کورونا وائرس؛ 250 سے زائد مشتبہ مریض معائنے کے لیے پمز پہنچ گئے

 اسلام آباد: کورونا وائرس کے 250 سے زائد مشتبہ مریض معائنے کے لیے اسلام آباد میں پمز اسپتال پہنچ گئے تاہم صرف 2 افراد میں ہی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

پاکستان میں جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے وہیں اب اسپتالوں میں اس وائرس کے مشتبہ مریضوں کی آمد میں بھی بدستور اضافہ جاری ہے، شہری نزلہ زکام اور بخار لگتے ہی کرونا وائرس کے شبے میں اسپتالوں کا رخ کرنے لگے ہیں، پمز اسپتال میں اب تک 250 سے زائد مشتبہ مریضوں کو معائنہ کے لیے لایا گیاہے تاہم اب تک اسلام آباد میں سرکاری طور پر 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال میں کوروناوائرس کے شبے میں اب تک اڑھاِئی سو سے زائد مریض معائنہ کیلئے آچکے ہیں ان میں سے 40 کے قریب افراد کے خون کے نمونے ٹیسٹ کیلئے این آئی ایچ کو بھجوادیے گئے تھے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ مریضوں میں اب تک دو مریضوں کے خون نمونے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے، اسپتال ذرائع کے مطابق کوروناوائرس سے متاثرہ اسپتال میں پہلے سے موجود مریض کی حالت بہتر ہے اور خطرے سے باہر ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ مشتبہ مریض آئیسولیشن وارڈ میں داخل ہے، ان سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے شبے میں آنے والے تمام مشتبہ مریضوں کے خون کے نمونے ٹیسٹ کیلئے نہیں بھجوائے جارہے بلکہ محض ایک ماہ کے دوران چین، ایران یا دیگر متاثرہ ممالک سے آئے افراد کے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں جب کہ آئیسولیشن وارڈ میں صرف ان مریضوں کو داخل کیا جاتا ہے جن کے سیمپل لئے جاتے ہیں۔

The post کورونا وائرس؛ 250 سے زائد مشتبہ مریض معائنے کے لیے پمز پہنچ گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VzBfPN

ریلوے حادثات؛ منظور وسان نے شیخ رشید کو منحوس قرار دے دیا

رانی پور: پیپلز پارٹی کے رہنما اور اپنے خوابوں سے سیاسی پیش گوئیاں کرنے والے منظور وسان نے وزیر ریلوے شیخ رشید کو منحوس قرار دے دیا۔

رانی پور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے منظور وسان نے کہا کہ جب سے شیخ رشید کو ریلوے کی وزارت ملی ہے تب سے ریلوے میں حادثات نہیں رکے۔ ریلوے کو سدھارنے کے بجائے شیخ رشید ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں اور سارا ملبہ مخالفین پر ڈالتے ہیں، ہم جیل اور سختیوں کی پیداوار ہیں، میرے خلاف 1990 میں اس وقت کلاشنکوف کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جب جام صادق وزیر اعلی سندھ تھے۔ شیخ رشید کو ہر نیوز کانفرنس میں اپنے خلاف ایک مقدمے کا ذکر نہیں بھولتا۔

منظور وسان کا کہنا تھا کہ عمران خان پر سرمایہ لگانے والوں میں سے 80 فیصد ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں جب کہ دیگر 20 فیصد سرمایہ کار اور ٹھیکدار بھی اس سال چھوڑ جائیں گے۔ عمران خان کی حکومت اس سال نہیں رہے گی، انہیں گھر بھیج دیا جائے گا۔

The post ریلوے حادثات؛ منظور وسان نے شیخ رشید کو منحوس قرار دے دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2TqAXbc

لاہور میں ٹرک ڈرائیور نے 3 بچوں کو کچل دیا

 لاہور: بھاٹی گیٹ کے قریب ٹرک ڈرائیور نے موٹر سائیکل پر سوار 3 بچوں کو کچل دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیر مکی کے قریب تیز رفتار ٹرک نے موٹر سائیکل پر سوار 3 بچوں کو کچل دیا۔ تینوں بچے طبی امداد ملنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تینوں بچے آپس میں دوست تھے اور ان کی شناخت ارسلان، احمد اور اختر کے نام سے ہوئی ہے۔ تینوں دوست ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے موٹر سائیکل پر نکلے تھے۔ حادثے کے بعد ڈرائیور ٹرک چھوڑ کر موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

The post لاہور میں ٹرک ڈرائیور نے 3 بچوں کو کچل دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2weashk

بُک شیلف

پہل اس نے کی تھی
مصنف: جبار مرزا۔۔۔قیمت: 1200 روپے۔۔۔صفحات: 320
ناشر: قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، والٹن روڈ کینٹ لاہور،0300 0515101

دل کے تار چھیڑنا، اس محاورے کے معنی کا صحیح  اندازہ جبار مرزا کی آپ بیتی پڑھنے پر ہوتا ہے، آپ بیتی شروع کرتے ہی قاری اس کے سحر میں گرفتار ہوتا چلا جاتا ہے، تحریر اس کے محسوسات کو اتنے شدید انداز میں چھو لیتی ہے کہ وہ آپ بیتی کے کرداروں پر بیتنے والے جبر اور کرب کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ وہ ان کی خوشی میں خوشی محسوس کرتا ہے اور ان کے غم پر افسردہ ہو جاتا ہے۔

مصنف کو قارئین کے دلوں کو مسخر کرنے کے فن میں مکمل مہارت ہے۔  ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہتے ہیں ’’ جبار مرزا کو کبھی کبھی میں ’’ تلوار مرزا‘‘ بھی کہہ جاتا ہوں ، اس لئے نہیں کہ ان کی بڑی بڑی نوکدار مونچھیں ہیں ، بلکہ ان کی تحریر کی کاٹ ہی ایسی ہے کہ وہ قلم کو تلوار کر لیتے ہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ ہماری سیاست کا کوئی وڈیرہ یا جاگیردار ان سے بچ نکلا ہو ۔ کتاب کے مرکزی کردار ’’ چوہدرانی صاحبہ‘‘ کے لئے ان کا لہجہ بڑا گداز اور پر تاثیر ہے ۔

وضع داری اور پردہ داری کا خاص اہتمام ہے ۔ کتاب میں کہیں پتہ نہیں چلتا کہ چوہدرانی کون ہے، اس کا اصل نام کیا ہے ، کہاں رہتی ہے، کس کی بیٹی ہے، اسے پڑھنے کہاں بجھوایا گیا تھا ،  جبار مرزا سینتیش برس پہلے جس کا گھر بسانے میں لگے رہے، اس کتاب میں اس کو بچانے میں مصروف ہیں ۔‘‘

ڈاکٹر انعام الحق جاوید کہتے ہیں ’’ جبار مرزا ایک جانے پہچانے اور مانے ہوئے قلمکار، محقق کالم نگار ، شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں مگر ان کی یہ کتاب پہلی کسی کتاب سے لگا نہیں کھاتی بلکہ یہ کہنا مبنی برحقیقت ہو گا کہ ان کی یہ کتاب اردو ادب کے خزانے میں موجود ہزاروں لاکھوں کتابوں میں سے کسی بھی کتاب سے لگا نہیں کھاتی کیونکہ یہ ایک مکسچر ہے کئی اصناف کا ، کئی اسالیب کا اور کئی ادبی تکنیکوں کا ۔‘‘چوہدرانی کے ہاتھ سے لکھے خطوط کا عکس بھی شائع کیا گیا، رنگین تصاویر سے کتاب کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ کتاب، خود نوشت بھی ہے اور ناول بھی ۔ مجلد کتاب کو آرٹ پیپر پر دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

آئینہ تمثال

انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ نے معروف ادیب اسلم سراج الدین کی یاد میں انتخاب شائع کیا ہے جس کی ابتدا حمد و نعت کے ساتھ کی گئی ہے، اس کے بعد افسانے، خاکے، مضامین اور شاعری ہے۔ یہ تحریریںانجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں پڑھی گئی ہیں ۔ گوجرانوالہ میں انجمن کے اجلاس حسب معمول ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نئے لکھنے والوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ اور ان میں سے بہت سے اب مستند نقاد، شاعر اور تخلیق کار کے طور پر معروف ہیں۔

مدیر اعلیٰ سخی رشید اعوان، اسلم سراج الدین کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں’’ وہ ایک ایسے گیانی تھے جو شعور اور لاشعور کی  تہوں کو کھنگالتے اور صفحہ قرطاس پر بو قلموں رنگوں کی صورت بکھیرتے تھے، انھیں’’ عجائب رقم‘‘ کے اسم با مسمیٰ سے یاد کرنا کوئی عجیب بات محسوس نہیں ہوتی۔‘‘ آئینہ تمثال میں شامل تحریریں معیار پر پورا اترتی ہیں اور ادب میں خوبصورت اضافہ ہیں۔ انجمن کو یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا چاہیے تاکہ لکھنے والوں کو ادب کی دنیا میں قدم رکھنے میں آسانی میسر رہے۔ انتخاب خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے، قیمت 300 روپے ہے، حصول کے لئے اس پتہ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے، 18علامہ اقبال چیمبرز، ضلع کچہری ، گوجرانوالہ، فون  0304 6994633

کنول کنول کھلا رہے
شاعر: ابوالبیان پروفیسر ظہور احمد فاتح۔۔۔قیمت:500 روپے۔۔۔صفحات:160
ناشر: فاتح پبلی کیشنز نیوکالج روڈ تونسہ شریف(03326066364)

ابوالبیان پروفیسر ظہور احمد فاتح قادر الکلام شاعر ہیں، متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، اپنے محسوسات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں ، سادگی میں پرکاری نظر آتی ہے، جیسے کہتے ہیں،

جس کو سمجھا ہوں رہ گزر تیری
وہ تری رہ گزر نہیں ہو گی
دل کی گہرائی سے جو نکلے گی
وہ دعا بے اثر نہیں ہو گی
شعر کہتے ہیں اس لئے فاتح
شاعری بے ثمر نہیں ہو گی
اسی طرح ایک اورغزل میں کچھ یوں گویا ہوتے ہیں
کسی کو دکھ یہ الم آ شنا نہیں دیتے
وفا شعار کسی کو دغا نہیں دیتے
کسی سزا سے گریزاں تو ہم نہیں لیکن
ہمارا جرم ہمیں کیوں بتا نہیں دیتے؟
ان کی شاعری دل کے تاروں کو چھیڑ دیتی ہے، ہر غزل میں ان کا یہی انداز ہے۔

غزل کے استعارے
شاعر: انوار ندیم علوی۔۔۔قیمت:400 روپے۔۔۔صفحات: 136
ناشر: زربفت پبلی کیشنز، اردو بازار، لاہور(0303 4060515)

انور ندیم علوی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، وہ اپنے دل کی بات بڑے خوبصورت پیرائے میں قاری تک پہنچاتے ہیں، جیسے کہتے ہیں،

جھوٹ نفرت کبھی نہیں لکھنا
خوب صورت سدا حسیں لکھنا
چاند جھومر ہے اس کے ماتھے کا
مہ جبیں کو ہی مہ جبیں لکھنا

احمد ندیم قاسمی نے ان کی شاعری کے حوالے سے کہا تھا ’’میرے ہم تخلص انور ندیم علوی ایک عمدہ غزل گو ہیں۔ انھوں نے جو تراجم کئے ہیں وہ اتنے معیاری اور سچے ہیں کہ ان پر اصل کا گمان ہوتا ہے، میری رائے میں ندیم علوی نے ان تراجم کے ذریعے شعر و ادب کی تاریخ میں اپنی شمولیت کا نہایت جائز جواز پیش کر دیا ہے۔ ان کی اوریجنل غزل بھی جدید اور عصر حاضر کی نمائندہ ہے‘‘۔ محسن بھوپالی نے کہا ’’ انور ندیم علوی نظم میں ایک خاص انداز رکھتے ہیں۔ ان کی غزل میں روایت اور جدت کا امتزاج ملتا ہے۔‘‘  زیر تبصرہ کتاب میں نظموں اور غزلوں کے ساتھ ساتھ ممتاز شعرا ء کے تراجم بھی شامل کئے گئے ہیں، اور اتنے معیاری ہیں کہ لگتا نہیں یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ مجلد کتاب کو دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

فضا اعظمی کی شاعری
( تلمیحات کے آئینے میں)
مصنف: شبیر ناقد ۔۔۔قیمت: 500 روپے۔۔۔صفحات:112
ناشر:اردو سخن، اردو بازار، چوک اعظم، لیہ 0302 7844094

