یوم علیؓ کے موقع پر ہر طرح کے جلوس پر پابندی لگانے کا فیصلہ

 اسلام آباد: حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ہر طرح کے جلوس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق این سی او سی میں یوم علی کے انعقاد سے متعلق ایک اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اورقومی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان نے کی۔ جب کہ وزیرداخلہ شیخ رشید، وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان، جب کہ صوبائی سیکرٹریزاور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

این سی او سی کے مطابق اجلاس میں ملک بھر اور خاص طور پر بڑے شہری مراکز میں کوویڈ کے پھیلنے کے خدشے  کے پیش نظر ہر طرح کے جلوس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مجالس کے انعقاد کی اجازت سخت کوویڈ ایس او پیز کے تحت ہوگی، فورم نے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے صوبائی اور ضلعی سطح پر مذہبی اسکالرز اور کمیونٹی رہنماوٴں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

The post یوم علیؓ کے موقع پر ہر طرح کے جلوس پر پابندی لگانے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ua8g3r

شہباز شریف کا این اے 249 میں دوبارہ گنتی کرانے کا مطالبہ

 لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کراچی کے حلقہ این اے 249 بلدیہ میں دوبارہ گنتی کرانے کا مطالبہ کردیا۔

شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر این اے 249 میں دوبارہ گنتی کرائیں، یہ ہمارا آئینی حق ہے، سیکشن 95 (5) کا تقاضاہے کہ کل ڈالے جانے والے ووٹوں کا مارجن پانچ فیصد سے کم ہو، تو دوبارہ گنتی کرائی جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سیکشن 95 (6 )کے تحت مجموعی رزلٹ سے قبول دوبارہ گنتی ہوسکتی ہے، ہمیں امید ہے کہ چیف الیکشن کمشنر آئین اور شفافیت کے تقاضوں کو یقینی بنائیں گے۔

ن لیگ نے این اے 249 میں ضمنی الیکشن میں دوبارہ گنتی کی درخواست جمع کروا دی۔ ن لیگ کےامیدوارمفتوح اسماعیل کی چیف الیکشن کمشنر کودرخواست میں کہا کہ 30 سے زائد پولنگ اسٹیشن کے نتائج موصول نہیں ہوئے، فارم 45 اور فارم 47 کے نتائج بھی فرق ہے اور کچھ پریذائیڈنگ افسران پر تحفظات ہیں، آر او نے ہماری تمام درخواستیں مسترد کردی ہیں، یہ رویہ آر او کا متعصب ہونا واضح کرتا ہے۔

The post شہباز شریف کا این اے 249 میں دوبارہ گنتی کرانے کا مطالبہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3e4utu1

اپنے ہی اغوا کا تاوان مانگنے والا مزدور گرفتار

گوجرانوالہ: اغواء کا جھوٹا ڈرامہ رچانے والا مزدور پولیس کے شکنجے میں آگیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق گوجرانوالہ کے علاقے تھانہ کوٹ لدھا میں مزدور کے اغواء اور 80 لاکھ روپے تاوان کا ڈراپ سین ہو گیا، اپنے ہی اغواء کا جھوٹا ڈرامہ رچانے والا مزدورپولیس کے شکنجے میں آگیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق محمد نواز نامی شخص نے گھر والوں سے کاروبار کے لیے پیسے لینے کے لیے اغواء کا جھوٹا ڈرامہ رچایا، اور اغواء ہونے کے بعد علی پور چھٹہ کی مقامی مسجد میں رہائش پذیر تھا، نواز گھر کے گردونواح میں ہی لوکیشن بدل کر تاوان کے لیے گھر والوں کو تاوان کے لیے کال کرتا تھا۔

حکام نے بتایا کہ کوٹ لدھا پولیس نے ٹیکنکل بنیادوں پر کام کرتے ہوئے نوجوان کو گرفتار کرلیا، اور ملزم نے گرفتار ہوتے ہی اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ گھر والے کاروبار کے لیے پیسے نہیں دیتے تھے اپنا کاروبار کرنے اور پیسے ہتھیانے کے کیے اغواء کا جھوٹا ڈرامہ رچایا۔

The post اپنے ہی اغوا کا تاوان مانگنے والا مزدور گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3uaRbX8

مفتاح اسماعیل پر خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام مفروضے پر مبنی تھا، ہائی کورٹ

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کے خلاف نیب کی جانب سے جو خزانے کو نقصان کا تخمینہ لگایا وہ مفروضے پر مبنی تھا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایل این جی ریفرنس میں مفتاح اسماعیل کی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا، چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے 23دسمبر 2019 کو دی گئی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی مواد سامنے نہیں لایا گیا جو مفتاح اسماعیل کا تعلق بادی النظر میں کسی جرم سے جوڑے، نیب نے جو خزانے کو نقصان کا تخمینہ لگایا وہ مفروضے پر مبنی تھا۔

فیصلے میں تحریر ہے کہ مفتاح اسماعیل پر ٹرمینل ون کے معاہدے اور کنسلٹنٹس کی تعیناتی سے متعلق الزام لگایا گیا، معاہدہ حکومت پاکستان نے کیا اور کنسلٹنٹ امریکی امدادی ادارے نے فراہم کئے، کنسلٹنٹ کو ادائیگیاں بھی امریکی امدادی ادارے کی جانے سے کی گئیں، احتساب بیورو نہیں بتا سکا یہ معاملہ نیب آرڈیننس کے تحت جرم کیسے بن گیا، ان حالات میں مفتاح اسماعیل کو مزید قید میں رکھنے کا قانونی جواز نہیں تھا، کسی کو گرفتار کرنے کیلئے اس کے خلاف ٹھوس شواہد کا موجود ہونا ضروری ہے۔

مفتاح اسماعیل کو نیب نے 7 اگست 2019 کو ایل این کیس کیس میں گرفتار کیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہی مفتاح اسماعیل کی ضمانت خارج ہونے پر گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔

 

The post مفتاح اسماعیل پر خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام مفروضے پر مبنی تھا، ہائی کورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2PEvPCt

پاکستان میں کورونا کی مزید 2 نئی اقسام سامنے آگئیں

 اسلام آباد: وزراتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی مزید 2 نئی اقسام سامنے آئی ہیں۔

وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز نے کہا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں کئے گئے ٹیسٹ میں کورونا وائرس کی مزید 2 نئی اقسام سامنے آئی ہیں جو کہ کورونا وائرس کی افریقن اور برازیلین اقسام ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروسز اور این سی او سی کورونا کی اقسام پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کی کنٹیکٹ ٹریسنگ شروع کردی گئی ہے۔

وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز نے عوام سے کہا ہے کہ قطع نظر کون سے وائرس کی قسم سامنے آئی ہے ، ایس او پیز پر عمل میں تحفظ ہے ، 40 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد ویکیسن لگوائیں، ماسک پہنے کو یقینی بنائیں ،گھر سے بلا ضرورت باہر مت نکلیں، سماجی فیصلے کو عمل طور پر یقینی بنائیں۔

The post پاکستان میں کورونا کی مزید 2 نئی اقسام سامنے آگئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QDxI2U

پنجاب میں کتوں کومارنے کی بجائے نس بندی پروگرام شروع

 لاہور: آوارہ کتوں کو مارنے کی بجائے ان کی تولیدی صلاحیت ختم کرنے اور انہیں باؤلے پن سے بچانے کے لئے ورکنگ پلان پرعمل درآمد شروع ہوگیا ہے، پنجاب کے تمام اضلاع میں میٹروپولیٹین کارپوریشن، لائیو اسٹاک اور جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی این جی اوز نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ این جی اوز ہرضلع میں ایک ہزار نراورمادہ کتوں کو تولیدی صلاحیت سے محروم کرنے میں اپنا کردار اداکریں گی۔

اینیمل رائٹس ایڈوکیسی گروپ (اے آراے جی ) کی ممبرعنیزہ خان نے سمن آباد میں واقع اپنے گھر کو ہی آوارہ کتوں اور بلیوں کے شیلٹرہوم میں تبدیل کررکھا ہے ۔ ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے عنیزہ خان نے بتایا کہ پنجاب میں آوارہ کتوں کی درست تعداد سے متعلق کوئی اعداد و شمار میسر نہیں ہیں تاہم پنجاب لائیو اسٹاک کی طرف سے فراہم کئے گئے غیرمستند اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے 4 لاکھ کتوں کو تولیدی صلاحیت سے محروم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے پنجاب حکومت کی طرف سے متعلقہ اداروں کو 18 لاکھ روپے فنڈز دیئے جائیں گے۔ پنجاب کے ہر ضلع میں ایک ہزار نر اور مادہ کتوں کی ویکسی نیشن اور تولیدی صلاحیت سے محروم کرنے کا کام کریں گے۔

