں بھی بڑے بڑے پراجیکٹس پرکام کررہے ہیں لیکن اس نازک وقت میں آگے آکر بلوچستان حکومت اور یہاں کے عوام کیلئے کسی قسم کی کوئی مدد اور تعاون نہیں کر رہے۔

 

The post جام حکومت کو وباء کے پھیلاؤ کاذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2UyXJzk

غریب خاندانوں کو امداد کا طریقۂ کار غیرمؤثر

کراچی: سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں عوام کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے صبح 8بجے سے شام 5بجے تک کریانہ،گوشت،سبزی و پھل،میڈیکل اسٹورز اور پیٹرول پپمپس کو کھولنے کی اجازت دی ہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے کراچی سمیت صوبے بھر میں تمام کاروباری وتجارتی سرگرمیاں بند ہیں جبکہ شام 5بجے سے صبح 8بجے تک تمام اشیاء خور و نوش،میڈیکل اسٹورز اور فیول پمپس کو بھی بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔صرف دودھ کی دکانوں کو رات 8بجے تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے،واضح رہے کہ پہلے دودھ فروشوں کو بھی شام 5بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم دودھ کوضائع ہونے سے بچانے کے لیے ان احکامات میں ترمیم کی گئی۔

سندھ میں گذشتہ جمعہ کئی مساجد میں نماز’’جمعہ‘‘ کے اجتماعات منعقد کرنے پر امام مسجد اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں،حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے مساجد میں عوام کے لیے باجماعت نماز کی ادائیگی پر پاپندی کا فیصلہ علمائے کرام کی مشاورت سے کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے علمائے کرام کے ساتھ ایک اجلاس میں محکمہ پولیس کو نماز جمعہ کے لئے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر مساجد کے پیش اماموں اور دیگر کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے علمائے کرام سے درخواست کی کہ وہ اپنی جمعہ کی جماعت کو پانچ افراد تک محدود رکھیں گے، علماء نے اس حوالے سے حکومت سے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں ہر ایک سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ سماجی دوری برقرار رکھیں اور اجتماعات سے اجتناب کریں۔ اس کا مقصد اپنے لوگوں کو اس بیماری سے بچانا ہے اور یہ علمائے کرام کے تعاون سے ہی ممکن ہوگا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر انھوں نے لاک ڈاؤن نافذ نہ کیا ہوتا اورغیر معمولی اقدامات نہ کرتے تو وائرس سے صوبے میں بھاری نقصان ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اس کے پھیلاؤ کو کم کردیا ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے وزیراعلی سندھ اور ان کی ٹیم کے اقدامات قابل ستائش ہیں تاہم عوام کو اس معاملے میں مکمل تعاون کرنا ہوگا تاکہ سندھ سمیت پورے ملک سے اس وباء کا خاتمہ ہوسکے،اس لیے کہا جا رہا ہے’’گھر میں رہیں۔۔۔۔محفوظ پاکستان کے لیے۔۔۔۔۔۔

سندھ میں لاک ڈاؤن کے سبب سب سے زیادہ متاثر روزانہ اجرت پرکام کرنے والے، متوسط اور غریب طبقے ہیں، جن کے گھروں کا چولہا روز کماکر روز اخراجات کرکے جلتا ہے۔ حکومت سندھ نے لاک ڈاون پر عمل درآمد توشروع کردیا لیکن اب تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سرکاری سطح پرعوام کو راشن پہنچانے کے لیے کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آئے،روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہونے اور میکنزم کا اعلان کرنے کے باوجود غریب خاندان امداد سے محروم ہیں،چند فلاحی اداروں،سیاسی،مذہبی جماعتوں اور مخیر حضرات کی جانب سے امداد کاسلسلہ جاری ہے،لیکن یہ تمام امدادی کام ناکافی ہے،غریب افراد کے گھروں میں چولہے بجھ رہے ہیں اور ان کے پیٹ کی آگ بڑھ رہی ہے،جو سنگین صورتحال ہے۔