تنقید برائے تنقید کرنا بہت آسان کام ہے کیونکہ اس میں تحقیق کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، سنی سنائی پر تبصرہ کر دیا جاتا ہے، اور بدقسمتی سے عام چلن بھی یہی ہے۔ تاہم ادب کی دنیا میں تنقید کرنا کوئی آسان کام نہیں، کیونکہ اس کے لئے تحقیق کے سمندر میں اترنا پڑتا ہے جیسے کسی کھیل کے ایمپائر کو تمام قواعد کا علم ہوتا ہے اسی طرح نقاد کو بھی ادب کے تمام قرینوں کا علم ہونا چاہیے، تب وہ تحقیق کے سمندر میں اترتا ہے۔ شبیر ناقد کو تنقید کے فن میں مکمل مہارت حاصل ہے۔ ابو البیان ظہور احمد فاتح کہتے ہیں’’فضا اعظمی کی شاعری: تلمیحات کے آئینے میں‘ ایک پسندیدہ اور جدید کاوش نقد ہے۔

ہو سکتا ہے کہ قبل ازیں تلمیحات کے حوالے سے کسی سخن ور کے کلام پر اس  نوع کی ناقدانہ جسارت ہوئی ہو، بہرحال یہ کام خود میں ایک یک گونہ ندرت لیے ہوئے ہے۔ جس میں تنقید نگار کے لئے خاصی کٹھنائیاں موجود ہیں‘‘۔ اسی طرح شکیل اختر کہتے ہیں’’ شبیر ناقد کی کتاب’ فضا اعظمی کی شاعری، تلمیحات کے آئینے میں‘ کے مسودے کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے جذبہ عشق اور مسلسل محنت و ریاضت سے کام لے کر اسے مکمل کیا ہے۔

اس میں صنعت تلمیح کی تعریف پر ازسر نو نظر ثانی کی گئی ہے جو کسی قدر جامع اور مستند ہے۔ صنعت ہٰذا کا پس منظر، تاریخ، ارتقاء اور اقسام کو غالباً پہلی بار ( کم از کم میرے مطالعہ کے مطابق) کسی مستند کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے، سب سے بڑی اور خوش کن بات یہ ہے کہ استاد شعرا کا گراں قدر تلمیحی اثاثہ بھی بیان کیا گیا ہے جو نوآموز شعراء کے مطالعہ کے لیے خاصا مفید ہو سکتا ہے، اس سے ان کی فکری اور فنی اپچ کو جلا ملے گی ۔‘‘ شبیر ناقد کی یہ کتاب تنقید کے میدان میں شاندار اضافہ ہے۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

تبصرہ نگار:شہباز انور خان
تذکار ِ بگویہ ( جلد پنجم )
  ترتیب و تدوین: ڈاکٹر انوار احمد بگوی۔۔۔ صفحات: 608۔۔۔  قیمت: درج نہیں
  ناشر : مکتبہ علمیہ پریس اعظم گڑھ، انڈیا

پنجاب  کے ضلع سرگودھا کے شہر بھیرہ  سے تعلق رکھنے والا خاندان بگویہ برصغیر ( متحدہ ہندوستان ) میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ اس خاندان کے بزرگوں نے اس خطے کے مسلمانوں کی علمی، روحانی، سیاسی اور تہذیبی سطح پر کردار سازی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ اس خاندان کی خدمات کا عرصہ مجموعی طور پر کم وبیش چار صدیوں پر محیط ہے۔اسی عظیم الرفعت خانوادے ہی کے ایک چشم و چراغ ڈاکٹر انوار احمد بگوی ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کے بزرگوں، اپنے جد امجد کی تاریخی خدمات کو بڑے احسن انداز اور سلیقہ مندی کے ساتھ منضبط کر کے ملک کے اہل علم و دانش کے ساتھ ساتھ عام آدمی تک پہنچانے کا خوش گوار فریضہ انجام دیاہے۔

انہوں نے اس خاندان کی 1650 ء سے 2010ء تک کی تاریخ کو مدون کرنے کے بعد انہیں مختلف جلدوں کی صورت میں یکجا کر کے محفوظ کر لیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تذکار ِ بگویہ‘‘ کی جلد پنجم ہے ۔ (  اس سے قبل اسی عنوان ( تذکارِ بگویہ )  کے تحت  چار جلدیں شائع ہو کر ہر خاص و عام سے تحسین حاصل کر چکی ہیں۔) جلد پنجم دراصل  اس عالیشان خاندان کی قابل ِ فخر شخصیت، تحریک خلافت اور تحریک ِ پاکستان کے سرکردہ رہنما ابوالخیر مولانا ظہور احمد بگوی ؒ کی علمی، مذہبی، ادبی، سماجی اور سیاسی موضوعات کے حوالے سے مطبوعہ تحریروں پر مشتمل ہے جو انہوں نے 1920 ء سے 1945ء کے عرصہ کے دوران قلمبند کیں اور ماہنامہ ’’ شمس الاسلام ‘‘ بھیرہ میں شائع ہوئیں۔

یہ محض فر د ِ واحد کی تحریریں ہی نہیں ہیں بلکہ اس عہد کے سیاسی، مذہبی، سیاسی اور سماجی احوال اور تاریخ کی عکاس بھی ہیں۔ تاریخ و سیاسیات کے طالب علموں کے لیے یہ کتابیں گرانقدر اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں جن سے تا دیر استفادہ کیا جاتا رہے گا۔ ڈاکٹر انوار احمد بگوی بلاشبہ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس عظیم اور وقیع کام کا بیڑا اٹھایا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔امید واثق ہے کہ یہ کتاب ہماری تاریخ ، سیاست، ادب، مذہب، سماجیات اور عمرانیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک بیش بہا تحفہ ثابت ہوگی۔

 حاجی صاحب اور دوسری کہانیاں
 مصنف: فیصل اقبال اعوان۔۔۔۔ صفحات: 88۔۔۔۔ قیمت: 200 / روپے
 ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، مزنگ روڈ، لاہور

زیر تبصرہ کتاب نوجوان ادیب فیصل اقبال اعوان کی پندرہ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ انسانوں میں پائی جانے والی منافقت اور قول وفعل میں تضاد ان کہانیوں کا بنیادی موضوع ہے اور مصنف نے اسے خوب نبھایا ہے۔ یہ تمام کہانیاں ہمارے شہری اور دیہاتی ماحول سے جڑی ہوئی ہیں۔کتاب کے مصنف چونکہ قانون دان ہیں اس لیے اس پیشہ سے وابستگی کے باعث ان کا تجربہ و مشاہدہ عام قلم کار کی نسبت بہرحال زیادہ اور وقیع ہے۔ کتاب میں شامل کہانیوں میں جن کرداروں کو پیش کیا گیا ہے وہ اسی سماج میں ہمارے اردگرد پائے جاتے ہیں۔ مکالمے جان دار اور زوردار ہیں تاہم کہیں کہیں خود کلامی کا تاثر بھی ملتا ہے۔

ان کہانیوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ خواہ مخواہ کی طوالت سے پاک ہیں مختصر ہونے کی بنا پر کسی بھی قسم کی بوریت اور اکتاہٹ کے بغیر قاری کو ایک ہی نشست میں پڑھنے پر مجبورکردیتی ہیں اور یہی اس کتاب کا حسن بھی ہے جو کہانی کار کو دوسرے ہم عصر کہانی کاروں سے ممتا ز کرتا ہے۔کتاب پر فکشن رائٹر عاصم بٹ، مخدوم سلمان ٹیپو، روف طاہر حیدری، سمیر عاصم فاروقی اور شاہد شبیر ایسے اہل قلم کی تعریفی و تہنیتی آراٗ بھی شامل ہے جن کے بعد کتاب کے حق میں مزید کسی گواہی کی حاجت نہیں رہتی۔

 ہوا سے مکالمہ
 شاعرہ : صفیہ حیات۔۔۔ صفحات: 152۔۔۔ قیمت: 400 / روپے
 ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، مزنگ روڈ، لاہور

زمانہ ء جہالت کی رسوم و رواج اور جبر و استبداد پر مبنی ظالمانہ نظام آج بھی عورت کی زندگی کو اجیران بنائے ہوئے ہے جس کے باعث وہ ’’ آزاد سماج ‘‘ میں بھی غلامانہ طور طریقے اپنانے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ جدید تعلیم، روشن خیالی اور لبرل ازم کی چکا چوند نے عورت کو بہت حد تک ان رسوم و رواج کا باغی بنادیا ہے لیکن شہروں سے دور دیہاتی اور قبائلی سماج میں آج بھی زمانہ جہالت کی خو، بو برقرار ہے جس کے خلاف وقتا ً فوقتا ً کہیں نہ کہیں سے آواز بھی اٹھتی رہتی ہے۔ سو ایک ایسا معاشرہ جہاں پر عورت کی حیثیت ایک باندی یا غلام کی سی ہو، اس معاشرے میں مظلوم و مقہور عورت کے حق میں کسی عورت ہی کی طرف سے پوری توانائی اور بیباکی کے ساتھ آواز بلند کرنا بڑے دل گردے کی بات ہے۔

کتاب میں شامل نظمیں بطور عورت سماج کے غیر منصفانہ رویے اور امتیازی سلوک کے خلاف بھرپور احتجاج سے مملو ہیں۔الفاظ کی دو دھاری تلوار سے سماج کے اس بودے پن اور دوغلے کردار کو جس طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ہے اس پر شاعرہ یقینی طور پر داد کی مستحق ہیں۔ جذبات کی شدت ، احساس کی چبھن ، حساسیت اور تیکھے پن نے سارہ شگفتہ اور نسرین انجم بھٹی کی یاد تازہ کردی ہے۔ ہمارے ہاں خواتین شعراٗ جس قسم کی شاعری کر رہی ہیں ان میں صفیہ حیات کا مذکورہ شعری مجموعہ اپنی انفرادیت اور تازہ کاری کی بنا پر الگ سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔کتاب کے آخر میں نو صفحات پر مشتمل ہرویندر سنگھ ڈائریکٹر حکومت پنجاب، چندی گڑھ (انڈیا) کا بزبان ِ انگریزی خوب صورت اور سیر حاصل تبصرہ بھی شامل ہے۔ جس میں ان کی شاعری کو بجا طورپر سراہا گیا ہے۔

تیجی مخلوق
 مصنفہ: ہرکیرت کور چاہل ۔۔۔ ترجمہ: محمد آصف رضا۔۔۔ صفحات: 158
 قیمت: 250 روپے۔۔۔  ناشر : بابا فرید بک فاونڈیشن

اللہ تعالیٰ کی انسانی مخلوق میں کھسرے ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانی معاشرے میں سب سے زیادہ مظلوم ، بے بس اور لاچار تصور کی جاتی ہے۔ اسے عرف عام میں تیسری مخلوق کا نام دیا جاتا ہے۔کیونکہ اس کا شمار نہ تو مردوں میں ہوتا ہے اور نہ ہی خواتین میں۔ چنانچہ ایسے فرد کو نہ تو معاشرے میں کوئی عزت ملتی ہے اور نہ ہی خاندان میں ہی اس کو کوئی مقام حاصل ہوتا ہے۔ حتی ٰکہ اس کے اپنے گھر میں اس کے بہن بھائی بھی اسے اپنا کہتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔

جب کہ ان کا تیسری مخلوق کی صورت میں وجود میں آنا نہ تو خود ان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور نہ ہی ارادہ ۔ ہر کیرت کور چاہل نے اس تیسری مخلوق کے اندر جھانکنے کی کوشش کی ہے اور ا س کی اس مظلومانہ زندگی کو سمجھ کر اسے عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔انہوں نے ’’تیجی مخلوق‘‘ کے زیر عنوان پنجابی زبان میں ناول لکھ کر اس بدقسمت مخلوق کی بے بسی کی داستان رقم کرتے ہوئے اس کے حقوق اور اس کی سماج میں عزت اور مقام کے لیے آواز بلند کی ہے۔

ہر کیرت کور چاہل کا تعلق چونکہ بھارتی پنجاب سے ہے اس لیے اپنے اسی سماج کی نمائندگی کی ہے جہاں اس مخلوق کی کوئی شناخت نہیں ہے جب کہ ہمارے ملک میں اس صنف کی ایک باقاعدہ تیسری مخلوق ( ٹرانس جینڈر ) کے نام سے شناخت کے حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کی گئی ہے۔ اور اسے اب الگ سے شناخت بھی مل گئی ہے لیکن اس کے باوجود سماج میں جس قسم کے مثبت رویے اور غیر امتیازی سلوک کی ضرورت ہے وہ ابھی اسے نہیں مل سکی۔ہرکیرت کور چاہل کا، یہ ناول گورمکھی رسم الخط میں شائع ہوا تھا جسے محمد آصف رضا نے شاہ مکھی میں ڈھال کر اہل پاکستان کے لیے پیش کیا ہے۔

 

