’’یہ‘‘ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں۔۔۔

شہر قائد میں بارشوں کا سلسلہ گذشتہ پندرہ روز سے وقتاً فوقتاً جاری ہے، محکمہ موسمیات نے موسلا دھار برسات کی پیشگی اطلاعات کے ساتھ شہر میں سیلابی صورت حال سے بھی خبردار کیا تھا۔۔۔ جس کے بعد ابتدائی بارشوں میں نکاسی کی ناکافی صورت حال کے حوالے سے صوبائی حکومت کی صفائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ’این ڈی ایم اے‘ آئی اور پھر یوں لگا کہ بس اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہے۔

کراچی کے سب نالے صاف ہوگئے ہیں اور اب بارش ہوئی تو پانی دیکھنا کیسے اڑن چھو ہو جائے گا۔۔۔ مگر جمعرات 27 اگست 2020ء کو کراچی میں ہونے والی طوفانی بارش سبھی کے دعوے اپنے ساتھ بہا لے گئی، بھلا ہو کہ شدید بارشوں کا کئی دہائیوں کا ریکارڈ ٹوٹا اور حکام نے اس ’ٹوٹے ریکارڈ‘ کے پیچھے پناہ لی اور بڑی ہمت پیدا کر کے فرمایا کہ کیا کیجیے صاحب، ہم نے اپنا ’کام‘ کر دیا تھا، لیکن یہ موئی بارش ہی اتنی تیز ہوگئی، کہ بہت زیادہ پانی آگیا اور اتنی بارش تو دنیا میں کہیں بھی ہو جائے سبھی کچھ ڈوب جاتا ہے۔ کسی دل جلے نے اس میں ٹکڑا لگایا کہ ’ڈوب مرنے‘ کے سوا۔۔۔

دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی سے آنے والی آفات اور مظاہر قدرت کے بارے میں بہت پہلے سے پتا چل جاتا ہے، تو کیا وجہ ہے کہ کراچی جیسے اہم ترین شہر کے لیے ریاست اتنا بھی اندازہ نہیں لگا سکی کہ اس کا نکاسی آب کا نظام کس قدر ناقص ہے یا اس کے نالے اور پانی کی قدرتی گزر گاہ کتنی کارآمد رہی ہیں۔۔۔ بارش کے پانی کی سیلابی صورت سے بچنے کے لیے کون کون سی جگہوں سے نکاسی کی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے، مرکز میں گذشتہ دو برس سے بلند وبانگ دعووں والی ’پاکستان تحریک انصاف‘ برسراقتدار ہے، نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) بھی اپنے پانچ سال گزار کر گئی ہے، کراچی میں جس کے دور کی گرین بس ابھی تک رل رہی ہے۔

صوبائی حکومت میں مسلسل 12 برس سے ’پاکستان پیپلز پارٹی‘ بیٹھی ہوئی ہے،  رہی ’متحدہ قومی موومنٹ‘ تو اسے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے وجود کے ہی لالے پڑے ہوئے ہیں،  اس کی ’بلدیہ عظمیٰ‘ کا سارا وقت کبھی بے اختیاری کا رونا رونے اور باقی وقت پرسکون رہنے میں گزر گیا۔۔۔

یوں تو ملک بھر میں ہی غیر معمولی مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن کراچی اور سندھ بھر میں صورت حال کافی خراب ہو چکی ہے، حکومت سندھ کی جانب سے صوبے بھر کے  بیس اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے، لوگوں کی داد رسی کی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن موسمی آفت اپنے پیچھے بہت ساری کہانیاں اور سوالات چھوڑ گئی  ہے۔

مواصلاتی رابطوں کی معطلی نے صورت حال ابتر کر دی

شہر قائد میں موسلا دھار بارش کے بعد بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ رہا۔ ’کے الیکٹرک‘ کے مطابق بہت سے علاقوں میں سیلابی صورت حال کے سبب حفظ ماتقدم کے طور پر یہ اقدام کیا گیا۔۔۔ جب کہ بہت سے علاقوں میں پانی جمع ہونے کے سبب پیدا ہونے والے نقص دور نہیں کیے جا سکے۔

اس لیے یہ سطور لکھے جانے تک مختلف علاقوں میں بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی، بہت سے علاقوں میں جب اگلے روز بجلی بحال ہوئی، تو موبائل کے سگنل ہی غائب تھے اور لوگوں کو اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔۔۔ یہ آفت پر ایک اور آفت تھی، پھر رات گئے موبائل فون بحال ہو سکے جب کہ بہت سے علاقوں میں یہ بندش مسلسل جاری رہی۔ کہا گیا کہ محرم الحرام میں حفاظتی اقدام کو جواز بنا کر بھی اس بندش کو طول دیا گیا، حالاں کہ کچھ برسوں سے یہ سلسلہ موقوف ہو چکا تھا، اور اب ایک ایسے موقع پر جب پورا شہر ایک قدرتی آفت سے جوجھ رہا ہو، بنیادی رابطے بند کر دینا سنگین غفلت اور شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے والی بات تھی، کیوں کہ لائن والے فون اب بہت کم گھروں میں ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں شہری موبائل فون کے ذریعے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔

عام آبادیوں کے مکینوں سے  لے کر صاحب ثروت لوگوں کے گھروں تک

برساتی پانی سے شہر کی کچی بستیوں اور نشیبی علاقوں کے ساتھ ڈیفینس سوسائٹی کے مختلف علاقوں میں بھی کئی فٹ پانی کھڑا ہے، لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہونے سے زیر زمین پانی کے ٹینک خراب ہوئے اور گھر کا قیمتی سامان برباد ہوگیا۔ شہر کی متوسط اور غریب بستیوں میں بھی صورت حال ابتر رہی۔ لوگوں کو فرنیچر اور قیمتی برقی آلات کی مد میں ہزاروں، لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں کھربوں روپوں کا سامان خراب ہوگیا۔

بند ٹوٹنے کی افواہیں اور پانی کے ریلے

جمعرات کے روز شدید بارش کے بعد رات کو شہر کے مختلف علاقوں میں اس وقت شدید سراسیمگی پھیل گئی، جب ملیر ندی کے ساتھ واقع دادا بھائی ٹاؤن کے علاقے سے متصل بند ٹوٹنے کی افواہیں  پھیل گئیں، جس کے نتیجے میں کراچی ایڈمن سوسائٹی، بلوچ کالونی، محمود آباد اور منظور کالونی وغیرہ کے مکینوں کو رات چھتوں پر بسر کرنے اور بہت سوں کو گھر خالی کرنے کی صلاح دی گئی۔۔۔

لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات ہوئے کہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں، تاہم بعد میں صورت حال واضح ہوئی کہ بند نہیں ٹوٹا، بلکہ اس کے دروازے سے پانی کا اخراج ہوا تھا، جس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ بڑھ گیا تھا، دروازہ بند کرنے کے بعد حالات قابو میں آگئے، لیکن خوف کی وجہ سے مکینوں نے رات جاگ کر گزاری، کیوں کہ شہر بھر میں سیلابی ریلے میں متعدد افراد کے بہہ جانے کی اطلاعات تھیں، جن کی لاشیں اگلے روز نکالی گئیں اور بہت سی لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

سعید غنی کی ویڈیو کی ’صاف سڑکیں‘

27اگست کو شدید بارش کے بعد صوبائی وزیر سعید غنی سب ٹھیک کا پرچار کرتے ہوئے ’سوشل میڈیا‘ پر مختلف ویڈیو لگاتے رہے، جس میں وہ بتا رہے تھے کہ کراچی کی فلاں فلاں سڑک بالکل صاف ہے اور وہاں پانی بالکل نہیں ہے۔ صوبائی وزیر کے اس اقدام کو اہل کراچی کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ کراچی کی اکا دکا مثالوں کو پورے ڈوبے ہوئے شہر پر منطبق کر کے ہمارے زخموں پر نمک چھڑک ر ہے ہیں۔ کسی دل جلے نے کہا ہو سکتا ہے کہ صوبائی وزیر جہاں سے گزرتے ہوں، وہاں سے پانی اپنے آپ خشک ہو جاتا ہو، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں سیلابی صورت حال کا سامنا کرنے والے علاقوں میں لے جا کر اس خوبی سے فائدہ اٹھایا جائے۔

سعید غنی مستقل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ چند گھنٹوں میں ہی سڑکوں سے پانی نکال دیا گیا، ہر چند کہ پانی اپنے آپ ہی راستہ بنا گیا ہو۔ جب کہ ان کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بھی تو اس اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پائے گئے کہ زیادہ برسات کے باوجود اب صورت حال پہلے سے اچھی ہے، کہ پہلے تو شاہراہ فیصل پر چار چار دن پانی کھڑا رہتا تھا۔ انھوں نے شہر بھر کے دورے کر کے بہت پھرتی دکھائی۔ وہ واٹر بورڈ، کے الیکٹرک، کنٹونمنٹ بورڈ وغیرہ کے دفاتر بھی پہنچے اور انھیں ’ہدایات‘ بھی جاری کرتے رہے، لیکن بات وہی ہے کہ اب جب موج دریا سر سے گزر گئی۔۔۔

سیوریج والے کہتے ہیں کہ ’بارش رکنے کی دعا کرو!‘

نارتھ ناظم آباد بلاک ’بی‘ سے زبیر مدنی بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے میں بارش شروع ہونے سے پہلے ہی گیس بند ہو گئی تھی، تیسرا روز ہے، گیس بحال ہی نہیں ہوئی، اب گھر کے اندر تین فٹ پانی نے ہر چیز تباہ کر دی۔  پانی کی نکاسی کے لیے سیوریج والوں سے رابطہ کیا گیا، تو وہ بولے کہ بارش رکنے کی دعا کریں، پانی خود نکل جائے گا۔ یہ اربوں روپے ٹیکس دینے والے شہر کا حال ہے، ہم سے بہتر تو غیر قانونی طریقے سے قبضے کر کے گھر بنانے والے رہے، جو حکام چند ہزار بھتا دے کر گھر بناتے ہیں اور ساری بنیادی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں اور آفات کی صورت میں امداد لے کر پھر کہیں اور جم جاتے ہیں۔

بالآخر کراچی آفت زدہ قرار پایا

ابتداً حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کے مضافاتی علاقے میمن گوٹھ اور ابراہیم حیدری کو آفت زدہ قرار دینے کی اطلاعات سامنے آئیں، تو ’سماجی ذرایع اِبلاغ‘ (سوشل میڈیا) پر شہریوں نے اس پر شدید ردعمل دیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اسے ’حکومت سندھ‘ کا متعصبانہ رویے سے تعبیر کیا، کہ ایک ہفتے سے سرجانی ٹاؤن اور اس سے ملحقہ علاقے سیلابی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں، اور اب پورا کراچی ڈوب چکا ہے، بازاروں میں تاجروں کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، گھروں میں لوگوں کے فریج اور دیگر قیمتی برقی آلات خراب ہوگئے، لیکن کیا وجہ ہے کہ ’حکومت سندھ‘ کو ان علاقوں کی آفت دکھائی ہی نہیں دے رہی۔ شاید یہ احتجاج رنگ لایا کہ پھر ’حکومت سندھ‘ کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد کو سندھ بھر کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔

پیٹرول 250 روپے فی لیٹر فروخت ہوا

سیلابی صورت حال میں ملک کو 70 فی صد ریوینیو دینے والے شہر کے باسی جہاں صاف پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے تھے، وہیں شہر بھر میں بطور ایندھن استعمال ہونے والا پیٹرول بھی نایاب ہوگیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض پمپ مالکان نے صارفین سے من مانے نرخ وصول کیے۔۔۔ ہماری اطلاعات کے مطابق محمود آباد اور بلوچ کالونی کے علاقے میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 250 روپے تک وصول کی گئی، یوں کراچی کے باسیوں کو افتاد میں ایک اور افتاد کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

’راستوں‘ کی عمارتیں ضرور گرائیں مگر۔۔۔

موسلا دھار بارش سے بے قابو ہوتی ہوئی صورت حال کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عندیہ دیا کہ وہ برساتی نالوں کے راستوں پر تعمیر عمارتیں گرائیں گے، بعد ازاں انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ عمارتیں گرا نہیں سکتے، انھوں نے 2001ء کے نظام کی خود مختار بلدیاتی حکومتوں پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہوں اور نالوں پر تعمیرات کی اجازت دے کر شہر کی یہ حالت کی گئی۔ دوسری طرف ماہرین کہتے ہیں کہ ’ڈی ایچ اے‘ فیز 8 کے لیے جو زمین سمندر سے ’چھینی‘ گئی ہے، اس نے ملیر ندی کا آدھا راستہ روک لیا ہے، جب کہ فیز 7 ایکسٹینشن کے لیے کی گئی بھرائی نے بھی پانی کی گزرگاہ میں رکاوٹ کھڑی کی ہے۔