عنیزہ خان کہتی ہیں کتوں کو غیرطبعی موت مارنے یعنی انہیں زہر دینے کا طریقہ عالمی ادارہ صحت سے منظورشدہ نہیں ہے۔ امریکا اوریورپ حتی کہ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی کتوں کی کلنگ پرپابندی عائد ہے۔ کتوں کو زہر دے کر مارنے کے بہت سے نقصانات ہیں، یہ ہمارے ایکو سسٹم کے لئے نقصان دہ ہے۔ کتوں کی لاشیں کئی کئی روز تک زمین پر پڑی رہتی ہیں جس سے فضا اور مٹی دونوں آلودہ ہوتے ہیں، اسی طرح ایسے جانور اور کیڑے مکوڑے جو کتوں کی خوراک بنتے ہیں ان کی تعداد بڑھنا شروع ہوجائے گی، سب سے بڑھ کر یہ کہ کتے گندگی صاف کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس فیصلے کے بڑی سوسائٹیوں میں ازخود کتامارمہم شروع نہیں کی جاسکے گی اورایسا کرنا قانوناً جرم ہوگا۔

سوسائٹی برائے انسداد بے رحمی حیوانات کے اعزازی سیکرٹری اور یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینمل سائنسز کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا قانون میں کتوں کو زہر دینے یا گولی مارنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے، اسی وجہ سے اب ہم نے کتوں کو غیرطبعی موت دینے کی بجائے ان کی تولیدی صلاحیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں فوکل پرسن مقررکردیئے گئے ہیں ، میٹرو پولیٹین کارپوریشن کاعملہ اپنے ضلع سے کتوں کوریسکیو کرکے ان کا اندراج کرے گا اس کے بعد اسے لائیو اسٹاک ویٹرنری سینٹر کے حوالے کردیا جائے گا، جہاں نر کتوں کی نس بندی کی جائے گی جب کہ مادہ کتوں کا آپریشن کرکے انہیں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کیا جائے گا۔ اس سے قبل انہیں ربیز یعنی باؤلے پن کے خاتمے کی ویکسین لگائی جائے گی۔ آپریشن کے بعد ان نر اور مادہ کتوں کو ان کے قدرتی ماحول میں چھوڑ دیاجائے گا کیونکہ اب ان کے کاٹنے سے ربیز کا خطرہ نہیں ہوگا اور ان کی آبادی بھی کنٹرول کی جاسکے گی۔


پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق پاکستان کو ربیز سے پاک کرنے کے حوالے سے بھی یہ اہم اقدام ہوگا۔ جن کتوں کو ویکسی نیشن اور آپریشن کے بعد دوبارہ چھوڑا جائے گا ان کومخصوص ٹیگ لگایا جائے گا، اسی طرح میٹروپولٹین کارپوریشن کے عملے کی ٹریننگ بھی یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز میں شروع کردی گئی ہے، ٹریننگ کے دوران آوارہ کتوں کو پکڑنے کی مہارت دی جارہی ہے۔

The post پنجاب میں کتوں کومارنے کی بجائے نس بندی پروگرام شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3t7xcat

حکومتی پالیسیوں سے ملک کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی پالیسیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ رواں مالی سال جولائی تا اپریل محصولات 14 فیصد اضافے سے 3780 ارب تک پہنچ گئیں، ٹیکس محصولات میں اضافے پر ایف بی آر قابل تعریف ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ایف بی آر نے اپریل 2021 میں 384 ارب کے محصولات اکٹھےکیے جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 240 ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے۔ اس طرح ایک ماہ کے دوران اپریل 2020 کے مقابلے محصولات میں 57 فیصداضافہ ہوا۔ حکومتی پالیسیوں سے ظاہر ہوتا ہے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے۔

The post حکومتی پالیسیوں سے ملک کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xDN87O

محنت کش فیصلہ کن معرکے کی جانب گام زن

 کورونا وبا نے سرمایہ داری کے بحران کو شدید تر کر دیا ہے اور اس کی بے حسی اور شقی القلبی کو ایک بار پھر عیاں کیا ہے۔

وبائی عفریت نے پیداواری عمل کو بڑی طرح متاثر کیا ہے جس سے روزگار کے ذرائع سکڑ کر رہ گئے ہیں۔ سماج کے دولت مند حصوں خصوصاً پیداوار کے منبع پر قابض گروہوں، ان کے زیرانتظام اداروں اور ریاستوں نے اس ناگہانی صورت حال میں جمع شدہ دولت کو نوع انسانی کی بقا کے لیے منصفانہ بنیادوں پر استعمال کرنے سے یکسر انکار کر رہے ہیں۔

آج اکیسویں صدی میں بھی صحت اور علاج جیسی بنیادی انسانی حق کا حصول دولت اور سرحدوں میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سے لے کر غریب ممالک کی ریاستیں وبا سے نبردآزما ہونے کے لیے صحت کا موثر نظام فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں معصوم انسان موت کے منہ میں جاچکے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ صحت سے متعلق موجودہ بین الاقوامی اور قومی طرز عمل نے یہ حقیقی خوف پیدا کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں اسی نوعیت کے وبائی خطرات میں کہیں نوع انسانی ہی اپنا وجود نہ کھو بیٹھے۔

سرمایہ دار ممالک وبا سے بچاؤ کی ویکسین کو انٹیلکچوئیل پراپرٹی حقوق کی آڑ میں منافع کمانے کے لیے استعمال کر تے ہوئے انسانی زندگی پر منافع کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات کا ایک اور قبیح اظہار ہے جس کے خلاف آج سے 135 برس پہلے شکاگو کی “ھے مارکیٹ” میں مزدوروں نے علم مزاحمت بلند کیا تھا۔ وقت اور حالات ثابت کر رہے ہیں کہ نہ تو سرمایہ کا چلن اور اس پر استوار انسان دشمن سوچ بدلی ہے اور نہ ہی اس کو چیلینج کرنے کی مزدور طبقہ کی خو اور ریت بدلی ہے ۔ ہر دور میں ہر بار شکاگو کا نیا معرکہ جنم لیتا رہا ہے اور لیتا رہے گا۔

آج دنیا بھر میں معاشی بحران کے نتیجہ میں سیاسی و سماجی بحران ہر لحظہ شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان کی بھی اس سے مستثنا نہیں۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی صورت حال نہایت ہی دگرگوں ہے کہ یہاں یہ بحران دوآتشہ ہے۔ ایک آئی ایم ایف کے معاہدہ کا زہریلا وار اور دوسرا کرونا وبا کا تسلسل سے حملہ۔ پہلی کرونا لہر سے پہلے ہی موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف سے ملکی تاریخ کے بدترین معاہدے نے عام محنت کش کی زندگی کو اجیرن کر دیا تھا کہ رہی سہی کسر کرونا نے پوری کر دی۔ جہاں معاہدہ نے معاشی ابتری کے خوف میں مبتلا کر دیا تو وہاں وبا نے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے کا خوف مسلط کر دیا۔

حکومت کے ایسٹ انڈیا نما مالیاتی ادارے سے معاہدے نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جب کہ کورونا وبا نے سارے پیداواری عمل کو ہی وینٹی لیٹر پر لے جا لٹایا۔ معاہدوں کے نتیجہ میں نہ صرف بنیادی ضروریات زندگی پر ریاستی سبسڈی واپس لے لی گئی ہے بل کہ براہ راست ٹیکسوں کا بھی بوجھ عوام پر لاد دیا گیا ہے۔ اسی معاہدے کے تحت ملکی کرنسی کی قدر میں پینتیس فی صد کمی کی وجہ سے عوام کی حقیقی اجرتیں اور آمد نصف ہو کر رہ گئیں۔