The post بُک شیلف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/32Cga8A

ایک دن کا بادشاہ

چترال: قدرت نے بعض علاقوں اور مقامات کو ہر طرح کی موسمی خوب صورتی اور قدرتی نظاروں سے نوازا ہے، پاکستان میں ملکہ کہسار مری، گلیات، ناردرن ایریاز، سوات، دیر اپنے قدرتی حسن ومناظر کی وجہ سے مشہور ہیں لیکن چترال کی کالاش وادیوں کی خوب صورتی ہر موسم میں اپنے منفرد کلچر کی وجہ سے ان سب میں یکتا ہے۔

کالاش کی وادی میں اگر ایک طرف پہاڑوں، آبشاروں، قدرتی جنگلات ، پھل دار درختوں ، دودھ کی رنگت جیسا بہتا پانی ، مال مویشی، سبزہ اور ان گنت چیزیں دعوت نظارہ دیتی ہیں تو دوسری جانب ساڑھے چار ہزار سال قدیم تہذیب کے حامل کالاش قبیلے کے لوگوں کی سال بھر نہ ختم ہونے والے اور یکے بعد دیگرے انجام پانے والے تہوار اور رسوم سیاحوں کے لیے انتہائی دل چسپی کا باعث ہیں۔

بہت سارے مقامی وغیرمقامی سیاحوں ا ور لوگوں کا خیال ہے کہ کالاش کی وادیوں کی سردیوں کی خوب صورتی گرمیوں کی نسبت زیادہ دل کش ہوتی ہے اور خود مقامی لوگ بھی سردی کو زیادہ پسند اور اس موسم کا شدت سے انتظار کرتے ہیں کیوںکہ سردی کے موسم میں جب وادیاں برف کی چادر اوڑھ لیتی ہیں تو کھیتی باڑی اور دیگر کام کاج مکمل طور پر رُک جاتے ہیں اور یہاں باسی ہاتھ پر ہاتھ دھرے جمع کردہ اشیاء کو کھاتے، موج اُڑاتے، کھیل کود اور دیگر رسوم میں وقت گزارتے ہیں، سردیوں کی ان رسومات میں سے بادشاہ کا انتخاب سب سے دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے۔

دنیا میں اس کی مثال ہو یا نہ ہو لیکن کالاش ویلیز میں ایک دن یا نصف دن کے لیے بادشاہ کے انتخاب کی رسم صدیوں سے چلی آرہی ہے اور اب تک سینکڑوں افراد بادشاہ (میتار) کا لقب حاصل کر چکے ہیں جب کہ اس دوران ہزاروں مال مویشی ذبح کرکے میتار بننے کی خوشی میں دعوت پر لٹائے جاچکے ہیں۔ میتار بنانے کی یہ رسم آج بھی انتہائی دل چسپی اور جوش و جذبے سے ادا کی جاتی ہے۔ حال ہی میں شدید برف باری کے بعد بمبوریت ویلی میں گاؤں انیڑ کی دو ٹیموں کے مابین کالاش قبیلے کا مشہور ومعروف سرمائی کھیل کریک گاڑ (سنوگاف) کا مقابلہ ہوا، ٹیموں کی شناخت شادی شدہ اور غیرشدہ کے نام سے کی گئی تھی جس میں غیرشادی شدہ کھلاڑیوں کی ٹیم نے مد مقابل شادی شدہ ٹیم کو ٹکنے نہیں دیا اور زبردست کھیل پیش کرکے ایک کے مقابلے میں تین گولوں سے کام یابی حاصل کی۔ اس کام یابی پر منعقد ہونے والا جشن دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ہر کوئی کام یابی پر مدہوش اور ڈھول کی تھاپ پر محو رقص تھا۔

اس جشن کی رنگینوں میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب گاؤں کے لوگوں نے حسب روایت کالاش نوجوان خوش ولی کو میتار (بادشاہ) چُن لیا۔ بادشاہ کو کندھوں پر اُٹھاکر مخصوص گیت گائے گئے اور ڈھول کی تھاپ پر ناچتے گاتے اُسے گاؤں میں پھرایا گیا۔ خصوصی لباس چپان اور ٹوپی پہنائی گئی۔ گاؤں کے لوگ انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے باری باری میتار سے گلے ملے اور مبارک باد دی جب کہ خواتین نے نئے بننے والے میتار پر اخروٹ اور خشک میوہ جات کی برسات کردی۔ میتار (بادشاہ) کے انتخاب کے موقع پر مقامی لوگوں اور سیاحوں کا ایک جم غفیر موجود تھا اور یہ گمان ہورہا تھا کہ جیسے حقیقی معنوں میں کسی بادشاہ کا انتخاب کیا گیا ہے اور اُس کی تاج پوشی کی جارہی ہے۔

اس موقع پر منتخب شدہ میتار نے گاؤں کے باسیوں اور مہمانوں کے لیے ایک بیل ذبح کرکے اسپیشل ڈش (جوش) کی ضیافت دی۔ حسب روایت دیسی گھی سے تیار ہونے والی اس اسپیشل ڈش پر تقریباً ڈھائی لاکھ روپے صرف ہوئے، کیوںکہ کالاش طریقے کے مطابق گوشت کا الگ حصہ، اسپیشل ڈش (جوش) دیسی گھی کی پیالی اور روٹی ہر ایک میں تقسیم کی گئی۔ رات بھر اس خوشی میں موسیقی کی محفل جمی رہی جس میں نوجوانوں نے خوب جی بھرکر ڈانس کرکے شدید سردی کو مات دے دی۔ اس موقع پر بادشاہ کے احکامات کی بجا آوری کے لیے ایک اور نوجوان نجیب اللہ کالاشی کو بطور وزیر بھی منتخب کیا گیا، جس نے حاضر مہمانوں کے لیے بکرا ذبح کر کے دعوت دی۔

کالاش وادیوں میں شدید برف باری کے دوران زندگی کو متحرک رکھنے کے لیے کھیلوں اور دعوتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ گویا مل بیٹھنے اور سردی کا مقابلہ کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ بادشاہ کے احکامات پر عمل درآمد کے کئی قصے بھی مشہور ہیں اور جب بادشاہ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس کی بجاآوری لازمی تصور کی جاتی ہے۔ کئی مرتبہ میتار (بادشاہ) نے گاؤں کے رہائشی دوسرے افراد کو مال مویشی ذبح کرکے دعوت دینے کے احکامات دیے۔ تو پورے گاؤں کے لوگوں نے اپنا حصہ ڈال کر ضیافت کا اہتمام کیا۔ بادشاہ کسی کو کوئی عنایت کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس کی بجا آوری کی جاتی ہے۔ سیکڑوں افراد میتار کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر ان کے لیے دعوت وضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے کیوں کہ یہی عمل بادشاہ کے لیے کالاش برادری میں اپنی ناک اونچی رکھنے اور فخر کی بات ہوتی ہے۔

برادری میں یہ رسم پُشت در پُشت اور سینہ بسینہ چلی آرہی ہے۔ مذہبی تہواروں اور خاندانی خوشی غمی میں نہایت فخریہ انداز میں اس کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ مذہبی پیشوا، بیٹان وغیرہ جب اس حوالے سے اپنے مخصوص انداز میں تاریخ بیان کرتے ہیں تو کالاش بزرگ مردو خواتین اُن کو گھیر لیتے ہیں اور انتہائی انہماک سے اْنہیں سنتے ہیں اور اگلی نسل کو منتقل کرنے کے لیے یہ باتیں یاد کرتے ہیں۔ کالاش وادیوں کی یہ ثقافت شاید ہی دنیا میں کہیں پائی جاتی ہو کیوںکہ یہ دنیا کی واحد نسل ہے جو چترال کی تین وادیوں میں آباد ہے۔

گیارہویں صدی عیسوی تک کالاش حکم رانوں کی حکومت افغانستان کے کنڑ صوبہ کے صدر مقام اسد آباد (چغنسرائے) سے چترال کے بالائی علاقہ موڑکہوہ تک پھیلی ہوئی تھی، جس کی باقیات چترال کے کئی مقامات پر آج بھی موجود ہیں۔ بادشاہ بننے کی یہ رسم اصل بادشاہت کو زندہ رکھنے اور اپنی تاریخی حیثیت کو دوام بخشنے کی کوشش ہے اور ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو پہاڑوں کے دامن میں رہنے والے کالاش قبیلے کے لوگوں کو تہذیب و تمدن سے عاری سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ تہذیب و تمدن اور حکومت کے رموز و آداب سے پوری طرح واقف ہیں اور انہوں نے چترال اور افغانستان کی طویل وادی میں صدیوں تک حکومت کی۔

چترال کی کالاش وادیاں جہاں موسم گرما میں تمام سیاحوں کے لیے انتہائی دل چسپی اور کشش کا باعث ہوتی ہیں، وہیں موسم سرما میں مہماتی سیاحوں اور کلچرل سیاحوں کے لیے یہ جنت سے کم نہیں اور وہ یہاں آنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے سیاحت کو فروغ دینے کے سلسلے میں اقدامات کے بعد ان علاقوں کی رونقیں مزید بڑھ چکی ہیں اور امسال تقریباً دو لاکھ سیاحوں نے چترال اور کالاش کی وادیوں کی سیر کی، جس کے باعث یہاں کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

سرمائی سیاحت میں دل چسپی رکھنے والے سیاحوں خصوصاً فیملی کے ساتھ آنے والے سیاحوں کے لیے یہ بات کسی خوش خبری سے کم نہیں کہ ان وادیوں میں کئی مقامات پر گیسٹ ہاؤسز تعمیر ہو چکے ہیں جن میں اعلیٰ معیار کی سہولیات سیاحوں کو دست یاب ہیں۔ یہ گیسٹ ہاؤسز زیادہ تر کالاش کی تعلیم یافتہ خواتین چلارہی ہیں اور ان میں گھر جیسا ماحول میسر ہے، جب کہ ان میں کالاش تہذیب و ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

اسی طرح ٹی سی کے پی کے زیرانتظام کیمپنگ پاڈ کی تعمیر بھی آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ کالاش کی وادیوں میں اب بھی بڑی تعداد میں سیاح موجود ہیں اورکریک گاڑ (سنوگاف) کے مقابلے بھی جاری ہیں۔ ہر روز ایک گاؤں کا مقابلہ دوسرے گاؤں سے ہوتا ہے جس کے باعث برف پر زندگی سب سے زیادہ متحرک دکھائی دیتی ہے۔ کریک گاڑ کا یہ مقابلہ بمبوریت کے بالائی مقام شیخاندہ میں بھی جاری ہے۔ گذشتہ سال کاتی کلچر آرگنائزیشن کے زیرانتظام سنوگاف ٹورنامنٹ کے فائنل میں گبور ٹیم نے کام یابی حاصل کی تھی اور یہ مقابلے ایک ماہ تک جاری رہے۔ شیخان قبیلہ جسے قریش بھی کہا جاتا ہے، کا دعویٰ ہے کہ کریک گاڑ جسے وہ اپنی زبان شیخانوار میں مچئے کہتے ہیں، اصل میں ان کا کھیل ہے۔

اس حوالے سے علاقے کی ممتاز سیاسی اور سماجی شخصیت سابق ناظم یوسی ایون عبدالمجید قریشی کا کہنا ہے کہ دراصل کریک گاڑ (سنوگاف) نورستان (افغانستان) میں کھیلا جاتا ہے، تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل جب پہلی مرتبہ ان کے آباؤاجداد نورستان سے آکر مہترچترال کی اجازت سے شیخاندہ میں آباد ہوئے، تب سے اس کھیل کو کالاش وادیوں میں فروغ ملا اور کالاش قبیلے کے لوگ بھی یہ کھیل کھیلنے لگے۔

اسی طرح بادشاہ (میتار) کے چناؤ کی رسم بھی ان کی ثقافت کا حصہ ہے۔ ممتاز سوشل ورکر کالاشی نوجوان لوک رحمت کا کہنا ہے کہ چاہے یہ رسم کہیں سے بھی آئی ہو ہمیں یہ دل وجان سے زیادہ عزیز ہے۔ اسی طرح کریک گاڑ (سنوگاف) کو کالاش قبیلے میں بہت پذیرائی ملی اور اب یہ کھیل وادی میں بسنے والے شیخان، کھو اور کالاش قبیلے سب کا مقبول کھیل بن گیا ہے اور یہاں کے باسی اس میں انتہائی دل چسپی لیتے ہیں۔ اس کھیل کے بعد میتار (بادشاہ ) کے چناؤ کی رسم اس کو مزید دل چسپ بنا دیتی ہے۔

The post ایک دن کا بادشاہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/38c9kaY

قائد اعظم کشمیر میں جنگ بند کرنے کے خلاف تھے

( قسط نمبر 3)

اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ ہی 24 اکتوبر 1945 میں اقوام متحدہ کا ادارہ تشکیل پا گیا، اور پھر اس کے تین ماہ نو دن بعد 2 فروری 1946 کو اس کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے سیکرٹری جنرل ناروے کے ٹریگولی Traygve Lie منتخب ہوئے جو اس عہدے پر 10 نومبر 1952 تک فائز رہے، اِن کے دور میں اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملد ر آمد شروع ہوا اور بتدریج غلام یعنی نوآبادیاتی نظام میں جکڑے ملک سیاسی طور پر آزاد اور خود مختار ہو کر اقوام متحددہ کے رکن بھی بننے لگے۔

یہ زمانہ یا دور پوری دنیا کے لیے بہت عجیب سا تھا ایک جانب دنیا کی 3% سے زیادہ آبادی اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئی تھی اور جسمانی طور پر اس سے دگنی آبادی زخمی اور معذور ہوئی تھی، 6 اور9 اگست 1945 کو دنیا میں پہلی مرتبہ ایٹم بم جیسا ہتھیار استعمال ہو چکا تھا، جرمنی، فرانس ، برطانیہ، روس سمیت پورا یورپ اور ایشیا میں جاپان، ہانگ کانگ، برما اور اسی طرح افریقہ کے اکثر ملکوں کے شہر ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے تھے، چین سمیت کچھ ملکوں میں کنٹرول میں نہ آنے والی آزادی کی مسلح تحریکیں بڑی قوتوں کے لیے چیلنج بن گئی تھیں، اب ایک جانب خصوصاً مغربی یورپ اور جاپان کی تعمیرنو کا عمل تھا جس کو نہایت تیزرفتاری سے اور مختصر عرصے یعنی دو تین برسوں میں مکمل کرنا تھا تاکہ اِن ملکوں کے عوام کا اعتماد بحال ہو سکے اور پوری دنیا کو یہ یقین بھی دلانا تھا کہ اقوام متحد ہ کا ادارہ واقعی دنیا میں امن قائم کر دے گا اور اب دنیا میں کوئی عالمی جنگ نہیں ہو گی۔

یہ پوری دنیا کی سیاست، اقتصادیات، معاشیات اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے لیے ایسا تھا جیسے کسی   پرانی عمارت کو گرا کر وقت کے تقاضوں اور مستقبل کے تمام اندیشوں اور امکانات کو مدِنظر رکھ کر نئی مضبوط اور پختہ عمارت تعمیر کے مرحلے میں ہو چونکہ اُسی وقت نو آبادیاتی قوتوں نے اپنے سیاسی اقتصادی مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر اِن غلام ملکوں کو آزاد کر نے کا سلسلہ شروع کیا تھا، یورپ کی تقریباً 90% اور باقی دنیا کی تقریباً 30% آبادی ذہنی اور نفسیاتی طور پر دوسری جنگ عظیم سے متا ثر ہوئی تھی، یوں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس پوری عالمی صورتحال میں پوری دنیا کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کی حیثیت ایک ری ہیبلی ٹیشن سنٹر یعنی بحالی و آباد کاری کے مرکز کی سی تھی جس طرح قدرتی آفات کی تباہی اور بربادی کے ساتھ ساتھ اِن قدرتی آفات کے بعد اس کے کچھ یا قدرے مثبت پہلو یا امکانات بھی ہوتے ہیں جیسے سیلاب سے کسی ملک میں تباہی تو آتی ہے مگر سیلاب زمینو ں پر مٹی کی نئی تہہ بچھا کر زیادہ زرخیز کر دیتے ہیں۔

جھیلوں، ندی نالوں کو صاف کر دیتے ہیں جیسے زلزلے ، طوفان، قحط، وبائی امراض تباہی مچاتے ہیں تو ماہرینِ علمِ آبادیات بڑی آبادیوں کے لیے اِن قدرتی آفات کو پازیٹو چیک بھی کہتے ہیں کہ اِن قدرتی آفات کے بعد کسی خطے اور اس پر قائم معاشرے میں آبادی کے اچانک کم ہونے سے بچ جانے والی آبادی اور وسائل میں بہتر توازن قائم ہو جاتا ہے اور یہ وہ موقع ہوتا ہے کہ ایسے متاثرہ خطے اور اس پر قائم معاشرے میں اصلاحات اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیر نو کی جائے۔ یوں جنگ ، خانہ جنگیاں اور انقلابات بھی انسانی آبادیوں کے لیے غیر قدرتی آفات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے جہاں بے پناہ تباہی و بربادی ہوتی ہے وہاں ساتھ ہی یہ امکانات بھی ہوتے ہیں کہ ماضی کی غلطیوں، کوتاہیوںاور کمزوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ اور تباہی سے بچ جانے والی آبادیوںکا حوصلہ بھی بحال کیا جائے اور اِن میں حب الوطنی کے جوش وجذبے کے سا تھ آ گے بڑھنے اور ترقی کرنے کا عزم پیدا کیا جائے۔

ایسی ہی صورت پہلی عالمی جنگ سے لیکر 21 سال بعد ہونے والی چھ سالہ نہایت تباہ کن دوسری عالمی جنگ کے بعد ہوئی تھی، یوں اگر ہم انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو قائدانہ صلاحیتوں کی حامل شخصیات جتنی بڑی اور جتنی زیادہ تعداد میں اُ س وقت دنیا بھر کے ملکوں اور قوموں میں بطور لیڈر پیدا ہوئیں، اُتنے بڑے اہم لیڈر اتنی بڑی تعداد میں دنیا کی تاریخ کے کسی ایک دور میں کبھی نہیں ملتے۔ یوں یہ تمام لیڈر بھی اہم تھے توساتھ یہ بھی اہم ہے کہ اُس وقت دنیا کے

حالات بھی ایسے تھے کہ جس کی وجہ سے دنیا میں یہ بڑی شخصیات اور لیڈر بیک وقت اور بڑی تعداد میں پیدا ہوئے، اِن میں جہاں امریکہ کے روز ویلٹ، برطانیہ کے چرچل، روس کے اسٹالن، فرانس کے ڈیگال اہم تھے وہیں نو آبادیاتی نظام میں جکڑے ہوئے غلام ملکوں کے لیڈر بھی کہیں زیادہ اہم تھے جن میں مارشل ٹیٹو، بن بلا، سیکارنو، قائد اعظم محمد علی جناح ،مون داس کرم چند گاندھی، پنڈت جواہرلال نہرو،غازی امان اللہ خان، ماؤزے تنگ،چواین لائی،جمال عبدالناصر وغیرہ شامل ہیں۔ ان رہنماؤں نے اپنی غیر معمولی فہم و فراست، جذبہ حُب الوطنی اور انتھک محنت کی بدولت اپنی اقوام کو آزادی سے ہمکنار کرنے کے لیے مثالی جدوجہد کی۔

ان کا ایک امتیازیہ بھی ہے کہ انہیں ذہنی طور پر پسماندہ اور پچھڑی ہوئی قوموں کو جدوجہد پر آمادہ کرنا تھا۔ اس میں کسی لیڈر کو پوری کامیابی حاصل ہوئی تو کسی کو پچاس فیصد سے اسی فیصد کامیابی حاصل ہوئی اور پھر آزادی حاصل کرنے میں جب یہ لیڈر شپ کامیاب ہو گئی تو اِن ملکوں اور قوموںکو اِن کے فوراً آنے والی لیڈر شپ اس معیار اور وقار کی نہیں ملی جو ملک و قوم کو ملنے والی آزادی کو مستحکم اور مضبوط کر سکتی کہیں تو یہ صورت خود ہی موجود تھی اور کہیں آزادی حاصل کرنے والی لیڈر شپ کو قتل کروا دیا گیا اور اس کے بعد نو آزاد ترقی پزیر ملکوں کو اپنے اقتصادی معاشی جال میں گرفتار کر کے اقتصادی نو آبایاتی نظام میں جکڑ لیا گیا۔ ہمارے ہاں اس صورتحال کو آزادی کے وقت کے نو جوان شاعرمحسن بھوپالی نے یوں بیان کیا تھا۔

نیرنگیِ سیاستِ دوران تو دیکھئے

منزل اُنہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے

اُس وقت اگرچہ بڑی قوتوں نے اپنی کامیاب کوشش کی اور سیاسی نو آبادیاتی نظام سے آزاد ہو نے والے ملکوں کو اپنے اقتصادی نوآبادیاتی نظام میں جکڑ لیا اور ساتھ ہی ساتھ خود کو بھی مضبوط کیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب دوسری جنگِ عظیم ختم ہوئی اور اقوام متحدہ کا ادارہ قائم ہوا تو چین ، پاکستان ، بھارت، مصر،انڈو نیشیا،ملائشیا، شام ،  عراق، ایران ، سوڈان ، سعودی عرب، تیونس ، یمن ، ایسے ملک تھے کہ اگر یہاں کے عوام باشعور ہوتے، شرح خواندگی زیادہ ہوتی اور قیادت تسلسل کے ساتھ بہتر انداز کی میسر آتی تو صورت بہتر ہوتی۔

اِن ملکوں میں پہلے نمبر پر مکمل آزادی ، خودمختاری اور خود انحصاری کے لحاظ سے چین اہم رہا اور اُس نے جلد ہی دنیا بھر میں اپنے آپ کو مکمل آزاد،خود مختار اور خود انحصار ملک کی حیثیت سے تسلیم کر وا لیا۔ اس کے بعد ایک عرصے تک بھارت دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت اور قدرے آزاد خارجہ پالیسی کے ساتھ ایک ایسا بڑا ملک رہا جس کے مستقبل کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ملک اگر ہمسایہ ملکوں سے اپنے تعلقات بہتر کر لے گا تو نہ صرف دنیا کااہم ملک بن جائے گا بلکہ وہ علاقے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اِن ملکوں کے بلاک کی بنیاد پر اس دنیا میں عالمی سطح کی مثبت تبدیلیوں کا سبب بنے گا۔

حکمت و دانائی کے لحاظ سے برصغیر کی اس اہمیت کو 1916 ہی میں قائداعظم نے سمجھ لیا تھا لیکن ہندو مسلم اتحاد کو آل انڈ یا کانگریس اور خصوصاً پنڈت موتی لال نہرو نے بہت نقصان پہنچایا، اور پھر 14 اور15 اگست 1947 کو برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت  آزاد ملک کہلائے اور اس سے تقر یباً دو سال قبل اقوام ِ متحدہ کا ادارہ تشکیل پا چکا تھا۔

1946 تک تو اقوام متحدہ نے ابتدائی کام شروع کیا لیکن ساتھ ہی پہلے پہلے آزاد ہونے والے بڑے اور اہم ملک جو برطانیہ کی نوآبادیات تھے اِن کی آزادی کے مراحل ہی میں قتل و غارت گری، خانہ جنگی اور پھر جنگوں کی صورتحال پیدا ہو گئی، برطانوی نوآبادیات میں برطانیہ کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا برصغیر جس کو انگریز سونے کی چڑیا کہتے تھے۔

یہاں انگریزوں نے 1945-46 کے موسم سرما میں گیارہ صوبائی اسمبلیوں اور ساتھ ہی مرکزی یا سنٹرل اسمبلی کے لیے جداگانہ بنیادوں پر انتخابات کروائے جن میں صوبائی سطح پر مسلم لیگ نے مسلم نشستوں پر 90% اور مرکزی اسمبلی کی مسلم نشستوں پر 100% کامیابی حاصل کی جس کے نتیجے میں اِن انتخابات کی بنیاد پر آزادی سے قبل مشترکہ ہندوستان میں ایک قومی حکومت تشکیل دی گئی جس کے وزیر اعظم آل انڈیا کانگریس کے صدر پنڈت جواہر لال نہرو ہوئے اور باقی کابینہ میں مسلم لیگ اور کانگریس کے وزرا شامل تھے جن میں مسلم لیگ کی طرف سے اہم وزیر یعنی وزیر ِ خزانہ نوابزادہ لیاقت علی خان تھے اور کانگریس کی جانب سے اہم وزیر ِ داخلہ سردار ولب بھائی پاٹیل تھے۔

برصغیرکی مجموعی آبادی آزادی سے قبل چالیس کروڑ سے کچھ زیادہ تھی، 1914 ء میں جب جنگِ عظیم اوّل شروع ہوئی تو برصغیر میں انگریز مقامی آبادی کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر تھے اور اِن کی کل تعداد ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تھی اور برصغیر میں اِن انگریزوں نے بہت کم تعداد میں ہونے کے باوجود جس حکمت و دانائی سے چالیس کروڑ کی آبادی پر حکومت کی اس میں دو چیزیں اہم تھیں، ایک مقامی چالیس کروڑ آبادی کو تقسیم کرو، لڑاؤاور حکومت کرو، دوسرا برصغیر کا جاگیردارانہ نظام تھا جو بہت مستحکم انداز میں انگریزوں کو مغلوں کی حکومت ہی سے ملا تھا اور اس جاگیردارانہ نظام کو انگریزوں نے اپنے طور پر اپنے حق میں زیادہ بہتر انداز میں تبدیل بھی کیا تھا، افغان، ترک اور مغل جب سنٹرل ایشیا اور افغانستان سے برصغیر آئے تو اِن حملہ آور بادشاہوں کی اپنی با قاعدہ فوج سے کہیں زیادہ قبائلی لشکر اِن کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔

یوں جب یہ بادشاہ ہندوستان کو فتح کر لیتے تھے تو اِن کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ بڑی فوج تو مرکز یعنی دارالسلطنت میں رہتی تھی اور کچھ دستے ہر صوبے میں صوبائی گورنرکی ماتحتی میں ہوا کرتے تھے، جب کہ باقی قبائلی لشکر کی صورت یوں ہوتی تھی کہ اِن کے سرداروں کو اِن کے قبائلی لشکرکی تعداد کی بنیاد پر اہمیت دیتے ہوئے بڑے بڑے رقبوں پر مشتمل علاقے جاگیر کی صورت میں الاٹ کر دئیے جاتے تھے اور یہ قبائلی سردار یہاں ان ریاستوں کے نوابین، راجے، مہاراجے، اور خوانین کہلاتے تھے، جہاں تک صوبوں کے گورنروں کا تعلق ہوتا تھا تو وہ اکثر و بیشتر بادشاہ کے خاندان کے قریبی رشتہ دار ہوا کرتے تھے، یوں شہزادے یا بادشاہ کے بھائی، چچا وغیرہ کو گورنر بنایا جاتا تھا، جاگیرداروں کی جاگیریں بنیادی طور پر بادشاہ کی جانب سے الاٹ کی جاتی تھیں اور ریاستوں کے حکمرانوں کی ذاتی ملکیت نہیں ہوا کرتی تھیں یعنی مغلوں کے دور ِ حکومت تک زمین کی نجی ملکیت کا تصور نہیں تھا بلکہ زمین مملکت کی ملکیت ہوا کرتی تھی اور بادشاہ کے پاس یہ اختیار ہوا کرتا تھا کہ وہ جب چاہے جاگیردار نواب یا راجہ، مہاراجہ سے ریاست واپس لے کر اُسے بے دخل کر دے اور ایسا عموماً اُس صورت میں ہوا کرتا تھا جب کسی جاگیردار کی وفاداری پر شبہ ہوتا یا کوئی ریاستی حکمران بادشاہ کے خلاف بغاوت کرتا، یوں اگر وہ کامیاب ہو جاتا تو وہ بادشاہ بھی بن سکتا تھا۔

جیسے بنگال کی ایک جا گیر سراسرم کے جاگیر دار کا بیٹا شیر شاہ سوری مغل بادشاہ ہمایوں کا تخت و تاج لینے میں کامیاب ہو گیا تھا مگر جب تک جاگیردار باد شاہ کا وفادار رہتا جاگیر اُس کے پا س رہتی اور اُس کے وفات پا جانے کی صورت میں اُس کے بڑے بیٹے یعنی ولی عہد کو مل جاتی۔ مغلوں کے عہد  میں کچھ جاگیردار نواب تو وہی تھے جو بابر کے ساتھ ہندوستان کی فتح میں شریک تھے پھر کچھ ہند و راجے، مہاراجے تھے جو اپنی مقامی قوت کے اعتبار سے اہم تھے اور کچھ ہندو مسلمان اہم مذہبی شخصیات تھیں جن کو مقامی آبادی پر اِن کے اثر اور قوت کی وجہ سے جاگیریں الاٹ کی گئی تھیں اور اِن سب کے لیے بنیادی شرط بادشاہ سے وفاداری تھی۔

مغلیہ دورِ حکومت میں یہ جاگیردار اپنے لشکر کی بنیاد پر اپنی جاگیر میں امن وامان قائم رکھنے کے ذمہ دار ہوتے تھے، وہ وہاں رعا یاسے زرعی پیداوار پر بادشاہ کے حکم سے لگان اور صنعت و تجارت پر ٹیکس وصول کرتے، اس کا ایک بڑا حصہ مرکزی حکومت یعنی بادشاہ کو بھیجا جاتا، ایک حصہ ریاست کا نواب یا راجہ اپنی مقامی فوج کی تنخواہوں ٹرینگ اور ہتھیاروں پر خرچ کرتا اور خود اور اس کا خاندان بادشاہ کے علاقائی نائب کی حیثیت سے شاہانہ انداز سے خرچ کرتا تھا اور جب کبھی بادشاہ کو اس کی فوج کی ضرورت ہوتی تو وہ با دشاہ کے وفادار مقامی حکمران کی حیثیت سے اپنی مقامی فوج کو اپنی کمانڈ میں لے کر پہنچ جاتا۔

انگریز ہندوستان میں1757ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ کو اُس کے غدار وزیر میرجعفر کی مدد سے شکست دیکر بنگال میں اپنی حکمرانی کی بنیاد قائم کر چکا تھا تو وہاں لارڈ کلائیوکی نگرانی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت قائم ہوئی تھی جو تاجِ برطانیہ کی تابعدار اور وفادار تھی اُس وقت بھی مرکزی مغلیہ حکومت کمزور ہو چکی تھی اور جاگیر دار اس مرکزی حکومت کو صرف علامتی طور پر ہی ہندوستان کی شہنشاہیت کے طور پر تسلیم کرتے تھے اور کوئی نواب یا راجہ اگر خود چاہتا تو از خود کچھ رقم بادشاہ کی نذرکردیا کرتا تھا، یوں بنگال، میسور اور حیدر آباد سمیت کئی ایسی ریاستیں تھیں جن کے راجہ خودمختار تھے ہندوستان میں ہندو پہلی بڑی اکثریت اور مسلمان دوسری اکثریت تھے اور مجموعی طور پر ہندوستان کی آبادی میں ہند وآبادی کا تناسب 70% اور مسلمان آبادی 30 فیصد تھی مگر صدیوں کی مسلم حکومتوں کے دور اقتدار میں ہندو مسلم برداشت اور امن کے ساتھ رہ رہے تھے۔

انگر یز چونکہ اُس وقت ہند وستان میں آیا تھا جب علم و تحقیق کی بنیاد پر اہل مغرب اور خصوصاً انگریز دنیا میں بہت آ گے نکل چکے تھے اس لیے اِن کے حکومتی اور انتظامی امور بھی ٹیکنالوجی اور سائنسی برتری کے تابع تھے، یوں انگریزوں نے ہندوستان میں آتے ہی اس ملک کے سماج، تہذیب،آبادی کے لسانی، مذہبی خدوخال اور سیاسی انداز کا تحقیقی بنیادوں پر مطالعہ کیا اور پھر یہاں معاشرتی تضادات کو اپنے مقاصد کے لیے ابھارتے ہوئے یہاں کے جاگیردارانہ نظام کواپنی ضروریات کے مطابق تبدیل کر کے استعمال کیا۔ برطانیہ جس کی نوآبادیات میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا وہاں برطانیہ میں تو جمہوریت کو فروغ حاصل ہو رہا تھا بلکہ 1857 تک جب ہندوستان میں علامتی مغلیہ بادشاہت کا خاتمہ بھی کر دیا گیا تھا تو برطانیہ میں روایتی طور پر عوام میں بادشاہت کی عزت اور شان شوکت کسی طرح کم نہیں تھی۔

دوسری جانب اُس وقت برطانیہ کی جمہوریت دنیا کے لیے مثالی تھی اور جہاں تک تعلق برطانیہ کی نوآبادیات کا تھا تو ہر غلام ملک میں انگر یز سربراہ جو گورنر جنرل اور وائسرائے کہلاتا تھا اکثر و بیشتر برطانیہ کے شاہی خاندان ہی کا فرد ہوتا تھا اور ہمیشہ کی طرح آج بھی برطانیہ کے شاہی خاندان کے افراد کی تربیت کی جاتی ہے، یہاں تک کہ آج بھی اِن کے ولی عہد اور شہزادے اعزازی طور پر اعلیٰ فوجی عہدہ رکھتے ہیں اور اہم مواقع پر فوجی یونیفارم پہنتے ہیں ، شاہی خاندان کے اہم افراد ہاوس آف لارڈ کے رکن ہوتے ہیں، یوں مقبوضہ ہندوستان میں انگریزوں کے دورِحکومت میں جہاں 540 سے زیادہ ریاستیں تھیں وہاں آزادی اور تقسیم ہند کے وقت تک گیارہ صوبے بھی تھے،  صوبائی اور مرکزی حکومت پر برطانوی حاکمیت کے لحاظ سے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شخصیت گو رنر جنرل کہلاتی تھی اور یہی شخصیت ریاستوں کے لیے وائسرائے یعنی برطانوی شہنشاہت کی جانب سے بادشاہ کا نائب یا نائب بادشاہ ہوا کرتا تھا۔

انگریزوں کی کل تعداد یہاں ایک لاکھ تھی یوں یہاں نوآبادیاتی نظام کو قائم رکھنے کے ساتھ صنعتی و تجارتی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے نظام چلانا تھا اور اس کے لیے مختلف شعبوں میں تعلیم و تکنیک کی بنیاد پر یہاں افرادی قوت تیار کی گئی ، اگر چہ اعلیٰ سطح پر انگریز ہی بیوروکریسی کے لحاظ سے فائز تھے مگر جنگ عظیم اوّل اور دوئم کے بعد انگریز فوج اور سویلین افسران کی سطح پر انگریز افرادی قوت کمی کا شکار ہوئے تو ہندوستانی افسران کی کچھ تعداد بھی اس نظام میں شامل ہو گئی۔ انگریروں کی جانب سے متعارف کردہ عدالتی نظام میں بھی بطور ایڈووکیٹ اور بیرسٹر ہندوستانیوں کی خاصی تعداد تھی جو انگریز وکلا سے زیادہ تھی اور یہ وکلا برطانوی قوانین، اِن کے پارلیمانی نظام اور آئین کو بہتر طور پر سمجھتے تھے جب کہ 1885 ء میں آل انڈ یا کانگریس اور پھر 1906 ء میں مسلم لیگ کے قیام سے ہندوستان کے خصوصاً غیر ریاستی علاقوں میں سیاسی شعور کی سطح بلند ہو رہی تھی۔ قائداعظم نے جنگ عظیم اوّل کے دوران یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ انگریز چاہے یہ جنگ جیتے یا ہارے ہر دوصورتوں میں تاج برطانیہ کی حکمرانی جو دنیا کی چوتھائی آبادی اور رقبے پر قائم ہے اِس پر اس کی گرفت کمزور ہو جائے گی اور اگر ہندوستان میں حقیقی اور منطقی ہندو مسلم اتحاد آئینی ضمانت پر قائم ہو جاتا ہے تو انگر یز کو ہندوستان سے نکالا جا سکتا ہے۔

یوں قائد اعظم کی کوششوں سے 1916 ء میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سیاسی جماعتوں کے سالانہ اجلاس لکھنو میں منعقد ہوئے اور اس میں دونوں جماعتوں کے درمیان لکھنو پیکٹ ’’میثاق جمہوریت‘‘ طے پایا۔ اس معاہدے میں مسلم لیگ کے جداگانہ طریقہ انتخاب اور مسلمانوں کے تشخص کے تحفظ سمیت مسلم آبادی کے تناسب کی بنیاد پر معاشی و اقتصادی فارمولے کو بھی قبول کر لیا گیا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اگر کانگریس اس معاہد ے پر قائم رہتی تو ہندوستان مشترکہ طور پر اور بہت پہلے آزاد ہو جاتا لیکن کانگریس نے یہ معاہدہ یک طرفہ طورپر 1928 ء میں تو ڑ دیا۔ اس کے بعد قائد اعظم نے 1929 میں چودہ نکا ت پیش کر کے ایکبار پھر اس معاہد ے اور ہندو مسلم اتحاد کو بچانے کی کو شش کی مگر نا کام رہے اور پھر انہوں نے علامہ اقبال کی بات کو سمجھتے ہوئے قیام ِ پاکستان کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔

پہلی جنگ عظیم سے دوسری جنگ عظیم تک عالمی سیاسی ،اقتصادی،صورتحال میں کا فی تبدیلی آچکی تھی جس کے پیش ِ نظر انگریز ہندوستان میں احتیاط سے معاملات کو آگے بڑھا رہا تھا، اُسے ہندوستان کی ہندو اکثریت کے دباؤ کا بھی سامنا تھا اور مسلم اکثریت کا بھی خوف تھا کیونکہ یہ بھی کل آباد ی کا 30 فیصد تھی اور یہ اکثریت برصغیر میں افغانستا ن ، ایران، چین اور برما کی سرحدوں کے نزدیک تھی، یوں انگریز نے پہلی کوشش یہ کی کہ کسی طرح برصغیر کی تقسیم سے قائد اعظم کو باز رکھا جائے اور جب برطانوی سرکار کو یہ یقین ہو گیا کہ قائد اعظم کسی صورت اس پر آمادہ نہیں ہو رہے تو اُنہوں نے برصغیر کے بارے میں اس کی تقسیم کی بنیاد پر اپنے منصوبے کو اپنی مرضی اور مفادات کے مطابق جلد از جلد طے کر نے کی حکمت عملی بنائی اور واقعات اور حالات کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کانگریس اور انگر یز نے یہ طے کیا تھا کہ تقسیم اتنی جلدی اور ایسی کی جائے کہ دنیا کے نقشے پر ایک نئے ملک کی حیثیت سے ابھرنے والا پاکستان ناکام ہو جائے۔

