نیب زدہ افسران کو عہدوں پر کیسے بحال کردیا گیا؟ سندھ ہائیکورٹ

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے نیب زدہ افسران کی عہدوں پر بحالی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس ندیم اختر اور جسٹس عدنان الکریم پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو نیب زدہ افسران کی عہدوں پر بحالی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، چیف سیکریٹری نے نیب زدہ افسران سے متعلق رپورٹ جمع کرادی۔

عدالت نے استفسار کیا پلی بارگین اور رضاکارانہ رقم واپس کرنے والے افسران کتنے ہیں؟، عدالت نے ریمارکس دیے جن پر کرپشن کیسز ہیں اور وہ سرکاری عہدے پر براجمان ہیں ان کی فہرست دیں، سیکریٹری سروز نے بتایا کہ ہم نے ایسے افسران کی فہرست جمع کرائی ہے، عدالت مے ریمارکس دیے کریمنل کیسز کا سامنا کرنے والوں کو کیس کے دوران معطل کیوں نہیں کیا جاتا؟۔

سیکریٹری سروسز نے بتایا کہ رضاکارانہ رقم واپس کرنے والے افسران کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہے، جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ نے تو کہا تھا ایسے افسران عہدوں پر نہیں رہ سکتے، آپ نے 4 سال میں کیا کام کیا؟ سیکریٹری سروسز نے بتایا کہ ایسے افسران کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کی گئی، کئی افسران کو بحال کردیا گیا کئی افسران کو برطرف کردیا گیا۔

جسٹس عدنان الکریم نے ریمارکس دیئے کرپشن کا اعتراف کرکے رقم واپس کرنے والے افسران کو عہدوں پر کیسے بحال کردیا گیا؟، سیکریٹری سروسز نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے پابند کیا تھا 25 لاکھ روپے سے کم کرپشن کے افسران کو زیادہ سے زیادہ سزا نہ دی جائے، ایم کیو ایم کے وکیل نے موقف دیا کہ 25 لاکھ روپے سے زائد کرپشن کے کئی افسران اب بھی عہدوں پر ہیں۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

 

The post نیب زدہ افسران کو عہدوں پر کیسے بحال کردیا گیا؟ سندھ ہائیکورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2KHn9IC

No comments:

Post a Comment

plz do not enter any spam link in the comment box

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...