اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم بحران میں ملوث کمپنیوں آئل کے لائسنس منسوخ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پٹرولیم بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس کے بعد وفاقی کابینہ میں انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر طویل بحث کی گئی تاہم وزیراعظم عمران خان نے انکوائری رپورٹ کی سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے 3 رکنی کمیٹی قائم کردی جس میں شفقت محمود، شیریں مزاری اور اسد عمر شامل ہیں، انکوائری رپورٹ پر کیا ایکشن لیا جائے، اس پر 3 رکنی کمیٹی سفارشات تیار کرے گی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کمپنیوں کے لائسنسز منسوخ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بحران میں ملوث افراد اداروں اور کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : پیٹرول بحران رپورٹ؛ اوگرا ختم کرنے، سیکریٹری پیٹرولیم اور ڈی جی آئل کیخلاف کارروائی کی سفارش
وفاقی کابینہ اجلاس میں بعض وفاقی وزراء کی جانب سے انکوائری رپورٹ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ جس قانون کے ذریعے کمپنیوں نے ناجائز پیسہ بنایا اسے بدلہ جائے۔
وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور علی زیدی سمیت متعدد وزراء نے سوالات کیے جس پر ندیم بابر وضاحت پیش کرتے رہے، فیصل واوڈا کی جانب سے سوال کیا گیا کہ تیل سستا ہوا تو پورٹ پر کیوں رکا رہا جب کہ جو کمپنیاں ملوث تھیں ان کے لائسنس منسوخ کیوں نہیں کیے گئے۔ علی زیدی کی جانب سے بھی سخت سوالات کیے گئے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
The post وزیراعظم کا پٹرولیم بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا عندیہ appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2KmUUie
No comments:
Post a Comment
plz do not enter any spam link in the comment box