مارچ 1947 ء کو ہندوستان سے لارڈ ویول رخصت ہوا تو اُس کی جگہ لارڈ ماونٹ بیٹن آخری گورنر  جنرل اور وائسرائے بن کر ہندوستان آیا اور 3 جون 1947 ء کو تقسیم ہند اور پاکستان اور بھارت کی آزادی کے منصوبے کا اعلان کردیا، جب کہ اِس منصوبے کی تفصیلات کی حتمی اور قانونی شکل 18 جولائی 1947 ء کو برطانوی پارلیمنٹ میںقانون آزادیِ ہند کے عنوان سے پاس ہونے والا قانون تھا۔ اس سے قبل ہندوستان میں آئینی حیثیت کا حامل قانون ہند 1935 ء بھی برطانوی پارلیمنٹ نے بنایا تھا۔ اس قانون کے ساتھ ہی قانون آزادی ہند کی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم کے تمام امور طے کئے گئے جس کے مطابق پاکستان اور بھارت کو 14 اور15 اگست 1947 کو دو الگ ملکوں کی حیثیت دے دی جائے گی اور پہلے سال ان کی حیثیت ڈومینین اسٹیٹ کی ہو گی اور قانون ہند 1935 ہی نافذالعمل رہے گا۔

اُس وقت بطور نئی اور الگ الگ ریاست کے قانون ِآزادی ہند کی روشنی میں 1935 کے قانون ہند میں ضروری ترمیم کر لیں مگر یہ ترمیم بھارت یا پاکستان کی پارلیمنٹ ایک سال تک نہیں کر سکے گی، اُس وقت تک اگر کوئی ترمیم کر نی ہوئی تو وہ صرف گورنر جنرل کرے گا۔ واضح رہے کہ بھارت کا گورنرجنرل لارڈ ماونٹ بیٹن ہی تھا اور پاکستان کے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح تھے اور یہ بھی واضح رہے کہ 1956 تک جب ہم نے اپنا آئین نہیں بنایا تھا، برطانیہ کا بادشاہ ہمارا آئینی سربراہ تھا اور اس کے بعد ملکہ برطانیہ الزبتھ ہماری آئینی سربراہ اور ملکہ ہو گئی۔ البتہ بھارت نے آزادی کے ایک سال بعد اپنا آئین بنا لیا تھا۔

ہندوستان کی 540 سے زیادہ ریاستوں کے حوالے سے 18 جولٗائی1947 کے قانون ِ آزادیِ ہند میں یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ اِن کے حکمران اپنی ریاستوں کی سرحد ی قربت اور عوام کی اکثریت کی مرضی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان یا بھارت دونوں میں سے کسی ایک میں شمولیت کا فیصلہ کریں گے، اسی طرح ہندو مسلم اکثریت کی بنیاد پر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا فیصلہ تھا، بلوچستان کے لیے کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے غیر سرکاری اراکین اور شاہی جرگہ کے اراکین نے پاکستان یا بھارت میں شمولیت کا فیصلہ کرنا تھا جب کہ مشرق پاکستان میں سلہٹ ضلع میں اور کے پی کے میں عوامی ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ ہونا تھا کہ یہ علاقے بھارت یا پاکستان میں شامل ہوں اور سندھ کے لیے یہ طے پایا تھا کہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے اراکین کی اکثریت یہ فیصلہ کرے گی۔

قائد اعظم اپنے وژن کی بنیاد پر یہ جان گئے تھے کہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے لیکن اُن کے پاس وقت بہت کم تھا اُن کے معالج ڈاکٹر پاٹیل نے اُنہیں بتا دیا تھا کہ ٹی بی کی بیماری اُن کے پھیپھڑوں کو تباہ کر چکی اور موت نزدیک ہے، اس راز سے صرف ڈاکٹر پاٹیل، فاطمہ جناح اور خود قائد اعظم واقف تھے، قائد اعظم کو ادراک تھا کہ اُن کے بعد پاکستان کو آزاد کرانا مشکل ہو جائے گا، وہ اس کے لیے اپنی اسٹرٹیجی طے کر چکے تھے کہ اللہ اُنہیں اتنی زندگی ضرور دے گا کہ وہ اپنی زندگی یہ تاریخی فریضہ ضرور ادا کریں گے، 1941 کی مردم شماری کے مطابق مشترکہ پنجاب کی کل آبادی 28418819 تھی جس میں مسلمانوں کی تعداد 16217242 تھی، یوں مجموعی طور پر پنجاب کی 57% آبادی مسلمان تھی اور بنگال کی کل آبادی 60306525 تھی جس میں مسلمانوں کی  آبادی33005434 تھی اور یہاں بھی مسلمان آبادی 54.73 فیصد تھی لیکن مشرق پنجاب میں سکھ اورہندو  قدرے اکثریت میں تھے۔

جب اِ ن دونوں صوبوں کی تقسیم آبادی کی اکثریت والے علاقوں کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ ہوا تو قائد اعظم یہ جانتے تھے کہ 1946 جنوری تک ہو نے والے مشترکہ ہند وستان کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ اور کانگریس کی مشترکہ قومی حکومت تشکیل پائی ہے اُس میں وزارت ِداخلہ کانگریس کے نہایت متعصب ہندو لیڈر ولب بھائی پاٹیل کو دی گئی ہے اور اس تقسیم کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ زیادتی ہو گی، یوں قائد اعظم نے یہ تجویز دی کہ یہ تقسیم اقوام ِمتحدہ کے تحت کرائی جائے اور جب اس تجویز کو رد کیا گیا تو قائد نے یہ کہا کہ پنجاب کی تقسیم لندن کی پریوری کونسل کرے مگر اس کے لیے ریڈ کلف کو برطانوی حکومت نے تعینات کیا اور پھر اس تقسیم میں سازش کے تحت مشرقی پنجاب کے گورداسپور، فیروزپور اور زیرہ کے مسلم اکثریت کے علاقے بھارت کو دے دیئے گئے اور سردار ولب بھائی پاٹیل نے سکھوں اور ہندوںکے جتھوں کے ذریعے فوراً ہی یہاں فسادات کرائے اور مسلمانوں کا قتل عام صرف اس لیے کروایا کہ یہاں سے لاکھوں مسلمانوں کو نکال کر پاکستانی پنجاب میں دھکیل دیا جائے۔

یہ اس لیے بھی کیا گیا کہ یہاں پانی کی تقسیم کے مادھوپور ہیڈ ورکس اور فیروز پور ہیڈ ورکس پر قبضے سے پاکستان کو جانے والے دریائی پانی پر کنٹرول حاصل کیا جائے اور ایک اور اہم وجہ تھی کہ کشمیر کو بیرونی دنیا کو ملانے والے چھ کے چھ راستے پاکستان سے گزرتے ہیں، یہاں مشرقی پنجاب میں اِن مسلم اکثریتی علاقوں کو بھارت کے حوالے کرنے سے پٹھان کوٹ سے ایک نیا اور مصنوعی راستہ بھارت کو فراہم کر دیا گیا، اور اس کے بعد جب پاکستان اور بھارت آزاد ہوگئے تو کشمیر جس میں مسلمانوں کی اکثریت  ہے یہاں مسلمانوں نے تحریک چلائی کہ کشمیر کا الحاق پاکستان سے کیا جائے، اس پر بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کشمیر کے راجہ ہری سنگھ پر دباؤ ڈال کر ایک خاص منصوبے کے تحت کشمیر کا بھارت سے الحاق کروا دیا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ 18 جولائی1947 کے قانون آزادی ہند کے تحت برصغیر کی تقسیم کروانے والے لارڈ ماوئنٹ بیٹن نے بطور بھارت کے پہلے گورنر جنرل اس معاہدے پر دستخط کر دئیے، البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے بھی بعد میں اس مسئلے پر کشمیر یوں کی مرضی معلوم کر نے کے لیے رائے شماری کی تجویز دی تھی لیکن اصول اور قانون کے مطابق لارڈماوئنٹ بیٹن نے غلط کیا تھا کیونکہ قانون آزادی ِہند واضح تھا کہ ریاستوں کے حکمرانوں سے صاف کہہ دیا تھا کہ اپنے عوام کی مرضی اور ریاست کی سرحد ی قربت کو مدِنظر رکھ کر ہی حکمران یہ فیصلہ کر یں گے کہ ریاست کا الحاق پاکستان یا بھارت سے کیا  جائے۔

بھارت نے ریاست حیدر آباد، بھوپال اور جوناگڑھ کے نوابین کے خلاف اسی بنیاد پر فوجی کار وائی کر کے اِن ریاستوں کو بھارت میں شامل کر لیا تھا کہ اِن کی آبادیوں کی اکثریت ہندو تھی اور سرحدی قربت بھی بھارت سے تھی مگر کشمیر کے اعتبار سے انگریز گورنر جنرل اور بھارت کا معیار دہرا تھا، بہرحال  جہاں تک انگریز دورِ حکومت میں ریاستوں کا تعلق تھا تو کشمیر کی حیثیت بھی تاریخی لحاظ سے ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے مختلف تھی کہ یہ علاقہ انگریزوں نے رنجیت سنگھ کی موت کے بعد سکھوں سے جنگ میں فتح پانے کے بعد تاوان جنگ رقم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گلاب سنگھ کو 75 ہزار نانک شاہی کرنسی کے عوض فروخت کیا تھا ا س لیے یہ بھی ہو سکتا تھا کہ پاکستان 1947 کے مطابق اُس زمانے کی رقم کی قدر کی بنیاد پر ادائیگی کر کے مسلم اکثریت کا یہ علاقہ حاصل کر لیتا، بہرحال یہ مسئلہ تھا کہ اس کی بنیاد پر کشمیر میں 22 اکتوبر 1947 سے 5 جنوری1949 کو دونوں نئے آزاد ہونے والے ملکوں کے درمیان پہلی جنگ ہوئی۔

پاک فوج کے انگریز جنرل کمانڈر ان چیف جنرل سرڈ گلس ڈیوڈ گریسی ’جو اس جنگ کے خلاف تھے‘  تو قائد اعظم کے حکم پر میجر جنرل خورشیدانور ، کرنل شیر،کرنل اکبر خان کے علاوہ وزیر ستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی لشکر نے شرکت کی اورآزادکشمیر،گلگت  بلتستان کے علاقے آزاد کر وا لیئے، جولائی 1948 ء کے آغاز پر قائد اعظم کی ٹی بی نہ صرف شدت اختیار کر گئی تھی بلکہ اب یہ بیماری راز بھی نہیں رہی تھی اور قائداعظم کو دارالحکومت کراچی سے دور بلوچستان کے سرد پہاڑی علاقے زیارت منتقل کر دیا گیا تھا اور پھر اسی دوران پاکستان پر بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ یہ جنگ روک دی جائے اور کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم اس بات کو کسی صورت نہیں مان رہے تھے۔

غالباً وہ یہ جانتے تھے کہ جغرافیائی نقشے بدلنے والی تاریخی جدوجہد جب عزم و حوصلے کے ساتھ حتمی فتح کے قریب ہو تو کبھی بھی ایسی تحریک کو نہیں روکنا چاہیے کہ پرُجوش قومی اتحاد تسلسل کے ساتھ اگر منزل پر پہنچنے سے پہلے مصلحت کی بنیاد پر روک دیا جائے تو پھر اسے پہاڑ کی چوٹی سر کرنے نکلنے والے ناکام کوہ پیماؤںکی طرح پستی کی ڈھلانوں میں دفن ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا، قائد اعظم کو خواہش کے برعکس ان کی وفات کے تین مہینے پچیس دن بعد 5 جنوری 1949کو پاکستان نے اقوام متحد ہ کے کہنے پر یہ جنگ روک دی۔ اس جنگ کو رکوانے کے لیے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے خود کوشش کی تھی وہ کسی طرح مہلت چاہتے تھے اور بڑی قوتیں بھی یہ نہیں چاہتی تھیں کہ پاکستان اور کشمیریوں کی جانب سے مزید پیش قدمی ہو کیونکہ اس طرح اس علاقے میں اسٹرٹیجک برتری بھارت کے ہاتھوں سے نکلنے والی تھی۔