لوگ راشن کے لیے فلاحی اداروں اور حکومتی دفاترکے چکر لگا رہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے مدد کی اپیل کررہے ہیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہو رہی، دوسری جانب کراچی سمیت صوبے بھر میں منافع خوروں نے آٹے کی منصوعی قلت پیدا کردی ہے،10کلوآٹے کا تھیلہ 650روپے کا فروخت ہو رہا ہے جبکہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء بھی مہنگی ہوگئی ہیں،منافع خوروں کے خلاف تاحال حکومتی سطح پر موثر کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا ہے،حکومت سندھ نے صوبے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت دور کرنے کے لیے گڈٹرا نسپورٹ کو نقل وحمل کی اجازت دے دی ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ وہ مستحق افراد کی امداد کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے سندھ حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایک مستحق کے گھر راشن پہنچائے، وزیراعلیٰ سندھ نے یو آر ایل (ویب ایڈریس) کے ساتھ سندھ ریلیف انیشیٹو ایپلی کیشن قائم کی ہے۔ان کی حکومت نے فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ کیا ہے اور انہیں مذکورہ بالا ویب ایڈریس کے تحت رجسٹرڈ کیا جائے گا تاکہ ان کے ساتھ مل کر یومیہ اُجرت والوں کو راشن ان کی دہلیز پر پہچایا جاسکے۔

https://ift.tt/wH3tJ0 apps/details?id =inc.codelabs .krtvolunteer

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یومیہ اجرت والوں کو ایک اپلی کیشن (ایپ) کے ذریعے رجسٹر کروانا ہوگا اور اس کے بعد حکومت مختلف علاقوں میں فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر راشن تقسیم کرے گی۔ ایک خاندان کو 5500 روپے کا ایک راشن بیگ فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وزیر توانائی امتیاز شیخ، وزیر بلدیات ناصر شاہ اور مشیر قانون مرتضی وہاب عوام کے دروازے پر راشن کی منصفانہ تقسیم کے لئے فلاحی تنظیم کے ساتھ رابطہ کریں گے۔

سندھ کی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ صوبے میں کئی دن سے لاک ڈاؤن ہے عوام کو راشن نہیں مل رہا، اس وجہ سے سندھ میں خانہ جنگی کی صورتحال ہوسکتی ہے،سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ ایپ بنانے کے بجائے یونین کونسل سطح پر غریبوں میں راشن کی تقسیم کا عمل شروع کرے تاکہ ان خاندانوں کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی صحت یاب ہوگئے۔ سعید غنی سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی صحت یابی کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ میرے کورونا وائرس کے ہونے والے ٹیسٹ کی رپورٹ نیگیٹو آئی ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق میں بالکل صحت یاب ہوں۔ وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ انشااللہ میری کوشش ہوگی کہ آئندہ بھی اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر انجام دے سکوں۔

کورونا وائرس پر بھی پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں سیاسی محاذ آرائی جاری ہے،پیپلزپارٹی کے تحت کورونا وائرس پر ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی قیادت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دینے،قومی ٹاسک فورس کے قیام سمیت بلدیاتی اداروں تک ہر سطح پراس وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں،اپوزیشن جماعتوں نے تمام تر اختلافات کو علیحدہ رکھ کر حکومت کو اپنے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کبھی کی ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکومتوں سیاسی قیادت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک قومی پالیسی بنائے تاکہ پاکستان کو کورونافری بنایا جاسکے۔

The post غریب خاندانوں کو امداد کا طریقۂ کار غیرمؤثر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QZi2DK