اشیائے خورونوش، ادویات، بجلی، گیس ، ٹرانس پورٹ، صحت اور تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات میں چالیس سے تین سو فی صد اضافہ نے ان ضروریات زندگی کا حصول محنت کشوں کے لیے مشکل ترین بنا دیا ہے۔ اس پر افتاد یہ کہ کورونا نے روزگار کے رہے سہے مواقع بھی ختم کر دیے ہیں۔ کورونا سے بچاؤ کے لیے اقدامات اور حکومت کے احتیاطی احکامات کی آڑ میں مزدور کو دھڑا دھڑ ملازمتوں سے برخاست کیا گیا اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ ایک کروڑ اسی لاکھ سے زائد محنت کش مکمل طور یا پھر جزوی طور پر روزگار سے محروم کیے گئے۔ اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ وبا کی نئی لہر اور مالیاتی ادارے سے کئے جانے والے معاہدے کے نتیجے میں یہ بیروزگاری مزید بڑھے گی۔

اس بحرانی کیفیت میں ریاست شہریوں کو ہنگامی معاشی امداد فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے مجرمانہ بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کروڑوں انسانوں کو معاشی بحران اور وبا کے عفریت کے سامنے بے یارومدگار چھوڑ دیا۔ ریاست نے طاقت ور طبقات کے لیے زبردست مراعات کا اعلان کیا جس سے اس کی ترجیحات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ملکی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین اور بین الاقوامی ادارے اس امر کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ گزرے اور آنے والے برسوں میں خاطر خواہ نمو کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ جس رفتار سے آبادی بڑھ رہے اس نسبت سے کم از کم 5 فی صد کی شرح سے معیشت میں بڑھوتری ضروری ہے جو موجودہ صورت حال اور حکومتی پالیسی کی بنا پر ناممکن لگتی ہے۔

ایک ایسی معیشت جو سال بھر میں چالیس ارب ڈالرز (جس میں ایکس پورٹ سے بیس ارب ڈالرز اور تارکین وطن کے بھیجے بیس ارب ڈالرز شامل ہیں) کا زرمبادلہ کمائے اور اس کا سالانہ امپورٹ بل ساٹھ ارب ڈالرز سے زائد کا ہوں اور اسے ہر سال دس سے پندرہ ارب ڈالرز غیرملکی قرضوں کی قسط کی ادائیگی کے لیے بھی درکار ہوں تو وہ کیوں کر ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔

ایسے میں اگر ایک بیمار اور لاغر معیشت کا شکار معاشرہ اپنی پہلی ترجیح اسلحہ، سیکورٹی اور حکم رانوں کی مراعات ہی کو قرار دے تو پھر تباہی اور بربادی اس کا مقدر ٹھہرتا ہے اور ایسا ہی ہوتا نظر رہا ہے۔ ایسا ملک جس کی نصف سے زائد آبادی مفلسی کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہو، جس کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہوں، نوے فی صد سے زائد شہریوں کے لیے صاف پانی کا حصول ناممکن ہو، جس کا شمار انسانی حقوق اور ترقی کے انڈیکس کی فہرست میں پست ترین ہو لیکن وہ اسلحے کی خریداری میں ایشیا پیسفک کے ممالک میں سر فہرست ہو اور اس کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے کرنے والے دس ممالک میں ہو تو پھر حکم رانوں کی سوچ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

یہ وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے پاکستان خطہ میں پھیلی بدامنی و انتشار کا منبع گردانا جاتا ہے اور خود ہم بھی اس کی بھاری قیمت چکاتے آرہے ہیں۔ یہ اسی بیمار ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ تعلیم، صحت اور انسانی بہبود پر اٹھنے والے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں اور آج ہم اپنے شہریوں کو لگائی جانے والی ویکسین کے لیے غیرملکی مدد کے منتظر ہیں۔

ایک جمہوری معاشرہ کے خدوخال ابھرنے سے پہلے ہی مٹا دیے جاتے ہیں، ہر اس عمل کو خطرہ تصور کیا جاتا ہے جو سماج کو ترقی و انصاف کی جانب لے جاتا ہے۔ جمہوری روایات کو کمزور کیا گیا ، انقلابی تنظیموں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ طلبہ، مزدور، کسان، صحافی اور دیگر محاذوں کو طاقت کے زور پر دبایا گیا۔ منصوبہ بند طریقہ سے لسانی، مذہبی اور عوام دشمن گروہوں کی پشت پناہی کی گئی اور اسلحہ بردار لشکروں کو شہریوں پر مسلط کر دیا گیا۔

آج صورت حال یہ ہے کہ سات کروڑ سے زاید محنت کشوں کی اکثریت (ننانوے فی صد ) تنظیم سازی کے حق سے جبراً محروم کر دی گئی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر خصوصاً ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبہ میں یونین سازی کی موت واقع ہو چکی ہے۔ پانچ فی صد سے بھی کم محنت کش ملازمت کے تحریری تقررنامہ حاصل کر پاتے ہیں، یہ صورت حال سوشل سیکیوریٹی اور پینشن سے متعلق ہے۔

آٹھ گھنٹے روزانہ کام خواب ہے، فیکٹریوں، کارخانوں اور کار گاہوں میں بارہ سے چودہ گھنٹے روزانہ کام عام چلن ہے، سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود غیر قانونی ٹھیکے داری نظام رائج ہے، محنت کشوں کی اکثریت سرکاری طور پر اعلان کردہ کم اب کم اجرت سے محروم ہے، لیبر ڈپارٹمنٹ، نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن اور لیبر کورٹس مزدور حقوق ضمن میں مذبح خانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ملکی آئین، لیبر قوانین، پارلیمینٹ سے توثیق شدہ آئی ایل او کنونشنز، یورپی یونین سے کئے گئے جی ایس پی پلس معاہدہ تمام نقش بر آب ہیں۔

بین الاقوامی کمپنیاں ہوں یا یا کہ مقامی صنعت کار انہوں نے کارگاہوں کو جدید بندی خانے میں تبدیل کردیا ہے اور اس میں مزدور اس میں جدید غلام بن کر رہ گیا ہے۔ اسے نسل در نسل غیر انسانی ماحول میں کام کرنے اور رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ حکم رانوں نے منظم ہونے ، حقوق کے لئے قانون اور آئین کے دائرہ میں جدوجہد کے راستہ مسدود کردیے ہیں۔ نام نہاد میں اسٹریم پارٹیاں چاہیے وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہی ہیں کہ وہ نظری طور پر بانجھ اور ظلم پر عبارت نظام ہی کا حصہ ہیں۔ ان کی ترجیحات کی فہرست میں محنت کش طبقہ کہیں بھی موجود نہیں۔ کوشش کی جارہی ہے کہ محنت کشوں کی بے چینی اور غصہ کو لسان اور فرقہ واریت میں بدل دیا جائے اور سماج میں فاشسٹ سوچ کو ایک بار پھر فروغ دیا جائے۔

اس سارے منظرنامہ میں محنت کش طبقہ اپنے حقوق کے لیے خود ہی منظم ہوگا اور وہ اپنی درخشاں روایات کا خود ہی امین بنے گا اور اپنے خلاف ہونے والی منصوبہ بندی کو ناکام بنائے گا۔ محنت کش طبقہ جہد مسلسل کی عظیم تاریخ کا وارث ہے۔

محنت کش طبقہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ محنت کشوں نے 1968 اور 1969 میں جنرل ایوب کی آمریت کو للکارا اور ملک میں جمہوری اداروں کے قیام کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کی، سندھ کے ہاریوں نے جاگیرداری کے خلاف لازوال قربانیوں کی تاریخ رقم کی، 1970 میں ہشت نگر (خیبرپختون خوا) کے کسانوں نے خوانین کو شکست سے دوچار کیا، 1971 اور 1972 میں سائیٹ، لانڈھی کراچی (سندھ) کے محنت کشوں نے اپنے خون سے مزاحمت کے پرچم کو بلند کیا، یہ کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان کے محنت کش ہی تھے جنہوں نے 1978 میں ضیاء الحق کی پیرا ملٹری فورسز کی فائرنگ کا سامنا کیا اور مزدور حقوق کے لیے 200 سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اوکاڑہ کے مزارعین کی 2000 سے جاری جدوجہد ہو یا کہ 2012 میں بلدیہ فیکٹری سانحہ میں شہید ہونے والے 260 مزدور کے لواحقین کی انصاف کے لیے تحریک اور حالیہ دنوں میں محنت کشوں کی مختلف پرتوں کے منظم دھرنے جدوجہد کے وہ استعارے ہیں جو اس امر کی جانب اشارہ کر رہے کہ محنت کش طبقہ ایک فیصلہ کن معرکہ کی تیاری کی جانب بڑھ رہا ہے اور نئی صبح کے امکان روشن ہو رہے ہیں۔