یہ امر شہر میں سیلاب کی صورت حال کی بڑی وجہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ان کی تعمیرات میں مال بٹورنے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ تجاوزات کے نام پر شہریوں کو بے گھر کرنا ہی مقصد دکھائی نہ دے۔ شہری کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کے آگے ایک چبوترا تک تو ’قانون‘ سے چھپ کر بنا نہیں سکتے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ اتنی تعمیرات ہوجائیں اور ’قانون‘ کو اس کی ہوا تک نہ لگی ہو؟ ’کراچی چیمبر آف کامرس‘ کے سابق صدر ہارون فاروقی کا کہنا ہے کہ ڈیفینس میں کون سی تجاوزات ہیں جو وہاں پانی بھرا۔ تاجر راہ نما سراج قاسم تیلی کہتے ہیں کہ ڈیفنس فیز 6 اور ملحقہ علاقوں میں پانی موجود ہے، خیابان نشاط، بدر، محافظ اور شہباز میں مکین بے یارو مددگار ہیں۔ ’ڈی ایچ اے‘ اور کنٹونمٹ بورڈ کلفٹن رہایشیوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

 چائنا کٹنگ پھر موضوع بن گئی!

شہر میں سیلابی صورت حال کے بعد ایک بار پھر شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا غلغلہ ہے۔ بہت سے حلقے موجودہ صورت حال کا ذمہ ’چائنا کٹنگ‘ کو قرار دے رہے ہیں، جہاں رشوتیں دے کر شہر کی مختلف زمینوں پر قبضے کیے گئے، نالوں پر دکانیں اور عمارتیں قائم کی گئیں۔۔۔ لیکن بات اتنی سیدھی ہے نہیں، یہ تو غیر قانونی قبضوں کے وہ ’ملزمان‘ ہیں جن کا نام آپ ڈنکے کی چوٹ پر لے سکتے ہیں اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ پورا سچ یہ ہے کہ کراچی میں غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات کی تاریخ کوئی نئی نہیں اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ مبینہ طور پر کچھ ایسے بااثر لوگوں نے بھی اپنا پورا پورا حصہ ڈالا ہے کہ آپ جن کا نام بھی نہیں لے سکتے۔۔۔

سوال تو پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک ہی شہر میں آبادی کا سارا دباؤ ہوگا، تو پھر لامحالہ جس کے جہاں سینگ سمائیں گے، وہ وہاں چلا جائے گا۔۔۔ قطعہ نظر اس سے کہ غیر قانونی تعمیرات میں کوئی بھی ملوث تھا، ہماری ریاست نے اس پر اپنا کردار ادا کیوں نہیں کیا؟ اس پر بھی کھل کر بات ہونا چاہیے۔ عدالتی حکم پر عمارتیں گرا دینا اور قبضے اور غیر قانونی قرار دے کر سفید پوش خاندانوں کو کھلے آسمان تلے پھینک دینا بہت آسان ہے، کیوں کہ انہیں کسی سیاسی مافیا کی مدد حاصل نہیں ہے، ان کی جمع پونجی لٹ گئی، مال بنانے والے مال بنا کر ملک سے بھی نکل گئے، کوئی اگر برباد ہوا تو وہ جس کی زندگی بھر کی پونجی لٹ گئی اور اب اس کا اس شہر کے سوا کوئی اور گھر بھی نہیں، وہ جس نے عمر بھر کی کمائی لگا کر اپنے سر پر ایک چھت کر لی تھی، آج پھر مصیبتوں سے دوچار ہے، اس سمت بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بارشیں اور ’زیر زمین‘ پانی کی سطح

ان دنوں سندھ بھر کی طرح شہر قائد بھی غیر معمولی بارشوں کا سامنا کر رہا ہے۔ چند برس پہلے کراچی میں کم بارشوں کی شکایات عام ہوگئی تھیں۔۔۔ کچھ لوگوں نے ’گلوبل وارمنگ‘ کو اس کا سبب قرار دیا تو بہت سوں کا کہنا تھا کہ شہر میں بڑے پیمانے پر لگائے گئے غیر مقامی درخت ’کونوکارپس‘ کی وجہ سے کراچی سے باران رحمت روٹھ گئی ہے اور درجہ حرارت پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔

دوسری طرف شہر میں بڑھتی ہوئی پانی کی طلب کے باعث بڑے پیمانے پر کی جانے والی بورنگ سے زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی تھی، جس سے گنجان آباد شہر کی عمارتوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے، کیوں کہ زیر زمین نمی خشک ہونے سے زمین بھربھری ہو رہی تھی، جو عمارتوں کی بنیادوں کو سہارنے کی سکت کھو سکتی تھی۔۔۔ بہرحال اب باران رحمت جو اگرچہ بد انتظامی کے سبب کسی طور بھی رحمت دکھائی نہیں دیتی، اس سے یہ امید تو ہو چلی ہے کہ کراچی کے زیر زمین پانی کی سطح ضرور بہتر ہوگی اور اس شہر کی بلندوبالا عمارات کو لاحق خطرات میں کمی آئے گی۔ دوسری طرف بہت سے مکینوں کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد ان کے بورنگ کے پانی کے کھارے پن میں نمایاں کمی محسوس کی گئی ہے۔

اتنی بارش کے بعد بھی پانی ’ٹینکر‘ سے ہی ملے گا؟

کراچی کی موسلا دھار بارش کے بعد جہاں ایک طرف شہر کو پانی فراہم کرنے والے ڈیم لبریز ہو چکے ہیں، وہیں شہری یہ سوال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ بارش سے پانی تو اتنا آگیا کہ پورا شہر بھی ڈوب گیا، لیکن کیا اب اس آفت کے بعد ہم کراچی والوں کے گھروں کے خشک نلکوں میں بھی پانی آسکے گا۔۔۔؟ یا پھر ہمیں بدستور بورنگ کے کھارے پانی پر انحصار کرنا پڑے گا اور مہنگے داموں ٹینکر خرید کر اپنے گھروں میں ڈلوانے  پڑیں گے۔۔۔؟

کیا کوئی عوامی نمائندہ ہماری یہ آواز بھی اقتدار کے ایوانوں میں اٹھائے گا کہ بارش میں پانی پانی ہونے والے کراچی کو اتنی بارشوں کے بعد کم از اکم  ہمیں پانی کی لائنوں میں پانی مل سکے، دروغ برگردن راوی کہ پانی کا بحران پیدا ہی اسی لیے کیا جاتا ہے تاکہ شہر میں ’ٹینکر مافیا‘ کا راج چل سکے!