چین کے ساتھ مل کر اقتصادی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں

 اسلام آباد: چین نے تو فوری سخت نوعیت کے ہنگامی اقدامات کر کے تین ماہ کے عرصے میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لی ہے مگر چین سے شروع ہونیوالی یہ وباء بے قابو ہوکر دنیا بھر میں پھیل رہی ہے امریکہ جیسی سپر پاور سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اس وباء سے پریشان ہیں اور اب تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ساڑھے سات لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی36 ہزار سے زائد ہے۔

پاکستان میں بھی کورونا متاثرین اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین امریکہ میں ہیں جہاں یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ آسٹریلیا نے اپنے اقدامات میں مزید سختی کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے کہا ہے کہ ملک کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں آنے کے لیے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔اس وباء کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی حکومت کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے اور دیگر حکومتوں نے ان کی تقلید کی ہے۔

ہمارے ہاں سوشل سیکورٹی سسٹم نہ ہونے کے برابر ہے لیکن جس معیشت کو بچانے کا جواز پیش کیا جا رہا ہے وہ کوئی اتنا وزن نہیں رکھتا کیونکہ ہماری معیشت کا سائز ہے ہی کتنا ہے، لوگ ہونگے تو معیشت چلے گی۔ ہمارے ہاں وفاقی حکومت نے ابھی بھارت یا چین جیسے سخت اقدامات نہیں تو نہیں کئے مگر جزوی لاک ڈاون یہاں بھی ہے اور پیر کو بھی قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک میں لاک ڈاؤن سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے اس فنڈ میں عطیات و رقوم جمع کروانے والوں سے کسی قسم کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور اس رقم کو ٹیکس چھوٹ لینے کیلئے ٹیکس گوشواروں میں بھی ظاہر کیا جاسکے گا۔

ساتھ ہی وزیراعظم نے جذبہ ایمانی کے ساتھ متحد ہوکر جنگ جیتنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور ملک کے نواجوانوں کو میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے جس کیلئے نوجوانوں پر مشتمل کورونا ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا ہے جو مکمل لاک ڈاون کی صورت میں لوگوں کو گھروں میں راشن پہنچائیں گے۔ اس پر بھی سوالات اٹھناشروع ہوگئے ہیں اور یہ بھی تنقید ہو رہی ہے اور اسے پارٹی ورکروں کو ساتھ جوڑے رکھنے کو ماضی کی حکومتوں کی طرح کا ایک سیاسی اقدام قرار دیا جارہا ہے۔ پھر جن نوجوانوں کو میدان میں اُتارنے کا اعلان کیا گیا ہے کیا وہ اس قدر تربیت یافتہ ہونگے کہ وہ معاون ثابت ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں کیونکہ اس ماحول میں کام کرنے کیلئے خاص تربیت درکار ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے  کہ یہاں بھی چین والے حالات ہوتے تو میں تمام شہر بند کردیتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں لوگ شدید غربت میں رہتے ہیں،اگر ہم لاک ڈاؤن کرتے اور ان غریبوں کا خیال نہ کرتے تو کوئی لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوسکتا اور اگر کسی علاقے میں ایسا قدم اُٹھانا پڑا تو وہاں یہ نوجوان لوگوں کو انکی دہلیز پر اشیائے ضروریہ مہیا کریں گے۔ اپنے تیسرے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ متحد ہوئے بنا موجودہ چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں۔ مگر چند روز قبل پارلیمانی لیڈروں اجلاس میں بغیر کسی شریک رہنما سے سلام دعا کیے اپنی بات کہنے کے بعد دیگر شرکاء کی بات سُنے بغیر آف لائن ہو گئے اس تحقیر آمیز اور متکبرانہ انداز پر اپوزیشن کی دنوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے واک آؤٹ کیا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ایک اور کیس میں وارنٹ جاری ہوچکے ہیں جس کی انہوں نے چار ہفتے کے راہداری ضمانت حاصل کرلی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پہلے سے ضمانت پررہا اپوزیشن لیڈر میاں شہباز کو بھی دوبارہ نیب یاترا کیلئے طلبی کا پروانہ جاری کردیا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ باتیں بھی زیر گردش ہیں کہ کپتان پر اپنی ٹیم کے چار کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کے حوالے سے بھی شدید دباوء ہے جس پر کپتان کے ڈٹ جانے کی خبریں بھی ہیں۔ جبکہ کورونا کے معاملہ پر اہم فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اپوزیشن کے سیاسی حلقوں کا تاثر ہے کہ کورونا کے معاملہ پر خود حکومت کو آگے بڑھ کر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ پنجاب میں تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے متحرک ہیں۔ وفاق کی سطع پر بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے بڑے دل کے ساتھ بڑے فیصلے کرنا ہونگے اور اپنے اعصاب مضبوط رکھنا ہونگے۔ ابھی عالمی کساد بازاری اور معاشی بحران کے سائے اس قدر خوفناک ہوتے جا رہے ہیں کہ بڑی طاقت ور معیشت رکھنے والے ممالک کے رہنما شدید نفسیاتی دباوء کا شکار ہیں۔