The post محنت کش فیصلہ کن معرکے کی جانب گام زن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3t6cpUM

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

آج پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح’’عالمی یومِ محنت‘‘ منایا جارہا ہے۔ اس ضمن میں مختلف سیاسی جماعتیں، مزدور تنظیمیں اور محنت کشوں کے لیے حصّول انصاف کی عالمی جدوجہد سے تعلق رکھنے والی دیگر روشن خیال تنظیمیں اُن شہید مزدوروں کی یاد تازہ کریں گی کہ جنہوں نے اب سے 135سال قبل محنت کش طبقہ کو صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے ’’8گھنٹہ کام،8 گھنٹہ آرام اور 8گھنٹہ Socializingکا نعرہ بلند کیا۔‘‘

اس راہِ حق میں آوازِ حق بلند کرنے کی پاداش میں سات مزدور راہ نماؤں کو تختہ دار پر کھینچا گیا، جسے انہوں نے ہنستے مسکراتے قبول کیا مگر طاقت ور طبقے کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا اور اس طرح وہ تاریخ میں رہتی دنیا تک امر ہوگئے۔

ہم یومِ مئی کی تاریخ کے حوالے سے اگر آج اپنے ملک کے حالات پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ 135 سال گزرنے کے باوجود مزدور طبقہ کی زندگیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد خاص طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کے مختلف ادوار حکومت میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر قانون سازی کی گئی اور متعدد ادارے بھی قائم کیے گئے۔

اس حوالے سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا دور ایک سنہری دور کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں مزدور طبقہ کی تعداد آبادی کے لحاظ سے تقریباً سات کروڑ بتائی جاتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کی پارلیمان اور پالیسی ساز اداروں میں اُن کی کوئی حقیقی نمائندگی موجود نہیں، اتنی بڑی تعداد میں موجود ہونے کے باوجود کیوںکہ یہ طبقہ غیرمنظم ہے لہٰذا اُس کی کہیں کوئی مؤثر آواز سُنائی نہیں دیتی۔

مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے قوانین کا اطلاق بالخصوص پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں شاد و نادر ہی نظر آتا ہے۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کے قانون پر عمل درآمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 80% فی صد ادارے اس پر عمل ہی نہیں کرتے اور مزدور 17500/-روپیے ماہانہ کی بجائے 10سے 12ہزار روپئے ماہانہ پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

قانون کے تحت کسی بھی کارکن سے کسی بھی کارخانہ، دفتر یا انڈسٹری میں 8گھنٹہ یومیہ سے زائد بغیر اوور ٹائم کی ادائیگی کام نہیں لیا جاسکتا لیکن حقیقی صورت حال یہ ہے کہ مزدور 12,12گھنٹہ یومیہ کام کرنے پر مجبور ہیں اور اُن کی کوئی سنوائی نہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں نے غلامی کے نئے نظام کو نافذ کردیا ہے اور کوئی پُرسانِ حال نہیں۔

عام طور پر صنعت کار اب اپنے اداروں میں ٹریڈ یونینز قائم ہونے ہی نہیں دیتے اور اس طرح بتایا جاتا ہے کہ 80% فی صد کارخانوں، فیکٹریز، دفاتر، کمرشل بینکس اور دیگر پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں ٹریڈ یونینز ناپید ہوچکی ہیں جب کہ 20% فی صد اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں اندر کی یونینز ہیں مطلب کہ پاکٹ یونین جو کہ انتظامیہ کے جیبوں میں پڑی ہوتی ہیں۔

ہم کوشش کرتے ہیں کہ مختلف صنعتوں میں محنت کشوں کے حالاتِ کار کا جائزہ لیں تاکہ ملازمت پیشہ طبقہ کو درپیش مجموعی صورت حال اور ٹریڈ یونین تحریک کی موجودہ شکل سامنے آسکے۔ بینکنگ انڈسٹری کی ٹریڈ یونینز کے موجود حالات کا تجزیہ کرنے کے لیے ہمیں کسی ایک ادارہ کو مثال کے طور پر لینا ہوگا۔ اس کے لیے بہتر ہوگا کہ ہم ملک کے سب سے بڑے اور قدیم بینک حبیب بنک کے حالات کو تجزیہ کی خاطر بطور مثال

لے لیں۔ پرائیویٹائزیشن سے قبل اور پہلی نام نہاد گولڈن ہینڈ شیک اسکیم آنے سے قبل ادارے میں ملازمین کی کُل تعداد جن میں افسران بھی شامل تھے تقریباً32 ہزار تھی جن میں کلریکل کیڈر کی تعداد تقریباً اٹھا رہ ہزار تھی۔ آج جب کہ حبیب بینک کی پرائیویٹائزیشن کو اٹھارہ سال مکمل ہوچکے ہیں تو صورت حال یہ ہے کہ ادارے میں اب  کلریکل کیڈر کی کل تعداد 1200رہ گئی ہے جو کہ ملازمین کی کل تعداد کا 10فی صد سے بھی کم ہے۔ حبیب بنک نے پچھلے اٹھارہ سالوں کے دوران سے ٹریڈ یونین کیڈر میں بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے جب کہ بنک انتظامیہ نے یہ بھی کیا کہ نان کلریکل کیڈر کے ہزاروں افراد کو 2006؁ میں آؤٹ سورس کرکے اُنہیں تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ایمپلائمنٹ سسٹم کے تحت بینک ملازمت سے فارغ کردیا۔

دوسری جانب گذشتہ تین سال کے دوران حبیب بینک کی انتظامیہ نے سی بی اے کو گذشتہ 45 سال سے حاصل تمام تر سہولیات سے محروم کردیا ہے۔ سی بی اے کے تمام دفاتر بند کردیے گئے، دفاتر کو دی گئی تمام تر سہولیات واپس چھین لی گئیں، سی بی اے کے تمام عہدے داران پر پابندی عائد کردی گئی کہ وہ آفس آوورز کے دوران ملازمین کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں انتظامیہ کے افسران سے کسی قسم کا رابطہ قائم نہ کریں بلکہ اس کے برعکس بینک کی جانب سے تفویض کردہ فرائض ادا کریں اور اس طرح پورے پاکستان میں وہ چند عہدے داران کہ جنہیں خود انتظامیہ نے یہ سہولت دی تھی کہ وہ ملازمین کے مسائل کے سلسلہ میں اعلیٰ افسران سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

اس سہولت کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر ادارے میں صورت حال یہ ہے کہ سی بی اے یونین تو موجود ہے مگر اُسے انتظامیہ کی جانب سے قوانین کے غلط اور من مانے اطلاق کے ذریعہ مکمل طور پر غیر فعال اور اس طرح ٹریڈ یونین تحریک کا گلا مکمل طور پر گھونٹ دیا گیا ہے۔ سرکاری بینکوں کو چھوڑ کر دیگر تمام پرائیویٹ کمرشل بینکس میں کم و بیش یہی صورت حال پائی جاتی ہے اور اس انڈسٹری میں ٹریڈ یونین تحریک کو انتظامیہ نے اپنی بھرپور طاقت اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اسے ماضی کا قصہِ پارینہ بنادیا ہے۔

مزدور طبقہ آج بھی اس ملک میں بحیثیت مجموعی بدترین حالات سے تو دو چار ہے ہی لیکن بعض شعبوں میں صورت حال انتہائی دگر گوں ہے۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حالاتِ کار اور اُن کی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

اخبارات میں آئے دن خبریں ظاہر ہوتی رہتی ہیں کہ درجنوں مزدور اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے کسی کان میں داخل ہوئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ اگر اعدادوشمار ایمان داری سے اکھٹے کیے جائیں تو ہر سال ہمارے ملک میں سیکڑوں مزدور اپنی زندگیوں سے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر آگ اور حبس کی نظر ہوجاتے ہیں۔ ان حادثات کا سلسلہ ایسا ہے کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لیتا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئلے کے کانوں کے ٹھیکے دار اور حکومتی مشینری اس ضمن میں کیا کردار ادا کر ررہی ہے؟

پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اس سلسلہ میں پہل قدمی کرتے ہوئے “Occupational Safety And Health”کا قانون کو وضع کیا ہے لیکن یہاں بھی اصل مسئلہ اس کے اطلاق کا ہے کہ اس کے بارے میں مثبت اطلاعات نہیں ملتیں۔ کوئلے کے کان کنوں، محنت کشوں کی زندگیاں ہی ہمارے معاشرے میں عذاب سے نہیں گزر رہیں بلکہ دیگر شعبہ جات میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے ماہی گیروں کی زندگیوں اور حالات کار کا جائزہ لیں تو وہا ں بھی دکھ اور غم کے سوا مشکل سے ہی کچھ ملتا ہے۔

سمندر کی لہروں سے لڑنے والوں اور لاکھوں انسانوں کے لیے بہترین غذا کے حصول کے لیے اپنی زندگی سے کھیل جانے والوں کی خود اپنی زندگیاں، زندگی کی حرارت سے محروم ہیں۔ پاکستان میں دیہاڑی دار مزدوروں کی تعداد لاکھوں سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

اس معاشرے نے اُن کے لیے کیا کیا؟ طبی سہولیات، روزگار کا تحفظ، تین وقت کی روٹی کی ضمانت، اُن کے زیرکفالت بچوں کا مستقبل یہ سب اُن کے لیے خواب و خیال ہیں۔ دوسری جانب ہم مزدوروں کے ویلفیئر کے لیے قائم اداروں جن میں ای و بی آئی، سوشل سیکیوریٹی ورکرز ویلفیئر بورڈز اور بحیثیت مجموعی لیبر ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ان اداروں کی صورت حال بھی دیگر سرکاری اداروںسے بہتر نہیں ہے۔

ملک میں محنت کش طبقے کی تعداد کو اگر سات کروڑ تسلیم کرلیا جائے تو ہم مزید مایوسیوں سے اس لیے بھی دوچار ہوجائیں گے کہ کارکنوں کی ویلفیئر کے لیے قائم کسی بھی ادارے میں چند لاکھ سے زائد کارکن رجسٹر نہیں اور اس طرح بہ آسانی کہا جاسکتا ہے کہ نوے فی صد محنت کش اپنے قانونی حقوق اور سہولیات سے محروم ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ قائداعظم کے تصورپاکستان کے مطابق اس ملک کو ایک فلاحی ریاست ہونا چاہیے جو کہ بدقسمتی سے ابھی تک بن نہیں پائی۔ اس سلسلے میں ہم قائد اعظم کی ایک تقریر کے اقتباس کو پیش کریں تو ہم زیادہ بہتر انداز میں بانی پاکستان کی سوچ کو سمجھ سکیں گے۔

24 مارچ 1943میں مسلم لیگ کے اجلاس منعقد ہ دہلی سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر محمدعلی جنا ح نے کہا کہ’’میں ضروری سمجھتا ہوں کہ زمینداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں کہ اس طبقے کی خوش حالی کی قیمت عوام نے ادا کی ہے اس کا سہرا جس نظام کے سر ہے وہ انتہائی ظالمانہ اور شرانگیز ہے اور اس نے اپنے پروردہ عناصر کو اس حد تک خود غرض بنادیا ہے کہ انہیں دلیل سے قائل نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی مقصد برآوری کے لیے عوام کا استحصال کرنے کی خوئے بد ان کے خون میں رچ گئی ہے۔

وہ اسلامی احکام کو بھول چکے ہیں۔ حرص و ہوس نے سرمایہ داروں کو اتنا اندھا کردیا ہے کہ وہ جلب منفعت کی خاطر دشمن کے آلۂ کار بن جاتے ہیں۔ آج یہ سچ ہے کہ ہم اقتدار کی گدی پر متمکن نہیں۔ آپ شہر سے باہر کسی جانب چلے جائیے۔ میں نے دیہات میں جاکر خود دیکھا ہے کہ ہمارے عوام میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہیں دن میں ایک وقت بھی پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا کیا آپ اسے تہذیب اور ترقی کہیں گے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصد ہے؟

کیا آپ نے سوچا کہ کروڑوں لوگوں کا استحصال کیا گیا ہے اور اب ان کے لیے دن میں ایک بار کھانا حاصل کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ اگر پاکستان کا حصول اس صورت حال میں تبدیلی نہیں لاسکتا تو پھر اسے حاصل نہ کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں اگر وہ (سرمایہ دار) عقل مند ہیں تو وہ نئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں گے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر خُدا اُن کے حال پر رحم کرے، ہم ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔‘‘

قائداعظم کے یہ ارشادات ہمارے معاشرے اور ریاست کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوسکتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں غربت، افلاس، بھوک، ننگ اور بے روزگاری جیٹ اسپیڈ کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ تمام جمہوری سیاسی جماعتوں کے لیے مستقبل کے حالات ایک بڑے چیلینج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عوام کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں ملک کی اقتصادی و معاشی صورت حال ناگفتہ بہ ہے مگر ہمیں مایوسی سے دو چار ہونے کے بجائے ان حالات کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

مزدوروں، کسانوں اور دیگر کچلے اور پسے ہوئے طبقات کو اپنے ساتھ جوڑ کر اس بحران سے نکلا جاسکتا ہے۔ مزدور تنظیموں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کم سے کم نکات کی بنیادوں پر متحد اور منظم ہونے کی جدوجہد کو جاری رکھیں اور سیاست کے قومی دھارے میں شامل ہوکر اپنا کردار ادا کریں تاکہ محنت کشوں کے مسائل ختم نہیں تو کم سے کم کیے جاسکیں۔

The post کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2RcSruj

اسلام اور مزدوروں کے حقوق

حضرت عبداﷲ ابنِ عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مزدور کو اُس کی مزدوری اُس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ادا کردو۔‘‘

اِسلام نے مزدور و مالکان کے حقوق و فرائض کو بھی واضح طور پر بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائی میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہ کریں۔ اِسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ شریعتِ مطہرہ نے صدیوں پہلے ظلم کی چکی میں پسے ہوئے مزدوروں کو اُن کا جائز حق دیا اور مالکان کو پابند کیا کہ مزدوروں کو کم تر نہ سمجھیں، جب کسی مزدور سے کام لیا جائے تو اُس کا حق فوراً دے دیا جائے۔

رسول اکرم ﷺ نے حکم فرمایا کہ مزدور کو اُس کی مزدوری اُس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ہی ادا کردو یعنی اُس کا حقِ خدمت معاہدے کے مطابق وقت پر ادا کردیا جائے۔ یہ رسول اﷲ ﷺ کی معروف حدیثِ مبارک ہے، جو ہر شخص چاہے وہ مزدور ہو یا مالک سب کو یاد ہے۔ مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے اِس حدیث مبارک کے علاوہ ایک حدیثِ قدسی بھی بڑی معروف ہے کہ اﷲ تعالیٰ یہ ارشاد فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین لوگوں کے لیے خود مدَّعی بنوں گا، اُن میں سے ایک وہ مزدور ہوگا، جس نے اپنا کام تو پورا کرلیا لیکن اُسے اُس کی اُجرت نہیں دی گئی۔

ہمارے معاشرے میں اوَّل تو مزدوروں کو ان کی محنت کی جائز اُجرت نہیں دی جاتی اور اگر دی بھی جائے تو اتنی کہ مزدوروں کو دوبارہ پسینہ آجاتا ہے۔ آج مزدوروں کو اتنی اجرت دی جاتی ہے کہ اُس سے اُن کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں ہوسکتا۔ پورا دن کارخانوں اور بھٹیوں میں کام کرنے والے معاشی اعتبار سے کم زور ہیں جب کہ اُن کی محنت کی آمدن سے سرمایہ دار اور مالکان امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر مزدور اور مالکان کے درمیان نفرتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

جب مزدوروں کو اُن کی محنت کا صحیح اور بروقت معاوضہ نہیں ملتا تو پھر وہ ہڑتال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، مالکان اُن سے بدلہ لینے کے لیے کارخانوں کی تالا بندی کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ایک طرف بے قصور صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کی درجِ بالا حدیث مبارک مزدوروں کو معاشی تحفظ فراہم کرتی ہے اور مالکان کو تنبیہ کرتی ہے کہ وہ مزدوروں کے استحصال سے۰۰۰۰۰۰۰۰۰ رک جائیں۔