اور جب پانی ہمارے گھر کی دہلیز پار کرنے لگا۔۔۔

جمعرات کو موسلا دھار بارش کے دوران نہ صرف ہمارے غریب خانے کی چھتیں بھی ٹپکیں، بلکہ گلی اونچی ہونے کے سبب پانی گھر میں داخل ہونے کے خطرات بھی لاحق ہوگئے، جو نالی ہم نے گھر سے پانی باہر نکلنے کے لیے بنائی تھی وہ الٹا باہر کا پانی اندر لانے کا باعث بننے لگی، اس طرح فوری طور پر پانی کے ٹینک خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔۔۔ شہر کراچی کے پانی کے بحران میں یہ خطرہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، پہلے تو باہر سے آنے والے پانی کی رکاوٹ کھڑی کی اور اس کے بعد دیکھا تو نوتعمیر شدہ گلی میں گھر سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک عدد ’اسپیڈ بریکر‘ پانی کی نکاسی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اگلی گلیوں سے آنے والے پانی کے ریلے نے پانی کی سطح اونچی کر دی تھی۔۔۔ برسات برستے سمے پانی نالیوں میں بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔ بلکہ روڈ کی سمت کے مین ہول سے تو کسی فوارے کی طرح پانی ابلا پڑتا تھا۔۔۔ اس لیے فوری طور پر یہ ضروری تھا کہ ’اسپیڈ بریکر‘ سے پانی کی نکاسی کی جائے۔

تاکہ پانی کو گلی سے باہر جانے کا راستہ مل سکے۔ چناں چہ ہم نے گھر میں موجود کیل ٹھونکنے والی ہتھوڑی سے اسے توڑنے کی سعی کی، زیر آب گلی میں یہ ایک امر محال تھا، وہ تو بھلا ہو ہمارے پڑوسیوں کا کہ ان کے ہاں سے ایک عدد ’چھینی‘ میسر ہوگئی اور یوں یہ کام آسان ہوا، اس کے بعد گلی میں پانی کی سطح نیچی تو ہوئی، لیکن اندر جمع ہونے والے برساتی پانی کو تو بدستور باہر نکالنا تھا، یوں ہمہ وقت تین چار گھنٹے جب تک موسلا دھار بارش جاری رہی، یہ مشق مسلسل جاری رہی، ساتھ ہی نظر رہتی کہ اگر گلی سے پانی اونچا ہوا تو پھر اندر سے پانی نکالنا اور نہ نکالنا برابر ہو جائے گا، بہرحال اللہ کا کرم ہوا کہ ہماری مشقت کام آئی اور اس نوبت کے آنے سے پہلے برسات دھیمی پڑنے لگی، پھر پانی بھی نکلنے لگا اور گلی کے مین ہول بھی پانی قبولنے پر آمادہ ہوگئے، یوں تھوڑی دیر میں گلی کا پانی بھی ختم ہوا اور ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا۔

The post ’’یہ‘‘ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2GfWhNI

قائد اعظم کی مادر علمی سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136 واں یوم تاسیس

آج پاکستان کی تاریخی درس گاہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136واں یوم تاسیس ہے۔

یکم ستمبر 1885میں سندھ کے دارلخلافہ کراچی میں قائم ہونے والے جدید تعلیمی ادارے کا بنیادی مقصد سندھ کے مسلمانوں کے بچوں کو جدید تعلیمی زیور سے آراستہ کرنا تھا،سندھ مدرستہ الاسلا م جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے تاریخی اور معتبر تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔

اس ادارے کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے تعلیمی کیرئیر کا سب سے زیادہ عرصہ 1887 تا 1892 تک اس ادارے میں گزارا، قائد اعظم محمد علی جناح کی یہ مادر علمی برصغیر پا ک وہند کے مسلمانوں کا علی گڑھ کالج کے بعد دوسرا جدید علمی ادارہ ہے،یکم ستمبر 1885 کو کراچی میں قائم ہونے والے اس عظیم ادارے کے سابق طلبانے قیام پاکستان اور اس کے بعد تعمیر پاکستان میں مرکزی کردار کیاہے۔

اس ادارے کو قائد اعظم محمد علی جناح نے 1943   میں یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا اور یہ 2012 میں یونیورسٹی بنا، سندھ مدرسہ یونیورسٹی نے اپنے ایک سو پینتیس برسوں کے سفر میں ملک و قوم کی بڑی خدمت کی ہے، اس ادارے کے سابق طالب علموں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی خدمات قومی جذبے کے ساتھ انجا م دی ہیںیہ ایک چارٹرڈ یونیورسٹی ہے، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے منظور شدہ ہے۔

یونیورسٹی نے اپنے سفر کا آغاز پانچ شعبوں سے کیا جس میں درس و تدریس کیلیے اعلیٰ قابلیت اور تجربے کے حامل تدریسی عملے کی تقرری کی گئی جن میں سے تقریباً آدھے افراد پی ایچ ڈی ہیں، ان میں شعبہ ایجوکیشن، بزنس ایڈمنسٹریشن، میڈیا اسٹڈیز، کمپیوٹر سائنس اور انوائرمینٹل اسٹڈیز شامل ہیں جبکہ اس وقت اس میں مزید پانچ اور شعبہ جات کا اضافہ کیا گیا ہے جن میں سوشل ڈیولپمنٹ، اکاؤنٹنگ ،بینکنگ اور فنانس، آرٹیفیشل انٹلیجنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور شعبہ انگلش شامل ہیں۔

یونیورسٹی کا سٹی کیمپس کراچی کے کمرشل حب  آئی آئی چندریگر روڈ کے نزدیک حبیب بینک پلازہ کے قرب میں واقع ہے یہ ساڑھے آٹھ ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں کالونیل دور کی خوبصورت عمارات بھی موجود ہیں یہا ں کی حسن علی آفندی لائبریری میں بیس ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔

سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے پاس جدید ترین کمپیوٹر لیبارٹریز میں سے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی لیبارٹری ہے۔ یونیورسٹی نے اپنے طالب علموں کومفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر رکھی ہے ، یونیورسٹی کا ایف ایم ریڈیو ’وائس آف ایجوکیشن‘ (فریکوئنسی 96.6)کے نام سے بہت سے سامعین کی توجہ حاصل کر رہا ہے، یونیورسٹی سٹی کیمپس میں توسیع اور ایجوکیشن سٹی (نزدڈی ایچ اے سٹی)، کراچی کے نزدیک ایک اور کیمپس کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے جہاں 100 ایکڑ زمین ایس ایم آئی یو کو مختص کی گئی ہے، سٹی کیمپس میں اس وقت دو ٹاورز تعمیر ہوچکے ہیں۔

سندھ مدرسہ یونیورسٹی میں طالب علموں میں تحریر اور تحقیق کی صلاحیتیں پیدا کرنے کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز بھی منعقد کی جاتی ہیں، اس کے ساتھ طالب علموں کی مختلف سوسائٹیز بھی قائم کی گئی ہیں، فیکلٹی کو بھی تحقیقی عمل میں شامل کرنے کیلیے ان کے ریسرچ جرنلز شایع ہورہے ہیں، شعبہ میڈیا اسٹڈیز اینڈ کمیونی کیشن کے طالب علم پندرہ روزہ اخبار بھی نکالتے ہیں۔

وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی میمن کا کہنا ہے کہ انکا عزم ہے کہ وہ بانی پاکستان قائد اعظم کی مادر علمی کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیز کی سطح پر لے جائیں۔

The post قائد اعظم کی مادر علمی سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136 واں یوم تاسیس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2YT0M79

کے پی اسمبلی اڑانے کی دھمکی، ایم پی اے مولانا اعصام الدین معطل

 پشاور:  اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نے اسمبلی کو بموں سے اڑانے کی دھمکی دینے والے جے یو آئی کے رکن اسمبلی مولانا اعصام الدین کومعطل کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکال دیا جبکہ ان کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظورکرلی گئی جس کی اے این پی نے بھی حمایت کی۔

صوبائی اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز جب اسپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت پانچ دنوں بعد شروع ہوا تو صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ قبائلی رکن اعصام الدین نے اسمبلی پر خودکش حملے کی دھمکی دی لیکن اسپیکر نے ایکشن نہیں لیا، جمہوریت کیلئے بڑی قربانیاں دی گئی ہیں، یہ عام معاملہ نہیں ایسے افراد کو ٹکٹ کیوں دیے جاتے ہیں؟ ان کی پارٹی کیوں خاموش ہے؟ سیکورٹی فورسز نے قربانیاں دے کر امن قائم کیا۔

اس دوران جے یو آئی و ایم ایم اے ارکان نے ایوان میں شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری اور مولانا اعصام الدین کو ایوان سے باہر نکالنے کے احکامات پر عمل درآمد رکوانے کی کوشش کی جو اجلاس میں وقفہ کے باعث ناکام ہوگئی جبکہ بعدازاں جے یو آئی ارکان نے بھی ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کیا۔جے یو آئی نے مذکورہ کارروائی کو ناجائز جبکہ حکومت نے بالکل جائز قراردے دیا۔

The post کے پی اسمبلی اڑانے کی دھمکی، ایم پی اے مولانا اعصام الدین معطل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/31KjiAq

افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان

 اسلام آباد:  پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے جب کہ ایک وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی پر دوسرا جائزہ اجلاس کابل میں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق سیکریٹری خارجہ امور سہیل محمود کی قیادت میں سینئر دفتر خارجہ حکام نے پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ میرواعظ ناب نے افغانستان کی نمائندگی کی، اجلاس میں پاک افغان تعلقات کی تمام جہتوں کا جائزہ لیا گیا۔

پولیٹیکو ڈپلومیٹک ورکنگ گروپ میں پاکستان نے باضابطہ اعلی سطح کے تبادلوں، ایپٹیکا، جے ای سی سمیت موجودہ میکانزم کے استعمال ، معاشی شراکت میں اضافہ اور عوام سے عوام کے تبادلے کو تیز کرنے پر توجہ دی گئی۔

مہاجر ورکنگ گروپ نے پاکستان میں افغان مہاجرین سے متعلق تمام پہلوں پر تبادلہ خیال کیا پاکستان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ امن اور مفاہمتی عمل سے افغان مہاجرین کی باوقار وطن واپسی کو ممکن بنایا جائے گا۔

The post افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2DfzBMg

حکومت سندھ کا بارش کے متاثرین کی مالی معاونت کا فیصلہ

 کراچی:  حکومت سندھ نے بارش سے متاثرہ افراد کی مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے کراچی سمیت متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بارش سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے بارش سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کو سات روز میں نقصانات پر مبنی رپورٹ محکمہ ریلیف میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ تباہ کن بارشوں کے باعث لوگوں کے مکانات، کاروبار، فصلوں اور گھریلو آلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر ضلع ملیر نے بھی تمام تحصیلوں میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ طلب کیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو تباہ حال گھروں، املاک، قیمتی سامان اور جانی نقصانات کی سروے رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔

The post حکومت سندھ کا بارش کے متاثرین کی مالی معاونت کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3jsjMkI

خود کشی کرنیوالی ڈاکٹر ماہا کے والد کا قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ

 کراچی:  ڈیفنس میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرنے والی لیڈی ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے والد آصف شاہ نے انفرادی طور پر قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم و دیگر متعلقہ حکام سے جنید کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔

آصف شاہ نے اپنی بیٹی ڈاکٹر ماہا کو خودکشی پر مجبور کرنے اور خودکشی کا ذمہ دار اسپتال میں کام کرنے والے اس کے دوست جنید کو قرار دے دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر ماہا کے دوست جنید نے اسپتال کے ٹیکنیشن وقاص کے ساتھ مل کر ایم ایل او تبدیل کرایا، جنید میری بیٹی ماہا کو بلیک میل کرتا رہا اس نے میری بیٹی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