حال ہی میںجرمنی میں ایک صوبے کے وزیر خزانہ کے کورونا وباء میں مبتلا عوام کی مالی امداد میں ناکامی پر خودکشی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ دنیا بھر میں قیامت برپا کرنے والے ’کورونا وائرس ‘ سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری حرکت میں آگئی ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے کوروناکو عالمی انسانی بحران قرار دے کر اس سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو متحد ہونے کی دعوت دی ہے جبکہ جی 20 کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معیشت پر کورونا بحران کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے ممالک اور مرکزی بینکوں نے پانچ کھرب ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا۔

یہ رقم کورونا سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی تیاری اور پسماندہ ممالک اور خطوں کے لوگوں کو اس وباء کے اثرات سے نکالنے پر صرف کی جائے گی۔ جبکہ اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے کسٹم ڈیوٹی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشتعل کر دیا ہے اس معاملہ پر امریکہ اور چین کے درمیان جاری معاشی جنگ میں بھی مزید تیزی آگئی ہے۔ امریکی ریاستوں کے گورنروں کی جانب سے کورونا سے نمٹنے کے لئے دو ٹریلین ڈالر کے امدادی پیکج کی منظور ی کے لئے بلائے جانیوالے اجلاس میں وفاق کے خلاف جس قدر نفرت انگیز تقاریر سامنے آئی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر امریکہ میں کورونا کا معاملہ مزید چند ماہ جاری رہتا ہے تو اس سے امریکہ کی مشکلات بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔

کہا جارہا ہے کہ چین نے کساد بازاری کے ان حالات میں تاریخ کی سب زیادہ سرمایہ کاری کی ہے سب سے زیادہ تیل چین نے خرید کر ذخیرہ کیا ہے اور عالمی سٹاک مارکیٹ میں مندی کے ان حالات میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری چائنیز کمپنیوں و سرمایہ کاروں نے کی ہے اب جب پوری دنیا کے ممالک اپنی معاشی سرگرمیاں بند کر رہے ہیں چین اپنی اقتصادی سرگرمیاں بحال کر رہا ہے اور تیزی کے ساتھ معمول پر آرہا ہے جو عالمی طاقتوں کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کیلئے اقتصادی طور پر ایشیائی ٹائیگر بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا یہ ایک سنہری موقع بھی ہے۔

پاکستان ترقی کے اس سفر میں چین کا ہم سفر بن کربہت کچھ کرسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شرح سود کو مزید کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے اس سے حکومتی قرضوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ملک میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا۔

 

The post چین کے ساتھ مل کر اقتصادی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2xIlgok

وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب کو فون، سعودی عرب پر میزائل حملوں کی شدید مذمت

 اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کو فون کرکے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ پر بات چیت کی ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کو ٹیلیفونک کیا اور کوروناوائرس کے پھیلاؤ کوروکنے اورعالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی تجویز سمیت ترقی پذیر ممالک کی معاشی معاونت کو بھی زیر غور لایا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود نے کورونا وبا کے باعث سعودی شہریوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی طرف سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کی تعریف کی۔