اس کے بعد 27 جولائی 1949 کو پاکستان بھارت کے درمیان سیز فائر معاہدہ کراچی میں ہوا جس میں ضامن اقوام متحدہ تھا جو ثالثی کا کردار اس لیے ادا کر رہا تھا کہ اس کے لیے کمیشن، یو این فار انڈیا اینڈ پاکستان تشکیل دیا گیا تھا اور اس کے لیے بھارت نے اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ اصولی طور پر اقوام متحدہ کا کردار اُس وقت جب یہ معاہدہ ہو رہا تھا شفاف تھا۔ اس معاہدے پر پاکستان کی طرف سے میجر جنرل ڈبلیو جے کاوتھون اور بھارت کی جانب سے لیفٹینٹ جنرل شیر ینگیش نے اور اقوام متحدہ کی جانب سے دو نمائندوں ہیرنانڈوسامپر اور ایم ، ڈیلوئی نے دستخط کئے تھے۔

یہ معاہدہ انگریزی میں تحریر کیا گیا تھا۔ یہ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد اس کا سب سے پہلا اور اہم ترین مسئلہ تھا، اور اس کا حل اس لیے آسان تھا کہ اس میں دونوں فریق اقوام متحدہ کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اس کے اس حل پر متفق تھے کہ کشمیر کا فیصلہ یہاں کی مقامی آبادی اپنی مرضی سے ووٹ کی بنیاد پر اقوام متحد ہ کی نگرانی میں کرے گی۔  معاہدہ کراچی میں بھارت اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کے سامنے جنگ بندی لائن کو تسلیم کر لیا تھا اور جو علاقے پاکستان کے پاس ہیں اُن میں پا کستان آج بھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کروانے کے لیے تیار ہے، پاکستان 30 ستمبر 1947 کو اپنے قیام کے ایک ماہ سولہ دن کے بعد اقوام متحدہ کا رکن بنا تھا اور اُس وقت اقوام متحدہ کو قائم ہوئے ایک سال گیارہ مہینے چھ دن ہوئے تھے۔

بھارت جو انڈیا کے نام سے1919 میں قائم ہونے والی لیگ آف نیشن ’’اقوامِ عالم ‘‘ میں برطانوی نوآبادی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے ملک کی حیثیت سے اس کا رکن بنا تھا اس کی اسی رکنیت کے تحت 30 اکتوبر 1945 کو اقوام متحدہ کے باقاعدہ قیام کے چھ دن بعد رکن بن گیا تھا، اور اِن دونوں رکن ملکوں کے درمیان کراچی معاہدے کی ثالثی اقوام متحدہ نے کرائی اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جو قراردادیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے منظور ہوئیں اُس وقت اُن قرار دادوںکی حمایت سکیورٹی کونسل کے تمام ویٹو اراکین نے کی تھی اور اصول و ضوابط کے مطابق اُن قراردادوں پر عملد آمد ہونا چاہیے اور پا کستان کا موقف آج بھی یہی ہے کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی اُنہی قراردادوں کے مطابق ہو، جب کہ بھارت پہلے حیلوں بہانوں سے اِن قراردادوں پر عملدر آمد کو ٹالتا رہا اور پھر رفتہ رفتہ اِن سے منحرف ہونے لگا اور اب یہ صورت ہے کہ وہ اِن قرار دادوں کو تسلیم ہی نہیں کرتا اور چین کے علاوہ سکیورٹی کونسل کے چاروں اراکین یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس کسی نہ کسی وقت اور کسی نہ کسی انداز سے کشمیر کے مسئلے پر سکیورٹی کونسل میں بھارت کی ناجائز حمایت کرتے رہے ہیں۔

آخری بار اس مسئلے پر 2019 میں فرانس نے بھارتی مفاد کے حق میں فیصلہ دیا، اقوام متحدہ کے ٹیبل پر اُس کی 75 سالہ تاریخ میں مسئلہ کشمیر 71 سالہ سب سے پرانا مسئلہ ہے جو سیاست کے لحاظ سے منفی اور مفاد پرستانہ عالمی رویوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور حقوقِ انسانی کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، یہ عالمی ادارہ دنیا کے ممالک اور عوام کی حکومتوں پر مشتمل ہے اور اس نے اپنے چارٹر اور ہیومن رائٹس کے ڈکلیریشن میں دنیا  بھرمیں ایک ملک پر کسی دوسرے ملک کی جارحیت کی شدت سے ممانعت کر رکھی ہے، اسی طرح دنیا بھر میں انسانوں کی مرضی کے خلاف ظلم و جبر کی بنیاد پر حکومت کے خلاف کاروائی کا حق اس کے چارٹر میں شامل ہے، مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ کشمیر کے مسئلے کو اب تک حل نہیں کر پایا ہے اور اب 2020 میں اس کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر بہرحال اقوام متحدہ کو اس کا جواب بھی دینا چاہیے۔

The post قائد اعظم کشمیر میں جنگ بند کرنے کے خلاف تھے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2IdN8CN

خیبر پختونخوا حکومت کا قبائلی اضلاع کے 6 اسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے 6 اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت  آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے خیبر پختونخوا ہیلتھ فاونڈیشن نے باضابطہ آمادگی کے لیٹرز جاری کردئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ایک بار پھر صوبے میں پی پی ایچ آئی طرز کے تجربے کو دوہرانے کی تیاری کرلی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ سابقہ تجربے کی ہی طرز پر ضم شدہ قبائلی اضلاع کے 6 اسپتالوں کے مالی و انتظامی امور منتخب تنظیموں کو دئیے جائیں گے تاکہ ان اسپتالوں میں طبی سروسز کی صورتحال کو بہتر بنایا جاسکے۔

اس سلسلے میںمعاہدے کےلئے 10 تنظیموں و فرمز نے اپلائی کیا تھا جن میں 9 نے ٹیکنیکلی کوالیفائی کیا، تاہم فائنل بڈنگ میں 3 کو منتخب کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل ایمرجنسی ریسیلنس فاؤنڈیشن (مرف)کو چار اسپتال اور ٹرانس کونٹینیٹل نیشنل انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن کو ایک اسپتال آؤٹ سورس معاہدے کے تحت نگرانی میں دیا جائےگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں مولا خان سرئی سروکئی اور  ٹائپ ڈی اسپتال طوئی خلہ کے علاوہ مہمند میں ٹائپ ڈی اسپتال ڈوگر کرم، مامند گیٹ، ایف آر ڈی آئی خان میں ٹائپ ڈی اسپتال درا زندہ اور اورکزئی میں ٹائپ ڈی اسپتال گیلیجو شامل ہیں۔

ان ہسپتالوں کو تین سالہ مدت کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ معاہدے کے تحت آؤٹ سورس کیا جائےگا۔ ان آؤٹ سورس کئے جانے والے اسپتالوں کے لئے حکومت نے 900ملین روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔ ہر اسپتال کو ایک سال میں 150 ملین روپے فنڈز فراہم کئے جائیں گے جبکہ معاہدےکے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ یہ منتخب تنظیمیں حکومت کے مختص کردہ روٹین کے بجٹ کو استعمال کرسکیں گی اور مزید ضرورت کے تحت عملے کی بھرتی اور  اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی کی پابند ہوں گیں۔ جبکہ محکمہ صحت نے سخت مانیٹرنگ و آڈٹ سسٹم بھی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ صحت نے پی پی ایچ آئی کی طرز کے اس سابقہ تجربے کے حوالے سے جو موقف اپنایا ہے اس کے مطابق دہشتگردی سے متاثرہ ان اضلاع میں اس وقت طبی عملے کی شدید کمی کمی کا سامنا ہے۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے 979 ہیلتھ مراکز و اسپتالوں میں 9 ہزار طبی عملہ تعنیات ہے، تاہم ان میں 108 اسپشلسٹ کی آسامیوں میں 80 خالی ہیں۔

اسی طرح آدھی سے زائد ویمن میڈیکل آفیسرز کی آسامیاں بھی تاحال خالی ہیں۔ جس کی وجہ سے عام افراد کو طبی سروسز کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ان اسپتالوں کو آؤٹ سورس کیا جارہا ہے تاکہ مختلف اسپشلٹیز کے ڈاکٹرز و دیگر طبی عملہ موجود ہو اور اسپتال بھی آباد ہوسکیں۔

The post خیبر پختونخوا حکومت کا قبائلی اضلاع کے 6 اسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2I8Vvj6

کرونا وائرس خطرے کے باعث پاک افغان بارڈر بند کرنے کا فیصلہ

چمن: کرونا وائرس خطرے کے پیش نظرپاک افغان بارڈر ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق کرونا وائرس خطرے کے پیش نظرپاک افغان بارڈر ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بارڈر بند ہونے کے نتیجے میں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں گی جب کہ وفاقی وزارت داخلہ نے اس حوالے سے ایف سی حکام کو مطلع کردیا ہے۔

The post کرونا وائرس خطرے کے باعث پاک افغان بارڈر بند کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39f408q

افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، فردوس عاشق اعوان

سیالکوٹ: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے امریکا طالبان معاہدے سے متعلق کہا کہ افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں، افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ افغان بھائیوں نے جنگ کے باعث تکلیفیں اٹھائیں،امن و استحکام ان کا حق ہے، افغانستان میں امن پورے خطے کے استحکام کے لئے ضروری ہے۔

 

The post افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، فردوس عاشق اعوان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3cnJHY7

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن: سالانہ 1 ارب 10 کروڑ ہڑپ

لاہور: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے تحت 2لاکھ 87 ہزار بچہ اسکولوں سے غائب ہے، متعلقہ اسکولز، این جی اوز اور سرکاری افسران کی مبینہ ملی بھگت سامنے آ گئی۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت جعلی بچوں کوریکارڈمیں ظاہر کرکے سالانہ 1 ارب 10کروڑ روپے فنڈز ہڑپ کرنے کا انکشاف ہوا ہے، حکومت ماہانہ فی بچہ 550روپے کے حساب سے متعلقہ اسکول، این جی اوز کو پڑھانے کا ادا کرتی رہی۔ بچے اسکولوں سے غائب کی رپورٹ آنے کے باوجود پیسے دینے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پیف واسع قیوم عباسی اور وزیر تعلیم مراد راس معاملے کو دبانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ معاملہ ایم ڈی پیف شمیم آصٗف کے علم میں آنے پر متعلقہ افسران کو نوٹس جاری کر دیے گئے جبکہ وزیرتعلیم مرادس راس اور چیئرمین پیف نے ایم ڈی کو معاملہ بورڈ آف ڈائریکٹرزمیں بھیجنے سے روک دیا ہے۔

ایم ڈی پیف شمیم آصف کا کہنا ہے کہ معاملات کی تحقیقات کررہے ہیں، متعلقہ افسران سے جواب مانگ لیے گئے ہیں۔

The post پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن: سالانہ 1 ارب 10 کروڑ ہڑپ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VzAzcU

’’عمران خان دیانت دار مگر ان کی ٹیم نااہل ہے‘‘

اسلام آباد: ایک شہری نے کہا ہے کہ خان صاحب بہت اچھے آدمی ہیں لیکن ان کی ٹیم بالکل نااہل ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام’’ سینٹر اسٹیج‘‘ میں میزبان رحمان اظہر سے  وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لاہور کے شہریوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ایک باریش شہری نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں لیکن اس میں عوام کیلیے کچھ نہیں کیاگیا، جس ریلیف کیلیے اصل حکومت آئی تھی وہ نہیں ملا۔ ایک دکاندار نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ عثمان بزدار وزیر اعلیٰ ہیں، آپ لوگوں سے پوچھیں گے کہ عثمان بزدار کون ہیں تو کافی لوگ کہیں گے کہ میں نہیں جانتا،عمران خان کواپنی پالیسی بہترکرنا چاہئے، پی ٹی آئی نے کہا تھاکہ وہ یوتھ کو آگے لائیں گے لیکن آپ دیکھ لیں کہ یوتھ کو آگے نہیں لایا گیا، لوگوں کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں، مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔

ایک دکاندار نے کہاکہ حکومت کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں، عمران خان ذاتی طورپراچھے آدمی ہیں لیکن شاید ان کی ٹیم زیروہے، عثمان بزدار کی کارکردگی زیروہے، عثمان بزدار کبھی کہیں نظر نہیں آیا، عمران خان کو چاہیے کہ مہنگائی کوکنٹرول کریں، شہباز شریف ایک گریٹ آدمی تھے یہ دس بار بھی آجائیں تو میاں برادران نہیں بن سکتے، انھیں حکومت کرنی نہیں آتی یہ استعفیٰ دیں، ہم توکہتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن بے شک کل ہی ہوجائیں، جنھوں نے انھیں ووٹ دیے تھے وہ بھی مایوس ہو چکے ہیں۔