متوفیہ کے ڈاکٹر ماہا کے والد آصف شاہ اکیلے ہی قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جنید کا مکمل گینگ ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عرفان نامی ڈاکٹر کے کلینک کے اوپر بار موجود ہے جہاں منشیات کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے ، میرے پاس ان کے خلاف بہت سارا مواد موجود ہے ،یہ لوگ تعلیمی اداروں میں منشیات کا کام کرتے ہیں ، میڈیا پر اعتماد ہے اور ان کے سامنے حقائق رکھوں گا ، ان لوگوں نے میری بیٹی کو ٹریپ کر کے بلیک میل کیا ، تابش نے پستول دی جبکہ جنید میری بیٹی پر تشدد بھی کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق پڑھی لکھی فیملی سے ہے میرے دادا کے کلاس فیلوز نواب اکبر بگٹی اور سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھے، ، بارشوں اور محرم کی وجہ سے میں پولیس کے مسائل سمجھ سکتا ہوں ان کا کہنا تھا کہ میری بیٹی تو چلی گئی مگر لوگ اپنی بیٹیوں کو جنید سے لوگوں سے بچائیں ، پولیس جنید کو اب تک گرفتار نہیں کر سکی جبکہ جنید نے میری بیٹی سے رشتے کے متعلق کبھی کوئی بات نہیں کی تھی ، ان کا کہنا تھا کہ میں انصاف کے حصول کے لیے ہر در پر جاؤنگا چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔

دریں اثنا مقامی عدالت نے ڈاکٹر ماہا خودکشی سے متعلق تفتیشی افسر سے پولیس فائل طلب کرلی۔ کراچی سٹی کورٹ میں ڈسٹرکٹ عدالت جنوبی کے روبرو ڈاکٹر ماہا خودکشی کیس کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹر ماہا کو اسلحہ فراہم کرنے والے ملزم تابش یاسین قریشی کے وکیل نے درخواست ضمانت دائر کی۔

عدالت نے درخواست پر تفتیشی افسر سے پولیس فائل طلب کرلی۔ سرکاری مدعیت میں درج مقدمے میں غیر قانونی اسلحہ اور ایما قتل کی دفعات شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا کی خودکشی میں سعد کا پستول استعمال ہوا تھا۔ سعد کا لائسنس یافتہ اسلحہ تابش نے ڈاکٹر ماہا کو دیا۔ ملزم تابش جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے۔

The post خود کشی کرنیوالی ڈاکٹر ماہا کے والد کا قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3lv3d9I

کراچی کا چھٹا مون سون سسٹم جنوبی پنجاب چلا گیا

 کراچی: شہر قائد میں متوقع بارشوں کا سبب بننے والاچھٹا مون سون سسٹم بارش برسائے بغیرجنوبی پنجاب کی جانب چلا گیا۔

چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردارسرفراز کے مطابق شہر میں ممکنہ بارشیں دینے والا مون سون سلسلہ شہر سے گذر کرجنوبی پنجاب کی جانب چلا گیا ہے، اب سسٹم کے تحت گرج چمک کے ساتھ تیزبارشوں کا امکان نہیں تاہم صبح اور رات کے وقت بونداباندی، پھوار اور چند علاقوں میں ہلکی بارش ہوسکتی ہے جب کہ مذکورہ سسٹم کے تحت تھرپارکر میں بارش متوقع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پیرکو شہر کا زیادہ سے زیادہ پارہ 31.8 جب کہ کم سے کم 28.5ڈگری ریکارڈ ہوا، نمی کا تناسب صبح کے وقت 85اورشام کو75فیصد رہا، سمندر کی جنوب مغربی ہواوں کی رفتار30کلومیٹرفی گھنٹہ ریکارڈ ہوئیں، منگل کوشہر کا مطلع ابرآلود رہنے جب کہ ہلکی بارش کا امکان ہے، زیادہ سے زیادہ پارہ 30سے32ڈگری کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

The post کراچی کا چھٹا مون سون سسٹم جنوبی پنجاب چلا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/32CmwW2

طوفانی بارشوں کے باعث فصلیں تباہ، سبزیاں مہنگی ہونے کا خدشہ

کراچی: سندھ میں طوفانی بارشوں نے سبزیوں کی فصل تباہ کردی اور پیاز کے بیج  بہہ گئے ،ٹماٹر کی تیار فصلیں بھی بارش اور سیلابی پانی کی نذر ہوگئیں۔

سبزی منڈی کے وائس چیئرمین آصف احمد کے مطابق کراچی سبزی منڈی میں اندرون سندھ سے سبزیوں کی سپلائی 60 فیصد تک کم ہوگئی ہے، جو سبزی پہنچ رہی ہے وہ پانی کی وجہ سے جلد خراب ہورہی ہے،  پیاز کے بیج حال ہی میں کاشت کیے گئے تھے جو شدید بارشوں کے باعث زمین پکڑنے سے قبل ہی بہہ گئے، سبزیوں کی تیار اور کھڑی فصلیں برباد ہوگئی ہیں اور آنے والے دنوں میں ٹماٹر، پیاز اور ہری سبزیوں کی قلت کا سامنا ہوگا۔

آصف احمد کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلابی پانی سے سندھ کا وسیع زیر کاشت رقبہ متاثر ہوچکا ہے،  وفاقی حکومت پیاز کی قلت کے پیش نظر ابھی سے منصوبہ بندی کرے اور سندھ حکومت کے ساتھ مل کر سندھ میں کاشتکاروں کو ریلیف پیکج دیا جائے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد نے بھی آنے والے دنوں میں پیاز کی قلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بلوچستان کی فصل بازار میں ہے جو ملک کی طلب پوری نہیں کرسکتی، زیر آب زمین میں پیاز کاشت نہیں کی جاسکتی، اس لیے درآمدی پیاز سے طلب پوری کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب کراچی کی سبزی مارکیٹوں میں ٹماٹر ایک بار پھر 100 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے، آلو 60 سے 70 روپے فروخت ہورہا ہے، پیاز کی قیمت 70 روپے وصول کی جارہی ہے، کھیرا 80 روپے کلو، سبز دھنیا اور پودینہ کی گڈی دس کے بجائے 20 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، ٹینڈے، لوکی، توری 100 سے 120 روپے کلو فروخت ہورہے ہیں،  پالک 50 روپے کلو، بیگن 80 روپے کلو، بھنڈی 140 روپے کلو اور اروی 100 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔

The post طوفانی بارشوں کے باعث فصلیں تباہ، سبزیاں مہنگی ہونے کا خدشہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2YPEJyo

کراچی میں برسے بغیر ہی مون سون بارشوں کا سسٹم جنوبی پنجاب منتقل

کراچی:  متوقع بارشوں کا سبب بننے والا مون سون سسٹم بارش برسائے بغیرجنوبی پنجاب کی جانب منتقل ہوگیا جس کے بعد شہر میں تیزبارشوں کا امکان نہیں رہا۔

چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردارسرفراز کے مطابق شہر میں ممکنہ بارشیں برسانے  والا مون سون سلسلہ شہر سے گزرکرجنوبی پنجاب کی جانب منتقل ہوچکا ہے۔ اب سسٹم کے تحت گرج چمک کے ساتھ تیزبارشوں کا امکان نہیں ہے،تاہم صبح اوررات کے وقت بونداباندی،پھواراورچند علاقوں میں ہلکی بارش ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق مذکورہ سسٹم کے تحت تھرپارکر میں بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پیرکو شہر کا زیادہ سے زیادہ پارہ 31.8 جبکہ کم سے کم 28.5 ڈگری ریکارڈ ہوا۔ نمی کاتناسب صبح کے وقت 85 اورشام کو75 فی صد رہا۔ سمندر کی جنوب مغربی ہواوں کی رفتار30کلومیٹرفی گھنٹہ ریکارڈ ہوئیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کوشہر کا مطلع ابرآلودرہنے جبکہ ہلکی بارش کا امکان ہے۔ زیادہ سے زیادہ پارہ 30سے32ڈگری کے درمیان رہنے کی توقع ہے

The post کراچی میں برسے بغیر ہی مون سون بارشوں کا سسٹم جنوبی پنجاب منتقل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/34USTCh

سراج رئیسانی پرخود کش دھماکے میں ملوث کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک

 کوئٹہ: سراج رئیسانی پر ہونے والے خود کش دھماکے میں ملوث کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک ہوگیا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد میں سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروئی کی، سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے فائرنگ ہوئی جس پر جوابی فائرنگ میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق جوابی فائرنگ میں مارے جانے والا دہشت گرد شہید نواب زادہ سراج رئیسانی پر ہونے والے خود کش دھماکے میں ملوث تھا اور یہ کالعدم تنظیم کا کمانڈر تھا جب کہ ملزم دہشت گردی کی دیگر وارداتوں میں بھی ملوث تھا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔

The post سراج رئیسانی پرخود کش دھماکے میں ملوث کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QHJ3va

کراچی کے کئی علاقے 4 روز بعد بھی بجلی سے محروم؛ زندگی اجیرن

بارشوں کے بعد کراچی شہر کے بیشتر علاقوں میں 4 دن سے بجلی غائب ہے اور لوگوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے، پینے کے پانی کی بوند بوند کو بھی ترس گئے ہیں۔

شہر قائد میں بارشوں نے بلدیاتی اداروں سمیت کے الیکٹرک حکام کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی، کئی علاقے تا حال بجلی سے محروم ہیں، لوگوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے اور بجلی نہ ہونے سے شہری پانی کی بوند بوند کو بھی ترس گئے ہیں جب کہ شہریوں کا احتجاج بھی کسی کام نہ آسکا۔

رامسوامی کے علاقے کوئٹہ والا اسکوائر میں 4  دن سے بجلی غائب ہے جب کہ کورنگی، لانڈھی، سرجانی ٹاؤن سمیت دیگر علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بجلی نہ ہونے کی وجہ سے عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں بھی کام ٹھپ ہوکررہ گیا ہے اور لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کے الیکٹرک کے کچھ دفاتر میں برساتی پانی کی نکاسی نہیں ہوئی جس کے باعث تاخیر کا سامنا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے  کہ جس طرح چارجز کی مد میں بھاری رقم وصول کی جاتی ہے، اسی طرح کے انتظامات کا بھی بندوسبت بھی کیا جائے، ہمارا مطالبہ ہے کہ حکام کے الیکٹرک کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پابند کریں۔

The post کراچی کے کئی علاقے 4 روز بعد بھی بجلی سے محروم؛ زندگی اجیرن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3gHfggx

اپوزیشن چاہتی ہے کہ کرپشن کی تشریح ان کے مطابق ہو، شبلی فراز

 اسلام آباد: وزیراطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ  اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں اپنے لیے این آر او لینا چاہتی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ کرپشن کی تشریح ان کے مطابق کی جائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کراچی کےعوام جس کرب سے گزر رہے ہیں ہم اس سے بخوبی آگاہ ہیں، کراچی کےعوام کےساتھ  پوری ہمدردیاں ہیں، وزیراعظم کراچی کی صورت حال پر متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں،  اور وزیراعلیٰ سندھ سےبھی بات ہوئی ہے، وزیراعظم نے سندھ حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اسی ہفتےکراچی کا دورہ کریں گے، اگرچہ سندھ کے عوام کی براہ راست زمہ داری ہماری نہیں لیکن وفاقی حکومت کراچی کےعوام کے ساتھ ہے اور مکمل تعاون کریں گے، ہم سندھ حکومت سے مل کر کام کررہے ہیں، ہم جو کراچی کیلئے کرنا چاہتے ہیں وہ اہم منصوبہ ہے، پر سندھ نے کبھی توجہ نہیں دی، وزیراعظم کی کوشش ہے سندھ کی عوام کو ریلیف دیا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے کراچی کی صورتحال پرسیاست کرنا قابل افسوس ہے، صوبائی وزیر کہتے ہیں کہ ہمیں 10 ارب روپے مل جائیں توحالات ٹھیک کر سکتے ہیں،  قمر زمان کائرہ نے کراچی کی صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت پر تنقید کی، پی پی رہنماؤں نےکہا کہ پاکستان اورعمران خان ساتھ  نہیں چل سکتے،  ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ پرانا پاکستان اورعمران خان ساتھ نہیں چل سکتے، عمراں خان اس پاکستان کی قیادت کررہے ہیں جس میں غریبوں کی بات ہوتی ہے،  پرانے پاکستان میں سیاست کو کاروبار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، وزیراعظم ان عناصرکے ساتھ نہیں چل سکتےجنہوں نے ذاتی فائدے کے لیے قوم کا مفاد داؤ پرلگایا۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں اپنے لیے این آر او لینا چاہتی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ کرپشن کی تشریح ان کے مطابق کریں اور جو کرپشن ہوئی ہے اس کا ان سے حساب نہ لیا جائے، جب کوئی قومی مسئلہ کھڑا ہوتا ہے تو پیپلزپارٹی کی قیادت غائب ہوجاتی ہے، ہم نےعوام کے سامنے اپوزیشن کی بلیک میلنگ عیاں کردی ہے، ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی ملک کےلیےکی جارہی ہے، عمراں خان کا کوئی ذاتی کاروبارنہیں۔

شبلی فراز نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ کسی طرح حکومت کو ناکام بنایاجائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی ہے لیکن اب ہر شعبے میں بہتری آرہی ہے، تھوڑی تاخیر ہوئی ہے لیکن عوام کو اس کے بہتر نتائج نظر آئیں گے، ہماری حکومت نے کامیابی سے کورونا وباء پر تقریبا قابو پالیا ہے، ہمارے فیصلوں کا محور عوام ہے۔