وگرنہ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کی عدالت میں ان پر مقدمہ قائم کیا جائے اور اس مقدَّمہ میں رب تعالیٰ خود ہی مزدوروں کی طرف سے مدّعی ہوگا۔ رسول اﷲ ﷺ کی ایک حدیث مبارک میں ہے کہ تمہارے خادم، ملازم، مزدور اور غلام تمہارے بھائی ہیں، لہٰذا تم میں سے جس کے پاس اس کا کوئی بھائی ہو، تو اُسے چاہیے کہ وہ اس کو ویسا ہی کھلائے اور پہنائے جیسا کہ وہ خود کھاتا اور پہنتا ہے۔ اپنے مزدور کو کوئی ایسا کام کرنے کو نہ کہے، جسے وہ خود نہیں کرسکتا اور اگر ایسا کام کرانے کی ضرورت ہو، تو خود بھی اُس کا ساتھ دے۔ (صحیح بخاری)

اِس حدیث شریف سے مزدوروں سے کام لینے کے متعلق کئی اصول ہیں۔ ایک یہ کہ مزدور و مالکان کے درمیان بھائی چارے کا رشتہ ہے۔ لہٰذا مالک کے لیے مستحب ہے کہ وہ جو اپنے لیے پسند کرے، وہی اپنے مزدور بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِس حدیث مبارک میں مالکان کو عیش و عشرت کی زندگی سے روکا جارہا ہے اور سادگی اختیار کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ کیوں کہ جب وہ اپنے ساتھ دوسروں پر بھی خرچ کرے گا تو ظاہر ہے کہ اس کے اخراجات دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے اور وہ کفایت کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ مزدوروں کو بہ مشکل دال روٹی میسر ہوتی ہے جب کہ مالکان کے ایک وقت کے کھانے پینے کا بل مزدوروں کی پوری تن خواہ کے برابر ہوتا ہے۔ مزدور بہ مشکل سال میں ایک مرتبہ نئے کپڑے سلوا پاتا ہے اور کئی تو ایسے بھی ہیں، جنہیں سال ہا سال نئے کپڑے نصیب نہیں ہوتے، اِس کے برعکس سرمایہ دار روزانہ نئے کپڑے زیبِ تن کرتا ہے۔ شریعت کا منشاء یہ ہے کہ مزدوروں کی تن خواہ اتنی ہونی چاہیے کہ جس سے ان کی بنیادی ضرورتیں آسانی سے پوری ہوسکیں۔ اِس سے ناصرف مزدوروں کا فائدہ ہوگا بل کہ مالکان کو بھی فائدہ ہوگا، کیوں کہ ایسی صورت میں مزدور بہ خوشی اور احسن طریقے سے اپنی ذمے داریوں کو انجام دیں گے اور کاروبار خوب ترقی کرے گا۔

مزدوروں سے اُن کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے، ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے کہ ان کے لیے کرنا مشکل ہوجائے۔ اِس سے مزدوروں سے معاہدہ کے برخلاف مقررہ وقت سے زاید کام لینے کی ممانعت کا بھی علم ہوتا ہے۔ کئی جگہوں میں آٹھ گھنٹوں کی بہ جائے بارہ بل کہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور اگر مزدور زیادہ وقت کام کرنے سے انکار کرتا ہے تو اُسے ملازمت سے فارغ کردینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ لہٰذا مزدور بہ حالتِ مجبوری اپنی طاقت سے زیادہ محنت و مشقت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

اگر مزدوروں سے اُن کی طاقت اور مقررہ وقت سے زاید کام لیا جائے تو اُن کا ہاتھ بٹایا جائے یا پھر اُسے زاید وقت کی اجرت بھی دی جائے۔ یہ کتنی عجیب بات ہوگی کہ زاید وقت کے منافع کا پورا حق دار وہ شخص ٹھہرے، جس نے کچھ محنت نہ کی ہو، صرف اپنا سرمایہ لگایا ہو۔ اور وہ شخص جو منافع حاصل کرنے کے لیے اپنا خون پسینا بہا رہا ہے، اُسے کچھ بھی نہ ملے، زیادہ سے زیادہ چند تعریفی کلمات سے نواز دیا جائے۔

اِنسانی جسم کو راحت و آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ انسانی جسم کا فطری تقاضا بھی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے دن کو معاش کا ذریعہ بنایا تو تھکاوٹ دور کرنے کے لیے رات کو سکون اور راحت کے لیے پیدا فرمایا۔ اب اگر کوئی شخص زیادہ یا مسلسل کام ہی کرتا رہے اور کچھ وقت آرام نہ کرے تو پھر اس سے کئی نفسیاتی اور سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔ صحت خراب ہوجاتی ہے اور بیماریاں جنم لیتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بیوی، بچوں، ماں باپ اور دیگر رشتے داروں کو وقت نہ دینے سے آپس میں رنجشیں بڑھتی ہیں۔

ابھی تک مزدوروں کے جن حقوق پر لکھا گیا، ان میں سے ہر ایک کا تعلق ان حقوق سے ہے، جو مزدور کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں تک حقوق اﷲ کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں فقہائیِ کرام نے فرمایا کہ جس طرح مزدوروں کو ان کی اجرت کا دینا لازم اور ضروری ہے بالکل اسی طرح مالکان پر یہ بھی لازم ہے کہ دورانِ کام فرائض و واجبات مثلاً نماز وغیرہ کا وقت آجائے، تو مزدوروں کو اس کی ادائی کے لیے ناصرف وقت دیا جائے بل کہ اِن امور کی انجام دہی کے لیے بہتر جگہ بھی فراہم کی جائے۔

اسی طرح رمضان المبارک میں ان سے اتنا ہی کام لیا جائے کہ وہ آسانی کے ساتھ روزے رکھ سکیں۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو ایسے حقوق اﷲ سے روکے، جن کی ادائی انفرادی طور پر ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے اور اگر کسی نے ایسا کیا تو ملازمین پر اپنے مالک کی اطاعت لازم نہیں ہوگی، کیوں کہ حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ کسی کی اطاعت اسی وقت تک کی جاسکتی ہے، جب تک وہ شریعت کے مطابق ہو، وگرنہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی پر کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔

The post اسلام اور مزدوروں کے حقوق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3vLIa7p

کورونا وبا مہنگائی، رمضان میں عوام کی قوت خرید جواب دے گئی

 کراچی:  کورونا کی تباہ کاریاں ، خراب معاشی صورت حال اور مہنگائی پہاڑ جیسے بڑے مسائل رواں رمضان المبارک میں عوام کی قوت خرید ہی جواب دے گئی ہے۔

کورونا ایس او پیز کے تحت جلد کاروبار بند ہونے کے سبب کراچی میں روایتی افطار کی خریداری کے حوالے سے گہما گہمی نہ ہونے کے برابر ہے، اس صورت حال کے سبب شہر کے متوسط اور غریب علاقوں میں پکوڑے ، سموسے اور دیگر افطار کے لوازمات کی فروخت کے اسٹالز انتہائی محدود پیمانے پر لگائے گئے ہیں اوراس کام سے منسلک 60 سے 70 فیصد کاریگر اپنے آبائی علاقوں میں رمضان کی چھٹیاں گزارنے اور عید منانے کے لیے چلے گئے ہیں۔

کاریگروں کے اپنے آبائی علاقوں میں جانے کی اصل وجہ کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور شہر قائد میں کاروباری اوقات کار محدود ہونا بتایا جاتا ہے۔

پکوڑے، سموسے اور افطار کے لوازمات تیار کرنے والے ایک کاریگر محمد رضا نے ایکسپریس کو بتایا کہ کورونا کی عالمی وباکو دوسرا برس شروع ہو چکا ہے، یہ دوسرا رمضان ہے  جو ہم کورونا کے ساتھ گزار رہے ہیں، گزشتہ رمضان میں سخت لاک ڈاؤن تھاکاروباری سرگرمیاں بند تھیں اوران حالات کے سبب افطار کے لوازمات کا اہتمام بڑے پیمانے پر نہیں ہو سکا،مارکیٹیں اور بازار جلدی بند ہو رہے ہیں۔

