سائبر حملے میں نیشنل بینک کا ڈیٹا چوری ہونے کے شواہد نہیں ملے، ایف آئی اے

 کراچی: ایف آئی اے حکام نے کہا ہے کہ نیشنل بینک پر سائبر حملے کے دوران صارفین کا ڈیٹا ہیک ہونے کے شواہد نہیں ملے، کس ملک سے حملہ ہوا؟ اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم عمران ریاض نے پیر کی سہ پہر اپنی ٹیم کے ہمراہ نیشنل بینک ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔ اس دوران نیشنل بینک اور ایف آئی اے سائبر کرائم کے افسران کے مابین میٹنگ ہوئی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران ریاض کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک کے سرور پر ہفتہ واری تعطیلات کے دوران حملہ ہوا، نیشنل بینک کی انٹرنل ٹیم کی جانب سے بروقت اقدامات کی وجہ سے ہیکرز اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

یہ پڑھیں : نیشنل بینک پر سائبر حملہ؛ 40 فیصد برانچز بحال نہ ہوسکیں

 

ان کا کہنا تھا کہ بینک کی تمام سروسز کام کررہی ہیں، ڈیٹاچوری ہونے سے متعلق اطلاعات غلط ہیں، کس ملک سے حملہ ہوا؟ اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں، ایف آئی اے سائبر کرائم کی فرانزک ایکسپرٹس بینک کا ساتھ دے گی، کسی کسٹمر کا ڈیٹا لیک نہیں ہوا، لوگ آج بھی اے ٹی ایم کا استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے : قومی بینک کے سرورز پر سائبر حملہ، صارفین کو خدمات کی فراہمی معطل

عمران ریاض کے مطابق مالیاتی فراڈ اس وقت بہت بڑھ گیا ہے، عوام سے زیادہ تر کالز پر ہیکرز معلومات مانگتے ہیں، عوام کسی قسم کی انفارمیشن کا تبادلہ نہ کریں۔

The post سائبر حملے میں نیشنل بینک کا ڈیٹا چوری ہونے کے شواہد نہیں ملے، ایف آئی اے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Y3yklS

No comments:

Post a Comment

plz do not enter any spam link in the comment box

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...