 

The post اپوزیشن چاہتی ہے کہ کرپشن کی تشریح ان کے مطابق ہو، شبلی فراز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/32JvgcO

اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کردیا

 اسلام آباد: اوگرا نے گھریلو سیلنڈر میں 18 روپے اور کمرشل سیلنڈر میں 73 روپے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ 

ایکسپریس  نیوزکے مطابق اوگرا نے بین الاقوامی مارکیٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایل پی جی کی قیمت میں 1 روپیہ 50  پیسے فی کلو اضافہ کردیا ہے، اور ماہ ستمبر 2020 کے لئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق گھریلو سیلنڈر 18 روپے اور کمرشل سیلنڈرکی قیمت میں 73 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد  اب  ایل پی جی 115 روپے 50 پیسے فی کلو سے بڑھ کر 117 روپے فی کلو، گھریلو سیلنڈر 1364 روپے کی جگہ 1382 روپے اور کمرشل سیلنڈر 5246 روپے سے بڑھنے کے بعد 5319 روپے میں فروخت ہوگا، جب کہ پیداواری قیمت 59096 کی جگہ 60460 روپے ملک بھر میں دستیاب ہوگی۔

ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ آئندہ سال میں قدرتی گیس کا بہت بڑا شاٹ فال متوقع ہےجس کی کمی کو پور ا کرنے کے لیے ایل پی جی پر منتقل ہونا ضروری ہے، ایل پی جی واحدسستا فیول ہے جو کہ قدرتی گیس کی کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،  ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل دونوں کمپنیوں کو سالانہ اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے، جس کو پورا کرنے کے لیے ایل پی جی کی پالیسی میں بہتر ترجیحات پر عمل کیا جائے۔

عرفان کھوکھر نے کہا کہ اوگرا صرف گھریلو سیلنڈر کی قیمت جاری کرتا ہے، ہم گھریلو سیلنڈر اوگرا کی قیمت پر ملک بھر میں فروخت کرنے کے پابند ہیں۔کسی شہر میں بھی اوگرا کی مقرر کردہ گھریلو سلنڈرکی قیمت سے زائد وصول کرے تو اس کی شکایت فوری طور پر اوگرا کے ہیلپ لائن پر اطلاع دی جائے۔

 

The post اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QIV0jW

علاقائی سالمیت کیلئے سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، شاہ محمود قریشی

 اسلام آباد: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی  نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کا تقدس ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دے گا۔

اسلام آباد میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دو طرفہ تعلقات گہرے اور تاریخی نوعیت کے ہیں، حرمین شریفین کا تقدس ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستان حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں شہری آبادیوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دے گا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ سعودی حکومت کورونا وبا کی  صورت حال میں بہتری کے بعد ملازمتوں سے برخاست کیے گئے پاکستانی ورکرز کی واپسی اور روزگار کی دوبارہ فراہمی کے حوالے سے خصوصی اقدامات کرے گی۔

The post علاقائی سالمیت کیلئے سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، شاہ محمود قریشی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/32HyIF6

کراچی میں برساتی پانی سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، حادثات میں اضافہ

کراچی: شہر میں حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد سڑکوں اور شاہراہوں پر جمع برساتی پانی سے سڑکوں پر گہرے گڑھے اور شگاف پڑ گئے جبکہ بیشتر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس  کے باعث حادثات رونما ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں گزشتہ ہفتے ہونے والی بارشوں میں شہر کی ہر سڑک اور شاہراہ زیر آب آگئی، جس نے شہر کا انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا، بارشوں کے بعد شاہراہوں اور سڑکوں پر کئی دن برساتی پانی جمع رہنے سے سڑکوں پر گہرے شگاف پڑ گئے اور سڑکیں مختلف مقامات سے ٹوٹ پھوٹ گئیں۔  سڑکوں پر گہرے گڑھے پڑجانے کے باعث مختلف علاقوں میں حادثات بھی رونما ہوئے۔

کراچی کے علاقے لیاقت آباد، عزیز آباد، غریب آباد، سمن آباد، تیں ہٹی، گرو مندر، ایکسپریس وے، قیوم آباد سمیت کورنگی کازوے اور مختلف علاقوں کی سڑکوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے، شہر کی تباہ حال سڑکیں ٹریفک اور شہریوں کی آمد و رفت کو شدید متاثر کر رہی ہیں، مختلف مقامات پر ٹریفک جام معمول بن گیا ہے، شہری منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وزیر اعظم کی ’’کراچی ٹرانسفارمیشن پلان‘‘ کو حتمی شکل دینے کی ہدایت

کورنگی کازوے پر بروکس چورنگی سے بلوچ کالونی جانے اور آنے والی دونوں اطراف کی سڑک کو چار فٹ گہرے اور 30 فٹ چورے شگاف پڑ جانے کے باعث ٹریفک کے لئے بند کیا گیا ہے تاہم ٹریفک کی آمدورفت بھی جاری ہے۔ سڑک پر گرے بجلی کے پول سے کرنٹ لگنے کے واقعات بھی رونما ہوسکتے ہیں، جو کسی جانی نقصان کا بھی سبب بن سکتے ہیں۔ حکومتی مشینری کی جانب سے گڑہوں میں ملبہ کی بھرائی کا عمل بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی میں مون سون بارشوں کا 7واں اسپیل آج سے شروع ہونے کا امکان

سیوریج کے ناقص انتظامات کے باعث گٹر ابل پڑے ہیں جس سے آب و ہوا شدید تعفن زدہ ہے جس میں شہریوں کا سانس لینا بھی محال ہوگیا ہے، اس حوالے سے شہریوں کا ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومتی اداروں نے تاخیر سے ہی صحیح برساتی پانی کی نکاسی تو کرلی لیکن سڑکوں کی مرمت نہیں کرسکے جو آمد و رفت سمیت کئی مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔

بیشتر مقامات سے برساتی پانی کی نکاسی نہ ہونے اور سیوریج کے ناقص انتظامات کے باعث گٹروں کا پانی سڑکوں پر جمع ہوگیا ہے، جس سے فضا شدید تعفن زدہ ہے، شہریوں نے حکام سے سڑکوں کی مرمت جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

The post کراچی میں برساتی پانی سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، حادثات میں اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/32FaIT4

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...