کھانے کی اشیاکی تیاری کے طریقوں میں جدت آ گئی

کورونا ایس او پیزکے احکام جاری ہونے کے بعد شہریوںکی بڑی تعداد گھروں پر روزہ کھولنے کو ترجیح دیتی ہے ، رواں رمضان المبارک میں بھی 70 سے 80 فیصد خواتین افطاری کے لوازمات اپنے گھروں پر خود تیارکرتی ہیں۔

گھریلو خاتون سحر طارق نے بتایا کہ زمانہ جیسے جیسے ترقی کر رہا ہے، ویسے ہی کھانے پینے کی اشیاکی تیاری کے طریقوں میں بھی جدت آ گئی ہے، اب تو تیار سموسے اور رولز کے پیکٹ بازاروں میں مل جاتے ہیں یا پھر سموسے اور رول کی تیاری میں استعمال ہونے والی پٹیاں بھی تیار شدہ مل جاتی ہیں، یہ پٹیاں 200 فی کلو فروخت ہوتی ہیں جبکہ رول اور سموسے کے پیکٹ میں یہ اشیا ایک درجن ہوتی ہیں اور بغیر تلا تیار شدہ سموسہ اور رول 10 سے 15 فی دانے کے حساب سے ملتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گھروں میں زیادہ تر سبزی اور چکن کے رول تیارکیے جاتے ہیںگھروں میں تیار کی جانے والی افطاری معیاری اور صحت بخش ہوتی ہے۔

متوسط طبقہ کھجور اور پانی سے روزہ کھول رہا ہے

بے روزگاری ، خراب معاشی صورت حال اور مہنگائی کے سبب غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کی بڑی تعداد کھجور اور پانی سے روزہ کھول کراپنی حیثیت کے مطابق کھانا کھالیتے ہیں اس طرح ان کی افطاری بھی ہو جاتی ہے اور وہ رات کا کھانا بھی کھالیتے ہیں،اس رمضان میں بڑی بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر تو رش نظر آ رہا ہے لیکن غریب اور متوسط علاقے میں اس کام سے منسلک دکاندار اور کاریگر بہت پریشان ہیں۔ اسی وجہ سے اس کام سے منسلک بیشتر کاریگر اپنے آبائی علاقوں میں رمضان سے قبل ہی چلے گئے ہیں۔

محمد رضا نے بتایا کہ قوت خرید کم ہونے کی وجہ سے بے روزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد نے محدود پیمانے پر پکوڑے سموسے کی تیاری کے عارضی اسٹالز لگائے ہیں، زیادہ تر نوجوان اور بیروزگار افراد پھل فروخت کر کے روزی کمارہے ہیں کورونا کے سبب یہ کام مختصر ہو کر 40 سے 50 فیصد تک رہ گیا ہے۔

افطارلوازمات میں شامل اشیاکی قیمتیں ہرعلاقے میں الگ الگ ہیں

افطار لوازمات میں شامل اشیاکی قیمتیں ہر علاقے میں الگ الگ ہیں، مختلف علاقوں میں مکس پکوڑے 300 سے 350 روپے فی کلو ، مختلف اقسام کے سموسے اور رول 15روپے سے 25 روپے تک میں دستیاب ہیں، جلیبی اور امرتی 320 سے 450 روپے فی کلو ، چکن اسٹیک فی عدد40 روپے سے 55 روپے ، دہی بھلے 350 سے 400 روپے، چنا چاٹ فی پلیٹ 50 سے 80 روپے کے درمیان ہے جبکہ فروٹ چاٹ کی فی فلیٹ 50 سے 100 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔

کوروناکے باعث ہوم کچن کا کاروبار بہت متاثر ہوا

مختلف ہومز کچن سروس آرڈرکے مطابق افطار باکس یاافطار لوازمات تیار کرکے متعلقہ مقامات پر پہنچانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں ہوم کچن سروس کے کام سے وابستہ ہمایوں خاتون نے بتایا کہ ہوم کچن سروس کا کام رمضان سے قبل بہتر انداز میں جاری تھا کیونکہ کئی دفاتر اور اداروں میں دوپہر یا رات کا کھانا ان ہوم کچن سے فراہم کیا جاتا تھا لیکن کورونا ایس او پیز کے تحت مارکیٹیں جلدی بند ہونے اوردفاتر میں 50 فیصد عملے کے کام کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ہوم کچن کے کام پر بھی بہت فرق پڑا ہے۔

کاروباری اور معاشی سرگرمیاں محدود ہونے کے سبب ہوم کچن سروس میں کھانوں کی تیاری کے آرڈرز میں 80 فیصد کمی آ گئی ہے تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں ان ہوم کچن کے ذریعہ مختلف گھروں میں افطار لوازمات کی فراہمی کا کام آرڈر کے مطابق کیا جاتا ہے اور آرڈر کے مطابق رول سموسے ، پکوڑے ، دہی بھولے ، فروٹ چاٹ تیار کرکے مختلف رائیڈنگ ایپس کے ذریعہ متعلقہ مقام پہنچایا جاتا ہے یا پھر آرڈر کے مطابق افطار باکس بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

ایک افطار باکس100 روپے سے لے کر 150 روپے تک میں تیار ہوتا ہے اور اگر افطار باکس کے ساتھ کھانا بھی ہو تو یہ 250 روپے تک تیار ہوتا ہے جس میں افطار کے ساتھ بریانی یا پھر ایک سالن اور دو روٹی موجود ہیں۔

افطار لوازمات کی تیاری کاکام صبح 6بجے شروع ہو جاتا ہے

افطار لوازمات کی تیاری سے منسلک کام کا آغاز سحری کے بعد صبح 6 بجے شروع ہو جاتا ہے ، جو مغرب کے بعد تک جاری رہتا ہے کاریگر محمد رضا کے مطابق افطار لوازمات میں مختلف اقسام کے مکس پکوڑے ، قیمے ، آلو ، چکن اور سبزی کے رول ، سموسے ، ون ٹون ، دہی بھلے ، جلیبی ، امرتی اور دیگر اشیا تیار کی جاتی ہیں یہ کام انتہائی محنت طلب ہوتا ہے۔

محمد رضا نے بتایا کہ کورونا ایس او پیز کے سبب شہر میں بڑے افطار دسترخوان لگانے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے روایتی عوامی دسترخوان کا اہتمام رواں رمضان المبارک میں نہ ہونے کے برابر ہے مارکیٹیں اور کارو بار جلد بند ہونے کی وجہ سے بھی افطار لوازمات کی فروخت میں کمی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افطار دسترخوان نہ لگنے کی وجہ سے اس کاروبار پر بہت فرق پڑا ہے تاہم کچھ علاقوں میں محدود پیمانے پر افطار باکسز تیار کروا کرتقسیم کیے جارہے ہیں جس میں یہ افطار لوازمات فراہم کیے جاتے ہیں۔

The post کورونا وبا مہنگائی، رمضان میں عوام کی قوت خرید جواب دے گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3t6ql0L

اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس کا 11سال بعد فیصلہ، تمام ملزم بری

 کراچی:  اسٹیل ملز میں کرپشن کے ریفرنس کا فیصلہ 11 سال بعد سنا دیا جب کہ احتساب عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کردیا۔

کراچی کی احتساب عدالت نے اسٹیل ملز میں کرپشن سے متعلق ریفرنس کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کردیا۔ ملزمان میں ثمین اصغر، اصغر جمیل رضوی، چوہدری شفیق عباس، طارق ارشاد اور دیگر شامل ہیں۔

نیب کے مطابق ملزمان نے ٹھیکوں کی مد میں خورد برد کرکے کرپشن کی۔ ملزمان کی کرپشن کی وجہ سے اسٹیل ملز کو 13 ملین سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ ملزمان کیخلاف ریفرنس 2012 میں قائم ہوا تھا۔

 

The post اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس کا 11سال بعد فیصلہ، تمام ملزم بری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xCzsK5

TLP پرپابندی، نظرثانی درخواست کیلیے جائزہ کمیٹی قائم

 اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشیدنے وفاقی حکومت کیطرف سے کالعدم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست کا قانونی پہلوؤں سے جائزہ لینے کیلیے3رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