شاہ محمود نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز دی ہے، کیونکہ پاکستان جیسے کم وسائل کے حامل ترقی پذیرممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جیزان شہر پر میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کی مکمل حمایت اور معاونت کے عزم کا اعادہ کیا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے میزائل حملوں کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر شاہ محمود کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

The post وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب کو فون، سعودی عرب پر میزائل حملوں کی شدید مذمت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2UPTNZT

کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک منافع خور اور ذخیرہ اندوز ہیں

لاہور: انسانی تاریخ میں ’’کورونا وائرس‘‘ سے زیادہ بھیانک وبا دیکھنے میں نہیں آئی۔ سپر پاور قرار دیئے جانے والے ممالک بھی اپنی تمام تر ٹیکنالوجی،مالی وسائل اور انسانی ذہانت کے ہوتے ہوئے لاچار و بے بس ہیں۔

وائرس لگنے سے مرجانے سے زیادہ بڑا خوف اس کے حیران کن اور تیز رفتار پھیلاوء سے ہے اور یہی خوف پوری دنیا کو لاک ڈاون کر چکا ہے۔197 ممالک میں بسنے والے 7 ارب 80 کروڑ انسان اس جرثومے کے خوف کا شکار ہو کر صدیوں سالوں سے چلے آرہے اپنے سماجی برتاو ،معاشی طریقہ کار اور خوراک کو تبدیل کر رہے ہیں ۔یہ تو طے ہے کہ کورونا وائرس کا بحران ختم ہونے اور اس کی ویکسین تخلیق ہوجانے کے بعد دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔

بعد از کورونا والی دنیا بہت مختلف ہوگی ،سماجی میل جول یکسر تبدیل ہوجائے گا، لوگ صفائی اور خوراک کے معاملے میں زیادہ ’’ہائی جینک‘‘ ہوں گے،ہاتھ ملانے اور گلے ملنے کی عادتیں ختم تو نہیں البتہ نہایت محدود ہوجائیں گی جبکہ دفاتر کی بجائے گھر پر رہتے ہوئے کام کا رواج بڑھے گا۔ دنیا تباہ کن ہتھیاروںکی تیاری اور خرید و فروخت پر کھربوں ڈالرکے اخراجات کو کم کر کے طبی تحقیق اور ہسپتالوں کے وسیع تر نظام پر زیادہ خرچ کرے گی جبکہ سیاحت کا انداز بھی تبدیل ہوجائے گا ۔

دنیا میں حلال فوڈ کا بزنس کئی گنا بڑھنے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے کیونکہ غیر مسلم قومیں بھی اب حرام جانوروں کے گوشت سے پرہیز کرنے لگی ہیں۔ لاک ڈاون کا شکار ہونے کے بعد انسانوں کو معلوم ہوا ہے کہ ’’انسان ایک سپر سوشل کریچر ہے‘‘ جبکہ یہ دنیا تمام تر لسانی،سماجی،مذہبی، سیاسی، دفاعی اور مالیاتی اختلافات کے باوجود ایکدوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور سب کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ خلاوں کو مسخر کرنے، سمندر کی پاتال کو کنگھالنے،ہائیڈروجن اور نائٹروجن بم بنانے ،روشنی سے تیز انٹر نیٹ تخلیق کرنے ،آوازسے تیز رفتار ہوائی جہاز بنانے سے کوئی ملک سپر پاور نہیں بن جاتا۔

پاکستان بھی کورونا کا شکار ہے اور ابھی تک وفاقی و پنجاب حکومت کی جانب سے کیئے جانے والے اقدامات ناکافی اور غیر تسلی بخش دکھائی دیتے ہیں ۔پوری دنیا لاک ڈاون کے ذریعے وائر س کے پھیلاو کو روک رہی ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان لاک ڈاون کی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ وہ جن 25 فیصد دیہاڑی دار افراد کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں بتا رہے کہ اس وقت جبکہ تمام کاروبار،دفاتر بند ہیں تو یہ بندے دیہاڑی کہاں سے کریں گے اور آیا ان 25 فیصد کو وائرس سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا اور وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی نہیں بتایا کہ ان 25 فیصد سے باقی کے 75 فیصد کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔وزیر اعظم نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس تو تشکیل دے دی لیکن اماوس کی بیل پر انگور نہیں لگا کرتے۔

وائرس بحران کے دوران وفاقی حکومت کی کارکردگی اور فیصلوں کی وجہ سے ’’پنڈی‘‘ اور’’اسلام آباد‘‘ کے درمیان کشیدگی اور بڑھتی خلیج کی باتیں بھی سنائی دے رہی ہیں جبکہ وفاق اور صوبے بھی ایک پیج پر نہیں ہیں۔ ملک میں پہلے بھی منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی زوروں پر تھی لیکن اب تو بام عروج پر جا پہنچی ہے ۔

یہ درست ہے کہ متمول خاندانوں نے کئی کئی ماہ کا راشن اور اشیائے ضروریہ اپنے گھروں میں ذخیرہ کی ہیں جبکہ متوسط طبقہ بھی ہیجان خیزی کی بنیاد پر اضافی خریداری کر رہا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ تھوک منڈیوں کے بیورپاریوں نے تو جو مہنگائی کی سو کی لیکن گلی محلہ کے دکاندار بھی از خود ہی قیمتوں میں اضافہ کیئے ہوئے ہیں ،آٹے کی مثال ہی لے لیں ،کورونا وائرس سے پہلے معمول کی قیمت پر وافر آٹا دستیاب تھا لیکن جیسے ہی کورونا وائرس آیاتو آٹا کی قلت پیدا ہو گئی اور ماضی کی طرح اصل وجوہات کھوجے بغیر سارا ملبہ ایک مرتبہ پھر فلورملز پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

موجودہ آٹے کی قلت کے چند بڑے اسباب ہیں(1 )لاک ڈاون کے سبب ہر شخص کی کوشش ہے کہ گھر میں وافر راشن رکھا جائے جو شخص مہینے میں دو مرتبہ تھیلا خریدتا تھا وہ اب ایک ہی مرتبہ تین یا چار تھیلے خرید رہا ہے یہ سمجھے بغیر کہ آٹا کی ایک شیلف لائف ہوتی ہے اس کے بعد وہ خراب ہوجاتا ہے۔راہ چلتے ہوئے ہم سب کو کئی موٹر سائیکل یا رکشہ سوار دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے کئی تھیلے آٹا رکھا ہوا ہوتا ہے،(2 )آٹا ڈیلرز کی بڑی تعداد چھوٹے دوکانداروں کو سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کر رہی ہے اور دانستہ طور پر ان کی ڈیمانڈ سے کم آٹا دیا جا رہا ہے (3 )گلی محلوں کی سطح پر دوکاندار تھیلا کی بجائے چند کلو روز کا آٹا خریدنے والے غریب گاہکوں کو مہنگے داموں آٹا بیچ رہے ہیں (4) لاک ڈاون کے سبب مخیر حضرات کی جانب سے بڑے پیمانے پر آٹا خرید کر مستحقین میں تقسیم کرنے سے بھی آٹا کی طلب میں اضافہ ہوا ہے (5 ) اوپن مارکیٹ کیلئے جتنے آٹے کی ضرورت ہوتی ہے اس کیلئے درکار گندم کا 65 فیصد محکمہ خوارک فراہم کرتا ہے جبکہ باقی کی 35 فیصد گندم مل مالکان اوپن مارکیٹ سے خرید کر استعمال کرتے ہیں لیکن اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 1800 روپے من سے تجاوز کر چکی ہے جس کے سبب ملیں صرف سرکاری گندم کو مقامی آٹا سپلائی کے لئے استعمال کر رہی ہیں جس وجہ سے پیداوار کم ہوئی ہے جبکہ نجی گندم سے ’’سپر آٹا‘‘ تیار کر کے خیبر پختونخواہ بھیجا جا رہا ہے (6 ) فلورملز نے سندھ کی گندم جلد آنے کے امکان پر اپنے پاس موجود نجی گندم کو مکمل استعمال کر لیا تھا لیکن پچھلے کئی دنوں سے سندھ فوڈ کی پابندی کے سبب گندم پنجاب نہ آنے سے آٹا پیداوار متاثر ہوئی ہے۔(7 ) فیصل آباد اور دیگر کئی شہروں میں آٹے کی مارکیٹ سپلائی مانیٹر کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنرز نے اپنا سٹاف مقرر کیا ہواہے لیکن لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے ساری ذمہ داری محکمہ خوارک پر عائد کر رکھی ہے۔

اب ڈپٹی کمشنرز نے مارکیٹ سپلائی کے بجائے ملز پر پٹواری تعینات کر دیئے ہیں لیکن یہ بہتری کی بجائے مزید خرابی کا سبب بنیں گے ۔ ماضی میں لاہور کی یونین کونسلز کے سیکرٹریز کو آٹے کے ٹرکوں میں بٹھا کر مارکیٹ سپلائی کو مانیٹر کیا جاتا تھا جو ایک ایک تھیلے کی سپلائی کا شا م کو حساب کر کے حکومت کو آگاہ کرتے تھے۔پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین عاصم رضا نے ملک بھر کے فلور مل مالکان کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں انہیں کہا ہے کہ یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے لہذا قومی اور مذہبی ذمہ داری نبھاتے ہوئے آٹے کی قلت نہ ہونے دی جائے۔سبزیوں اور پھلوں کی دستیابی اور قیمتیں مستحکم ہیں بلکہ بعض سبزیوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تاہم دالوں، گھی اور چینی کی دستیابی اور قیمتیں غیر مستحکم دکھائی دے رہی ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور پرائس مجسٹریٹس کی کارکردگی کا اصل امتحان اس وقت ہے۔ محکموں اور افسروں کو نیک نیتی، سنجیدگی اور ہمت سے کام لینا ہوگا۔

پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار ،چیف سیکرٹری میجر(ر) اعظم سلیمان ،وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری، وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال اور وزیر صنعت میاں اسلم اقبال بھرپور کوشش تو کر رہے ہیں لیکن دیگر کابینہ ارکان جن کی ڈیوٹیاں اضلاع میں لگائی گئی ہیں ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔سب کو سمجھنا ہوگا کہ اصل خطرہ ’’کورونا‘‘ سے نہیں ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں سے ہے۔

The post کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک منافع خور اور ذخیرہ اندوز ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XakUBZ

راولپنڈی میں نجی اسکولوں اورکالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت

 راولپنڈی: انتظامیہ کی جانب سے ضلع بھر میں تمام پرائیویٹ اسکولوں اور کالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ آج یکم اپریل سے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے دفاتر باقاعدہ کھل گئے۔

ضلعی تعلیمی آفیسر کے مطابق اجازت ٹیچرز اور نان ٹیچنگ اسٹاف کو تنخواہ ادا کرنے اور تدریسی عمل آن لائن کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد 3 ملازمین دفتری اوقات میں بیٹھ سکیں گے۔

ممبر ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی عرفان مظفر کیانی کے مطابق کھولے گئے دفاتر میں ملازمین کے لئے ماسک،گلوز، سینی ٹائزر کا استعمال لازمی ہوگا جب کہ سماجی فاصلے کے ایس او پی پر عملدرآمد بھی لازمی ہوگا۔

The post راولپنڈی میں نجی اسکولوں اورکالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2R2fdlr

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...