کراچی: شہر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ڈیجیٹل مالیاتی لین دین اور آن لائن کاروبار میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
گھروں تک محدود شہریوں کی بڑی تعداد روز مرہ استعمال کی اشیا بھی آن لائن آرڈر کررہے ہیں جبکہ تنخواہوں اور یوٹلیٹی بلز کی ادائیگی اور مستحق افراد تک مالی رقوم پہنچانے کے لیے بھی آن لائن بینکاری کا طریقہ اختیار کیا جارہا ہے مختلف علاقوں میں علاقائی سطح پر گھروں تک روز مرہ استعمال کی اشیا پہنچانے کی سروس شروع کردی گئی ہے۔
جن میں پانی، ادویات، دودھ، ناشتے کا سامنا، گوشت مرغی سبزی اور اجناس شامل ہیں، ہیئر ڈریسرز اور سیلون چلانے والے بھی حجامت اور بال کاٹنے کی ہول سروس فراہم کرنے لگے ہیں۔ شہریوں کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن خریداری اور ہوم سروس کی سہولت سے کرونا کے خطرے کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہورہی ہے اور ان حالات میں بے روزگاری کا شکار افراد کے لیے بھی روزگار مہیا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
متبادل ڈیجیٹل چینل کےاستفادہ سے بینکوں کے آن لائن ڈیلیوری سسٹم پردباؤبڑھ گیا
بینکوں میں صارفین کا رش لگنے سے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا خدشہ ہے جس کے تدارک کے لیے صارفین متبادل ڈیجیٹل چینل کے ذریعے بینکوں کی خدمات سے استفادہ کررہے ہیں، بینکوں کے آن لائن ڈیلیوری سسٹم پر دباؤ بڑھ گیا ہے جس کو بلاتعطل جاری رکھنے کے لیے بینکوں نے خصوصی اقدامات کیے ہیں، بینکوں کا کہنا ہے کہ موبائل اور آن لائن بینکاری کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور فروری کے مقابلے میں مارچ میں آن لائن اور موبائل بینکاری ٹرانزیکشنز میں200 فیصد تک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
لاک ڈاؤن سے آن لائن ویب سائٹس کاکاروباربڑھ گیا ، احسانسایا
پاکستان میں آن لائن مصنوعات فروخت کرنیوالی سب سے بڑی ویب سائٹ دراز کے منیجنگ ڈائریکٹر احسان سایا کے مطابق پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آن لائن ویب سائٹس کا کاروبار کئی گنا بڑھ گیا ہے خود ان کی ویب سائٹ سے صارفین بڑے پیمانے پر اشیا خریدرہے ہیں، زیادہ تر کھانے پینے کی اشیا، پھل سبزیاں، اجناس اور روزمرہ اشیا کی فروخت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے اس کے علاوہ زیادہ تر صارفین صفائی ستھرائی کی مصنوعات، ہینڈ سینیٹائزر، ماسک خریدرہے ہیں انھوں نے کہا کہ اس وقت لاک ڈاؤن کے دوران ان کیلیے سب سے بڑا چیلنج صارفین کو ان کی آرڈر کی جانیو الی اشیا کی ترسیل کو ممکن بنانا ہے اس دوران اپنے ملازمین اور ڈیلیوری کے عملہ کی حفاظت بھی ہماری سب سے بڑی ذمے داری ہے۔
سیلون بند ہونے پر ہیئرڈریسنگ کی سروس گھروںپرفراہم کررہے ہیں،ندیم
گلستان جوہر میں مردوں کے لیے لیجنڈ کے نام سے سیلون کھولنے والے محمد ندیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے گزشتہ ماہ ہی سیلون کا افتتاح کیا تھا جہاں لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی تھی تاہم کرونا کی وبا پھیل گئی جس سے کاریگروں کے لیے روزگار کمانا تک مشکل ہوگیا انھوں نے بتایا کہ روز مرہ خرچ نکالنے کے لیے ہوم سروس کا آغاز کیا گیا ہے گھروں پر جاکر ہیئر ڈریسر کی سروس فراہم کررہے ہیں ابھی ابتدا ہے لیکن آغاز اچھا ہے اور کاری گروں کو دن میں 2 اور 3 آرڈر مل جاتے ہیں جن سے ان کے گھروں کے چولہے چل رہے ہیں انھوں نے بتایا کہ چارجز مسافت اور کام کی نوعیت اور کسی گھر میں ایک ہی جگہ ملنے والے زیادہ سے زیادہ کام کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیے جاتے ہیں یہ سروس صبح 9 سے شام 5 بجے تک فراہم کی جارہی ہے۔
لاک ڈائون کے دوران بینکوں کے آن لائن ٹرانزیکشن میں180فیصدتک اضافہ ہوگیا
بینک کے تمام ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز ہولڈرز انٹربینک کی سہولت استعمال کرسکتے ہیں بینک کے آن لائن ٹرانزیکشنز میں فروری کے مقابلے میں مارچ کے دوران 180فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جے ایس بینک کے ترجمان نے بتایا کہ بینک کھاتے دار مستحق اور ضروت مند افراد کو رقوم پہنچانے کیلیے بڑے پیمانے پر انٹربینک فنڈز ٹرانسفر سروس استعمال کررہے ہیں جو تیز رفتار اور محفوظ طریقہ ہے۔ یہ رقوم کسی بھی موبائل والٹ اکاؤنٹ میں منتقل کی جاسکتی ہے اور پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے مرچنٹس سے وصول کی جاسکتی ہیں۔
The post لاک ڈاؤن سے ڈیجیٹل مالیاتی لین دین اور آن لائن کاروبار بڑھنے لگا appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3e0QeJ5
No comments:
Post a Comment
plz do not enter any spam link in the comment box