وزارت داخلہ ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کیطرف دائر زیردفعہ 11سی(رائٹ آف ریویو )اورانسداددہشتگردی کے ایکٹ 11 ای ای (پروسکرپشن آف پرسن )کی نظرثانی کی درخواست کے بعد اجلاس کی صدارت کی۔

وزیرداخلہ نے انسداددہشتگردی ایکٹ کی زیردفعہ 11 سی سی کے تحت کمیٹی قائم کی ہے جوتین حکومتی افسران جن میں ایک وزارت قانون وانصاف کے نمائندہ اوروزارت داخلہ کے 2 جوائنٹ سیکرٹریز بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ یہ کمیٹی تیس دن کے اندردرخواستوں پرنظرثانی کریگی۔

شیخ رشید کی زیرصدارت اجلاس ہوا،مشاورتی اجلاس میں کالعدم ٹی ایل پی سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی، اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی درخواست کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وفاقی حکومت نے جو دوہفتے پہلے ٹی ایل پی کوتحلیل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرکرنے کا کہاتھا لگتاہے، اس میں حکومت ناکام ہوگئی ہے ،15اپریل کو جب حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی تو وزیرداخلہ نے اعلان کیاتھاکہ حکومت ٹی ایل پی کی تحلیل کیلئے اقدامات کریگی۔

وزیرداخلہ نے یہ بھی کہاتھاکہ 16اپریل کو وفاقی کابینہ کو ایک الگ سمری بھیجی جائیگی اور اسکی منظوری کے بعددوتین دن میں ٹی ایل پی کی تحلیل کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرکیاجائیگاتاہم یہ نہ ہوسکا،اس سے لگتاہے کہ وزیرداخلہ نے بغیرقانونی راستہ اختیارکئے یہ اعلان کردیاتھا، انسداددہشتگردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی 30 دن کے اندروزارت داخلہ کے سامنے ریویوکرسکتی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فوادچودھری نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ اگرٹی ایل پی کی تحلیل کے حوالے سے سمری کابینہ ارکان کو بھیجی جاسکتی ہے توپھرٹی ایل پی کیخلاف ریفرنس کیوں نہیں دائرہوسکتا۔

وزیراطلاعات نے کہاکہ ٹی ایل پی نے اپنے حقوق کو ایکسرسائزکیاہے تواب اس معاملے سے نمٹنااب وفاقی کابینہ کا نہیں وزارت داخلہ کا کام ہے،فوادچودھری نے زوردیاکہ قانون کے تحت سمری بھیجنے سے پہلے تیس دن کا عرصہ ضروری ہوتاہے۔

حکومت میں ظاہری تبدیلی اس وقت آئی جب اس نے اعلان کیاکہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں،یہ بھی شواہدہے کہ جب حکومت نے ٹی ایل پی کے مطالبے پر فرانسیسی سفیرکی بیدخلی کے حوالے سے پیش قراردادپر بحث کیلئے قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلایا۔ یہ بھی سب کچھ ہواجب حکومتی وزراء نے بیانات دیئے کہ حکومت بلیک میل نہیں ہوگی اورخلاف ورزی پر سخت ایکشن لیاجائیگا۔

حکومت کا موقف مضبوط ہوتاگیاخصوصاًجب لاہورمیں قانون نافذکرنیوالے اداروں اورٹی ایل پی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ تاہم اس کے بعد فوری مذاکرات کرناپڑے اور حکومت نے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو رہاکرناشروع کردیا،پلڈاٹ کے صدراحمدبلال محبوب نے کہاکہ ٹی ایل پی کے ردعمل پر حکومت کا اندازہ ٹھیک نہ تھا ،حکومت اس حوالے کمزورنظرآئی کیونکہ انہوں نے جو کہاتھااس پرعمل کرتی نظرنہ آئی ۔

صدرپلڈاٹ نے کہاکہ مذاکرا ت کے دوران یہ فیصلہ ہواکہ حکومت ٹی ایل پی کی تحلیل پر موثرکارروائی نہیں کریگی اورجلد ہی نظرثانی درخواست کو لے لیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ جلد بازی کا کوئی بھی فیصلہ عالمی سطح پر حکومت کیلئے مسائل کھڑے کرسکتاہے جیساکہ یورپی پارلیمنٹ جی ایس پی پلس سٹیٹس پرپاکستان کو ریویوکیلئے کچھ کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نااہل اورحساس معاملات پر اس کوڈیل کرنانہیں آتا،اوریہی وجہ ہے کہ اس کو یورپی یونین اورملک کے اندرسے مسائل کا سامناہے۔

The post TLP پرپابندی، نظرثانی درخواست کیلیے جائزہ کمیٹی قائم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3gTkqd2

آج یوم مزدور، ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی

 لاہور /  اسلام آباد: ملک بھر میں آج (یکم مئی ) یوم مزدور منایا جا رہا ہے اور ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔

دنیا بھر کی طرح ملک بھر میں بھی شکاگو میں مزدوروں کی شاندار جہدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیشن کرنے کیلیے آج (یکم مئی ) یوم مزدور منایا جا رہا ہے اور ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔ دن کی مناسبت سے لاہور سمیت ملک بھر میں حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے سیمینار منعقدہ ہوں گے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم مزدوروں اور محنت کشوں کی جدو جہد کو سلام پیش کرتے ہیں، حکومت خصوصی طور پر مزدور کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

The post آج یوم مزدور، ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QNFSFR

ورکرز ویلفیئر فنڈ میں موجود رقم مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے بحال کی جائے، ایکسپریس فورم

 لاہور:  پنجاب حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت میں 2 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ، اب مزدور کو کم از کم 19500 روپے ماہانہ اجرت ملے گی، فیصلے کا اطلاق جولائی سے ہوگا۔

موجودہ حکومت نے مزدوروں کے حقوق اورخوشحالی کیلئے اہم قانون سازی کی، غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والوں کو بھی مزدور کا درجہ دیا، اب ان کی سوشل سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں، اب انہیں مختلف برانڈز پر ڈسکائونٹ بھی دیا جائے گا۔ورکرز ویلفیئر فنڈ میں ایک کھرب روپے سے زائد موجود ہے مگر وفاق اور صوبے میں جھگڑے کی وجہ سے یہ مزدوروں کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہورہا، اسے فوری بحال کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار حکومت اور مزدوروں کے نمائندوں نے ’’عالمی یوم مزدور‘‘ پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔ فورم کی معاونت احسن کامرے نے کی۔

ڈائریکٹر لیبر ضیغم عباس نے کہا پنجاب حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت میں 2 ہزار روپے ماہانہ اضافہ کر دیا ہے، اضافے کا اطلاق رواں سال یکم جولائی سے ہوگا۔ اس حوالے سے سٹیک ہولڈرز کو ایک ماہ میں اپنی تجاویز اور اعتراضات سے آگاہ کرنے کیلئے کہہ دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ مزدوروں کی خوشحالی کیلئے عملی قدم ہے۔

سیکریٹری جنرل آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن خورشید احمد نے کہا آج جب ہم یوم مزدور منا رہے ہیں تو دنیا سمیت پاکستان میں بھی بے شمارچیلنجز درپیش ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ کورونا ہے جس کے باعث صنعت بند ہوئی اور مزدور بے روزگار ہوئے۔ گزشتہ دو برسوں میں مہنگائی 100 گنا بڑھ گئی ، غریب پس رہا ہے، اس وقت لیبر کے حوالے سے 72 قوانین موجود ہیں مگر عملدرآمد کا فقدان ہے.

نمائندہ سول سوسائٹی بشریٰ خالق نے کہا مزدور کی خوشحالی کے بغیر ملک خوشحال نہیں ہوسکتا، اس کی حق تلفی ہوتی ہے اور خوشحالی کے اثرات اس تک نہیں پہنچتے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کو کم معاوضہ ملتا ہے،مردوں کے مقابلے میں خواتین صرف 16.3 فیصد کماتی ہیں جو واضح کرتا ہے کہ خواتین کا کس قدر معاشی استحصال ہورہا ہے،گلوبلائزیشن کے اس دور میں اب خواتین ایسے شعبوں میں بھی کام کر رہی ہیں جہاں پہلے کبھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

The post ورکرز ویلفیئر فنڈ میں موجود رقم مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے بحال کی جائے، ایکسپریس فورم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3nDcdv0

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...