ایک موٹرسائیکل سوار شہری نے کہا کہ 70 سال کے مسائل صرف ڈیڑھ سال میں ٹھک نہیں ہوسکتے اس لیے اس حکومت کومزیدوقت دینا چاہیے۔ ایک نوجوان نے کہاکہ (ن)لیگ نے دس سال حکومت کی ہے اس لیے بزدارکی ڈیڑھ سال کی کارکردگی کا ان سے موازنہ بنتا نہیں ہے،خان صاحب خود اچھے آدمی ہیں لیکن انک ی ٹیم اچھی نہیں ہے۔

ایک شہری نے کہاکہ ابھی تک حکومت نے کچھ نہیں کیا کل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ خان صاحب بہت اچھے آدمی ہیں لیکن ان کی ٹیم بالکل نااہل ہے عثمان بزدارزیروبٹا زیروہے۔

ایک باریش نوجوان نے کہاکہ اب توجھاڑو دینے والے بھی رشوت لینے لگے ہیں پہلے ہم اپنی شکایات ایم این اے او ایم پی اے کے پاس لے جاتے تھے لیکن اب وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

 

The post ’’عمران خان دیانت دار مگر ان کی ٹیم نااہل ہے‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2PyzPRt

حکومت نجی اداروں اور این جی اوز کو دیے اسکولوں کا خرچہ اٹھانے لگی

کراچی: حکومت سندھ نے نجی اداروں اوراین جی اووزکے سپرد کیے گئے سرکاری اسکولوں کے اخراجات بھی برداشت کرنے شروع کردیے ہیں۔

حال ہی میں اس حوالے سے ایک دلچسپ اور عجیب حقیقت سامنے آئی ہے کہ صوبائی حکومت کے ادارے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اخوت فاؤنڈیشن کو adoption پالیسی کے تحت گود دیے گئے این جے وی اسکول Narayan Jaganath High School (NJV High School) کی بورڈنگ کے تمام اخراجات اپنے ذمے لے لیے ہیں اخراجات فاؤنڈیشن کی جانب سے اس کے اپنے منصوبے ’’سندھ اسکول ایجوکیشن اسکالرشپ پروگرام‘‘ (SSESP) فیز 3 کے تحت پورے کیے جائیں گے، اور اس حوالے سے باقاعدہ اشتہار دے کر امیدوار طلبہ سے درخواستیں طلب کرنا شروع کر دی گئی ہیں، ادھر بورڈنگ کی سہولت کے لیے دی جانے والی اسکالرشپ کواندرون سندھ تک محدود کر دیاگیا ہے کراچی اوراس کی مضافاتی بستیوں میں بسنے والے طلبہ کویہ سہولت نہیں دی گئی۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذرائع کہتے ہیں کہ تاریخی حیثیت کے حامل این جے وی اسکول کوگوددیے جانے کے سلسلے میں صوبائی محکمہ اسکول ایجوکیشن اوراخوت فاؤنڈیشن کے مابین کیے گئے اس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت طلبہ کے بورڈنگ کے اخراجات حکومت سندھ یااس کاکوئی ماتحت ادارہ اٹھائے گا۔

اس بات کی تصدیق سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ اورریٹائربیوروکریٹ قاضی عبدالکبیرنے ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت میں کی ہے اورکہاہے کہ معاہدے میں توکوئی ایسی بات نہیں تھی کہ این جے وی اسکول کے بورڈنگ کے اشتہارات حکومت سندھ برداشت کرے گی تاہم انھوں نے اس سلسلے میں دیے گئے اشتہار کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ اخوت فاؤنڈیشن کے تحت چلائے جانے والے این جے وی اسکول میں بورڈنگ کچھ عرصے قبل ہی شروع ہوئی ہے یہ منصوبہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن ہی کاہے۔

سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ایک فیصلے کے بعد کچھ روزقبل ایک متنازع اشتہارجاری کیااس اشتہارکے مطابق حکومتی ادارہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نجی ادارے کے ماتحت چلنے والے اس اسکول کے لیے سرکاری اسکول کے جن غریب طلبہ کواسکالرشپ دے گاان سے درخواستوں کے ساتھ 500روپے انٹری ٹیسٹ کی فیس کی مد میں بینک چالان کی صورت میں وصول کیے جارہے ہیں جوناقابل واپسی ہیں بات صرف سندھ کے پسماندہ علاقوں میں سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب طلبہ سے 500روپے فیس پے آڈرکی صورت میں لینے تک محدود نہیں بلکہ اشتہارکے مطابق یہ فیس ’’اخوت این جے وی آپریشنل فنڈ‘‘نامی اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی جس سے معلوم ہوتاہے کہ اسکالرشپ کی رقم سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن دے گااورپے آرڈرکی رقم نجی ادارہ وصول کرے گی جوٹیسٹ کوالیفائی کرنے والے طالب علم یاان کے والدین واپس بھی نہیں لے سکیں گے۔

اس سلسلے میں فاؤنڈیشن کے چیئرمین کاموقف ہے کہ یہ رقم اسکول کے اکاؤنٹ میں جائے گی جس سے اسکول کے ہی اخراجات پورے کیے جائیں گے مزیدبراں یہ بھی معلوم ہواہے کہ حیرت انگیز طورپر اسکا لرشپ کی رقم سرکاری ادارہ دے گاتاہم اسکالرشپ کے لیے طلبہ کے انتخاب کے سلسلے میں طلبہ کاتحریری ٹیسٹ این جی اواخوت فاؤنڈیشن خود لے گی اس مرحلے پر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کاکوئی اختیارنہیں ہوگاگویااخوت فاؤنڈیشن بظاہرٹیسٹ پاس کرنے والے امیدوارکی لسٹ فاؤنڈیشن کے حوالے کردے گی۔

واضح رہے کہ جوادارہ اسکالرشپ فراہم کرتاہے کہ ٹیسٹ کامیرٹ بھی وہی طے کرتاہے اورٹیسٹ کا انعقاد بھی اسی ادارے کااختیارہوتاہے تاہم سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت دیے گئے اشتہارمیں طلبہ سے کسی بھی معلومات کیلیے ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بجائے اخوت فاؤنڈیشن کاای میل ایڈریس دیاگیاہے۔

اسی اشتہارمیں کہاگیاہے کہ ’’یہ موقع سندھ کے تمام اضلاع میں سے دلچسپی رکھنے والے اہل امیدواروں کے لیے ہے سوائے کراچی کے‘‘جس پر شدیداعتراضات سامنے آرہے ہیں اور کراچی واس کی مضافاتی بستیوں میں رہنے والے غریب طلبہ کواس اسکالرشپ سے محروم رکھنے پر سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن پر کڑی تنقید کی جارہی ہے تاہم اس معاملے پرسندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین کاموقف ہے کہ کراچی کے طلبہ کوبورڈنگ کی ضرورت نہیں تاہم ہم کراچی کے لیے علیحدہ اشتہاربھی دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اشتہارکے مطابق یہ موقع نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے ہے،سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ قاضی کبیرنے اس معاملے پر مزیدموقف اختیارکیاکہ این جے وی اسکول میں بورڈنگ کے سلسلے میں ایک بچے پرابتدا میں 15ہزارروپے کے اخراجات آتے ہیں جس میں ٹریک سوٹ ،اسکول کے جوتے ،یونفیفارم دیگرضروری اشیا شامل ہیں جبکہ ماہانہ اخراجات اس کے علاوہ ہیں تاہم ان کا کہنا تھاکہ اس وقت یہ نہیں بتاسکتاہے کتنی رقم اسکالر شپ کی مد میں رکھی گئی ہے، دوسال پہلے ہی بورڈنگ شروع ہوئی ہے یہ پروجیکٹ حکومت سندھ کا ہے کہ اس اسکالرشپ کی رقم ہم دے رہے ہیں۔

انھوں نے این جے وی اسکول چلانے والی انتظامی اخوت فاؤنڈیشن کادفاع کرتے ہوئے بتایاکہ بہت سے ٹیچراخوت نے خود رکھے ہوئے ہیں سرکاری ٹیچرزسے توکام نہیں چلتااخوت نہ اپنے ٹیچررکھے ہوئے ہیں ان اساتذہ کے اخراجات بھی اخوت پورے کرتی ہے۔

 

The post حکومت نجی اداروں اور این جی اوز کو دیے اسکولوں کا خرچہ اٹھانے لگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VxSnp1

رینجرز نے ماسک بلیک میں بیچنے والے 2 ملزم کو گرفتار کرلیا

کراچی: رینجرز نے دو الگ الگ کارروائیوں میں سرجیکل ماسک بلیک میں فروخت کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔

رینجرز اعلامیہ کے مطابق پی ای سی ایچ بلاک 2 سے ملزم محمد عثمان کو گرفتار کرکے اس کی نشاندہی پرگلشن اقبال بلاک تیرہ ڈی سے 74 ہزار سرجیکل ماسک اور 200 عدد انفلو واٹر ڈرپ بوتلیں برآمد کرلی ملزم محمد عثمان نے کورونا وائرس سے احتیاط کے لیے شہریوں کی جانب سے ماسک کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر شوروم مالک مزمل امام کے ساتھ شراکت داری کی۔ ملزم آن لائن شاپنگ کے ذریعے بڑے پیمانے پر ماسک فروخت کررہا تھا جس پر ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری کارروائی واٹر پمپ پر کرتے ہوئے دکاندار عماد کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں فیس ماسک کے ڈبے برآمد کرلیے۔ ملزم ایک ڈبہ 1650 روپے میں فروخت کررہا تھا۔

 

The post رینجرز نے ماسک بلیک میں بیچنے والے 2 ملزم کو گرفتار کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/389aggA

احساس کفالت پروگرام، مستحق افراد کو یکمشت 9 ہزار روپے فی کس جاری

 اسلام آباد: حکومت نے رواں ماہ تمام مستحقین کو یکمشت 9 ہزار روپے کی قسط جاری کردی۔

وزیر اعظم کے معاوں خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا ہے وفاقی حکومت کا احساس کفالت پروگرام کے ذریعے مستحقین میں رقوم کی ادائیگیوں کا آغازکردیا ہے، احساس کفالت پروگرام کے تحت تمام رجسٹرڈمستحقین کو اس بار2 ماہانہ اور ایک سہہ ماہی قسط کی رقم مشترکہ طور پر جاری کردی گئی ہے، اس مرتبہ تمام مستحقین  یکمشت 9 ہزار روپے وصول کرسکیں گے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق اس مرتبہ جاری رقوم میں سہہ ماہی قسط جولائی تا ستمبر2019 کے 5ہزارروپے، جنوری2020 کی ماہانہ قسط 2ہزار روپے اور فروری 2020 کی ماہانہ قسط 2ہزار روپے شامل ہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ احساس کفالت پروگرام میں رجسٹرڈ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر  کے مستحقین الفلاح بنک سے رقوم لے سکتے ہیں جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے رجسٹرڈ مستحقین حبیب بینک اور اس کے نامزد ایجنٹ سے رقم وصول کرسکتے ہیں۔

The post احساس کفالت پروگرام، مستحق افراد کو یکمشت 9 ہزار روپے فی کس جاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2TbA6w2

خیبر پختون اور سندھ میں پولیو کے 3 نئے کیسز سامنے آگئے

پشاور / کراچی: خیبر پختون میں دو اور سندھ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا۔ 

ایکسپریس کے مطابق ملک بھر میں پولیو کے مزید کیسز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، خیبر پختون خوا میں مزید دو اور سندھ میں ایک کیس سامنے آگیا۔ پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے جو دو نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،  دونوں متاثرہ بچوں کا تعلق ضلع کرک سے ہے۔

پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق ضلع کرک کے علاقے  تخت نصرتی کی یونین کونسل ایس جی خان کے 14 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ بچے نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پیئے تھے، دونوں کیسز کے بعد رواں سال صوبے میں پولیو کیسز کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔

دوسری جانب صوبہ سندھ سے پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے، جس میں 28 ماہ کا بچہ وائرس سے متاثر ہوا، انسداد پولیو سیل کے مطابق سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے رہائشی 28 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، والدین کے مطابق بچے نے پولیو وائرس سے بچاؤ کی 7 خوراکیں لے رکھی ہیں اس حوالے سے تفتیش جاری ہے، نیا کیس رجسٹرڈ ہونے کے بعد سندھ میں رواں سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 7 ہوگئی۔

رواں سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 23 پولیو وائرس کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، گزشتہ سال 2019 میں پولیو وائرس کے 146 کیس ملک بھر سے جب کہ سندھ سے 30 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

 

The post خیبر پختون اور سندھ میں پولیو کے 3 نئے کیسز سامنے آگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3agNXXy

رحیم یارخان میں 14 سالہ لڑکے سے دو سگے بھائیوں کی اجتماعی زیادتی

رحیم یار خان:  اوباش بھائیوں نے 14 سالہ لڑکے کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل...